فہرست الطاہر
شمارہ 52، رمضان المبارک 1429ھ بمطابق ستمبر 2008ع

 عظمت صحابہ

محمد حفیظ اجمل

 

اللہ رب العزت نے تقریباً 18 ہزار مخلوقات کی تخلیق فرمائی اور ان میں سے سب پر فوقیت نوع آدم کو عطا فرمائی اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا انی جاعل فی الارض خلیفۃ۔ (البقرۃ) میں زمین میں خلیفہ (اپنا نائب) بنارہا ہوں یعنی اے فرشتو میں اس مٹی کے بنے ہوئے انسان کو اپنا نائب بنانا چاہ رہا ہوں تمہارا اس بارے میں کیا خیال ہے، تمہیں کوئی اعتراض تو نہ ہوگا؟ فرشتوں نے عرض کیا یا خالق اکبر ’’قالوا اتجعل فیہا من یسفک الدماء ویفسد فیھا‘‘ (سورہ بقرۃ) کیا تو اس زمین کے اندر انسان کو اپنا نائب بنارہا ہے یہ زمین میں جاکر فساد کریں گے، ایک دوسرے کا خون بہائیں گے انہیں خلیفہ نہ بنانا۔ یہ تیری نیابت کے لائق نہیں۔ ’’نحن نسبح بحمدک و نقدس لک‘‘ (سورہ بقرۃ) ہم تیری حمد کی تسبیح پڑھتے ہیں، تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں۔ بہتر تو یہ ہوگا کہ ہمیں ہی اپنا نائب چن لے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا انی اعلم مالا تعلمون (سورہ بقرۃ) جو کچھ میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔ ہاں یہی انسان زمین میں فتنہ و فساد پھیلائیں گے، ایک دوسرے کا خون بہائیں گے، احساس ختم ہوجائے گا، رشتوں کے سامنے بے حسی آڑے آجائے گی مگر یاد رکھو لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم (سورہ التین) بلاشبہ ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر بنایا ہے۔ اس آیۃ میں اللہ تعالیٰ نے تصریح فرمائی ہے کہ یہ انسان 18 ہزار CREATURES سے افضل ہے۔ تم سمجھتے ہو تم نور کی خلقت ہو اس لیے تم سب سے افضل ہو، تم میری نیابت کے لائق نہیں ہو۔ ان میں ایسے بھی ہونگے جیسا کہ تم کہتے ہو لیکن ان میں میرے بھیجے ہوئے پیغمبر بھی ہونگے جو لوگوں کو رشد و ہدایت کا راستہ، صراط مستقیم دکھلائیں گے۔ بھٹکے ہوئے لوگوں کی رہنمائی کریں گے اور ان انبیاء کے اصحاب بھی ہونگے جن میں سے کچھ مہاجر ہونگے تو کچھ انصار، یعنی کچھ ایسے ہونگے جو اپنے اعزہ و اقارب کو چھوڑ کر تپتے صحرا کا دشوار ترین راستہ، کٹھن منزلیں طے کرنے کے لیے نکل پڑیں گے۔ جب بھی ضرورت پیش آئے گی۔ اپنے آقا صلّی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سینہ سپر ہوجائیں گے۔ کیونکہ وہ اپنے نبی صلّی اللہ علیہ وسلم سے اپنے جانوں سے زیادہ محبت کرتے ہونگے اور کچھ ایسے ہونگے جو نبی مکرم صلّی اللہ علیہ وسلم اور ان کے مہاجر ساتھیوں کا تہہ دل سے استقبال کریں گے، انہیں جائے پناہ مہیا کریں گے، ہر چیز کے ساتھ ساتھ پیار و محبت بھی دیں گے، ساز و سامان بھی دیں گے، امن و امان بھی۔ اور تو اور ان میں نازک الطبع عورتیں بھی ہونگی جو کہ مردوں کی طرح عظیم قربانیاں دیں گی حالانکہ یہ قربانیاں مضبوط ترین مرد بھی مشکل سے دے پائیں گے۔ یہ دو گروہ مہاجرین و انصار کے نام سے موصوف ہونگے۔ نبی صلّی اللہ علیہ وسلم کے تمام اصحاب انبیاء علیہم السلام کے بعد افضل ہونگے لیکن ان میں یہ دو گروہ سب سے افضل ہونگے کیونکہ دوست تو سب دوست ہوتے ہیں پر عظیم دوست وہ ہوتے ہیں جو مشکل گھڑی میں کام آتے ہیں ’’والسٰبقون الاولون من المھاجرین والانصار والذین اتبعواھم باحسان۔ رضی اللہ عنھم و رضوا عنہ‘‘ ترجمہ: اور مہاجرین و انصار میں سے (نیکی میں) سبقت کرنے والے اور سب سے پہلے ایمان لانے والے اور جن مسلمانوں نے نیکی میں ان کی اتباع کی، اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہوگئے۔ (سورہ توبہ) یہ عظیم قربانیاں تاجدار انبیاء محمد مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے دیں اور وہ کچھ کیا کہ نبی مکرم صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اکرموا اصحابی فانہم خیارکم‘‘ (مشکواۃ المصابیح) میرے صحابہ کی عزت کرو بلاشک وہ تم میں سب سے افضل ہیں۔

