فہرست الطاہر
شمارہ 50، ربیع الاول 1429ھ بمطابق اپریل 2008ع

ولادت رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم

علامہ ساجد علی فاروقی طاہری

 

ماہ ربیع الاول کو حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارکہ کا مہینہ ہونے کی نسبت سے خصوصی شرف حاصل ہے۔ اس میں امت مسلمہ کی فرحت و مسرت کا عالم قابل دید ہوتا ہے۔ اس ماہ مقدس کا استقبال پورے عالم اسلام میں انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ یوں تو حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کا ذکر پورا سال کیا جاتا ہے لیکن اس مہینے میں چونکہ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کی نورانی تخلیق اور ولادت باسعادت کا ظہور ہوا ہے اس لیے محبوب کریم صلّی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کے حالات و واقعات کو مختصراً یہاں ذکر کیا جاتا ہے۔

حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کا شجرہ مبارک: حضرت عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدمناف بن قُصَیَّ بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لُؤَیَّ بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نذار بن معد بن عدنان۔ یہاں تک سلسلہ نسب میں ارباب سیر اور اصحاب علم النصاب کا اتفاق ہے اور اس میں سب کا اتفاق ہے کہ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ (مدراج النبوۃ۔ جلد دوم)

نور محمدی حضرت عبدالمطلب کی پیشانی میں: 1۔ کان عبدالمطلب یفوح منہ رائحۃ المسک الانفذ ونور رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم یفیٔ فی غزلۃ(مواہب اللدنیہ)

یعنی حضرت عبدالمطلب کے بدن سے مشک کی خوشبو آتی تھی اور رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کا نور مبارک ان کی پیشانی میں خوب چمکتا تھا۔

2۔ حضرت کعب بن احبار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کا نور مبارک حضرت عبدالمطلب میں منتقل ہوا اور وہ حیران ہوگئے تو ایک دن حطیم میں سوکر اٹھے تو آنکھ میں سرمہ اور سر میں تیل لگا ہوا تھا اور حسن و جمال میں بڑا اضافہ ہوچکا تھا۔ انہیں بڑی حیرت ہوئی۔ ان کے والد انہیں قریش کے ایک کاہن کے پاس لے گئے اور سارا ماجرا بیان کیا۔ انہوں نے سن کر کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اس جوان کی شادی کا حکم فرمایا ہے چنانچہ انہوں نے پہلا نکاح ”قیلہ“ نامی عورت سے کیا۔ جس سے حارث پیدا ہوا اس کے بعد قیلہ کا انتقال ہوگیا۔ پھر دوسرا نکاح حضرت عبدالمطلب نے ہندہ بنت عمرو (فاطمہ) سے کیا جس سے حضرت عبداللہ پیدا ہوئے (مواہب اللدنیہ)۔

نور محمد صلّی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے باران رحمت کا نزول: روایات میں آتا ہے کہ جب قریش میں قحط پڑتا تھا تو حضرت عبدالمطلب کو وسیلہ بنا کر سوال کرتے تھے۔ ”کانت قریش اذا اصابہا قحط تاخذ بیدہ عبدالمطلب فتخرج بہ الیٰ جبل ثبیر فیتقربون بہ الیٰ تعالیٰ و یسألونہ ان یستقیم الغیث، فکان یغیثہم ویستقیم ببرکۃ نور محمد صلّی اللہ علیہ وسلم غیثا عظیما“۔ (مواہب اللدنیہ)

یعنی جب قریش میں قحط پڑتا تھا تو اس وقت حضرت عبدالمطلب کا ہاتھ پکڑ کر جبل ثبیر پر لے آتے اور اس کے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تقرب حاصل کرتے تھے اور بارش کی دعا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ اس نور محمد صلّی اللہ علیہ وسلم کے صدقے انہیں باران رحمت سے نوازتا تھا۔

حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کے والد ماجد حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کا نکاح: حضرت عبداللہ بہت زیادہ حسین تھے۔ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ شکار کے لیے تشریف لے گئے تھے۔ اہل کتاب کی ایک بڑی جماعت شام کی طرف سے تلوار سونت کر حضرت عبداللہ کے قتل کرنے کے ارادے سے نمودار ہوئی۔ اس وقت حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ کے والد حضرت وہب بن مناف جنگل میں موجود تھے، انہوں نے دیکھا کہ چند سوار جن کی شکل و صورت اس دنیا کے لوگوں سے مشابہ نہیں غیب سے ظاہر ہوئے اور وہ اس حملہ آور گروہ کو حضرت عبداللہ کے آگے سے دور کرنے لگے۔ وہب بن مناف نے گھر آکر اپنے گھر والوں کو یہ کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ اپنی بیٹی سیدہ آمنہ کا نکاح حضرت عبداللہ بن عبدالمطلب سے کردوں۔ اور پھر یہ بات حضرت عبدالمطلب تک دوستوں کے ذریعے پہنچائی۔ حضرت عبدالمطلب نے بھی چاہا کہ کوئی صاحب حسب و نسب رشتہ مل جائے۔ یہ بات جب حضرت عبدالمطلب کو پہنچی تو حضرت عبداللہ کا حضرت سیدہ آمنہ سے نکاح کردیا۔

