فہرست الطاہر
شمارہ 50، ربیع الاول 1429ھ بمطابق اپریل 2008ع

درسِ حدیث

محبت رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم

علامہ عبدالقدیر شیخ طاہری

 

وعن انس رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم لایؤمن احد کم حتیٰ اکون احب الیہ من والدہ وولدہ والناس اجمعین۔ (متفق علیہ)

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی مؤمن نہیں ہوسکتا تا آنکہ میں اسے باپ اولاد اور سب لوگوں سے زیادہ پیارا ہوجاؤں۔ (بخاری و مسلم شریف)

اس حدیث کے ماتحت چار باتوں کا بیان ہوگا (۱) ایک محبت کی معنیٰ۔ (۲) محبت کی اقسام۔ (۳) محبت کی علامات۔ (۴) محبت کا فائدہ اور نتیجہ۔

محبت کا مادہ حب ہے۔ حب کی معنیٰ پیار ہے اور انسان بغیر پیار کے حقیقت میں انسان کہلوانے کا حقدار ہی نہیں ہے۔ کیونکہ انسان کا مادہ انس ہے اور انس کی معنیٰ بھی ہے پیار، اس لیے انسان کے اندر پیار ہی پیار ہونا چاہیے۔ جیسے کہ کسی بزرگ اہل تصوف نے کسی عالم سے پوچھا ”ان اللہ و ملائکتہ یصلون علی النبی“ کی معنیٰ کیا ہے؟ عالم صاحب نے معنیٰ کی اللہ اور ملائکہ نبی صلّی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں۔ بزرگ صاحب نے فرمایا یہ معنیٰ نہیں، اس کی معنیٰ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور ملائکہ حبیب صلّی اللہ علیہ وسلم سے پیار کرتے ہیں۔ چونکہ اس اہل دل کے دل میں پیار ہی پیار تھا اس لیے اس کی معنیٰ یہ کی کہ اللہ اپنے حبیب صلّی اللہ علیہ وسلم سے پیار کرتا ہے۔ یہ پیار ایک مسلم ایک مؤمن بحیثیت مؤمن اپنے حبیب صلّی اللہ علیہ وسلم سے ضرور بالضرور قائم کرلے کیونکہ ایمان اس کے علاوہ ایمان ہی نہیں رہتا۔ جیسے کسی شاعر نے کہا ہے:

عشق محبوب خدا اے دل جِسے حاصل نہیں
لاکھ مؤمن ہو مگر ایمان میں کامل نہیں

محمد کی محبت دین حق کی شرط اول ہے
اگر اس میں ہے کچھ خامی تو سب کچھ نامکمل ہے

۱۔ محبت کی معنیٰ: کشف المحجوب میں حضرت داتا گنج بخش علیہ الرحمۃ نے اپنے استاد علامہ قشیری سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا محبت کی معنیٰ خوف ترک حرمۃ و اقامۃ الخدمت یضی۔ محبت یہ ہے کہ محب کے دل میں ہمیشہ ہمیشہ یہ خوف رہے کہ کہیں محبوب کے تعظیم اور عظمت میں کمی نہ ہوجائے۔ دائمی محبوب کی تعظیم محب کے دل میں راسخ ہوجائے اور دائمی محبت کی نوکری کرتا رہے، اور محبت کی تقاضا یہ ہے کہ محبوب کی خدمت میں عرض کرے اے میرے محبوب تیرے در پہ نوکروں کی لائنیں لگی ہوئی ہیں ایک ایک سے بہتر ہے۔ بس مجھے بھی اس لائین میں کھڑا کردے۔ تیرے اصطبل میں عربی گھوڑے، تازی، ایرانی بہت شاندار گھوڑے موجود ہیں مگر میں بھی اس اصطبل کھڑا ہوا ہوں قبول فرمادے۔ صحابہ کی سیرت مطالعہ کیا جائے تو یہ محبت کا انداز یقینا ان میں پایا جاتا ہے۔ آپ کی خدمت اقدس میں اس طرح بیٹھتے تھے ”کانہم علیٰ رؤسہم الطیر“ گویا کہ ان کے سروں پر پرندہ بیٹھا ہے اور ہلتے بھی نہیں ہیں کہ کہیں پرندہ اڑ نہ جائے۔ اور محبوب کی نوکری کا یہ عالم تھا کہ اپنا گھربار اور اولاد، وطن، یہاں تک کہ اپنی جان تک محبوب پر قربان کردی۔ اللہ رب العزت نے بھی اپنے محبوب صلّی اللہ علیہ وسلم سے محبت قائم رکھنے کے لیے آداب سکھائے۔ کہیں یہ حکم ہوتا ہے ”لاترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی“ اپنی آواز محبوب کی آواز سے بلند نہ کرو۔ اور حکم ہوتا ہے کہ ”ولاتجہرو الہ باالقول کجہر بعضکم لبعض ان تحبط اعمالکم وانتم لاتشعرون“۔ (الجرات)