اصطلاحات: مختصراً صحابی کی تعریف پیش کی جاتی ہے صحابہ وہ حضرات رضی اللہ عنہم جو سرور کائنات کے دیدار سے مشرف ہوئے اور ایمان لے آئے اور ایمان ہی پر انتقال ہوا ہو اور صحابی جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف منسوب ہو نیز صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے فرد واحد (المنجد)۔

تشریح: ایمان کے معنیٰ دل اور زبان سے اقرار کرنے کے ہیں نہ کہ صرف زبان سے جیسا کہ منافقوں نے کیا۔ اللہ رب العزت نے فرمایا ومن الناس من یقول اٰمنا با اللہ وبالیوم الاٰخر وماہم بمؤمنین (سورہ بقرہ) ترجمہ: اور لوگوں میں سے جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ مومن نہیں۔ اور صرف ظاہر کی آنکھوں کا شرط نہیں دل کی آنکھ کا دیکھنا بھی کافی ہے جیسا کہ عبد اللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے دل کی آنکھوں سے دیدار کیا ظاہر کی آنکھوں سے دیکھنے سے قاصر تھے۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا زمانہ: صحابہ کا زمانہ ابتدائے بعثت سے شروع ہوکر پہلی صدی کے آخر تک ختم ہوگیا چنانچہ حضرت ابوطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ سب سے آخری صحابی تھے جنہوں نے سنہ 100 ہجری مکۃ المکرمہ میں وفات پائی۔ وہ خود کہا کرتے تھے ’’آج میرے سوائے روئے زمین پر کوئی ایسا شخص نہیں ہے جس نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہو۔‘‘ بہرحال حدیث صحیح اور عام روایات کی رو سے پہلی صدی کے ختم ہونے کیساتھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا دور مبارک ختم ہوگیا اور اب صرف ان کے اعمال صالحہ باقی رہ گئے ہیں جنہیں مختصراً قلمبند کرنے کی کوشش کروں گا۔


قبول اسلام: لطافتِ طبع، رقتِ قلب اور اثر پذیری ایک نیک نیت سرشت انسان کا اصل جوہر ہیں اور انہی کے بدولت وہ ہر قسم کے پند و موعظۃ، تعلیم و تربیت، ارشاد و ہدایت کو قبول کرسکتا ہے۔ پھولوں کی پنکھڑیاں نسیم صبح کی خاموش حرکت سے ہل جاتی ہیں لیکن تناور درختوں کو صر صر کے جھونکے بھی نہیں ہلاسکتے۔ شعاع نگاہ آئینہ کے اندر سے گذرجاتی ہے لیکن پہاڑوں میں فولادی تیر بھی نفوذ نہیں کرتے۔ بعینہٖ یہی حال انسان کا بھی ہے۔ ایک لطیف الطبع، رقیق القلب اور اثر پذیر آدمی دعوت حق کو بآسانی قبول کرلیتا ہے لیکن سنگدل اور غیظ القلب لوگوں پر بڑے سے بڑے معجزے بھی اثر نہیں کرتے۔ اس فرق مراتب کی مثالیں ہر جگہ مل سکتی ہے لیکن اشاعت اسلام کی تاریخ تمام تر ایسی قسم کی مثالوں سے لبریز ہے۔ کفار میں ہم کو بہت سے اشقیاء کا نام معلوم ہے جنہوں نے ہزاروں کوششوں کاوشوں کے بعد بھی خدائے لم یزل کے آگے سر نہیں جھکایا لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ان سعید لوگوں میں سے تھے جنہوں نے قرآن مجید کی آیات، رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و عادات، مواعظ و نصائح، شکل و شباہت، دعاۃ اسلام کی تعلیم و تربیت، ہدایت و ارشاد، آیات و معجزت الغرض ہر مؤثر چیز کے اثر کو قبول کیا اور بطوع و رضا حلقہ اسلام میں داخل ہوگئے۔

