فہرست الطاہر
شمارہ 50، ربیع الاول 1429ھ بمطابق اپریل 2008ع

پرنور شخصیت

ڈاکٹرعبدالرحیم چنہ بیدار طاہری

حضور قبلہ عالم سیدی و مرشدی کا فرمان ہوا کہ عاجز حضرت پیر غفاری مٹھا سائیں کی ہمہ جہت شخصیت پر کچھ تحریر کرے۔ باوجود اس کے کہ عاجز ناچیز، عارف کامل، قطب الارشاد، حضرت رحمت پوری رحمۃ اللہ علیہ سے متعلق لکھنے کی، اپنے اندر اہلیت نہیں پاتا، لیکن ”الامر فوق الادب“ کے مصداق، چند معروضات پیش خدمت ہیں۔

مجھے یاد پڑتا ہے کہ عاجز چار پانچ برس کا تھا، کہ میرے دادا حضور نے پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کو دعوت تبلیغ پر ہمارے گاؤں خلیفہ محمد صالح چنہ میں مدعو کیا۔ یاد رہے کہ حضور پرنور پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ تبلیغ دین کے لیے بہت حریص تھے۔

جس وقت حضور کی ہمارے گاؤں میں تشریف آوری ہوئی تو شام کا وقت تھا۔ جیسے ہی حضور ہمارے گھر میں تشریف لائے، اس وقت میں گھر میں ہی موجود تھا۔ ہمارے تمام گھر والے مرد کامل کی زیارت کے لیے بے چین تھے۔ میں نے بھی زیارت کے لیے تگ ودو کی اور جیسے ہی عارف کامل کی زیارت ہوئی تو مجھ میں جیسے سکتہ کا عالم طاری ہوا۔ نظریں تھیں کہ حضور کے چہرہ پرنور کا ہی طواف کر رہی تھیں اور میں یوں محسوس کررہا تھا کہ یہ حسین و جمیل شخصیت کوئی نوری فرشتہ ہیں جو فلک سے فرش پر تشریف لائے ہیں۔ آپ کے عالمانہ لباس، پیاری دلربا مسکراہٹ اور مسحور کن گفتگو نے ایک سحر طاری کردیا اور میں کافی دیر تک آپ کے قریب رہا۔ اچانک میری دادی جان آئیں اور مجھے یہ کہہ کر باہر لے گئیں کہ 4 سال یا اس سے بڑی عمر کا بچہ حضورکے حرم (یعنی خواتین کی حویلی میں) نہیں آسکتا۔ میں نے رونا شروع کردیا۔ کیونکہ حضور کی پیاری شخصیت نے مجھے عجیب لذت بخشی۔ مگر کیا کرتا دروازے کے باہر کھڑا روتا رہا کہ اچانک میرے پیر و مرشد سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ اور میرے ماموں میاں صاحب ڈنو چنہ نمودار ہوئے۔ میں ان کو دیکھتے ہی اپنا رونا بھول گیا اور وہاں سے چلا گیا۔ مجھے یاد ہے کہ حضور سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ اکثر و بیشتر ہمارے گھر اس طرح تشریف لاتے تھے کہ دستار باندھے اور چادر اوڑھے ہوئے کہ سوائے چہرے کے سامنے والے حصہ کے کچھ نظر نہ آتا تھا۔ ہمارے گھر والے حضور سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ کو سائیں مولوی صاحب کے نام سے پکارتے تھے۔ آپ کی نورانی شخصیت کا عجیب رعب و دبدبہ تھا کہ دیکھنے والا مرعوب ہوجاتا تھا۔ اس لیے میں آپ کو دیکھتے ہی رونا بھول کر وہاں سے بھاگ گیا۔

