فہرست الطاہر
شمارہ 52، رمضان المبارک 1429ھ بمطابق ستمبر 2008ع

رمضان المبارک عطیہ خداوندی

جمیل اصغر

 

گناہوں میں ڈوبے ہوئے انسانوں کے لیے پیغام مغفرت

گھپ اندھیرے میں روشنی کا احساس۔ اللہ کے غیض و غضب سے بچنے اور اس کی رحمت و شفقت کی ٹھنڈی چھاؤں میں آنے کا بہترین موقع۔ اللہ اور رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کے نافرمانو لوٹ آؤ۔۔۔ چھوڑدو بغاوت۔۔۔ اللہ کے دوست بن جاؤ۔۔ سجدوں سے رب کی زمین کو آباد کرو۔۔ مسجدوں کو آباد کرو۔۔ دل کی دنیا کو اللہ کی یاد سے سجالو۔۔ قوت کی آخری ہچکی سے پہلے اللہ کے ہوجاؤ۔۔ رمضان المبارک سے فائدہ اٹھالو۔۔۔ رمضان اور قرآن حشر کے دن تمہارے سفارشی ہوں گے۔۔ ان سے دوستی کرلو۔۔ ناچ گانا چھوڑ کر۔۔۔ شراب و مستی سے ناطہ توڑ کر۔۔۔ شیطان سے تعلق توڑ کر۔۔۔ بدکاری و زناکاری کا لباس اتار کر۔۔۔ بدنظری و بے حیائی کا بخار اتار کر۔۔۔ آؤ آؤ اللہ کریم سے تعلق جوڑ لیں۔۔ بندگی کا رشتہ مضبوط کرلیں، اسکی محبت کا لباس پہن لیں۔ اسکی دوستی کا تاج پہن لیں۔۔۔ اسکی فرمانبرداری کی چادر اوڑھ لیں۔۔۔ اپنے محسن اعظم صلّی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا طوق ڈال لیں۔۔۔ ہمارے سابقہ گناہ معاف۔۔ بلکہ۔۔ نیکیوں میں تبدیل ہوجائیں گے۔۔۔ اللہ کے دوست بن جائیں گے۔۔ رمضان اللہ کا مہینہ ہے۔۔۔ رحمت، مغفرت اور جہنم سے آزادی کا مہینہ ہے، اس کے روزے رکھو۔۔ تراویح میں قرآن سنو۔۔ محبت اور عقیدت سے سنو۔۔ عبادت کے چراغ روشن کرلو۔۔۔ بھوک پیاس بھی برداشت کرو۔۔۔ گناہوں سے بچنے کی مشقت کرو۔۔ لیلۃ القدر کی دیوانہ وار تلاش کرو۔۔ عشق و مستی، دیوانگی و فرزانگی سے اپنے مالک کی رضا تلاش کرو۔۔ ذکر اللہ کرو۔۔۔ مراقبہ کرو۔۔۔ خدمت خلق کرو۔۔۔ گناہوں کو چھوڑدو۔۔۔ توبہ کرلو۔۔ دیکھنا کہیں مغفرت کا یہ عظیم موقع ہمارے ہاتھوں سے نکل نہ جائے۔۔ اور ہم پچھتاتے رہ نہ جائیں رمضان سے پہلے ہی عبادت خداوندی کے لیے تیار ہوجائیں یہی بندہ مؤمن کا شیوہ ہے۔

روزہ اور بھوک وپیاس

مسلمانو!

روزہ رکھو۔ بھوکے پیاسے رہو دن بھر۔ اللہ سے ڈرتے ہوئے بھوکے پیاسے رہنا۔ اس کا صلہ وہی دے گا جس کے لیے بھوک پیاس برداشت کی ہے۔۔۔ اے اللہ دیکھ لے ہم اپنی تنہائیوں میں، بند کمروں میں جہاں ہمیں دیکھنے والا کوئی نہیں۔۔ صرف تیری رضا کے لیے نہ کھاتے ہیں، نہ پیتے ہیں۔ صلہ بھی تجھی سے چاہتے ہیں۔ یہی وہ جذبہ ہے جسے اللہ پسند فرماتا ہے۔ ذرا خبردار رہیے گا کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ بھوکے پیاسے تو رہیں مگر گناہ سے باز نہ آئیں۔ آپ کی زبان جھوٹ، چغلی، غیبت گالی گلوچ اور گندی باتوں میں مشغول رہے۔ آپ کے کان Music (گانے بجانے) اور غیر محرموں کی دلآویز باتیں سنتے رہیں اور حرام میں مشغول رہیں۔۔ آپ کی آنکھیں غیر محرموں کا طواف کرتی رہیں اور حرام دیکھنے میں مگن رہیں۔۔۔ آپ کے ہاتھ پاؤں گناہ کی طرف راغب رہیں۔۔ خدانخواستہ اگر ایسا ہوا تو روزہ بے فائدہ بے اجر رہے گا۔۔ حصہ میں آئے گی تو صرف بھوک اور پیاس۔۔ نہ ثواب نہ ہی رضائے خداوندی۔۔ نہ رحمت۔۔ نہ مغفرت اور نہ ہی جہنم سے آزادی کا پروانہ۔۔ اتنے بڑے نقصان سے بچنے کی اشد ضرورت ہے۔۔ گناہ کو چھوڑ دیجیے۔۔۔ اللہ کو راضی کیجیے۔۔۔ روزہ تقویٰ سکھاتا ہے۔۔۔ اللہ کریم کی موجودگی کا احساس پیدا کرتا ہے۔ خوف الٰہی دلوں میں پیدا کرتا ہے کہ ہمارا رب ہمیں دیکھ رہا ہے۔۔۔ تاکہ بندہ ہر کام کرتے ہوئے ہر قدم اٹھاتے ہوئے ہر لفظ بولتے ہوئے اور سنتے ہوئے یہ یاد رکھے کہ میں اپنے مالک کی نگاہ میں ہوں۔۔ میری سوچ میرے عمل پر بھی اس کی نظر ہے۔۔۔ پھر بندہ گناہ کو چھوڑ دیتا ہے۔۔۔ برے کاموں سے بچتا ہے۔۔۔ یہی تقویٰ ہے۔۔۔ یہی روزہ کا مقصد ہے۔۔۔ لعلکم تتقون۔۔۔ اللہ کے دوست بننے کا یہی آسان نسخہ ہے۔۔۔ ہم سب مسلمان اس طرح روزہ رکھیں کہ ہم اللہ کے دوست (ولی) بن جائیں۔۔ جنکے بارے میں خوش خبری ہے لاخوف علیہم ولاہم یحزنون۔