فہرست الطاہر
شمارہ 50، ربیع الاول 1429ھ بمطابق اپریل 2008ع

محبوب سجن سائیں شریعت و طریقت کے آئینے میں

حافظ علی بخش پنہور طاہری

قسط 2 (گذشتہ قسط)

قارئین کرام! اس حصے میں بھی ہم روایت سابق کو سامنے رکھ کر یعنی حضور قبلہ عالم کے ارشادات و عمل کو ڈھال اور موضوع بنا کر کچھ بحث کریں گے۔ لیکن کچھ اصطلاحات جو مضمون سابقہ میں مذکور ہیں طلب تفسیر ہیں۔ ان میں سے پہلے ہم شریعت کی تعریف و تحقیق کریں گے۔ اس کے بعد طریقت کا بھی تعریفی و تصریحی جائزہ لیں گے۔

لفظ شریعت شرع سے بنا ہے اس کا معنیٰ چوڑا اور سیدھا راستہ ہے، اصطلاح اسلامی میں شریعت اسلام کا وہ راستہ ہے جس پر ہر شخص آنکھ بند کر کے چل سکے۔

طریقت طریق سے بنا ہے جس کے معنیٰ پیچیدہ اور تنگ راستہ کے ہیں۔ اصطلاح اسلامی میں طریقت راز و اسرار کے وہ تنگ اور پیچیدہ گلی کے کوچے ہیں جو واقف کے سوا دوسرا طے نہ کرسکے گا۔ اب دونوں کو ایسے کہا جائے کہ شریعت میں آسانی ہے مگر طریقت میں مشکل ہے لیکن بہت جلد مقصود تک پہنچاتی ہے کیوں کہ گلیوں کے ذریعے جلد منزل پر پہنچا جاسکتا ہے۔

اب ہم شریعت و طریقت کے مابین فرق اس طرح کریں گے کہ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کے جسم پاک کے احوال کا نام شریعت ہے یعنی جن امور کا تعلق جسم اطہر سے ہے ان کو شریعت کہیں گے اور قلب پاک کے احوال کا نام طریقت ہے۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو شریعت کی مثال پوست کے جیسی ہے اور طریقت کی مغز کے جیسی۔ پوست بغیر مغز کے بے قیمت ہے اور مغز بغیر پوست کے غیر محفوظ ہے۔ طریقت گویا حقیقت ہے اور شریعت گویا مجاز۔ طریقت سمندر ہے شریعت جہاز ہے۔ جو کہے اب دنیا میں کوئی ولی نہیں وہ جھوٹا ہے۔ کیونکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ مجاز رہے حقیقت نہ رہے۔ شریعت درخت ہے طریقت اس کا پھل اور پھول ہے۔ اب میں تصریح کے مقام پہ یہ کہنے سے اپنے آپ کو روک نہ سکوں گا کہ ان اصطلاحات کے آئینے میں میرے پیر کی مثال اعلیٰ ہے سب سے افضل ہے کہ وہ شریعت کے مطیع اور طریقت کے پاسدار ہیں گویا کہ وہ سمندر شریعت کے بھی تیراک ہیں اور جہازِ طریقت کے پائلیٹ بھی ہیں۔ وہ درخت شریعت کی شاخوں سے آشنا بھی ہے اور پھل طریقت سے بھرپور لذتیں بھی حاصل کرتے ہیں۔ وہ شناس حق سے معمور ہیں ان کی نگاہ جاں فزا میں یہ اثر ہے کہ وہ کسی کو طریقت کے پیچیدہ و تنگ کوچوں سے تیز ہوا کے جھونکوں کے مانند اڑاکر جلد ہی منزل مقصود پر پہنچادیں اگر کسی کو درد دل کی تمنا ہو، وہ چاہتا ہو کہ اس کا دل عشق مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وسلم کے نغموں کے سوز و ساز سے دم بدم گرم دم رہے تو وہ میرے پیر کے میخانے میں آکے سادہ مزاج اور سادہ لباس فقراء کی دل جوئی کرے، ان کی محبت حاصل کرنے کی کوشش کرے تو اس جیسا گوہر اسے کسی سلطان کے دربار میں نہیں ملے گا۔ کیونکہ حضور سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ نے ان فقراء کو یہ درجہ دیا ہے کہ یہ میری امیدوں کے چمن کے بوٹے ہیں اور ان کی پرورش و تربیت میں نے جگر کا خون دے دے کر کی ہے۔ یقینا اب ہم کہہ سکتے ہیں کہ جو بھی ان فقراء کا عقیدتمند ہوگا اسے دوجہاں کی راحت میسر ہوگی بقول ایک شاعر کے کہ