حضور پیر مٹھا سائیں رحمۃ اللہ علیہ چند روز ہمارے ہاں قیام پذیر رہے۔ جتنے دن بھی حضور وہاں رہے، بارانی رحمت فیض اور بارش کی صورت میں ہوتی رہی۔ اس کے باوجود اکثر لوگ زیارت و حصول برکات کے لیے حاضر ہوتے۔ کثرت بارش کے سبب نماز باجماعت گھر پر ہوتی تھی۔ مجھے پہلی بار ذکر قلبی کا وظیفہ وہیں ملا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب حضور پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی انگلی مبارک عاجز کے دل پر رکھی اور اللہ اللہ اللہ کہا تو میں نے محسوس کیا کہ یہ اللہ اللہ کی صدا میرے دل سے آرہی ہے اور اسی وقت میں نے اپنے دل کی عجیب رفتار محسوس کی۔

حضور کی دوسری دعوت تبلیغ ہمارے شہر کنڈیارو میں ہوئی۔ اس وقت تک بستی اللہ آباد شریف قائم نہیں ہوئی تھی۔ یاد رہے کہ حضور رحمت پوری رحمۃ اللہ علیہ جتنے دن کنڈیارو شہر میں قیام فرما رہے مسلسل بارش ہوتی رہی۔

تیسری دفعہ میں درگاہ رحمت پور شریف لاڑکانہ زیارت کے لیے گیا۔ اس وقت میری عمر تقریباً دس سال تھی۔ ظہر، عصر اور مغرب کی کثیر جماعت کے سبب زیارت نہ ہوسکی۔ مگر عشاء کی اذان کے بعد فقیروں نے صفیں درست کرنا شروع کیں۔ میں بھی پہلی صف میں کھڑا ہوگیا اور حضور کی آمد کے قریب تھی جبکہ فقیر منقبتیں پڑھ رہے تھے۔ فضا میں عجیب کیف طاری تھا، انوارات کی بارش ہورہی تھی۔ میری نظر حضور کی حویلی کے دروازے پر لگی تھی، جیسے ہی حضور تشریف لائے تو کیا دیکھتا ہوں کہ جیسے کوئی نور کا شعلہ دروازہ سے نکلا ہو۔ میرا پورا وجود دہل گیا، میری آنکھیں چندھیا گئیں، رات کے اندھیرے میں جیسے دوپہر دن کی روشنی پھیل گئی ہو۔ مجھے یہ منظر آج بھی اچھی طرح یاد ہے کہ کیسے ہمارے آقا، نورانی جسم، حسین و جمیل اور مسکراتے ہوئے چہرۂ اقدس کے ساتھ نماز کی طرف بڑھ رہے تھے۔ فقیروں پر جذب و مستی کی کیفیت طاری تھی۔ آپ دلوں کو سرشار و پربہار کرتے انوارات اور فیوضات لٹاتے، خرامہ خرامہ آگے بڑھ رہے تھے۔ ایک رعب اور دبدبہ تھا۔ حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی فرماتے ہیں:

ناز منجهان نڪري جان ڪري ٿو پنڌ،
ته ڀون پڻ بسم الله چئي راھ چمي ٿي رند.

