فہرست الطاہر
شمارہ 50، ربیع الاول 1429ھ بمطابق اپریل 2008ع

ہمارے تعلیمی نظام کے نقائص

جناب محمد حسن اوٹھو طاہری

گذشتہ سے پیوستہ

۲۱۔ ہمارے تعلیمی نظام میں ناقص دیکھ بھال/سپروین بڑا اور اہم نقص ہے۔ لالچ اور اقربا پروری کو چھوڑ کر صحیح اور لائق سپروائیزنگ اسٹاف مقرر کرکے اچھے نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ وزٹ رپورٹس کا صحیح نوٹس لیا جائے اور اسٹاف کو مناسب سواری وغیرہ کی سہولتیں فراہم کی جائیں تو بہتر نتائج نکل سکتے ہیں۔

۲۲۔ اساتذہ کو معقول تنخواہیں، حوصلہ افزائی کے لیے ایوارڈ اور اضافی انکریمینٹ وغیرہ نہ دینا بھی ہمارے تعلیمی نظام کا بڑا نقص ہے۔ بڑے افسوس کا مقام ہے کہ محنتی اساتذہ کی دل شکنی کی جاتی ہے بلکہ خوشامدی اساتذہ کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ صحیح طرح معلوم نہ کرنے والوں سے بازپرس اور پنشمنٹ (سزا) دی جائے تو ہمارا نظام تعلیم بہتر ہوسکتا ہے۔

۲۳۔ اساتذہ کو جائز مراعات اور ترقیاں نہ دینا ہمارے تعلیمی نظام کا اہم نقص ہے۔ اساتذہ کو اپنی اہلیت، تعلیمی قابلیت اور سینیارٹی کے مطابق پروموشن (ترقی) دینی چاہیے۔ ہمارے یہاں کافی پوسٹیں کئی برسوں تک خالی پڑی ہوتی ہیں۔ حقدار کو پروموشن نہیں دیتے بلکہ اسے مالی نقصان کے ساتھ ذہنی اذیت سے دوچار کیا جاتا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ نااہل اور جونیئرز کو پروموشن یا اضافی چارجز اقربا پروری کے طور پر دی جاتی ہے۔ اس روش کو ختم کرنا نہایت ضروری ہے۔

۲۴۔ ہمارے تعلیمی نظام میں مخلوط تعلیم بھی اہم نقص ہے۔ نچلی کلاسوں سے لیکر یونیورسٹی لیول تک مخلوط تعلیم یعنی (بچے اور بچیوں، مرد و خواتین) کی اکٹھے تعلیم حاصل کرنے کے فوائد جو بڑے بڑے اسکالر بیان کرتے ہیں ان سے نقصانات زیادہ ہیں۔

۲۵۔ ہمارے تعلیمی نظام میں ایک اہم نقص اساتذہ کی طرف سے وقت کی پابندی نہ کرنا ہے۔ مذکورہ بالا نقائص جن کا تعلق زیادہ تر حکومت اور محکمہ تعلیم اور انکے افسران سے ہے بلکہ یہ اساتذہ کا ایک ہی نقص زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ اس کو دور کرنا تمام اساتذہ کے لیے اشد ضروری ہے۔

وقت جو سب سے زیادہ قیمتی ہے، اگر اس کا احساس اساتذہ سے زائل ہوجائے تو بڑا المیہ ہوگا۔ ہمارے حضرت قبلہ عالم سیدی و مرشدی محبوب سجن سائیں مدظلہ العالی نے جماعت اساتذہ روحانیہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اساتذہ وقت کی پابندی کریں۔ آپ نے فرمایا کہ اگر کوئی ہیڈ ماسٹر یا پرنسپال دیر سے آنے پر کسی استاد سے شکایت کرتا ہو تو وہ اسے گھڑی کی طرف اشارہ کرکے غصے سے کہتا ہے کہ 5 یا 10 منٹ لیٹ ہوا ہوں کوئی زیادہ دیر تو نہیں کی ہے۔ حضرت صاحب نے فرمایا کہ اگر آپ کے کلاس میں 40 بچے ہوں تو آپ خود انصاف کریں کہ طلباء جو آپ اساتذہ کے لیے ایک نعمت ہیں ان کا آپ نے کتنا ٹائم ضایع کیا؟ اجلاس میں موجود اساتذہ کو بڑا احساس ہوا۔ بلکہ افسوس ہے کہ ہمارے اساتذہ کی دل میں اس غلطی کا احساس تو نہیں بلکہ اسے برا بھی محسوس نہیں کرتے۔

وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

۲۶۔ اساتذہ کی طرف سے تعلیم کے ساتھ ساتھ اچھی تربیت کی بھی ذمہ داری ہے۔ اساتذہ کو اس طرف بھی توجہ دینے کی بڑی ضرورت ہے۔ اس کمی کا ازالہ کرنا اشد ضروری ہے۔

۲۷۔ تمام طلباء کے لیے غیر نصابی مصروفیات کا اہتمام ہو جس سے انکی جسمانی اور ذہنی نشونما ہو۔ جس کے لیے ہنری تعلیم کا اہتمام لازمی کیا جائے۔ جس سے طلبہ میں محنت کرنے کا رجحان بڑھے گا۔

دینی مدارس

قرآن و حدیث نبوی صلّی اللہ علیہ وسلم میں علم کو بڑی فضیلت اور اسے حاصل کرنے کے لیے بڑی تاکید آئی ہے۔ ارشاد نبوی صلّی اللہ علیہ وسلم ہے کہ ”خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ“