استقرار نطفۃ زکیۃ مصطفوی دابداء ذرہ محمدیہ در صدف رحم آمنہ رضی اللہ عنہا۔ صحیح قول کے مطابق ایام حج کے درمیانی تشریق کے دنوں میں شب جمعہ میں ہوا تھا۔ اسی بنا پر حضرت امام حنبل نے فرمایا ہے کہ میرے نزدیک شب جمعہ لیلۃ القدر کی رات سے افضل ہے کیونکہ اسی رات میں سارے عالم میں جو خیر و برکت نازل ہوئی ہے وہ قیامت تک کسی رات میں نہیں ہوگی۔ (مدارج النبوۃ۔ جلد 2)

نام محمد صلّی اللہ علیہ وسلم و احمد صلّی اللہ علیہ وسلم کا حکم: حضرت ابن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ”رأت آمنۃ بنت وہب ام النبی صلّی اللہ علیہ وسلم فی منامہا فقیل لہا انک قد حملت بخیر البریۃ وسید العالمین فاذا ولدتہ فسمیہ احمدا ومحمدا وعلقی علیہ ہٰذہ۔“ (دلائل النبوۃ)

حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کی والدہ حضرت آمنہ نے اپنے خواب میں دیکھا کہ ان سے کہا گیا ہے کہ آپ تمام عالم کے سردار اور خیر البریۃ سے حاملہ ہیں تو جب ان کی ولادت ہو تو ان کا نام احمد اور محمد رکھنا اور اس دوران اپنا حال چھپائے رکھنا۔

امام قسطلانی لکھتے ہیں کہ ”کان من دلائل حمل آمنۃ برسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم ان کل دابۃ کانت لقریش نطقت تلک الیلۃ، وقالت حمل برسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم ورب الکعبۃ“ (مواہب اللدنیہ)

یعنی حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کا حاملہ ہونے کی یہ بھی دلیل ہے کہ اس رات قریش کی تمام سواریاں بول پڑیں اور یہ کہا کہ رب کعبہ کی قسم حضرت آمنہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاملہ ہیں۔

حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا دوران حمل نور کے بارے میں فرماتی ہیں ”رأت حین حملت بہٖ انہ خرج منہا نور رأت بہ قصور بصریٰ وارض شام۔“ (السیرۃ النبویۃ)

یعنی حضرت آمنہ نے حمل کے دوران بھی ایک نور دیکھا جس سے شہر بھر اور شام کے محلات روشن ہوگئے۔

بطن والدہ میں: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ ”وبقی فی بطن امہ تسعۃ اشہر کما لاتشکو وجعا ولاریحا ولا مغصا ولاما یعرض للنساء ذوات الحمل۔“ (خصائص الکبریٰ جلد 1)

یعنی حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم 9 ماہ تک والدہ ماجدہ کے بطن میں جلوہ گر رہے، اس دوران انہوں نے کسی قسم کی تکلیف، قے، متلی، بے چینی اور جو عوارض عورتوں کو ان ایام میں پیش آتے ہیں، ان کی شکایت کا اظہار نہ کیا۔

حضرت بیبی آمنہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جس روز سے حضرت محمد صلّی اللہ علیہ وسلم کا نور میرے بطن میں آیا، اس روز سے عجیب و غریب حالات نظر آنے لگے۔ ایک مرتبہ میرے پاس حسین و جمیل بہشتی خواتین کا ظہور ہوا جنہیں ”حور عین“ کہتے ہیں۔ ان کے ہمراہ حضرت بی بی آسیہ اور حضرت بی بی مریم بھی تشریف لائی ہیں اور جشن ولادت میں شرکت کے ساتھ اپنی موجودگی سے حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا کو دلاسا دلایا اور باور کرایا کہ وہ ایک بہت ہی عظیم و بے مثال ہستی کی ماں بننے کا شرف حاصل کرنے والی ہیں۔

جشن ولادت: ولادت مصطفی صلّی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بہت سے اقوال کو کتب سیر نے ذکر فرمایا ہے لیکن ہم فقط ایک صحیح قول نقل کرتے ہیں۔

وقد صح من طرق کثیرۃ ان محمدا علیہ السلام ولد یوم الاثنین لاثنتی عشرۃ مضت من شہر ربیع الاول عام الفیل فی زمن کسریٰ نوشیروان ویقول اصحٰب التوفیقات التاریخیہ ان ذالک یوافق الیوم المکمل للعشرین من شہر اغطس 570ء بعد میلاد المسیح علیہ السلام۔