محبوب صلّی اللہ علیہ وسلم سے بلند آواز میں کلام نہ کرو جیسا آپس میں کرتے ہو۔ اگر ایسا کرو گے تو تمہارے اعمال ضایع ہوجائیں گے اور تمہیں اس کی خبر بھی نہ ہوگی۔ اس کا مثال یوں سمجھیں کہ کسی کے پاس گندم کا ذخیرہ ہو لیکن نیچے سے ذخیرہ کو چوہے کترجائیں اور اس کا خاتمہ کردیں۔ دیکھنے والا تو اوپر سے کہے گا کہ میرے پاس بڑا ذخیرہ موجود ہے لیکن در حقیقت اس کا خاتمہ ہوچکا ہے اور مالک کو اس کا علم بھی نہیں ہے۔ اس طرح کسی کے پاس اعمال خیر کا ڈھیر ہو لیکن آداب کی تکمیل نہ ہونے کی وجہ سے وہ ڈھیر خدا کے طرف سے ختم ہورہا ہے اور اس بے ادب کو کوئی علم ہی نہیں ہے۔ اگر کتنا بھی گنہگار ہے لیکن آداب کی بجاآوری کرتا ہے تو اس کی بخشش ہوجاتی ہے اور اجر عظیم مل جاتا ہے۔ جیسے ارشاد خداوندی ہے ”ان الذین یغضون اصواتہم عند رسول اللہ اولٰئک الذین امتحن اللہ قلوبہم للتقویٰ لہم مغفرۃ واجر عظیم۔“ (الحجرات)

بیشک جنہوں نے اپنی آواز کو رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نیچے رکھا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کے قلوب کو خدا نے تقویٰ کے لیے چن لیا ہے اور ان کے لیے مغفرۃ اور اجر عظیم ہے۔ حالانکہ مغفرت کا لفظ بتا رہا ہے کہ اس سے گناہ سرزد ہوئے ہیں کیونکہ مغفرت گناہوں کے معاف کرنے کو ہی کہتے ہیں لیکن چونکہ اس کے دل میں حبیب صلّی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور ادب ہے تو اس کے لیے نہ صرف مغفرت بلکہ اجر عظیم کا اعلان ہورہا ہے۔ معلوم ہوا کہ ادب والا پاگیا بے ادب محروم ہوگیا۔ جیسا کہ اہل دل نے کہا ہے کہ ”بے ادب محروم ماند از لطف رب“ بے ادب رب کے لطف سے محروم ہوگا۔ اور ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ”لاتجعلوا دعاء الرسول بینکم کدعاء بعضکم بعضا“ محبوب صلّی اللہ علیہ وسلم کو ایسے نہ بلاؤ جیسے تم ایک دوسرے کو بلاتے ہو۔ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اس کو بیوقوف کہا جاتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے

”ان الذین ینادونک من وراء الحجرات اکثر ہم لایعقلون“ (الحجرات) بیشک اے محبوب صلّی اللہ علیہ وسلم جولوگ آپ کو پیچھے بلائیں وہ بے عقل اور نادان ہیں۔

