فہرست الطاہر
شمارہ 48، ذیقعد 1428ھ بمطابق دسمبر 2007ع

مسلمان سائنسدان

الطاف حسین میمن طاہری

 

علم ہیئت و فلکیات (Astronomy)

علم ہیئت و فلکیات کے میدانوں میں مسلمان سائنسدانوں کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ انہوں نے یونانی فلسفے کے گرداب میں پھنسے علم الہیئت کو صحیح معنوں میں سائنسی بنیادوں پر استوار کیا۔ اندلس کے عظیم مسلمان سائنسدان ابن رشد (جسے مغرب میں (Averroes) کے بدلے ہوئے نام سے یاد کیا جاتا ہے) نے سورج کی سطح کے دھبوں (Sunspots) کو پہچانا، (Gregorian) کلینڈر کی اصلاحات عمر خیام نے مرتب کیں، خلیفہ مامون الرشید کے زمانے میں زمین کے محیط کی پیمائش عمل میں آئی جن کے نتائج کی درستگی آج کے ماہرین کے لیے حیران کن ہے۔ سورج اور چاند کی گردش، سورج گرہن، علم المیقات (Time Keeping) اور بہت سے سیاروں کے بارے میں غیر معمولی سائنسی معلومات بھی البیرونی جیسے نامور مسلم سائنسدان نے فراہم کی۔ مسلمانوں کی علم المیقات (Time Keeping) کے میدان میں خصوصی دلچسپی کی وجہ یہ تھی کہ اس علم کا تعلق براہ راست نمازوں اور روزوں کے معاملات سے تھا۔

مغرب کے دور جدید کی مشاہداتی فلکیات (Observational Astronomy) میں استعمال ہونے والا لفظ Almanac بھی عربی الاصل ہے۔ اس کی عربی اصل المناخ (موسم) ہے۔ یہ نظام بھی اصلاً مسلمان سائنسدانوں نے ایجاد کیا تھا۔

علم ہئیت اور فلکیات (Astronomy) اور علوم نجوم (Astrology) کے ضمن میں اندلسی مسلمان سائنسدانوں میں اگرچہ علی بن خلاق اندلسی اور مظفرالدین طوسی کی خدمات بڑی تاریخی اہمیت کی حامل ہیں، مگر ان سے بھی بہت پہلے تیسری صدی ہجری میں قرطبہ (Cordoba)کے عظیم سائنسدان ”عباس بن فرناس“ نے اپنے گھر میں ایک کمرہ تیار کر رکھا تھا جو دور جدید کی سیارہ گارہ (Planetarium) کی بنیاد بنا۔ اس میں ستارے، بادل اور بجلی کی گرج چمک جیسے مظاہرِ فطرت کا بخوبی مشاہدہ کیا جاسکتا تھا۔ عباس بن فرناس وہ عظیم سائنسدان ہے جس نے دنیا کا سب سے پہلا ہوائی جہاز بناکر اڑایا۔ بعد ازاں البیرونی (Al-berouni) اور ازرقیل (Azarquiel) وغیرہ نے (Equatorail Instruments) کو وضع کیا اور ترقی دی۔

اس طرح قبلہ کے تعین اور چاند اور سورج گرہن (Lunar and Solar Eclipses) کو قبل از وقت دریافت کرنے، حتیٰ کہ چاند کی گردش کا مکمل حساب معلوم کرنے کا نظام بھی البطانی ابن یونس اور ازرقیل جیسے مسلم سائنسدانوں نے وضع کیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے (Toledan Astronomical Tables) مرتب کیے۔

حساب، الجبرا، جیومیٹری (Mathematics, Algebra, Geometry) کے میدان میں الخوارزمی، مؤسسین علم میں سے ایک ہیں۔ حساب میں Algorism یا Algorithm کا لفظ الخوارزمی (Al-Khwarizimi) کے نام سے ہی ماخوذ ہے۔ ان کی کتاب (الجبر و المقابلہ) سولہویں صدی عیسوی تک یورپ کی یونیورسٹیوں میں بنیادی نصاب (Text Book) کے طور پر پڑھائی جاتی رہی اور اسی سے مغرب میں الجبرا متعارف ہوا۔ اس کتاب میں تفرق کی معکوس (Intergration) امر مساوات (Equation) کی آٹھ سو سے زائد مثالیں دی گئی تھیں۔ اس طرح صفر (Zero) کا تصور مغرب میں متعارف ہونے سے کم از کم 250 سال قبل عرب مسلمانوں میں متعارف تھا۔ ابوالوفاء، الکندی، ثابت بن القراء، الفارابی، عمر خیام، نصیرالدین طوسی، ابن البناء المراکشی، ابن حمزہ المغربی، ابوالکامل المصری اور ابراہیم بن سنان وغیرہ کی خدمات Arithmetic ،Algebra، Geometry اور Trigonometry وغیرہ کی خدمات کی حامل ہیں. حتیٰ کہ ان مسلمان ماہرین نے باقاعدہ اصولوں کے ذریعے Optics اور Mechanics کو بھی خوب ترقی دی۔

