فہرست الطاہر
شمارہ 48، ذیقعد 1428ھ بمطابق دسمبر 2007ع

قربانی کے مسائل

ادارہ

 

نماز عید

بقر عید کی نماز بھی مثل نماز عیدالفطر کے واجب ہے اور ترکیب اس نماز کی وہی ہے جو نماز عیدالفطر، یعنی بعد تکبیر اولیٰ و ثناء اللہ اکبر کہتے ہوئے تین بار کانوں تک ہاتھ اٹھائیں۔ پہلی دو تکبیروں کے بعد ہاتھ چھوڑے جائیں۔ تیسری کے بعد ہاتھ باندھ کر امام فاتحہ و سورۃ پڑھے۔ دوسری رکعت میں بعد فاتحہ و سورۃ کے تین تکبیریں کہیں اور کانوں تک ہاتھ اٹھائیں اور چوتھی تکبیر پر رکوع کریں۔ عید نماز کا وقت آفتاب کے بلند ہونے سے زوال سے پہلے تک ہے اور اس نماز کا جلد پڑھنا مستحب ہے تاکہ لوگ نماز کے بعد قربانی میں مصروف ہوجائیں۔ نماز کے بعد امام خطبہ پڑھے جس میں قربانی اور تکبیرات تشریق وغیرہ کے احکام بتلائے۔ اس نماز کے لیے بھی عیدگاہ میں جانا سنت مؤکدہ ہے۔ راستے میں پکار کر تکبیر پڑھتا رہے اور دوسرے راستے سے واپس ہو تاکہ دونوں راستے گواہی دیں۔

بقر عید کی نماز سے پہلے کچھ کھانا بہتر نہیں ہے۔ بہتر یہ ہے کہ نماز کے بعد قربانی کرکے اس کا گوشت کھائے۔

تکبیر تشریق

ایک دفعہ ہر ایک نماز فرض کے بعد امام اور مقتدی اور منفرد عورت و مرد سب اس طرح تکبیر کہیں:اللہ اکبر اللہ اکبر لاالٰہ الااللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد۔ نویں ذی الحجہ کی فجر سے تیرہویں ذی الحجہ کی عصر تک یہ تکبیر پڑھے۔

قربانی کس پر واجب ہے

جس پر صدقہ فطر واجب ہے اس پر بقر عید کے دنوں میں قربانی کرنا بھی واجب ہے۔ اور اگر اتنا مال نہ ہو جتنے کے ہونے سے صدقہ فطر واجب ہوتا ہے تو اس پر قربانی واجب نہیں ہے، اگر پھر بھی کردے تو بہت کچھ ثواب پائے گا۔

مسئلہ: مسافر پر قربانی واجب نہیں

مسئلہ: قربانی فقط اپنی طرف سے کرنا واجب ہے، اولاد کی طرف سے واجب نہیں۔ بلکہ اگر نابالغ اولاد مالدار بھی ہو تب بھی اس کی طرف سے کرنا واجب نہیں۔ نہ اپنے مال میں سے نہ اس کے مال میں سے۔ اگر کسی نے اس کی طرف سے قربانی کردی تو نفل ہوگی لیکن اپنے ہی مال میں سے کرے اس کے مال میں سے ہرگز نہ کرے۔ (ہدایہ)

مسئلہ: کسی پر قربانی واجب نہیں تھی لیکن اس نے قربانی کی نیت سے جانور خرید لیا۔ اب اس جانور کی قربانی واجب ہوگئی۔ (درمختار)

قربانی کے جانور

بکرا، بکری، بھیڑ، دنبہ،گائے، بیل، بھینس، بھینسا، اونٹ، اونٹنی اتنے جانوروں کی قربانی درست ہے اور کسی جانور کی قربانی درست نہیں۔

مسئلہ: بکرا، بکری سال بھر سے کم درست نہیں، جب پورے سال کی ہو تب درست ہے۔ اور گائے بھینس دو برس سے کم کی نہیں۔ اور اونٹ پانچ برس سے کم کا نہیں۔ اور دنبہ یا بھیڑ اگر اتنا موٹا تازہ ہو کہ سال بھر کا معلوم ہوتا ہو اور سال بھر والے بھیڑ دنبوں میں اگر چھوڑ دو تو کچھ فرق نہ معلوم ہوتا ہو تو چھ مہینے کے دنبے اور بھیڑ کی بھی قربانی درست ہے، اور اگر ایسا نہ ہو تو سال بھر کا ہونا چاہیے۔

مسئلہ: جو جانور اتنا تگڑا ہو کہ تین پاؤں سے چلتا ہے، چوتھا پاؤں رکھا ہی نہیں جاتا یا چوتھا پاؤں رکھتا ہے لیکن اس سے چل نہیں سکتا اس کی بھی قربانی درست نہیں، اور اگر چلتے وقت وہ زمین پر ٹیک کر چلتا ہے اور چلنے میں اس سے سہارا لگتا ہے لیکن لنگڑا کرکے چلتا ہے تو اس کی قربانی درست ہے۔ (شامی)