بخاری شریف میں روایت ہے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم مال غنیمت تقسیم کررہے تھے کہ ذوالعسیرۃ تمیمی قبیلہ سے ایک شخص آیا اور کہنے لگا ”واتق اللہ واعدل“ اے نبی اللہ سے ڈر اور تقسیم کرنے میں انصاف کر۔ حضور صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے نصیحت کرنے والے دنیا میں میں عدل نہیں کروں گا تو جہاں میں کون عدل کرے گا۔ وہ شخص یہ آپ کا جواب سن کر پس پشت ہوکر چلا گیا۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کے نسل سے ایسے لوگ آئیں گے جن کی نماز کے سامنے تم اپنی نمازوں کو حقیر جانو گے، وہ ایسے روزے رکھیں گے کہ انکے روزوں کے سامنے تم اپنے روزوں کو کم جانو گے۔ قرآن کی اتنی تلاوت کریں گے کہ تم اپنا قرآن پڑھنا کسی طرح بھی ان کے برابر نہیں سمجھو گے لیکن وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکلتا ہے کہ اس کی نوک پر خون بھی ظاہر نہیں ہوتا۔ غور فکر کی بات ہے کہ ان کو صلوٰۃ، خیام، تلاوت اسلام سے خارج ہونے سے کیوں بچا نہیں سکے۔ صرف اور صرف اس وجہ سے کہ ان کے دل عظمت رسول و ادب رسول سے خالی تھے، اسی وجہ سے کوئی بھی نیکی ان کے کام نہیں آئی۔ معلوم ہوا کہ ادب ایک بنیادی شیء ہے اور محبت ادب اور خدمت کے مجموعہ کا نام ہے اور خدمت سے ہی انسان ایک اعلیٰ مقام پر فائز ہوتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ آپ رئیس المفسرین کیسے بنے۔ آپ نے فرمایا کہ حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کا جوڑا مبارک سنبھال کر رکھتا تھا اور ایک دفعہ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے گئے۔ میں نے ایک لوٹا بھر رکھا۔ جب آپ قضائے حاجت سے فارغ ہوئے تو پوچھا کس نے یہ لوٹا بھر رکھا ہے (من وضع الوضوئ) میں نے عرض کیا (انی وضعت الوضوئ) میں نے لوٹا بھر کر رکھا ہے۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی ”اللّٰہم فقہہ فی الدین“ میرے مولیٰ عبداللہ کو دین میں سمجھ عطا کر۔ میرے علم اور رفع الدرجۃ فی الحدیث والتفسیر کا راز لوٹے بھرنے اور خدمت کرنے میں ہے۔ حضرت ربیعہ رضی اللہ عنہ نے حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے خوش ہوکر ربیعہ سے فرمایا سل ربیعہ ماشئت۔ جو چاہے سوال کر تجھ کو عطا کروں۔ ربیعہ نے عرض کیا ”انی اسئلک مرافقتک فی الجنۃ“۔ میں یہ سوال کرتا ہوں کہ جنت میں آپ کی معیت اور خدمت حاصل ہوجائے۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”المرأ مع من احب بہٖ“۔ انسان اسی کے ساتھ ہوتا ہے جس کے ساتھ اس کی محبت ہوتی ہے تو تمہاری بھی ہمارے ساتھ محبت اسی لیے جنت میں تم ہمارے ساتھ ہوگے۔

بات یہ چل رہی تھی کہ محبت ادب اور خدمت کا مجموعہ ہے اس کی مثال قرآن سے بھی کافی مل رہی ہیں۔ ان مثالوں میں سے کچھ مثالیں ذکر کی جاتی ہیں۔

حضرت اسماعیل علیہ السلام کو حضرت ابراہیم علیہ السلام لیجارہے ہیں اور راستہ میں اللہ کا پیغام سنایا ”یابنی انی اریٰ فی المنام انی اذبحک فانظر ماذیٰ تریٰ“ اے میرے بیٹے اللہ کا حکم یہ ہے کہ (کیونکہ انبیاء علیہم السلام کا خواب وحی الٰہی ہوتا ہے) میں تجھے ذبح کروں، تیری رائے کیا ہے؟ خدا کا شان دیکھو، صغر سنی ہے، چھوٹا سا حضرت اسماعیل طفل ہے لیکن اس کے باوجود اقامۃ الخدمت والا مادہ موجود ہے۔ اپنے محبوب رب العالمین کے لیے جان قربان کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے اور کہتا ہے کہ ”یاابت افعل ماتؤمر ستجدنی ان شاء اللہ من الصابرین“ اے میرے ابا جان محبوب رب العالمین کا حکم پورا کردے، انشاء اللہ مجھے صابروں میں سے پاؤ گے۔ اپنے آپ کو صابر نہیں کہہ رہا ہے اس خوف سے کہیں بے ادبی نہ ہوجائے، کہتا ہے کہ اے میرے ابا جان قیامت کا دن ہوگا تم مجھے بھی صابروں میں کہیں نہ کہیں پاؤ گے۔