ترجمہ: ناز سے نکل کر جب میرے محبوب زمین پر قدم رکھ کر چلتے ہیں تو مٹی بھی بسم اللہ کہہ کر ان کے قدموں کو چومتی ہے۔ مجھے خدا کی قسم میرے محبوب سب سے حسین ہیں۔ بے شک جنہوں نے میرے محبوب مرشد رحمت پوری رحمۃ اللہ علیہ کی زیارت کی ہوگی وہ زندگی بھر ایسی مدھ بھری جان جاناں عارفانہ، شہنشاہی شخصیت نہیں بھول سکتے۔ جب تقریر و وعظ اور نصیحت فرماتے تو اسلام کے تمام پہلوؤں پر گفتگو فرماتے۔ ایک طرف تو نماز، روزہ، زکوٰۃ پر زور دوسری طرف ذکر مراقبہ اور تہجد کی تلقین اور تیسری طرف سنت رسول صلّی اللہ علیہ وسلم داڑھی، مسواک پگڑی کا ثواب۔ یعنی ہمہ وقت سنت و شریعت کی تلقین تاکید ہوتی حتیٰ کہ کوئی جاہل بھی آکر بیٹھتا تو بہت کچھ سیکھ کر اور سچا عمل کا جذبہ لے کر جاتا تھا۔ آپ کا وعظ و نصیحت صرف سختی و صلابت یا عذاب و ثواب پر ہی مشتمل نہ ہوتا تھا، بلکہ اس میں جنت کی نعمتیں مثلاً دودھ و شہد کی نہریں، جنت کی خوبصورت و حسین و جمیل حوریں اور سونے چاندی یاقوت، مرجان اور ہیرے لعل جواہر سے بنے ہوئے محلات کا بھی تذکرہ ہوتا تھا۔ آپ زاہد خشک نہیں تھے بلکہ آپ کے وعظ میں خوش بیانی اور دلچسپ سبق آموز واقعات ان سے دل پذیر نتائج اور فقیروں کے لیے راہ عمل آپ کی خصوصیات تھیں۔ ایک دفعہ آپ نے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمارے پڑوس میں شادی تھی۔ دولہا کی ماں اور بہنیں ناچ رہی تھیں، ڈھول باجے بج رہے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ کیسی عجیب بات ہے کہ خوشی میں تو دولہا دولہن کو ناچنا چاہیے تھا لیکن ناچ دوسرے رشتہ دار رہے ہیں۔ فرمایا دیکھو یہ جاہلانہ رسم و رواج چھوڑو اور سنت نبوی پر کاربند ہوجاؤ نہ خرچہ زیادہ نہ قرض کا بوجھ اور خدا و رسول صلّی اللہ علیہ وسلم بھی راضی۔ مگر تم لوگ خدا اور اس کے رسول صلّی اللہ علیہ وسلم کو ناراض کرتے ہو، شادیوں میں فضول اور شیطانی رسموں کو اپناکر شیطان کو خوش کرتے ہو۔ اس لیے ذکر زیادہ کرو، جو دین کی بات سنو اس پر عمل کرو۔ انشاء اللہ دونوں جہاں میں بیڑا پار ہوجائے گا۔ ایک دن آپ عشاء نماز پر آرہے تھے کہ راستے میں کسی فقیر نے کوئی سوال پوچھ لیا۔ حضور رک گئے اور فقیر کو جواب دینا شروع کیا۔ دو منٹ، پانچ منٹ، آدھ گھنٹہ، ایک گھنٹہ کے قریب وقت گذر گیا۔ سب فقیر جمع ہوگئے۔ گفتگو جاری رہی نصیحت ہو چلی تھی۔ سوال صرف ایک تھا اور جواب ایسا کہ ختم نہیں ہو پاتا۔ کھڑے کھڑے لوگ تھک گئے مگر حضرت صاحب کھڑے ہی رہے۔ آپ کے کبر سنی کے باعث کرسی لائی گئی تاکہ آپ اس پر تشریف فرما ہوجائیں۔ یاد رہے کہ آپ کی عمر مبارک اس وقت 80 سال سے بھی زیادہ تھی۔ مگر آپ کھڑے ہی رہے۔ اسی اثناء میں کافی دیر ہوگئی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ آخر میں آپ نے فرمایا ”فقیرو پوچھنے کے لیے ہمیں راستے میں مت روکا کرو، تم لوگوں میں اتنی ہمت نہیں کہ کھڑے رہ سکو“ پھر خود کے لیے فرمایا کہ ”بیر کی شاخ جس میں گول اور الٹے کانٹے لگے ہوئے ہیں اگر ان میں کوئی کپڑا اٹک جائے تو کپڑا پھٹ جاتا ہے، ہماری مثال بھی ایسی ہی ہے کہ ایک بار عشق و محبت اور پیار میں کوئی پھنس گیا وہ پھنستا ہی چلا جائے گا۔“ حضرت صاحب کا انداز گفتگو ایسا ہوتا کہ پڑھا لکھا اور جاہل ہر دو اچھی طرح سمجھ جاتے، بلکہ ہر ایک یہی سمجھتا کہ گفتگو اسی کے لیے ہورہی ہے۔