مسئلہ: جو جانور اندھا ہو، کانا ہو، یا آنکھ کی تہائی روشنی یا اس سے زیادہ جاتی رہی ہو، یا ایک کان تہائی یا تہائی سے زیادہ کٹ گیا ہو، یا تہائی دم یا اس سے زیادہ کٹ گیا ہو تو اس جانور کی قربانی درست نہیں۔

مسئلہ: اتنا دبلا بلکل مریل جانور جس کی ہڈیوں میں بلکل گودا نہ رہا ہو، اس کی قربانی درست نہیں۔ اور اگر اتنا نہ ہو تو دبلے ہونے سے کچھ حرج نہیں، قربانی ہوسکتی ہے۔ لیکن موٹے تازے جانور کی قربانی بہتر ہے۔ (عالمگیری)

مسئلہ: جن جانوروں کے دانت بلکل نہیں اس کی قربانی درست نہیں۔ اگر کچھ گرگئے ہوں لیکن زیادہ باقی ہوں تو درست ہے۔

مسئلہ: جس جانور کے پیدائش ہی سے کان نہ ہوں اس کی قربانی درست نہیں۔ اگر ہیں لیکن بلکل چھوٹے چھوٹے تو درست ہے۔ (درمختار)

مسئلہ: جس جانور کے پیدائش ہی سے سینگ نہیں تھے یا سینگ تو تھے لیکن ٹوٹ گئے تو اس کی قربانی درست ہے۔ البتہ اگر بلکل جڑ سے ٹوٹ گئے ہیں تو درست نہیں۔

مسئلہ: خصی بکرے اور مینڈھے کی اور خارشی جانور کی بھی قربانی درست ہے۔ البتہ اگر خارش کی وجہ سے لاغر ہوگیا ہو تو درست نہ ہوگی۔

مسئلہ: اگر جانور قربانی کے لیے خرید لیا تب کوئی ایسا عیب پیدا ہوگیا جس سے قربانی درست نہیں تو اس کے بدلے دوسرا جانور خرید کر قربانی کرے، ہاں اگر غریب آدمی ہو جس پر قربانی واجب نہیں تو اس کے واسطے وہی جانور درست ہے۔

مسئلہ: اگر جانور گابھن ہو تو اس کی قربانی جائز ہے، پھر اگر بچہ بھی زندہ نکلے تو اس کو بھی ذبح کردے۔ (شامی)

مسئلہ: گائے، بھینس، اونٹ میں اگر سات آدمی شریک ہوکر قربانی کریں تو بھی درست ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ کسی کا حصہ ساتویں حصہ سے کم نہ ہو اور سب کی نیت قربانی کرنے کی یا عقیقہ کی ہو۔ صرف گوشت کھانے کی نیت نہ ہو۔ اگر کسی کا حصہ ساتویں حصہ سے کم ہوگا تو کسی کی قربانی درست نہ ہوگی۔ (عالمگیری)

مسئلہ: اگر گائے میں سات آدمیوں سے کم شریک ہوئے مثلاً پانچ یا چھ اور کسی کا حصہ ساتویں حصہ سے کم نہیں، تب سب کی قربانی درست ہوگی اور اگر آٹھ آدمی شریک ہوئے تو کسی کی قربانی درست نہیں۔ (عالمگیری)

مسئلہ: قربانی کے لیے کسی نے گائے خریدی اور خریدتے وقت یہ نیت کی کہ اگر کوئی اور مل گیا تو اس کو بھی گائے میں شریک کرلیں گے اور شرکت سے قربانی کریں گے۔ اسکے بعد کچھ لوگ شریک ہوئے تو درست ہے اور اگر خریدتے وقت اس کی نیت شریک کرنے کی نہ تھی تو اس میں کسی کو شریک کرنا بہتر تو نہیں، لیکن اگر کسی کو شریک کرلیا تو جس نے شریک کیا ہے اگر وہ امیر ہے کہ اس پر قربانی واجب ہے، تو یہ شرکت درست، اور اگر غریب ہے جس پر قربانی واجب نہیں تھی تو یہ شرکت درست نہیں۔ (عالمگیری)

مسئلہ: اگر قربانی کا جانور کہیں گم ہوگیا۔ دوسرا خریدا پھر وہ پہلا بھی مل گیا۔ اگر امیر آدمی کو ایسا اتفاق ہوا تو ایک ہی جانور کی قربانی اس پر واجب ہے، اور اگر غریب ہے تو دونوں کی واجب ہوگی۔ (ہدایہ)

قربانی کا وقت تعین

مسئلہ: بقر عید کی 10 تاریخ سے لے کر 12 تاریخ کی شام (غروب آفتاب) سے پہلے تک قربانی کا وقت ہے۔ پہلا دن افضل ہے، پھر 11، پھر 12 تاریخ۔

