فہرست الطاہر
شمارہ 52، رمضان المبارک 1429ھ بمطابق ستمبر 2008ع

ناموس مصطفیٰ اولین مقصد ہے

علی بخش پنہورطاہری

 

صرف افراد و اقوام ہی زوال و انحطاط کا شکار نہیں ہوتیں بلکہ ان کی مخصوص قدریں اور ان کے بنیادی نظریات بھی تنزل پذیر ہوجاتے ہیں۔ ان کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کے احساسات و جذبات کو کھلم کھلا تماشہ بناکے پیش کیا جاتا ہے۔ ان کے خیالات کو پسماندہ، تہذیبی عمل کے امور کو ہیچ تر اور کردار کو گھٹیا سمجھا جاتا ہے اور ان کی عقیدت و محبت کے محور و مرکز ہستیوں کو برا بھلا کہا جاتا ہے۔ یہی حال آج امت مسلمہ کے ساتھ ہے۔

آج امت مسلمہ کے مرکز و محور کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور یہ کام ایسی قوم کی طرف سے جارہا ہے جس کی شناخت عریانی و فحاشی ہے، جہاں سلسلۂ نسب ہسپتالوں سے آگے نہیں بڑھتے، جہاں خون کے رشتے D.N.A سے پہچانے جاتے ہیں، جہاں عورت جیسی مقدس ہستی کو ذریعۂ فحاشی سمجھا جاتا ہے۔ ایسی نیچ تر قوم آج توہین مصطفی صلّی اللہ علیہ وسلم پر اتر آئی ہے۔ مصطفی کریم صلّی اللہ علیہ وسلم کی اہانت و بے ادبی کو وہ اپنی آزادی کا سمبل قرار دیتی ہے۔ جن کے ہاں اسلامی اصول، قواعد و شعائر کی تحقیر و تذمیم کو روشن خیالی تصور کیا جاتا ہے۔ وہ ہستی جس کی بارگاہ کے آداب خود خدا نے سکھائے، جہاں نام لینا منع ہو اور آواز کی بلندی ضیاع اعمال کا سبب بنے، وہ ہستی جس نے حیوانی صفات سے متصف قوم کو عروج و بلندی کے اعلیٰ مقام پہ فائز کردیا، جس کے چمنستان کرم سے ایسے پھول و گوہر بن کے نکلے جنہوں نے ادب و محبت، اخلاق و مروت کی ایسی مثالیں قائم کیں کہ دنیا یہ سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ اس ذات عظیم کا کیا مقام ہوگا، جس کی تربیت سے ایسے ہیرے اور جواہر نکلے جنہوں نے استعماری قوتوں کے پرخچے اڑادیے، جنہوں نے دشت تو دشت دریا بھی نہ چھوڑے۔ بحر ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے، جنہوں نے امن و استحکام کے ایسے کارنامے سرانجام دیے کہ کائنات میں رہنے والوں کی زبانوں پر ان کی عظمتوں کے چرچے آج تک جھلملا رہے ہیں۔ الغرض کہ اس معزز و مکرم شخصیت سے جو بھی وابستہ ہوا وہ ادب و امن، شفقت و محبت کا بیکراں ساحل بن گیا۔ تو ایسی بلند و بالا شاندار ہستی پہ یہ چشم غضب کیا معنی؟ تو آتے ہیں اپنے اصل موضوع کی طرف۔ تازہ تازہ لمحوں کی بات ہے کہ ملکہ برطانیہ الزبتھ نے بدنام زمانہ شاتم رسول ملعون و مرتد سلمان رشدی کو نائٹ ہڈ کا خطاب دیا ہے۔ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی پر بجائے لعن و طعن کے اسے معزز قرار دیا گیا ہے۔ حالانکہ ملعون کی کتاب پر صرف مسلم ممالک نے ہی نہیں بلکہ خود مغربی مفکرین نے بھی زبردست نکتہ چینی کی اور اس کے نظریات کو گھٹیا قرار دیا۔