سندھ کے مشہور بزرگ حضرت عبدالرحیم گرہوڑی رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کی آمد سے کئی سال پہلے پیشنگوئی کی تھی کہ سندھ میں ایک رحمت کا بادل شمال کی جانب سے آئے گا، جو سرزمین سندھ کی ویران زمینوں کو آباد کرے گا۔ مزید فرمایا کہ سکھر اور لاڑکانہ کے قریب ہوگا۔ بائیں آنکھ کے قریب نشان ہوگا، اور پاؤں کے تلوے پر گلابی رنگ کا نشان ہوگا وغیرہ وغیرہ۔ کئی سال گذر گئے اور دیکھنے والوں نے دیکھ لیا کہ سندھ میں دین اسلام سے دوری ہوگئی تھی۔ لوگ نماز، روزہ اور قرآن سے منہ موڑ چکے تھے۔ نئی مسجدیں بننا تو کجا پرانی مسجدوں کو ہی آباد نہیں کیا جاتا تھا۔ پرندوں وغیرہ نے اپنے گھونسلے مسجدوں میں بنا لیے تھے۔ یہی نہیں بلکہ کئی مساجد میں کتوں نے رہنا اور وہاں بچوں کو جنم دینا شروع کردیا تھا۔ حضور پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ نے خود فرمایا کہ ”جب ہم ڈہرکی میں پہلی بار تبلیغ کے لیے آئے تو ایک ویران مسجد میں داخل ہوئے تو جیسے کھنڈر میں آگئے ہوں۔ ایک کتیا نے بچوں کو جنم دیا ہوا تھا مجھے دیکھ کر وہ بھونکنے لگی۔“ اس وقت سندھ کی یہ حالت تھی کہ ایک بے دینی کا سیلاب آیا ہوا تھا۔ آپ نے جب سندھ میں قدم رنجہ فرمایا تو نقشہ ہی بدل گیا۔ مسجدیں آباد ہوگئیں۔ قرآن سیکھنے اور سکھانے کا سلسلہ شروع ہوا اور روزہ نماز کی پابندی ہوئی اور یہاں تک کہ سنت نبوی دستار، داڑھی مبارک اور مسواک کی سختی سے پابندی کی گئی اور یہ تینوں چیزیں غفاری جماعت کا نشان بن گئیں۔ جس کو اور تو اور چور بھی ماننے لگے۔ ایک فقیر کا واقعہ ہے کہ ایک روز جنگل سے گذر رہا تھا، تو تین چور مل گئے اور اس سے سب کچھ چھیننا چاہا۔ فقیر نے کہا کہ میں غفاری جماعت سے ہوں، میرا پیر کامل ہے، تم نقصان اٹھاؤ گے۔ تو چوروں نے کہا کہ تمہاری نشانیاں پگڑی اور داڑھی تو ہے اگر تمہارے پاس مسواک ہے تو ہم تمہیں کچھ نہیں کہیں گے۔ فقیر نے جھٹ مسواک نکال کر دکھائی تو چور اسے چھوڑ کر چلے گئے۔

حضور پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ قلبی ذکر سکھاتے تھے۔ اس ذکر کی تاثیر سے ہزاروں بے دین دیندار بن گئے اور ویران مساجد آباد ہوگئیں۔ چونکہ آپ چندہ وغیرہ نہیں لیتے تھے اس لیے لوگوں پر کوئی بوجھ نہ تھا اور ہر ایک آپ کے اخلاص سے متاثر تھا۔ وہ رسمی پیر جن کی عمر ہی ڈَن (وہ چیز جو مرید اپنی حیثیت کے مطابق سالانہ اپنے پیر کی خدمت میں پیش کیا کرتا تھا مثلاً بکری، گائے، بھینس، اونٹ وغیرہ یہاں تک کہ گندم، مرغی وغیرہ اور پیسے بھی دیا کرتے تھے بلکہ سونا چاندی بھی دیا جاتا تھا) اور چَگ (یعنی کینچی سے دوچار بال کاٹ کر مرید بناتے تھے) جیسی رسموں پر بسر ہوتی تھی، ان کے تو سینے پر سانپ لوٹ گیا۔ بجائے اس کے کہ دین کی ترویج میں وہ آپ کے ساتھ تعاون کرتے الٹا وہ تدبیریں کرنے لگے کہ کسی طور پر آپ کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کرکے آپ سے لوگوں کو بدظن کیا جائے۔ لیکن

