فہرست الطاہر
شمارہ 50، ربیع الاول 1429ھ بمطابق اپریل 2008ع

نفس کی حقیقت

محمد محسن طاہری
اسلامک سینٹر کراچی

گذشتہ سے پیوستہ

کیونکہ مجاہدہ بندے کا فعل ہے اور مشاہدہ عنایت الٰہی ہے۔ جب تک عنایت و نوازش حق نہ ہو، بندے کے کسی کام کی کوئی قیمت نہیں ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ نفس کا مجاہدہ نفس کی صفات ذمیمہ کو فنا کرنے کے لیے ہوتا ہے، نفس کو فنا کرنے کے لیے نہیں ہوتا۔ کیونکہ اس کی انانیت کی اصل فنا نہیں ہوسکتی لیکن مجاہدہ کرنے والا نفس پر قابض و غالب ہوجاتا ہے اور اسے اپنا محکوم بنالیتا ہے تو اس کی بقاء سے کوئی خوف نہیں ہوتا۔

یاد رکھیں شریعت کے احکام دو قسم کے ہیں: ایک جائز اور دوسرے افضل۔ جائز کو حکم شریعت اور افضل کو حکم تقویٰ کہتے ہیں۔ شریعت کی بنیاد نرمی و آسانی پر ہے اور تقویٰ کی بنیاد سختی و دشواری پر رکھی گئی ہے۔ (مکتوبات صدی)

(۲) نفس لوامہ: حضرت خواجہ حسین بصری رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک نفس لوامہ مومن کا نفس ہے جو ہر وقت اپنی کوتاہیوں اور غفلتوں پر اپنے آپ کو ملامت کرتا رہے۔ (ضیاء القرآن)

یعنی انسان کو اندر سے ٹوکتا رہتا ہے اور ملامت کرتا رہتا ہے۔ یہ گویا آڈیٹر یا محتسب ہے جسے ہم ”ضمیر“ کہتے ہیں۔ یہ امر ربی اور روح کا مظہر ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ اس کے لیے ملکیت کا نام استعمال کرتے ہیں کہ یہ فرشتوں کی صفات رکھتا ہے۔ اس کی صفات یہ ہے کہ وہ کم کھاتا ہے، کم پیتا ہے اور کم سوتا ہے۔ ہر وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا رہتا ہے، اپنی ہر غرض سے بے نیاز ہوکر دوسروں کی خدمت کرتا رہتا ہے۔ (انوار القرآن)

جب نفس پر قلب کے انوار چمکنے لگیں تو وہ عقل کے ساتھ اتفاق کرنے لگتا ہے اور اس کی نظر انجام پر پڑنے لگتی ہے۔ اپنی کمزوریوں کا اس کو علم ہونے لگتا ہے اور ترقی کی تمنا پیدا ہوجاتی ہے۔ اسی حالت میں اسے ”نفس لوامہ“ کہتے ہیں کیونکہ برے افعال پر ملامت کرتا ہے۔

(۳) نفس مطمئنہ: علامہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ”جس طرح مچھلی کو پانی میں سکون اور قرار ملتا ہے اسی طرح جس شخص کو اللہ تعالیٰ کی یاد میں سکون اور اطمینان ہو اسے نفس مطمئنہ کہتے ہیں۔“

علامہ اسماعیل حقی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں

”گھبراہٹ اور اضطراب کے بعد جو سکون ملتا ہے اسے اطمینان کہتے ہیں اور نفس کو سکون تب میسر ہوتا ہے جب وہ یقین، معرفت اور شہود کی اعلیٰ منزل پر فائز ہوجائے اور مقام ذکر الٰہی کی کثرت اور دوام سے ہی حاصل ہوتا ہے۔“

علامہ سید شریف جرجانی رحمۃ اللہ علیہ نے نفس مطمئنہ کی تعریف کی ہے کہ

”نفس مطمئنہ وہ جو نور قلب سے منور ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کی مذمومہ صفات فنا ہوجاتی ہیں اور وہ اخلاق حمیدہ سے مزین و آراستہ ہوجاتا ہے۔“

روزے کے ذریعے سے کوشش کی جاتی ہے کہ بہیمیت کا زور ٹوٹے اور ملکیت کا زور ابھرے۔ یوں اندر بیٹھا حیوان بے شک قوی ہو لیکن اس کو اس طرح سیدھا کیا جائے کہ وہ سواری کا کام دے تاکہ انسان کی روح اور اس کا ضمیر اس پر سواری کرے اور اطمینان سے نفس مطمئنہ بن کر منزل کی طرف روانہ ہو۔ (انور القرآن)

نفس کی تربیت ہی کے لیے پورے سال میں ایک مہینے کے روزے فرض کیے گئے ہیں تاکہ حلال پابندی لگا کر اسے حرام و ممنوع سے مزید دور کیا جائے۔ حرام تو حرام ہی ہے۔ بلکہ حلال کے لیے بھی اگر نفس للچائے تو اس سے بھی بندۂ مومن رک جائے کیونکہ جب حلال میں بندہ اعتدال کو چھوڑ دیتا ہے تو وہ نفس کا غلام بن کر رہ جاتا ہے۔ یہ ساری خرابیوں کی جڑ ہے۔

اس لیے امام بوصیری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا

”جب نفس نیک کام میں مشغول ہو تو اس وقت بھی اس پر نظر رکھو، اسے آزاد مت چھوڑو کیونکہ جب بندہ نیک کام کرتا ہے اس سے اسے لطف حاصل ہوتا ہے خوشی کی لہر پیدا ہوتی ہے، پھر خود پسندی اور تکبر کا مادہ پیدا ہوجاتا ہے، ریا کاری اور نمود و نمائش کا خوگر بن جاتا ہے، اس طرح غیر شعوری طور پر وہ اپنے اعمال کو ضایع کردیتا ہے۔

حلال چیزوں میں زیادتی کرنا عابدوں کے لیے آفت اور مجاہدوں کے لیے بلا ہے۔ زیادہ کھانا انسان کے دل کو سخت کرتا ہے اور اس کے نور کو بجھا دیتا ہے اور علم و عقل کو کم کردیتا ہے۔ اگر حلال غذائیں ضرورت سے زیادہ استعمال ہوں گی تو افعال و اقوال بھی فضول برآمد ہوں گے۔ گویا کھانا پینا سونا اور کم بولنا قول و فعل کے لیے بیج کی حیثیت رکھتا ہے اور تصوف میں کم کھانا، کم سونا اور کم بولنا کے اصول بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ جب ان پر ہی عمل نہیں ہوگا تو پھر کسی چیز کی طلب رکھنا بیکار ہے۔

الغرض یہ کہ ہمیں اپنے اقوال و افعال پر غور کرنے کی ضرورت ہے اور پھر ان کی اصلاح کا مرحلہ مشکل ترین کام ہے کیونکہ ہم نے اپنے نفوس کو بے لگام آزاد چھوڑا ہوا ہے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اپنے حبیب صلّی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ہمیں نیک سمجھ عطا فرمائے اور نفس کی مکاریوں سے اپنی پناہ میں رکھے۔ (آمین ثم آمین)