قارئین کرام یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ کسی کو بھی دوسرے کے دینی اور تہذیبی معاملات میں لب کشائی یا ان معاملات کی تنقیص و تذمیم بیان کرنے کی قطعاً اجازت نہیں ہوتی اور کسی کو یہ حق کسی طور پہ بھی نہیں ہے کہ وہ کسی کے ان معاملات میں دخل اندازی کرے، نکتہ چینی کرے جن کا تعلق اس کے مذہب و ملت سے ہو۔ کیونکہ مذہب، دین و ملت سے انسان کا گہرا لگاؤ ہوتا ہے۔ کوئی بھی اپنی معزز شخصیت اور پیشوائے مذہب کے بارے میں سب و شتم اور توہین برداشت نہیں کرسکتا۔ پھر یہ کیسے ممکن ہو کہ حق و صداقت کے علمبردار، عالم ہستی کے رازدار اور خدا کی وحدانیت کے پاسدار یہ مسلمان جو اس خطاب خداوندی سے موسوم ہیں ’’تم سب سے اچھی امت ہو تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو‘‘ کیسے خاموش بیٹھ سکتے ہیں۔ جب معمولی سی بھی برائی انہیں ناگوار لگتی ہے تو پھر انہیں یہ کیسے گوارا ہوسکتا ہے کہ جان جہاں، دلربا، مہرباں، سراپا احسان، راحت روح ایماں، سرکار عالیشان کی شان میں کوئی ذرہ سی بھی گستاخی سے کام لے۔ یہ نبی تو وہ نبی ہے کہ اگر کوئی ولید بن مغیرہ جیسا ان کی دل آزاری کرے تو خالق کائنات اس کا دفاع کرتے ہوئے اسے (عتل بعد ذالک زنیم) جیسے خطاب سے موسوم فرما دیتا ہے۔ اس کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیتا ہے اور اس کی محبت کو دین کی شرط اول قرار دیتا ہے۔

میرے پیارے نبی صلّی اللہ علیہ وسلم کی عزت و عظمت دیکھنی ہے تو اس ساغر کو منہ سے لگانا ہوگا جسے منہ سے لگانے کے بعد شیخ سعدی بلغ العلیٰ بکمالہٖ۔ کشف الدجیٰ بجمالہٖ۔ حسنت جمیع خصالہٖ۔ پکار اٹھتے ہیں۔ رفعت مصطفیٰ کا نظارہ کرنا ہے تو اس ساحل میں غوطے لگانے ہوں گے جس میں غوطہ لگانے کے بعد پیر مہر علی شاہ یہ فرمارہے ہیں

اس صورت نوں میں جان آکھاں، جان آکھاں تے جان جہاں آکھاں

سچ آکھان تے رب دی شان آکھاں، اس شان توں شاناں سب بڑیاں

تکریم مصطفیٰ کی وسعتوں کو جھانکنا چاہتے ہو تو اس جام عشق و محبت کو پی کر رقص کی دھومیں مچاؤ، عظمت مصطفیٰ کے نغمے گاؤ جسے پی کر شرف الدین بوصیری مستی کے عالم میں پکار اٹھتے ہیں۔

وکلہم من رسول اللہ ملتمس غرفا من البحر اور شفا من الدیم

یعنی سب رسول و نبی، قطب ولی میرے آقا کے در کے گدا اور سائل ہیں اور ان کی طلب ایسے ہے جیسے کوئی بحر سے قطرہ مانگ رہا ہے یعنی وہ سب حضور آگے ایسے ہیں جیسے قطرہ سمندر کے آگے۔ اگر کوئی عظمت مصطفیٰ کے سورج کی کرنوں کی جھلک دیکھنا چاہتا ہے تو اس مۂ سے تشنہ دلی کو بجھائے جسے پی کر بریلی کے تاجدار امام عشق و محبت، عظیم البرکت احمد رضا خان بریلوی یہ صدائیں لگاتے ہیں

بخدا خدا کا یہی ہے در، نہیں اور کوئی مفر مقر
جو وہاں سے ہو یہیں آکے ہو جو یہاں نہیں تو وہاں نہیں

یہ بات سچ ہے کہ ہم معاشی لحاظ سے بہت ہی پیچھے ہیں لیکن یہ غریبی ہمیں ایمانی لحاظ سے کمزور نہیں کرسکتی۔ ہم جتنے خاموش ہیں اتنے ہی محبت رسول میں مر مٹنے میں سب آگے ہیں۔ ہم آگ تکبیر کی سینوں میں دبی رکھتے ہیں زندگی کا مثل بلال حبشی رکھتے ہیں وہ کسی کے شوق میں مزے ستم تو لیتا ہے لیکن طاغوتی قوتوں کے آگے ہمت نہیں ہارتا بلکہ جواب میں یہ کہہ رہے ہیں