نور خدا ہے کفر کی ہر حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

بہرحال لوگوں نے آپ کے خلاف جھوٹے کیس کیے، آپ کو جادوگر کہا، لیکن آپ راہ حق پر مستحکم رہے، اور زیادہ شدومد سے دینِ حق کی ترقی و ترویج کے لیے کام کرنے لگے اور وہ تمام افراد آخر کو شرمندہ ہوکر خاموش ہوگئے۔ بعض آپ کی غلامی میں داخل ہوگئے اور مکمل پابند سنت و شریعت ہوگئے۔ حتیٰ کہ آپ کی محنت اور توجہ کی برکت سے آپ کے حلقہ ارادت میں تہجد کی اس قدر پابندی ہوگئی جیسے کہ غفاری جماعت کے لیے یہ فرض ہو اور آج بھی خدا کے فضل سے میرے پیر و مرشد سجن سائیں مدظلہ العالی کے دربار عالیہ پر اسی طرح سنت و شریعت کی پابندی اور تہجد کا اہتمام ہوتا ہے۔

آپ کا قیام لاڑکانہ شہر سے متصل رحمت پور شریف میں تھا۔ ہر مہینے کی گیارہویں شریف پر پورے ملک سے آپ کے ارادتمند حاضر ہوتے اور اللہ و رسول صلّی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کی محفل گرم ہوتی۔ فیض محمدی صلّی اللہ علیہ وسلم کے جام لنڈھائے جاتے۔ حضور پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ بڑے حسین و جمیل، سرخ و سفید رنگ، درمیانہ قد مبارک، چہرہ پرنور گول، سفید ریش اور کم و بیش تمام بال ہی سفید ہوگئے۔ آپ کی بڑی بڑی غزال آنکھیں تھیں، بہترین صحت آخر وقت تک آپ کے تمام دندنان مبارک سلامت رہے۔ آپ نے 84 سال کی عمر مبارک میں وصال فرمایا۔ آپ کا مزاج گرامی قلندرانہ، غنی، سخی اور دنیا سے بے پرواہ، اللہ کے سوا کسی نہ ڈرنے والے، اور خدا نے آپ کو شاہانہ شان عطا فرمائی تھی۔ جب آپ جائے نماز پر بیٹھ کر وعظ و نصیحت فرماتے تو ایسا معلوم ہوتا جیسے کوئی بادشاہ تخت پر بیٹھ کر اپنی رعایا سے مخاطب ہے۔ آپ کی گفتگو نہایت دلپذیر جو قرآن و حدیث، فقہ اور مختلف حکایات و واقعات پر مشتمل ہوتی تھی۔ کچھ باتیں میرے محسن اور چچا جناب ڈاکٹر عبداللطیف رحمۃ اللہ علیہ سے معلوم ہوئیں جو حضور کے ذاتی معالج تھے۔ آپ کو ڈاکٹر صاحب پر بڑا اعتبار و بھروسہ تھا۔ کہیں سے بھی دوائی لی جاتی ڈاکٹر صاحب سے پوچھے بغیر استعمال نہیں فرماتے تھے۔ ایک بار آپ نے ڈاکٹر صاحب سے فرمایا کہ ہمیں بھوک نہیں لگتی پھر بھی نفس کا حق ہے اس لیے دوسرے تیسرے روز ایک چھٹانک آٹے کی ایک روٹی پکواکر اس کا کچھ حصہ استعمال کرتا ہوں وہ بھی بے دلی کے ساتھ، ایک چھٹانک دودھ بھی نہیں پیا جاتا۔