طبعیات، میکنیات اور حرکیات (Physics, Mechanics, Dynamic)

ابن سینا، الکندی، نصیرالدین طوسی اور ملا صدرہ کی طبعیات کی خدمات ابتدائی طور پر بہت اہمیت کی حامل ہیں۔ بعد ازاں محمد بن زکریا، البیرونی اور ابوالبرکات البغدادی نے اسے مزید ترقی دی۔ الرازی نے علم التخلیقات میں (Cosmology) کو خاصا فروغ دیا۔ حرکت (Motion) اور سستی رفتار (Velocity) کی نسبت البغدادی اور ملا صدرہ کے نظریات و تحقیقات آج کے سائنسدانوں کے لیے بھی باعث حیرت ہے۔ پھر ابن الہیثم نے Attraction, Capillary, Gravitation, Velocities, Time, Space, Weight, Measurement, Atmosphere, Denisty جیسے موضوعات اور تصورات کی نسبت بنیادی مواد فراہم کرکے طبعیات (Physics) کے دامن کو علم سے بھردیا۔ اسی طرح Mechanics اور Dynamics کے باب میں بھی ابن سینا اور ملا صدرہ نے نمایاں خدمات سرانجام دیں۔

علم بصریات Optics

بصریات Optics کے میدان میں تو اسلامی سائنسی تاریخ کو غیر معمولی عظمت حاصل ہے۔ ابن الہیثم کی معرکۃ الآراء کتاب (On Optics) آج اپنے لاطینی ترجمے کے ذریعہ زندہ ہے۔ انہوں نے تاریخ میں پہلی مرتبہ Lense کی Magnifying Power کو دریافت کیا اور اس تحقیق نے Megnifying Lense کے نظریہ کو انسان کے قریب تر کردیا۔ ابن الہیثم نے ہی یونانی نظریہ بصارت Nature of Vision کو رد کرکے دنیا کو جدید نظریہ بصارت سے روشناس کرایا اور ثابت کیا کہ روشنی کی شعاعیں Rays آنکھوں سے پیدا نہیں ہوتیں بلکہ بیرونی اجسام (External Objects) کی طرف سے آتی ہیں۔ انہوں نے پردہ بصارت (Retina) کی حقیقت پر صحیح طریقہ سے بحث کی اور اس کا Optic nerve اور دماغ Brain کے ساتھ باہمی تعلق واضح کیا۔ مزید برآں ان کا نام Velocities Light، Lense، Observation، Astronomical، Meterology اور camera وغیرہ پرتاسیسی شان حامل ہے۔

بے ہوشی کا نظام (Anaesthesia)

علی بن عیسیٰ تاریخ عالم میں پہلا سائنسدان تھا جس نے سرجری سے پہلے مریض کو بے ہوش و بے حس کرنے کے طریقے تجویز کئے۔ اندلس کا نامور سرجن ابوالقاسم الزہراوی بھی آپریشن سے قبل مریض کو بے ہوشی کی دوا دینے سے بخوبی آگاہ تھا۔

علم الکیمیا (Chemistry)

علم الکیمیا کے باب میں خالد بن یزید 704ء اور امام جعفر صادق رضی اللہ عنہما 765ء کی شخصیات بانی اور مؤسس کی حیثیت سے پہچانی جاتی ہیں۔ نامور مسلم سائنسدان جابر بن حیان 776ء امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ ہی کا شاگرد تھا، جس نے کیمسٹری کی دنیا میں انمٹ نقوش چھوڑے۔

ان کے علاوہ اور بھی بہت سے مسلمان سائنسدان ہیں جنہوں نے اپنی علمی خدمات اور کارناموں سے دنیا کو حیران کردیا۔ اور یہی پہلے سائنسدان تھے جنہوں نے پہلی پہلی مرتبہ کوئی نہ کوئی کارنامہ انجام دیا۔ ہم ان میں سے کچھ کے حالات زندگی اور علمی کارناموں کے بارے میں پڑھیں گے۔ جنہوں نے کس طرح اپنی محنت، کوشش اور کاوشوں سے اپنی علمی قیادت میں سرخرو ہوئے۔ جن میں سب سے پہلے مسلمان سائنسدان جابر بن حیان کا نام آتا ہے۔