مسئلہ: بقر عید کی نماز سے پہلے شہر والوں کے لیے قربانی درست نہیں، جب نماز ہوجائے تب کرے۔ اگر کسی عذر سے اس دن نماز ادا نہ ہوئی تو جب نماز کا وقت گذر جائے یعنی بعد از زوال اس وقت بھی درست ہے۔ البتہ اگر کوئی کسی دیہات، گاؤں میں رہتا ہو تو دسویں تاریخ صادق ہونے کے بعد بھی قربانی جائز ہے۔

مسئلہ: اگر شہر کا رہنے والا قربانی کا جانور کسی گاؤں میں بھیج دے تو اس کی قربانی نماز سے پہلے بھی درست ہے، اگرچہ وہ خود شہر میں ہے، ذبح ہوجانے کے بعد اس کو منگوالے اور گوشت کھائے۔ (ہدایہ)

مسئلہ: رات کو بھی قربانی جائز ہے لیکن پسندیدہ اور بہتر نہیں کہ شاید کوئی رگ نہ کٹے اور قربانی درست نہ ہو۔

مسئلہ: دسویں گیارہویں تاریخ کو سفر میں تھا۔ پھر بارہویں کو غروب آفتاب سے پہلے گھر پہنچا یا پندرہ دن کہیں ٹھہرنے کی نیت کرلی تو اب قربانی کرنا واجب ہوگیا ہے۔ یا پہلے مال نہ تھا 12 کی شام سے قبل مالدار ہوگیا تو اب قربانی کرنا واجب ہے۔

مسئلہ: اپنی قربانی خود ذبح کرے تو بہتر ہے۔ اگر خود ذبح کرنا نہ جانتا ہو تو دوسرے سے ذبح کرانے کے وقت خود وہاں کھڑا ہوجانا بہتر ہے۔ اگر خود نہ جاسکا، دوسرے سے کرایا تب بھی جائز ہے۔

مسئلہ: کسی پر قربانی واجب تھی لیکن قربانی کے تینوں دن گذر گئے اور اس نے قربانی نہیں کی تو ایک بکری یا بھیڑ کی قیمت خیرات کرے اور اگر بکری خریدلی تھی بعینہ وہی بکری خیرات کردے۔

مسئلہ: قربانی کرتے وقت کوئی نیت زبان سے پڑھنا ضروری نہیں۔ اگر صرف دل میں خیال آیا کہ میں قربانی کرتا ہوں اور زبان سے کچھ نہیں کہا صرف بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر ذبح کردیا، تب بھی قربانی درست ہے۔ لیکن یاد ہو تو یہ دعا پڑھنا بہتر ہے۔ جب قربانی کو قبلہ رخ لٹادے تو یہ دعا پڑھے۔

انی وجہت وجہی للذی فطرت السمٰوٰت والارض حنیفا وما انا من المشرکین۔ ان صلوٰتی ونسقی ومحیای ومماتی للہ رب العٰلمین۔ لاشریک لہٗ وبذٰلک امرت وانا اول المسلمین۔

اور ذبح کے بعد یہ دعا پڑھے۔

اللّٰہم تقیلہ منی کما تقبلت من حبیبک محمد وخلیلک ابراہیم علیہما الصلوٰۃ والسلام۔

متفرق احکامات

قربانی کا گوشت آپ کھائے، رشتہ داروں کو دے اور فقیروں محتاجوں کو خیرات کردے۔ بہتر ہے کہ تہائی حصہ غربا و مساکین کو دے، تہائی دوستوں کو اور تہائی اپنے اہل و عیال کو۔ لیکن جس شخص کا کنبہ زیادہ ہو اور کوئی ضرورت ہو تو تمام گوشت خود خرچ کرسکتا ہے۔ البتہ فروخت کرنا ممنوع ہے۔

(۲) قربانی کی رسی جھول وغیرہ سب چیزیں خیرات کردے۔

(۳) قربانی کی کھال تو یونہی خیرات کردے یا بیچ کر اس کی قیمت ایسے لوگوں کو دے جن کو مال و زکوٰۃ میں دینا ہے، یا کسی دینی ادارے و مدرسے میں دے دے جس میں مسافر و مسکین طلباء کے لیے کھانے پینے کا انتظام ہو۔ سب سے بہتر یہ ہے کہ ایسی جگہ دے جس جگہ کے بارے میں اطمینان قلبی ہو کہ یہ درست جگہ پر خرچ کریں گے، اور ایسی جگہ اپنے پیرخانہ کے مدرسے سے بہتر کہیں اور نہیں ہوسکتی۔ فروخت کیے بغیر اس کی کھال خود اپنے کام میں بھی لاسکتا ہے یعنی اس سے ڈول بناسکتا ہے۔ اس کھال کی قیمت کو مسجد کی مرمت یا کسی اور نیک کام میں لگانا درست نہیں، کھال یا اس کی قیمت کسی کو بھی اجرت میں دینا بھی جائز نہیں۔

(۴) قربانی کا گوشت وزن سے پورا پورا تول کر تقسیم کیا جائے، اندازہ سے تقسیم نہ کریں۔ لیکن اگر کسی طرف کم گوشت کے ساتھ کھال لگادیں تو پھر اندازہ سے بھی تقسیم کرنا درست ہے۔