اللہ اللہ کیا خوراک تھی۔ آج ہم تصور بھی نہیں کرسکتے۔ باوجود اتنی کم خوراک کے آپ کی صحت بہت اچھی تھی۔ عام لوگ آپ کو دیکھ کر یہ اندازہ نہیں لگا سکتے تھے کہ آپ کی خوراک اتنی کم ہوگی۔ آپ پر ذکر اللہ کا غلبہ رہتا تھا اس لیے آپ کو بھوک نہیں لگتی تھی۔ آپ سخت سردیوں میں بھی ململ کا کرتہ زیب تن فرماتے تھے۔

ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ ایک دن میرے دل میں خیال آیا کہ گرہوڑی صاحب کی پیشنگوئی کے مطابق آنکھ پر نشان ہے مگر پاؤں کے تلوے کا نشان کیسے دیکھوں؟ حضرت صاحب سے عرض کرنا بھی خلاف ادب ہے۔ لیکن اللہ والوں اور اہل بصیرت کی تو یہ شان ہے کہ وہ دلوں کے رازدار ہوتے ہیں کیونکہ وہ خدا کے نور سے دیکھتے ہیں لیکن اظہار نہیں فرماتے۔ حضور پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ بڑے کرم نواز تھے۔ جو بھی شخص کوئی سوال لے کر آتا تو اکثر اوقات بغیر پوچھے دوران گفتگو ہی اس کے سوال کا جواب عنایت فرمادیتے۔ اور یہ بات بارہا کی مشاہدہ شدہ ہے۔ 1957ء کا واقعہ ہے میرے بڑے چچا جناب حاجی طیب الدین صاحب فرماتے ہیں کہ حضور پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ تبلیغ کے لیے بوزدار گاؤں ٹنڈوالہیار تشریف لائے تو میرے دوست رئیس دھنی بخش اور ماسٹر محمد تشریف لائے اور کہا سنا ہے کہ حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ دل کے راز بتاتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہم آپ سے ملنے کے خواہشمند ہیں۔ ہم لوگ حضور کے پاس بوزدار گاؤں آئے اور حضور کی محفل میں بیٹھے تو کیا دیکھتا ہوں کہ میرے دوستوں نے مجھے دیکھا اور مسکرائے، دوچار بار ایسا ہی کیا۔ تقریر ختم ہوئی، حضور تشریف لے گئے تو میں نے کہا کہ آپ لوگ کچھ سوال لائے تھے لیکن آپ نے کچھ نہ پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم جو سوال پوچھنے آئے تھے ان کا جواب ہمیں دوران تقریر ہی مل گیا۔

اسی طرح ڈاکٹر صاحب کے دل میں بھی آپ کے پاؤں کا نشان دیکھنے کی شدید خواہش پیدا ہوئی۔ تو دفعتاً حضور نے اپنا دایاں پاؤں مبارک میرے سامنے کردیا تو میں نے دیکھا کہ تلوے کے بیچ میں جیسے گلاب کے پھول کی پتی لگی ہو۔ اتنا پیارا گلابی رنگ کا نشان دیکھ کر میری خوشی کی انتہا نہیں رہی۔