(1)جابر بن حیان 198 ہجری 817 عیسوی

جابر بن حیان فن کیمیا کا باوا آدم تسلیم کیا جاتا ہے۔ اسے سونا بنانے کی عجیب لگن تھی۔ آبائی پیشہ عطاری تھا (دوائیں بیچنا)۔ معمولی گھرانے کا فرد تھا۔ تعلیم معمولی حاصل کرسکا، مگر سونا بنانے کے شوق میں تجربات شروع کیے اور نامور بن گیا۔ اس نے پوری زندگی تجربات میں صرف کردی۔ آلہ قرع انبیق اس کی ایجاد ہے۔ دھاتوں کو بھسم کرکے کشتہ بنانے کا طریقہ اس نے بتایا۔ کشتہ کا وزن بڑھ جاتا ہے، اس کی دریافت ہے۔ کئی اور اصول بھی اس نے بتائے ہیں۔

ابتدائی زندگی، تعلیم وتربیت: یہ دنیا کا پہلا سائنسدان ہے اور پہلا دانشور جس نے علم کیمیا میں تجربات کو اہمیت دی۔

جابر ایک غریب اور معمولی گھرانے کا لڑکا تھا۔ باپ کسی جرم میں پھانسی پر لٹکادیا گیا۔ یتیم جابر کی تعلیم کا بوجھ ماں پر آپڑا۔ ابھی جابر کم عمر ہی تھا کہ کوفہ کے باہر دیہات میں اپنے خاندانی رشتہ داروں کے ہاں بھجوادیا گیا۔ دیہات میں اس نے آزدانہ بچپن کے دن گذارے۔ تعلیم بلکل معمولی رہی۔ سن شعور تک پہنچا تو کوفہ میں آگیا۔ کوفہ کا ماحول علمی تھا، یہاں کے علمی ماحول سے وہ متاثر ہوا اور اسے تعلیم حاصل کرنے کا شوق پیدا ہوا۔ مدرسہ میں داخل ہوکر اس نے مروجہ تعلیم ختم کی۔ یہ اس کی جوانی کا زمانہ تھا۔ طبیعت میں تلاش و جستجو کا مادہ بہت تھا۔ اب سونا بنانے کا سوداء اس کے سر میں پیدا ہوا۔

جابر نے کیمیا گری کی دھن میں دواؤں کی خاصیت معلوم کرنے کی کوشش شروع کردی۔ پھر قسم قسم کی دھات لے کر طرح طرح کی جڑی بوٹیوں کے ساتھ پھونکنے لگا۔ اس کا گھر تجربہ خانہ بن گیا۔ وہ ہمہ وقت نئے تجربے میں مصروف رہتا تھا۔

سونا بنانے کی دھن اور نئے تجربات نے جابر کے شوق کو اور ابھارا ۔ علم کیمیا پر اس نے بہت تجربے کیے۔ اس لگن نے اسے علم کیمیا کاموجد بنادیا۔

جابر کے متجسس ذہن و دماغ نے بہت سی نئی چیزیں ایجاد کیں اور اس فن میں خاصا مشہور ہوگیا۔ یہاں تک کہ اس کی شہرت بغداد تک پہنچ گئی۔ ہارون الرشید کا زمانہ تھا اور جعفر برمکی وزیراعظم، جو اہل علم و فضل کا بڑا قدردان تھا۔ جعفر برمکی نے جابر کو بغداد آنے کی دعوت دی۔ جابر وہاں گیا۔ دربار میں اس کی بڑی قدر ہوئی، بہت کچھ انعام و کرام سے نوازا گیا۔

علمی خدمات اور کارنامے: جابر بن حیان علم کیمیا کا موجد تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس نے کیمیاوی تجربے Experiment میں کمال پیدا کرکے اسکے نکات بیان کیے۔ اصول اور قاعدے مرتب کیے جو آج بھی مستعمل ہیں۔

1؂ عمل تصعید یعنی دواؤں کا جوہر اڑانا (Bublimation)۔ اس طریقے کو سب سے پہلے جابر نے اختیار کیا تاکہ لطیف اجزاء کو حاصل کرکے دواؤں کو مزید مؤثر بنایا جاسکے اور محفوظ رکھا جاسکے۔

2؂ جابر نے قلماؤ کرنے (Crystallistion) کا طریقہ بھی دریافت کیا اور اس نئے طریقے سے دواؤں کو قلمایا۔