جفا جو عشق میں ہوتی ہے وہ جفا ہی نہیں
ستم نہ ہو تو محبت میں کچھ مزہ ہی نہیں

یہاں ہم میں اویس قرنی کی تڑپ، فاروق اعظم کا جلال، علامہ جامی کا درد، تاجدار بریلی کا عشق ضرور پایا جاتا ہے۔ استعماری قوتیں یہ سمجھ کر خوش نہ ہوں کہ وہ ایسی گھٹیا حرکتیں کرنے کے باوجود بھی فخر سے چلتی رہیں گی۔

قارئین کرام آج ہم مسلمانوں پر کچھ ذمیداریاں عائد ہوتی ہیں کہ ہم علم و عمل کے میدان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ ہم اپنا کھویا ہوا مورال حاصل کرکے گلی گلی نگر نگر میں نعت مصطفیٰ کے جھنڈے لہرائیں۔ مغربی روٹس سے کنارہ کشی اختیار کرکے سنت نبوی کو اپنا شعار بنائیں۔

آخر میں ہم فرعونی استعمار سے لیکر امریکی جارحیت و برطانوی جبر و استحصال سے کچھ سوال کرنا چاہیں گے جو چار امور میں قدرے مشترک ہیں۔ محکوم قوم کے عقیدے پر حملہ کرنا۔ غلام قوم کا اقتصادی استحصال۔ تفرقہ و انتشار پھیلانا۔ غلام قوم کا بین الاقوامی دنیا سے رابطہ منقطع کرنا۔

سوالات کچھ اس طرح سے ہیں

اگر کوئی سکھ یا ہندو یا عیسائی اپنے مذہب کے حکم پر عمل کرکے داڑھی رکھتا ہے تو رکھ سکتا ہے اور اسے مذہبی لگاؤ کہا جاتا ہے، لیکن اگر جب کوئی مسلمان داڑھی رکھتا ہے تو اسے انتہا پسند کہا جاتا ہے؟

اگر کوئی مغربی لڑکی جیسا بھی لباس پہن کر اسکول یا کالج میں آتی ہے تو اسے شخصی آزادی سمجھا جاتا ہے اگر کوئی مسلم لڑکی باپردہ ہوکر آتی ہے تو اسے پسماندہ خیال سمجھا جاتا ہے؟

اگرکوئی مغربی عورت اپنے آپ کو گھر میں محدود کردیتی ہے تو اسے کیریئر کی قربانی کہا جاتا ہے اس طرح اگر کوئی مسلم عورت چار دیواری میں اپنے آپ کو محدود کرتی ہے تو اسے مظلوم سمجھا جاتا ہے اور اسے آزادی دلانے کی باتیں کیوں چل پڑتی ہیں؟

اس موقع پر کچھ سوالات مسلم دنیا سے بھی کرتا ہوں کہ اگر کوئی ہمارا بچہ سائنس، انگلش، معاشیات اور میوزک میں دل چسپی لیتا ہے تو اسے بھرپور حوصلہ افزائی سے سراہا جاتا ہے لیکن اسی طرح ہمارا کوئی بچہ اپنے آپ کو دینی مطالع کے لیے وقت کرتاہے تو اسے کیوں نظر انداز کیا جاتا ہے؟

اگرکوئی کمپیوٹر کا ماہر استاد مل جاتا ہے تو اسے منہ مانگی تنخواہ دی جاتی ہے لیکن اسی طرح دین کے ماہر عالم کو ہم تھوڑے پیسے کیوں دیتے ہیں؟

میوزک کو تو روح کی غذا کہا جاتا ہے لیکن اللہ کے ذکر کو قلوب کی غذا اور اطمینان روحانی کیوں نہیں سمجھا جاتا؟

جب ہم ان خرابیوں کو دور کردیں گے تو وہ دن دور نہیں کہ سب طاغوتی قوتیں ریزہ ریزہ ہوجائیں گی، ہمیں ان سے شکوہ کرنے کی بجائے ڈاکٹر محمد اقبال کے اس شعر پہ غور کرکے عمل کی راہ پر گامزن ہوجانا چاہیے وہ فرماتے ہیں۔

دل بھی گروئی غیر، جاں بھی گروئی غیر
افسوس کہ باقی نہ مکاں ہے نہ مکیں ہے

یورپ کی غلامی پہ رضامند تو ہوا
مجھے گلہ تجھ سے ہے یورپ سے نہیں ہے