تمنا درد دل کی ہے تو کر خدمت فقیروں کی
نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں

اب آئیے میرے پیر کے فرمان سے استفادہ حاصل کریں۔ تو ملاحظہ ہو میرے پیر کا فرمان کہ ”حسد منافئ عشق ہے“۔ یعنی جس دل میں حسد ہو اس میں گرمئ عشق پیدا نہیں ہوتی۔ اس قول سے جیسے حسد کی نفی کی جارہی ہے ایسے اشارتاً زہد کی ترغیب بھی ہے لیکن زہد سے مراد وہ زہد ہے جس کے قائل شیخ سعدی بھی ہیں۔ وہ فرماتے ہیں ایک حاکم وقت نے یہ نذر مانی کہ میرا فلاں کام ہوگیا تو میں کچھ پیسے اس شہر کے زاہدوں کو دوں گا۔ کچھ وقت کے بعد اس حاکم کا کام ہوگیا تو اس نے اپنے وزیر کو مقررہ پیسے دیتے ہوئے کہا کہ اس شہر کے کسی زاہد کو دے کر آؤ۔ وزیر بھی نہایت چالاک اور ذہین تھا اس نے کیا کیا جو سارا دن گھوم پھر کر پیسے واپس لے آیا۔ بادشاہ نے پوچھا کیوں بھئی یہ کسی زاہد کو کیوں نہیں دیے؟ تو وزیر نے کہا کہ حضور آپ نے کہا تھا کہ کسی زاہد کو دینا، زاہد تو ہوتا ہی وہی ہے جو دنیا سے کام نہ رکھے یعنی جو زاہد ہوگا وہ پیسے نہیں لے گا اور جو نہیں ہوگا وہ پیسے لے گا۔ اس خیال سے میں پیسے واپس لے کر آیا۔ میرے پیر کے اس فرمان سے عشقِ لیلیٰ و مجنوں کی طرف اشارہ ہے کہ یقینا حسد منافئ عشق ہے کیونکہ مجنوں کی دل میں اگر لیلیٰ کے لیے حسد ہوتا تو یہ نوبت نہیں آتی کہ اک بار اسے لیلیٰ کے گھر کے در و دیوار کو چومتے ہوئے دیکھا گیا۔ کسی نے وجہ پوچھی کہ کیا وجہ ہے ان پتھروں کو چومتا ہے؟ تو قیس معروف بنام مجنوں نے الفت سے معمور انداز میں جواب دیا کہ میں اس مکان کو اس وجہ سے چوم رہا ہوں کہ یہاں میری لیلیٰ تمکن پذیر ہے، الفت لیلیٰ نے میرا یہ حال کردیا ہے کہ جس چیز کی نسبت لیلیٰ سے ہے وہ مجھے جان سے پیاری لگتی ہے۔ اس کو چومنے سے مجھے راحت ملتی ہے۔ اب غور کیا جائے تو مجنوں کو لیلیٰ سے عشق تھا نہ کہ حسد۔ حسد عقل کے استعمال کرنے سے پیدا ہوتا ہے لیکن عشق تو عقل کو بھی خیرہ کردیتا ہے۔ عشق دل میں پیدا ہوتا ہے اور یہ بات تو مسلّم ہے جو چیز دل میں اترجائے عقل اس کو ضرور مانے گا۔ تو مجنوں کے دل میں لیلیٰ کا عشق آگیا تھا جس نے اس کے عقل کو خیرہ کردیا تھا۔ جب حسد نہ تھا تو عشق ہوگا اور جب عشق تھا تو یہ ثابت ہوچکا کہ حسد منافئ عشق ہے۔ اس نظریے کو پیش کرنے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ جو بھی یہ چاہے کہ مجھے پیر سجن سائیں سے فیضان حاصل ہو اسے دل میں میرے پیر کی الفت و محبت رکھنی ہوگی۔ کیونکہ کوئی بھی چیز بغیر محبت کے حاصل نہیں ہوتی۔ اگر کسی کو فیض نہیں ملتا تو اس کا اپنا قصور ہے۔ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کا فیضان کائنات کے ذرے ذرے کے لیے عام ہے۔ اگر کسی ابوجہل اور ابولہب جیسے کو نہیں ملا تو اس کا اپنا قصور تھا نہ کہ صاحب فیضان کا۔ جن کو میرے مدنی سرکار کا فیض ملا ان کا تو عجب ہی حال ہوگیا۔ کوئی علامہ جامی کی طرح پرجوش ہوکر کہہ رہا ہے۔

