فہرست الطاہر
شمارہ 50، ربیع الاول 1429ھ بمطابق اپریل 2008ع

مکتوبات پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ

حضرت خواجہ محمد عبدالغفار المعروف پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کے چند مکتوبات و کلام برادران اہل طریقت کی نذر کیے جارہے ہیں۔

 

1۔ بخدمت گرامی عزیز القدر جناب شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ

السلام علیکم

عزیزا! ذکر اسم ذات کا تمام وظائف اور ذکروں سے اعلیٰ اور افضل ”ولذکر اللہ اکبر“ نص قطعی ہے اور تبلیغ ذکر کی نیز تمام عبادتوں سے برتر اور بہتر ہے۔ ”فذکر فان ذکریٰ تنفع المؤمنین“ اور ”کنتم خیر امۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف و تنہون عن المنکر“ نص قطعی ہے۔ عزیزا زہے سعادت اور زہے طالع اس کے جو اس کام تبلیغ میں کوشان اور سرگرم ہے۔ عزیزا، ہمت کو بالا رکھو اور آن و آوان تبلیغ میں مستعد رہو۔ انشاء اللہ تعالیٰ برکات و فیوضات پیران کبار کے ہمچوں بارش باران دیکھتے رہو گے اور حلقہ اور مراقبہ میں اور قبل بعد ازیں ہر وقت دید قصور غالب اور تیز رہے حتیٰ کہ اپنے کو تمام مخلوق سے بلکہ گبر اور یہود سے بھی بدتر سمجھو۔ مولانا سعدی رحمۃ اللہ نے کیا خوب فرمایا ہے۔

ازاں برملائک شرف داشتند
خود را ازبد سگ بہ پنداشتند

والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ

 

2۔ بخدمت گرامی حاجی نواب شاہ صاحب سلامت باشد

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ومغفرتہ

آپ کا مکتوب پہنچا حقیقت مندرجہ سے آگاہی ہوئی۔ عزیزا! حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ جو شخص غائبانہ چاہے ہزار کوس پر بھی ہو اپنے پیر کا تصور کرکے سامنے اس تصور کے با ادب اور کمال نیاز بازانو ہوکر بیٹھے اور فیض کی ان سے انتظار رکھے اور ہر وقت اس طرح کرتا رہے تو فوراً تھوڑے عرصہ میں اس شخص کو اتنا ہی فائدہ ہوگا جو شخص کہ پیر کے سامنے رہنے والا ہے۔ اور اس کا فیض اس حاضر رہنے والے سے کم نہ ہوگا بلکہ دن بدن ترقی کرتا جاوے گا۔ یہ ایک ایسی نعمت ہے کہ ہر بوالہوس کو نہیں دی جاتی بلکہ خاصان کو عطا کی جاتی ہے۔ محبت پیر کی آجکل کالعنقا گم ہوگئی ہے لیکن ”لیس من فضل اللہ ببعید“ طالب کو چاہیے کہ ہر وقت ہمت کو برگماشتہ رکھے اور کوشش میں ہرگز کوتاہی نہ کرے۔ بیت

اگر شاہ بیاید بدر پیرہ زن
تو از حسرت خواجہ سبلت مکن

عزیزا! توجہ دینے کے وقت خود کو ناموجود سمجھنا چاہیے گویا اس طرح سمجھے کہ میں موجود ہی نہیں ہوں اور قطب الاقطاب محبوب الٰہی حضرت قریشی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس حلقہ میں موجود ہیں اور فیض ان سے آرہا ہے اور توجہ کے وقت یہی تصور ہونا چاہیے کہ فیض اس حضرت ممدوح سے آرہا ہے اور یہی خیال اٹھتے بیٹھے رکھا کریں مصرع

تو خود مباش اصلاً کمال این آست وبس

اپنے آپ کو ہمیشہ نابود و لاشئی سمجھا چاہیے اور خود کو اصحاب قبور میں سے سمجھنا چاہیے۔ جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہے ”عدنفسک کانک من اصحاب القبور“ فیض کی نسبت اپنی طرف نہ کرنی چاہیے یوں سمجھیں کہ پیران سے آرہا ہے اور جماعت میں رشد و جذبہ دکھائی دیوے تو یہ بھی یوں سمجھیں کہ پیر قریشی رحمۃ اللہ علیہ توجہ دے رہے ہیں۔ غرض یہ کہ اپنے کو بالکل گم اور لاشئی سمجھیں۔

باقی احوال عندالملاقات معروض ہوویگا۔

 

3۔ بخدمت گرامی میاں فتح الدین صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ الواہب

السلام علیکم وعلیٰ من اتبع الہدیٰ

عزیزا! خطا سرزد ہونے کے بعد جو انسان ازسر صدق و اخلاص سے تائب ہوجاوے ان کی خطا عنداللہ معاف ہوجاتی ہے اور حدیث شریف میں ہے ”التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ“ یعنی توبہ کرنے والا بالکل پاک اور صاف ہوجاتا ہے۔ کسی بزرگ نے کہا ہے گر ہزار بار توبہ شکستی باز آ گر کافر بت پرستی باز آ بازآ

عزیزا! گناہ وارد ہونے کے بعد دل میں ندامت کا کھٹکا پیدا ہونا علامت ایمان کی ہے اور اسی گناہ واقع ہونے کے بعد جلد تر پشیمانی اور تحر آپ کو لاحق ہونے لگا تو اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ احسان ہے اور یہ بڑی کامل نشانی آپ کے ایمان کے کامل ہونے کی ہے اور جس کی قلب غلیظ اور سیاہ ہوتی ہے اس کو گناہ کرنے پر کوئی ندامت اور پشیمانی محسوس نہیں ہوتی بلکہ بیباک و بے خطر ہوکر گناہ پر دلیرانہ حملہ کرتا ہے اور اس پر کرات، مرات مصرت اور مداوت کرتا ہے۔ نعوذ باللہ السمیع العلیم من ذالک۔ عزیزا! اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف ایسا دل میں محبت اور رجوع رکھو جیسا کہ پیاسے کا پانی کی طرف اور ذکر مراقبہ کی بہت کثرت کرو۔ ”فاذکرو اللہ کثیرا لعلکم تفلحون“ نص قطعی ہے۔ حضرت رب العالمین کی محبت کے بغیر انسان کو اگر حیوان کہا جائے تو بے جا نہیں۔ بلکہ حیوان سے بھی بدتر ہے۔ کوئی اللہ تعالیٰ کا عشق حاصل کرنا چاہے تو قلب کے ذکر کی بہت کثرت کرے اور اپنی بی بی کو بھی نماز اور ذکر کی ترغیب دیا کرو اور کوئی وقت مجوز رکھو کہ باہم بیٹھ کر مراقبہ کیا کرو۔

ذکر ذکر کن تاترا جان است پاکئی دل از ذکر رحمٰن است

عزیزا! اگر خط جوابی کے لیے کارڈ بھیجا کرو تو امید ہے جلد جواب دیا جائے گا۔ یہاں ڈاکخانہ دو میل کے فاصلہ پر ہے اس لیے دیری ہوجاتی ہے معاف فرمانویں۔ عزیز مولوی فیاض حیٔ کو اسلام علیکم معروض باد۔