فہرست الطاہر
شمارہ 50، ربیع الاول 1429ھ بمطابق اپریل 2008ع

کالے کرتوت

اداریہ

ایڈیٹر کے قلم سے

ماہ ربیع الاول کا آغاز ہے۔ ہر طرف خوشیوں کے شادمانے نعتوں کی صورت میں گونج رہے ہیں۔ چہارسو بہار چھائی ہوئی ہے۔ عاشقان رسول درود و سلام پڑھتے ہوئے خوشی سے جھوم رہے ہیں۔ کائنات کا ذرہ ذرہ نور محمد صلّی اللہ علیہ وسلم سے روشن و معمور ہے۔ ہر گھر، ہر محلہ، ہر شہر و ہر ملک میں آمد رسول بنام عید میلاد النبی کے لیے تیاریاں زور شور سے ہورہی ہیں۔ ان تیاریوں میں مصروف عاشقان مصطفی صلّی اللہ علیہ وسلم کے دل خوشیوں سے بھرپور ہیں۔ مگر شاید مسلمانان عالم کی یہ خوشیاں کچھ گستاخ اور بدکردار اشخاص سے برداشت نہ ہو پائیں اور ان کالے دلوں والے شخصوں نے انسانیت کو معراج بخشنے والی اللہ کی محبوب ترین ہستی کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے اپنے کالے قلب کی سیاہی کاغذوں پر انڈیل کر مسلمانوں کی دلوں کو رنج اور الم میں ڈبودیا ہے۔ اپنے آپ کو حقوق انسانی کا چیمپئن قرار دینے والے، اپنے آپ کو ترقی یافتہ قرار دینے والے بدتہذیب لوگوں کے کالے کرتوت خود ان کے دماغی خلل پر گواہ ہیں۔ یہ کالے کرتوت کھل کے بتاتے ہیں کہ ترقی یافتہ کہلوانے کے یہ شوقین افراد پتھر کے دور کے لوگوں سے بھی بدتر ہیں اور یہ ترقی، بلندی اور اعلیٰ تہذیبی اقدار کی ہجے سے بھی ناواقف ہیں۔ ان لوگوں کے گستاخی بھرے سیاہ کارنامے ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ درحقیقت یہ خود ہی بدکرداری کے تمام تر منبع و ماخذ بن چکے ہیں اور یہ اپنی بدکرداری سے اس کائنات کے سب سے بڑے محسن اور اخلاق عظیم کے درجے پر فائز ہونے والی اعلیٰ ترین انسانی شخصیت حضرت محمد مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کو کبھی بھی ہیچ نہیں کرسکتے۔ کیونکہ جس پاک ہستی کے ذکر کو خود اس دنیا کے مالک حقیقی نے بلند تر کردیا ہے اس کو کون اپنی بدکرداری سے آلودہ کرسکتا ہے۔ ان کالے سیاہ کرتوتوں کے کرنے والوں کو چاہیے کہ اپنی بدکرداری، بداخلاقی اور گری ہوئی ذہنی صلاحیتوں سے چھٹکارہ پانے کے لیے سیرت محمد صلّی اللہ علیہ وسلم کا بغور اور صحیح طریقہ سے مطالعہ کریں تاکہ وہ اپنی بدکرداری سے نجات حاصل کر پائیں اور خود کو انسان کہلوانے کے مستحق بن سکیں۔

ان بدکردار اور دنیا کے غلیظ ترین لوگوں کے یہ غلیظ ترین کارنامے مسلمانان عالم کو اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ وہ اپنی سستی، بدعملی اور کاہلی سے بیدار ہوکر دینی و دنیوی علوم کے حصول کی طرف توجہ دیں اور اس دنیا میں ترقی و عظمت کا وہ مقام حاصل کریں کہ کل کسی بھی بدتر شخص کو یہ جرأت نہ ہو کہ وہ نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کرتے ہوئے مسلمانوں کی دلوں سے کھیلنے کی کوشش کرے۔