وصلی اللہ علیٰ نور کزو شد نورہا پیدا
زمیں از حب او ساکن فلک در عشق او شیدا

تو کوئی امام عشق و محبت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی کی طرح عشق کے اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ

دل جان ہوش و خرد سب تو مدینے پہنچے
تم تو چلتے نہیں رضا، سارا تو سامان گیا

ایسے ہی میرے پیر کا فیض عام ہے۔ جو بھی فیض لینے کا مدعی ہے اسے بھرپور عشق و محبت کا مظاہرہ کرنا ہوگا پھر دیکھے کہ کیسے فیض کے چشمے اس کے سینے میں رواں ہو جاتے ہیں اور کیسے کیسے اسرار و حقائق اس پر ظاہر ہوجانے لگتے ہیں، کیسے دل کی سیاہی صاف و صقِل ہوجاتی ہے، کیسے دل میں اللہ اللہ کے ورد کی دھومیں مچ جاتی ہیں، کیسے دل کا چمن مہک اٹھتا ہے۔

اس جگہ میں ایک دلفریب واقعہ ضرور بیان کرنا چاہوں گا کہ کس قدر میرے پیر کو رب کائنات نے طاقت بخشی ہے، کس قدر ان کو رسائی حاصل ہے۔ واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ میرے استاد محترم قبلہ سید ذاکر حسین شاہ صاحب جو میرے پرائمری ٹیچر بھی ہیں اور سرپرست بھی ہیں۔ ان کی والدہ دماغی الجھن کی بیماری میں مبتلا تھیں۔ جانے کتنے ہی ڈاکٹروں کو دکھایا گیا لیکن کچھ اثر نہیں ہوا۔ اس اضطراب کے عالم میں اس عاجز نے استاد محترم کو یہ مشورہ دیا کہ اسے میرے پیر کے میخانے پر لے چلیں تو انہوں نے حامی بھرلی۔ لیکن والدہ کے زیادہ کمزور ہونے کے باعث پروگرام یہ طے پایا کہ ہم جاکر حضور قبلہ عالم سے پانی دم کرواکر لائیں اور اسے پلائیں۔ مقررہ وقت پر ہم کراچی ٹول پلازہ پہنچے۔ میرے استاد محترم کے لیے یہ ماحول نیا تھا لیکن جب انہوں نے ظہر کی نماز حضور قبلہ عالم کے پیچھے پڑھی اور دیدار سے مشرف ہوئے تو ان کی حیرت کی انتہا ہوگئی۔ وہ کہہ رہے تھے کہ جس پیر کا نام میں کتنے سالوں سے سنتا آرہا ہوں اور اس کی جماعت بڑے پیمانے پر کام کررہی ہے، میں نے سوچا تھا کہ یہ کوئی بوڑھے بزرگ ہوں گے لیکن مجھے حیرت ہے کہ اتنے ینگ ہوکر کیسے اتنی بڑی جماعت کو نظم و ضبط سے سنبھالے ہوئے ہیں۔ یقینا ان پر اللہ کا کرم ہے اور نعمت کثیر ہے۔ پھر کچھ دیر کے بعد حضور قبلہ عالم خلفاء کرام سے گفتگو کرنے کے بعد جلوہ گر ہوئے اور ہم نے پانی دم کروایا۔ جب ہم کراچی سے لوٹے تو میرے استاد محترم کافی مطمئن نظر آرہے تھے اور بار بار کہہ رہے تھے کہ میں نے بہت سے پیروں اور امیروں سے ملاقات کی ہے لیکن جو رنگ، فیض اور نورانیت یہاں دیکھی ہے وہ شاید کسی اور میں بھی ہو۔ بڑے بڑے امراء جو ہمیشہ بڑے ہوٹلوں کے اچھے ذائقہ دار کھانے کھاتے ہیں لیکن جب اس جگہ پہ میں نے دیکھا تو وہی میرے پیر کے فیض سے معمور سادہ لنگر خوشی میں جھوم جھوم کر کھا رہے تھے۔ ایسا کہا جائے یہاں غریبی امیری کا فرق ہی مٹ گیا تھا۔ غریب امیر ایک جیسا کھانا کھارہے تھے اور سب پروانوں کی طرح مرشد کے اردگرد فدا ہورہے تھے۔ سب کی یہ تمنا تھی کہ حضور مجھے شرف سے نوازیں مجھے نوازیں۔ جب ہم گھر پہنچے، میں مدرسے چلاگیا تو کچھ وقت کے بعد میرے استاد محترم نے فون کیا اور بڑے خوش تھے کہہ رہے تھے کہ میری والدہ ٹھیک ہوگئی ہے۔ وہ جو کسی کو پہچان بھی نہیں سکتی تھی اب پورے اہل و عیال کو پہچان بھی رہی ہے اور ٹھیک طرح سے بات بھی کررہی ہے۔ میں یہ باتیں سن کر بہت خوش ہوا کہ اللہ اپنے مخلص بندوں کو کتنی طاقت عطا کردیتا ہے کہ وہ کسی کی کایہ ہی پلٹ دیتے ہیں یقینا یہ کہنا پڑتا ہے۔

