فہرست الطاہر
شمارہ 48، ذیقعد 1428ھ بمطابق دسمبر 2007ع

اداریہ

مدیر کے قلم سے

اس دنیا میں ایک افراتفری مچی ہوئی ہے، ایک دوڑ لگی ہوئی ہے، سب بھاگے جارہے ہیں۔ ہرایک نے اپنے اندر خوابوں، خیالوں اور خواہشوں کے خدا بٹھائے ہوئے ہیں۔ ان کے پیچھے معبود حقیقی کو بھلا کر دوڑے جارہے ہیں۔ کسی نے قوت و طاقت کو اپنا معبود بنا رکھا ہے، کوئی دولت کے حصول کے لیے دیوانہ وار بھاگ رہا ہے، کوئی شہرت و مرتبے کے لیے سب کچھ تیاگ دینے کو تلا ہوا ہے، کوئی زن و زمیں کے لیے سب کچھ تباہ کرنے پر تلا ہے۔ ان چیزوں کے حصول کے لیے افراد و اقوام نے ہرایک مذہبی، اخلاقی، معاشرتی و انسانی اصولوں کو یوں روندا ہے کہ انسانیت اس پر شرمندہ ہے اور انسان زخم زخم۔ خدائے عزوجل کے خلیفہ انسان نے خدا کی بنائی دھرتی کو جہنم بناکر رکھ دیا ہے۔ کوئی عزت، کوئی انصاف، کوئی اصول آج زندہ نظر نہیں آتا۔ سب اخلاقیات، سب شرافتیں، سب احترام، سب رحم دلی، سب مساواتیں آج کے مقتدروں نے دفن کردی ہیں۔  ذرا سوچنا چاہیے کہ یہ سب تگ و دو جو کی جارہی ہے اس کی وجہ کیا ہے؟ ان لوگوں کو آخر کیا چاہیے جس کے لیے وہ پاتال تک جا پہنچے ہیں؟ کتنا بھی سوچا جائے لیکن نتیجہ یہی نکلے گا کہ وہ دوسرے انسانوں سے بہتر ہونا چاہتے ہیں۔ کوئی دولت میں دوسروں سے بڑھنا چاہتا ہے تو کوئی دوسروں سے زیادہ طاقت ور ہونے کا خواہاں ہے، کوئی شان وشوکت میں دوسروں سے نمایاں ہونا چاہتا ہے تو کوئی مرتبہ و مقام کے لحاظ سے دوسروں کے اندر بڑا و بہتر لگنا چاہتا ہے۔ لیکن کیا واقعی بڑے بننے کا یہی صحیح طریقہ ہے؟ کیا دنیا کے اندر واقعی دولت شہرت، شان و شوکت کے ذریعے دوسروں سے بہتربنا جاسکتا ہے؟ کیا اسی طرح ہی نمایاں نام و مقام حاصل کیا جاسکتا ہے؟ اس پر ضرور غور کرنا چاہیے۔ مگر غورکرنے سے بھی بہتر یہ ہے کہ اس بات کا فیصلہ احکم الحاکمین سے لینا چاہیے کہ دوسروں سے کس طرح بہتر ہوا جاسکتا ہے اور خدائے عزوجل کے پاس دوسروں سے بہتر دکھنے کے لیے کونسا معیار مقرر ہے۔ جب اس طرف رجوع کرتے ہیں تو خدائے عزوجل کا حکم اس کے محبوب صلّی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث سے بلکل واضح ہوجاتا ہے ”خیر الناس من ینفع الناس“، کہ سب لوگوں میں حقیقتاً بہتر وہ ہے جو خدا کے بندوں کو نفع پہنچاتا ہے۔ سبحان اللہ کیا حقیقت بیان کردی رسول اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم نے، اور واقعتاً یہ نہ صرف فطری ہے بلکہ لوگ اسے دل و جان سے قبول بھی کرتے ہیں۔ دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ لوگوں نے خود سے بہتر اس کوجانا جس نے انسان کے اجتماعی مفادات کو اہمیت دی۔ جس نے اجتماعی مفادات کی تکمیل کی اسی کو انسانوں نے دل وجان سے بہتر جانا اور رہتی دنیا تک اس کے نام کا جھنڈا بلند رہا۔ آپ انبیاء کرام کی سیرت پڑھ لیں، صحابہ عظام اولیاء اللہ کی سوانح کا مطالعہ کریں، واضح ہے کہ لوگ اب تک ان کے نام لیوا اس لیے ہیں کہ انہوں نے انسان ذات کو نفع پہنچایا۔ یا دنیا کی تاریخ کے مشہور بادشاہوں کی زندگی کا مطالعہ کریں۔ آج تک ان کا نام بلند اس لیے ہے کہ انہوں نے نسل انسانی کو فائدہ دیا۔ آج بھی بڑے بلند اور بہتر بننے کا معیار اللہ اور اس کے بندوں کے پاس وہی ہے کہ انسانوں میں سے بہتر وہ ہے جو انہیں نفعہ پہنچاتا ہے۔ اگر کوئی بھی دوسروں سے بہتر لگنا چاہتا ہے تو اس بات کوسینے سے لگالے۔ وگرنہ تو بلند اور بہتر بننے کی بجائے پاتال بانہیں پھیلائے اس کا منتظر ہے۔