حضرت ایوب علیہ السلام کو جب تکلیف نے گھیرلیا تو خدا کی بارگاہ میں یوں عرض کیا ”و ایوب اذ نادیٰ ربہ انی مسنی الضر وانت ارحم الراحمین“ اے میرے مولیٰ مجھے تکلیف نے آگھیرا ہے، دبوچ لیا ہے، اپنی عاجزی اور اقامۃ الخدمت بیان کررہا ہے کہ تیری دربار میں یہ بندہ حاضر ہے اور بے ادبی کی وجہ سے رحم کی دعا نہیں مانگی، فارحم نہیں کہا اس لیے کہ منشاء یار کیا ہے، ہوسکتا ہے میری اس حالت میں میرا محبوب رب العالمین راضی ہو اس لیے انت ارحم الراحمین کہا۔

حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ محبت کی معنیٰ اس طرح کررہے ہیں کہ ”استقلال الکثیر من نفسک واستکئار و القلیل من المحبوب“۔ اپنی طرف سے کثیر خدمت ہو پھر بھی اس کو قلیل جانے اور محبوب سے تھوڑا ہی ملے تو اس کو کثیر جانے۔ آپ فرماتے ہیں یہ بھی مقام محبت کا ابتدائی مقام ہے جب محب اپنی محبت میں ترقی کرتا ہے تو یہ عالم ہوتا ہے کہ “استقلال الکثیر من نفسک اکستثار العدم من المحبوب“ آپ فرماتے ہیں کہ محبت میں اس سے بھی آگے ترقی کرتا ہے تو یہ حال ہوتا ہے کہ اپنی طرف سے بہت کچھ محبوب کے لیے کرے لیکن اس کو تھوڑا ہی جانے اور محبوب سے جفا ملے، عطا سمجھے، سخا سمجھے، مشقت ملے رحمت سمجھے۔ کشف المحجوب میں قصہ ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک عابد تھا جسے نے ستر سال مسلسل عبادت کی، اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو وحی کی کہ اس عابد کو پیغام پہنچادے، تیری عبادت نامنظور ہے اور رد کی گئی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے تلاش کرکے اس کے اوصاف پڑوسی والوں سے معلوم کرکے (کہ واقعی اس نے ستر سال عبادت کی ہے) پالیا اور اس کو کہا رب العالمین کی طرف سے تیرا پیغام ہے۔ یہ سن کر اس کی آنکھیں چمک اٹھیں اور چہرہ چمک اٹھا۔ عرض کیا کہ کیا پیغام ہے؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ تیری ستر سال کی عبادت رب نے نامنظور کردی ہے، رد کردی ہے۔ جیسے ہی یہ سنا تو ناچنے لگا اور خوش ہورہا تھا۔ پیغمبر علیہ السلام نے کہا کہ عجب ہے تجھ پر، میں نے سمجھا تھا کہ تو چیختا چلاتا اور رونے لگتا کہ تیری تو ستر سال کی محنت ضایع و برباد ہوگئی۔ کہنے لگا کہ میری عبادت کام کی ہوگئی کیونکہ رب العالمین نے مجھے یاد فرمایا ہے اس لیے تو میں نوکری کررہا تھا۔ یہ ہے محبت۔ نامنظوری کو بھی عطا اور سخا سمجھا۔

حضرت بایزید رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں بعض دفعہ تو محب محبوب سے کچھ مانگنا بے ادبی سمجھتا ہے۔ حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کو جب معراج کی شب قرب ملا، ”فکان قاب قوسین“ دوکمانوں کے فاصلوں پر آپ قریب گئے تو رب نے فرمایا اے میرے مصطفیٰ کیا چاہتا ہے تو آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی چیز کا مطالبہ نہیں کیا اور عرض کرنے لگے ”التحیات للہ والصلوٰۃ والطیبات“ اے میرے مولیٰ ساری عاجزیاں تیرے لیے ہیں جب کوئی چیز نہیں مانگی تو حجابات اٹھ گئے اور دیدار شروع ہوا ارشاد ہوا مازاغ البصر وماطغیٰ۔ نہ جھٹکی نہ چپکی آنکھ خدا کے دیدار میں۔ (جاری ہے)