جذب کے عالم میں جو لب مومن سے نکلے حقیقت میں وہ تقدیر الٰہی ہی ہے

اب ہم ذرا اپنے اصل کی رعایت کرتے ہوئے میرے پیر کے مذکورہ فرمان ”حسد منافی عشق ہے“ کو حدیث کی رو سے ثابت کرنے کی کوشش کریں گے۔ بخاری و مسلم میں حضرت سعد بن ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کسی اصلاحی کام میں مصروف تھے نماز کا وقت آگیا۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا ابوبکر اٹھیے امامت کیجیے۔ حضرت ابوبکر امامت کرنے لگے حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم بیچ نماز میں جلوہ افروز ہوئے۔ صحابہ نے اشارہ کیا کہ ابوبکر پیچھے آجائیں اور حضور آگے ہوجائیں۔ ابوبکر نے جب صحابہ کی آواز سنی تو متوجہ ہوئے، دیکھا کہ مدنی سرکار پیچھے ہیں ابوبکر پیچھے ہٹنے لگے حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا کہ کوئی بات نہیں آپ ہی نماز پڑھائیے لیکن ابوبکر پیچھے آگئے اور حضور صلّی اللہ علیہ وسلم آگے ہولئے۔ بعد نماز حضور صلّی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر سے پوچھا کہ کس چیز نے تجھے روکا کہ تم امامت کرتے باوجود اس کے کہ میں نے تجھے کھڑا رہنے کا اشارہ کیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ابوقحافہ کے بیٹے کی کیا مجال ہے کہ دونوں جہانوں کے سردار کے آگے لوگوں کو نماز پڑھائے۔ اب بنظر غائر دیکھیں تو پتہ چلے گا کہ جس بات نے صحابہ کرام کو اشارہ کرنے اور ابوبکر کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا، وہ ان کا حضور سے والہانہ عشق تھا جو انہیں ہرگز خاموش کھڑا رہنے کی اجازت نہ دیتا تھا۔ یہ وہی عشق تھا جو تحویل قبلہ کے وقت بھی اطاعت رسول صلّی اللہ علیہ وسلم کا تقاضہ کررہا تھا۔ وہ بھی کیسا پیارا منظر تھا جب سب بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھ رہے تھے۔ حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم نے بیچ نماز میں کعبۃ اللہ شریف کی طرف اپنا رخ انور موڑلیا تو جماعت صحابہ نے بھی بغیر چوں چرا کے اپنا رخ، رخ مصطفیٰ کی اطاعت میں کعبۃ اللہ کی طرف کرلیا۔ جہاں سرکار وہاں صحابہ۔ یہاں سوچنے کا مقام ہے صحابہ کرام نے کس وجہ سے یہ سب کچھ کرلیا حالانکہ ایسا بھی ہوسکتا تھا کہ اس وقت کی نماز بیت المقدس کی طرف منہ کرکے پڑھتے، عقل کا تقاضہ تو یہی تھا مگر اس ذات عظیم کا عشق جو ان کے قلوب میں گھر کرچکا تھا وہ ان کے عقول کو خیرہ کرچکا تھا اور بار بار کہہ رہا تھا کہ تمہیں رب سے اس ذات عظیم نے ہی ملایا ہے چنانچہ ان کی متابعت تم پر بغیر چوں چرا کے لازم ہے۔ یہاں اپنے عقول ناقصہ کو استعمال میں نہ لاؤ کیونکہ عقول کے استعمال سے اعتراضات پیدا ہوں گے جب اعتراضات پیدا ہوگئے تو حسد اور غصہ جنم لے گا اور جب غصہ و حسد آگیا تو تمہارے قلوب میں عشق مصطفیٰ کی شمع بجھ جائے گی۔ حسد منافئ عشق ہے لہٰذا عشق سے کام لیجیے عقل سے نہیں۔