آپ کی کئی کرامات مشہور ہیں چند ایک اختصار کے ساتھ پیش ہیں۔

حضور پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ نے کبھی بھی اپنے آپ کو پیر مٹھا نہیں سمجھا۔ ایک بار آپ نے فرمایا کہ ”ہم یہ سمجھتے ہیں کہ پیر مٹھا میڈے پیر ہن“ یعنی حضرت پیر فضل علی قریشی رحمۃ اللہ علیہ۔ آپ فرماتے تھے ”تساں پیر مٹھا آکھ تہ ڈیکھ کتنا شیریں اور پیارا ناں ہے، انشاء اللہ میڈے پیر دی مدد اتھئیں پہنچ ویسی ہر مشکل آسان تھی ویسی“ اور بالکل اسی طرح ہوتا تھا اور ایسے بے شمار واقعات ہیں۔ ایک فقیر کے گھر کو آگ لگ گئی، فقیر بھی غریب تھا، گھر کے درودیوار تمام لکڑیوں کے تھے۔ نزدیک کوئی فائر برگیڈ، نہ کوئی پانی کا چشمہ۔ آگ ہے کہ تیز ہوتی جارہی ہے۔ یہ دیکھ کر فقیر نے رونا شروع کردیا اور پکار کر کہا ”حق پیر مٹھا آگ بجھادو“ یہ کہنا تھا کہ لوگوں نے دیکھا جیسے یکدم آگ پر پانی پڑگیا ہو اور وہ آگ فوراً بجھ گئی۔ ادھر عصر کا وقت، سخت سردی حضور کے گھر میں سگری (انگیٹھی) جل رہی تھی۔ حضور پانی سے بھرا ہوا لوٹا اٹھا کر وضو کے لیے تیاری فرمارہے تھے کہ یکدم بھرا ہوا لوٹا سگری پر انڈیل دیا۔ حرم پاک نے پوچھا کہ آپ نے سگری کو کیوں بجھادیا۔ آپ نے فرمایا ہم نے تو فقیر کے گھر کی آگ بجھائی ہے۔

اسی طرح ایک فقیر جنگل میں جارہا تھا کہ کچھ چور لٹیروں نے اسے گھیر لیا۔ فقیر ڈرگیا اور زور زور سے چلانے لگا ”حق پیر مٹھا آج بچاؤ ہم لٹ رہے ہیں“ یکدم کیا دیکھتا ہے کہ ایک گھڑسوار پولیس ڈریس میں بندوق لیے ہوئے آیا اور پکارا پکڑ لو چور کو۔ یہ کہنا تھا کہ چور ڈر کے مارے بھاگ گئے۔ اس کے بعد اس نے فقیر سے کہا کہ تم راستے سے جاؤ کچھ نہیں ہوگا۔ فقیر نے پوچھا کہ تم کون ہو؟ اس نے کہا کہ مجھے بھیجنے والے نے بھیجا تم لٹنے سے بچ گئے۔ اس لیے اس بات سے غرض نہ رکھو۔

ایک خلیفہ صاحب تبلیغ کے لیے تنہا ہی بلوچستان کی طرف گئے۔ پیدل سفر تبلیغ کرتے ہوئے ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں دور دور تک کسی آبادی کا وجود نہیں تھا۔ نہ پانی، نہ روٹی۔ پورے ایک دن پیدل چلے، دوسرے روز بھی بھوکے پیاسے سفر جاری رکھا کہ ہمت جواب دے گئی اور سمجھے کہ شاید اب وقت آخر ہے۔ دفعتاً ببول کے درخت پر نظر پڑی تو اس سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے اور آنکھیں بند کرکے ذکر کی طرف خیال کیا کہ مرنا ہے ہی تو ذکر کرتے ہوئے کیوں نہ مروں۔ یکایک دیکھا کہ حضور پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ سامنے کھڑے ہیں اور فرما رہے ہیں ”فقیر کیوں پریشان ہوگئے ہو، ہم تمہارے ساتھ ہیں، اٹھو ہمت سے کام لو اور ببول کے درخت کے پتے توڑ کر کھالو۔“ خلیفہ خوشی خوشی فوراً درخت پر چڑھے اور اس کے پتے توڑ کر کھانا شروع کردیے۔ خلیفہ صاحب نے بتایا کہ جب ببول کے پتے منہ میں ڈال کر چباتا تھا تو یوں محسوس کرتا تھا کہ جیسے ناریل کھارہا ہوں۔ میں نے اتنے پتے کھائے کہ میری توانائی بحال ہوگئی اور میں بالکل تروتازہ ہوگیا۔ اس کے بعد کافی پتے ساتھ لے لیے۔ جب میں آبادی میں پہنچا اور لوگوں کو بتایا اور انہیں وہ پتے کھلائے تو لوگوں نے اقرار کیا کہ واقعی ان میں ناریل کی خوشبو آرہی ہے۔