یعنی متعدد طرف سے یہ بات صحیح ثابت ہوچکی ہے کہ حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم 12 ربیع الاول بروز پیر عام الفیل کسریٰ نوشیرواں کے عہد حکومت میں پیدا ہوئے اور ماہرین فن تاریخ نے اس کے موافق عیسوی تاریخ 20 اگست 570ء بیان کیا ہے۔ حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارکہ طلوع صبح صادق کے فوراً بعد ہوئی، پاکستانی نظام الاوقات کے مطابق اس روز مکہ معظمہ میں صبح صادق کا طلوع 4 بج کر 20 منٹ تھا۔

اعلان ولادت: ولادت کی رات پوری کائنات میں منادی کرادی گئی کہ سارے ملائکہ درود وسلام پڑھو، جنت کو سنواردو، جہنم کے دروازے بند کردو، عرش عظیم پر خوشی کا سماں تھا۔ حوریں اپنے حسن و جمال سے مسرور تھیں۔ پرندے ایک دوسرے سے اپنے پروں کو ملاکر خوشی میں مبارک باد دے رہے تھے۔ فرشتوں نے مشرق و مغرب میں آمد مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وسلم کے استقبال میں پرچم لہرائے۔

حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”رأیت کان شہابا خرج منی اضاء ت بہ الارض“ (ابن اسحاق)

”ولادت مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وسلم کے وقت ایک نور مجھ سے جدا ہوا ہے جس کی روشنی سے پوری زمین روشن ہوگئی“۔

میرے محبوب صلّی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے وقت پوری کائنات میں خوشی کا سماں تھا، پوری کائنات نور میں ڈوبی ہوئی تھی۔ ہر طرف دھوم مچی ہوئی تھی۔

کسریٰ میں زلزلہ مچ گیا تھا۔ بت خانوں میں بت اوندھے منہ گرے ہوئے تھے۔ ان بتوں سے یہ آوازیں سنائی جاتی تھیں کہ ”آج وہ ہستی پیدا ہوگئی ہے جس سے کفار کے بت ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔“ فرشتے آسمان سے آرہے تھے، خوشیاں منا رہے تھے، پرچم لہرا رہے تھے۔ حوریں آمد مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وسلم کی خوشی میں حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ عنہا کے گھر پر حاضری دے رہی تھیں۔ کائنات کا ذرہ ذرہ جھوم اٹھا لیکن ایک شیطان لعین چلا رہا تھا کہ ”آج میری حکومت ختم ہوجائے گی۔ بت پرستی ختم ہوجائے گی۔ لڑکیوں کو زندہ دفنایا نہیں جائے گا۔“

سیرت نگار حضرات اپنی سیر میں لکھتے ہیں کہ ”ولد النبی صلّی اللہ علیہ وسلم مختونا“ یعنی آقا صلّی اللہ علیہ وسلم ختنہ شدہ حالت میں پیدا ہوئے۔

جس سہانی گھڑی میں میرے محبوب کی ولادت ہوئی تو اس نورانیت کی وجہ سے بی بی آمنہ فرماتی تھیں کہ ”میں نے شام ملک میں اونٹوں کی گردنوں کو بھی دیکھا۔“ جس محبوب صلّی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی خوشی میں پوری کائنات خوشی سے جھوم رہی ہے تو ہمیں بھی اپنے محبوب صلّی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی خوشی میں جھومنا چاہیے۔ اپنے دلوں کو سجانا چاہیے، اپنے گھر، مکان کو سجانا چاہیے، اپنے بچوں کو سجانا چاہیے۔ یہ ہمارے لیے سب سے بڑی عید ہے اگر یہ عید نہ ہوتی تو دنیا بھی نہ ہوتی۔ جب دنیا ہی نہیں ہوتی تو پھر ہم کہاں ہوتے۔ جیسا کہ روایات میں آیا ہے کہ ”لولاک لما خلقت افلاق“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے میرے محبوب صلّی اللہ علیہ وسلم اگر آپ نہ ہوتے تو پوری کائنات بھی نہ ہوتی۔ انصار مدینہ کو جب معلوم ہوا کہ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم مدینے آرہے ہیں

طلع البدر علینا وجب الشکر علینا

انصار مدینہ تو اپنے اوپر شکر واجب کر رہے تھے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ محبت رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کی خوشی میں اپنے دلوں کو مدینہ بنادیں۔ اور انصار مدینہ کی طرح خوشی سے جھوم اٹھیں اور محبوب کی آمد میں جشن عید میلاد النبی صلّی اللہ علیہ وسلم کو ہر جگہ مقرر کریں۔

ازل سے میرے نبی کی محفل
سجی ہوئی ہے سجی رہے گی