سبحان اللہ اقتباس ہٰذا میں سے بھی میرے پیر کے اس فرمان کی ”حسد منافئ عشق ہے“ کی حقانیت واضح ہوگئی۔

قارئین محترم! اولیاء اللہ کے منازل و درجات کی کوئی انتہا نہیں۔ ہماری نظر و عقل کی کیا حیثیت ہے کہ ہم ان کی حقیقت جان سکیں، ہمیں تو بس اس بھرم پر جینا چاہیے کہ ان کی توجہ ہماری طرف بھی ہے۔ ان کی نگاہ کرم کا فیضان ہم پر بھی برابر ہے کیونکہ کسی شاعر نے خوب فرمایا ہے۔

نہ تخت و تاج، نہ لشکر و سپاہ میں ہے
جو بات مرد قلند کی بارگاہ میں ہے

حاصل تقریر یہ ہے کہ میرے پیر اگر زہد کی ترغیب دیتے ہیں تو اس سے مراد وہ زہد نہیں ہوتا جو دنیا سے مخفی کردے لیکن وہ زہد مراد ہوتا ہے جو دنیا کی رغبت سے پاک ہو اور جب شریعت کی ترغیب دیں تو وہ ایسی نہیں کہ طریقت سے اعراض کرتی ہو اور جب طریقت کی ترغیب دیں تو وہ بھی ایسی نہیں، بلکہ دونوں کا لحاظ رکھتے ہیں۔ میرے پیر کا درس صرف یہ ہے کہ عشق و الفت، امن و محبت قائم رہے۔ خیالی اور حیثیتی دوریاں ختم ہوجائیں۔ مردہ قلوب اللہ کے ذکر سے زندہ ہوجائیں۔ قلب مؤمن کو اس کا حقیقی مقام مل جائے۔ محبت بھری محفلیں پھر سے رچنے لگ جائیں اور سب کے لبوں پر یہ نعت مصطفی ہو کہ

آؤ حسنِ یار کی باتیں کریں
زلف کے رخسار کی باتیں کریں

زلف کی زنجیر کی سائے تلے
یار کے دیدار کی باتیں کریں

عشق کی آہوں میں ہوتا ہے اثر
آؤ وصلِ یار کی باتیں کریں

(جاری ہے)