3؂ فلٹر کرنا اسی نے بتایا اور اس کا طریقہ ایجاد کیا۔

4؂ محقق جابر نے تین قسم کے نمکیات بھی معلوم کیے۔

5؂ سب سے بڑا کارنامہ اس کا تیزاب ایجاد کرنا ہے۔ اس نے کئی قسم کے تیزاب بنائے۔ تیزاب بنانے میں اس نے گندھک شورا، ہیراکس اور نوشادر کو مناسب انداز سے استعمال کیا۔ تیزاب بنانے میں ایک بار اس کی انگلی بھی جل گئی تھی۔ جابر نے ایک ایسا تیزاب ایجاد کیا جو سونے کو پگھلا دیتا تھا۔

6؂ عالی دماغ جابر نے دھات کو بھسم کرکے کشتہ بنانے (Oxidisation) کا نازک طریقہ دریافت کیا۔ کسی دھات کو جڑی بوٹیوں کے ساتھ کس طرح آنچ دے کر بھسم کرتے ہیں۔ اس میں صحیح اندازے اور تجربے کی ضرورت ہے۔

7؂ جابر نے معلوم کیا کہ دھات کا کشتہ بنانے سے اس کا وزن کچھ بڑھ جاتا ہے۔ یہ اس کی تحقیق ہے۔

8؂ جابرنے لوہے پر تجربے کیے اور بتایا کہ لوہے کو کس طرح صاف کرکے فولاد بنایا جاسکتا ہے۔ جابر نے بتایا کہ لوہے کو زنگ سے کیسے بچایا جاسکتا ہے۔

9؂ اس نے موم جامہ (وہ کپڑا جس پر پانی کا اثر نہ ہو) بنایا تاکہ پانی یا رطوبت سے چیزوں کو خراب ہونے سے بچایا جاسکے۔

10؂ جابر نے چمڑے کو رنگنے کا طریقہ دریافت کیا۔

11؂ اس نے بالوں کو کالا کرنے کے لیے خضاب کا نسخہ تیار کیا۔

12؂ جابر کی ایک بڑی اور مفید ایجاد قرع انبیق ہے۔ (Distillation apparatus) یہ عرق کھینچنے کا آلہ ہے اور یہ بھی مستعمل ہے۔ اس آلے کے ذریعے عرق کشید کرنے سے جڑی بوٹیوں سے لطیف اجزاء آجاتے ہیں اور اس کے اثرات محفوظ رہتے ہیں۔

(جاری ہے)

 


ہماری عمر کے لوگ ملک کے لیے کیا کرسکتے ہیں؟

تحریر۔ طاہرہ روحی، کلاس 8

میرا موضوع ہے ”ہماری عمر کے لوگ ملک کے لیے کیا کرسکتے ہیں؟“ یہاں ہم میری عمر کے لوگوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں ۔ ہماری عمر کے لوگ ملک کے لیے بہت کچھ کرسکتے ہیں۔ وہ تعلیم حاصل کرکے اپنے ملک کا نام روشن کرسکتے ہیں، کیونکہ وہی تو اپنے ملک کا مستقبل ہیں ۔ تعلیم ایک ایسا شعبہ ہے جو کسی بھی ملک کے دیگر تمام شعبوں کی بنیاد ہے۔ کسی بھی ملک کی ترقی تعلیم اس پر منحصر ہے۔ قوم افراد سے بنتی ہے اور تعلیم کے ذریعے صرف افراد کی تربیت ہی نہیں ہوتی بلکہ پوری قوم کی تربیت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ افراد کی ذہنی صلاحیتوں کی نشوونما اور ان میں اعلیٰ صفات پیدا کرکے انہیں ملک و قوم کی ترقی کے لیے تیار کرنا تعلیم کا بنیادی اور اولین مقصد ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلمان اس وقت تک ترقی کی منازل طے کرتے رہے جب تک وہ علم کے شوق میں مگن رہے، مگر جیسے ہی انہوں نے علم اور تحقیق سے دامن چھڑایا وہ زوال کی پستیوں اور تاریکیوں میں گم ہوگئے۔ اور آج بھی وہی اقوام دنیا کی رہنمائی کررہی ہیں جو علم کے میدان میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑتی چلی جارہی ہیں۔ ہماری عمر کے لوگ اپنے اپنے ملک کا مستقبل بناسکتے ہیں، اب وہ ان پر منحصر ہے کہ وہ اچھا مستقبل بنائیں یا خراب۔ لیکن وہ تعلیم حاصل کرکے اچھا مستقبل ضرور بناسکتے ہیں۔