یعنی تم میں سے بہترین (زیادہ بہتر) وہ ہے جو قرآن سیکھتا ہے اور سکھاتا ہے۔ اس ذمہ داری کو زیادہ تر دینی مدارس ہی سرانجام دیتے ہیں۔ اس لیے چند مندرجہ ذیل نقائص کی نشاندہی کی جاتی ہے تاکہ ان کا ازالہ کرکے بہتر نتائج حاصل کیے جاسکیں۔ کچھ نقائص کی نشاندہی تو پہلے ہی ہوچکی ہے۔ مگر مزید چند نقائص باقی بھی بیان کیے جاتے ہیں تاکہ ان کے ازالے کے لیے کوشش کی جائے۔

۱۔ حکومت کی جانب سے مناسب تعاون کی کمی ہے جس کو پورا کرنے کی ضرورت ہے۔ حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ ”طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم و مسلمۃ“۔ علم کی طلب کرنا تمام مسلمان مردوں اور عورتوں پر فرض ہے۔ اس سے مراد قرآن و حدیث کے مطابق فرائض کا علم ہے۔ جسے حاصل کرنا تمام مسلمانوں کے لیے لازمی ہے۔ قرآن، حدیث، فقہ وغیرہ کے علوم کے ساتھ جدید علوم کے مضامین مثلا معاشیات، سائنس، حساب وغیرہ سے مناسب واقفیت ہونی چاہے۔ دینی مدارس میں ان علوم، تقابل ادیان اور تصوف کی تعلیم کی طرف توجہ نہ دینا بڑا نقص ہے۔

۲۔ دینی مدارس میں عربی گرامر کی طرف توجہ نہ دینا اہم نقص ہے۔ گرامر کے بغیر کسی بھی زبان پر عبور حاصل کرنا ممکن نہیں۔ عربی کے لیے تو آقائے نامدار تاجدار مدینہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا ”احبوا بالعربیہ۔ انا عربی و قرآن فی العربیہ ولسان اہل الجنۃ عربی۔” ترجمہ: عربی کے ساتھ محبت کرو۔ میں عربی ہوں اور قرآن عربی میں ہے اور اہل جنت کی زبان عربی میں ہوگی۔ قرآن و حدیث جو تمام علوم کا مخزن ہے اسے سمجھنے کے لیے اس کمی کا ازالہ کرنا نہایت ضروری ہے۔

۳۔ دینی مدارس کے طلبہ کی حکومت کی جانب سے مناسب حوصلہ افزائی نہ ہونا نقص ہے۔ دینی مدارس کی خدمات دیگر اداروں میں کی جائیں اور دیگر تعلیمی اداروں کے اساتذہ سے مدارس میں تعلیم کے فرائض انجام دلائے جائیں۔

۴۔ مذکورہ بالا نقائص کے علاوہ جدید تعلیم کے نصاب قرآن و حدیث کے مطابق نہ ہونا بڑا نقص ہے۔ اس کا ازالہ کرنا اشد ضروری ہے۔ درسی کتابوں سے ایسے مضامین خارج کیے جائیں جو طلباء کے ذہنوں کو پراگندہ کرتے ہوں اور اسے روشن خیالی کا نام دیا جارہا ہے۔

۵۔ دینی مدارس میں انتہا پسندی کی تعلیم یا ذہن سازی بڑا نقص ہے جس کو دور کرنا نہایت اہم اور لازمی ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اہل دل حضرات کی صحبت اور محبت ضروری ہے، جس سے یہ خامیاں دور ہوسکتی ہیں۔

ڈاکٹر محمد اقبال نے فرمایا ہے کہ

نہ شامل درس میں ہو نور فیضان نظر جب تک
فقط تدریس کرسکتی نہیں اہل نظر پیدا

وہ علم لدنی جس کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضور اکرم نور مجسم صلّی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں حاصل کیا وہ سلسلہ اب تک جاری و ساری ہے بلکہ قیامت تک جاری رہے گا۔ آج بھی اولیاء کاملین وہ علم اپنے سینوں میں سمائے بیٹھے ہیں اور چاہنے والوں کو عنایت کررہے ہیں۔ علامہ اقبالؒ نے فرمایا:

الٰہی! کیا چھپا رکھا ہے اہل دل کے سینوں میں
ید بیضاء لیے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں

اس لیے تو قرآن پاک تمام ایمان والوں کو صادقین کے ساتھ رہنے کا امر فرماتا ہے۔

آپ حضرات کے ہاتھوں میں جو یہ ”الطاہر“ کا شمارہ ہے یہ ہم سب کی رہنمائی کرتے ہوئے روحانی طلبہ جماعت اور جماعت اصلاح المسلمین کے پلیٹ فارموں پر آنے کی پیش کش کررہا ہے۔ یہ دونوں اصلاحی، عالمگیر تنظیمیں عظیم المرتبت، صاحب الفیض والفضیلت رہبر شریعت، پیر طریقت، عالم بے بدل حضرت علامہ مولانا محمد طاہر المعروف سجن سائیں نقشبندی مجددی مدظلہ العالی کی قیادت میں خدمتیں سرانجام دے رہی ہیں اور صالحین و صادقین کی صحبت کی دعوت دے رہی ہیں۔

آئیے اس مرد قلندر، اہل دل و اہل نظر کی بارگاہ میں بیٹھ کر دارین سعادت حاصل کریں۔

نہ تخت و تاج میں، نہ لشکر و سپاہ میں ہے
جو بات، مرد قلندر کی بارگاہ میں ہے