قوت اسلام: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس وقت اسلام قبول کیا جس وقت ہر ایک طاقتور اور بااثر شخص اسلام اور اسکے ماننے والوں کا مخالف تھا اور وہ اس مخالفت میں لسانی ہی نہیں بلکہ عملی طور پر بھی سرگرم عمل تھا وہ کسی قیمت پر بھی اسلام اور اسے تسلیم کرنے والوں کو بڑھتا ہوا نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اس کا جس پر بس چلتا اپنا غصہ اتارتا، اپنے اندر جلتے ہوئے کوئلے کو بجھاتا لیکن اسے بجھا نہ پاتا۔ جیسا کہ ابتدائے اسلام میں مسلمان اس قدر مفلوک الحال تھے کہ افلاس کیوجہ سے بعض مسلم خاندانوں کے مرتد ہونے کا خطرہ تھا اور مخالفین اسلام یعنی یہود کے پاس یہ ایک ایسا زرین آلہ تھا کہ جس کے ذریعے سے وہ مسلمانوں کی روحانی قوت پر ضرب لگا سکتے تھے۔ اس افلاس پر مسلمانوں کو صدقہ بھی ادا کرنا پڑتا تھا زکواۃ بھی ادا کرنا پڑتی تھی اور بظاہر یہ ایک ایسا بار تھا جس کے سبکدوش ہونے کے لیے نہایت آسانی سے اسلام سے برگشتہ ہونے کی ترغیب دی جاسکتی تھی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو طرح طرح کی مصیبتوں میں مبتلا ہونا پڑتا تھا اور اس حالت میں ان سے نجات دلانے کا وعدہ ایک ضعیف الایمان دل کو ڈانواں ڈول کرسکتا تھا۔ لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان میں سے کسی چیز کے اثر کو قبول نہیں کیا بلکہ ان کی قوتِ ایمان نے یہود کی مالی ترغیبات کو اس قدر بے اثر کردیا کہ حضرت محیصۃ رضی اللہ عنہ جس یہودی تاجر سے مالی فائدہ اٹھاتے تھے جوش اسلام میں خود اس کو قتل کر ڈالا جس پر ان کے بڑے بھائی (جو اب تک دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہوئے تھے) نے ان کو یہ طعنہ دیا کہ عدو اللہ اما و اللہ لرب شحم فی بطنک من مالہٖ۔ (ابوداؤد۔ کتاب الخراج)
ترجمہ: خدا کے دشمن تیرے پیٹ کی کل چربی اس کے مال سے پیدا ہوئی ہے۔

مصیبتوں سے نجات دلانے کی توقعات کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس بے پروائی سے ٹھکرا دیا کہ جب غزوہ تبوک میں شریک نہ ہونے کی وجہ سے رسول مکرم صلّی اللہ علیہ وسلم حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے ناراض ہوگئے (یہ ناراضگی نہیں ’’میان عاشق ومعشوق رمزیست‘‘ والی بات تھی) اور آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان سے معاشرتی تعلقات منقطع کرلیے تو شاہ غسان نے ان کو لکھا کہ ’’مجھے معلوم ہوا ہے تمہارے آقا صلّی اللہ علیہ وسلم نے تم پر ظلم کیا ہے لیکن خدا تم کو ذلت اور کسمپرسی کی زمین میں رہنے نہ دے گا آؤ اور ہم سے مل جاؤ ہم اپنے مال کے ذریعہ سے تمہاری غمخواری کریں گے‘‘ انہوں نے اس خط کو تنور میں ڈال دیا اور حسرت بھری آہ سے کہا ان اللہ اب کفار مجھے حریصانہ نگاہوں سے دیکھنے لگے ہیں۔ (صحیح البخاری۔ کتاب المغازی)

انسان دوسروں کے مال و دولت سے بے نیاز ہوسکتا ہے پر خود اپنے ذاتی مال کو نہیں چھوڑ سکتا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنے مال اور اپنی جائداد کو بھی قربان کردیا اور ان میں سے کسی چیز کی محبت ان کو اسلام سے برگشتہ نہ کرسکی۔ عاص بن وائل پر حضرت خباب رضی اللہ عنہ کی اجرت باقی تھی لیکن جب انہوں نے اس کا تقاضہ کیا تو ملعون نے کہا ’’لا اعطیک حتیٰ تکفر بمحمد فقلت لاحتیٰ تموت ثم تبعت‘‘ (صحیح البخاری۔ کتاب التفسیر) ترجمہ :جب تک محمد عربی صلّی اللہ علیہ وسلم کے نبوت سے انکار نہ کرو گے نہیں دوں گا۔ حضرت خباب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے کہا یہ تو قیامت تک بھی نہیں ہوسکتا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے ہجرت کی تو اپنے مال و متاع کو خیر آباد کہا اور وراثت سے جو مال ملتا اس سے اس لیے محروم ہوئے کہ مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوسکتا۔ پر ان چیزوں سے ایک چیز بھی ان کے رشتۂ ایمان کو ڈھیلا نہ کرسکی۔ ہجرت کے بعد بھی ابتلاء و امتحان کے مختلف مواقع پیش آئے۔ اس وقت بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عارضی فوائد کے لیے اپنے عقائد کے اظہار میں کسی قسم کی مداہنت نہیں کی۔ ضعیف القلب انسان مصائب کے تصور سے بھی کانپ اٹھتا ہے لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسلام کے لیے ہر قسم کی تکالیف برداشت کیں ان کے ایمان میں ذرہ برابر بھی تزلزل واقع نہ ہوا۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو کفار نے لوہے کی ذرہ پہنا کر دھوپ میں ڈال دیا لڑکے ان کوگلیوں میں گھسیٹتے پھرتے، پر ان کی قوت ایمان میں کسی قسم کا ضعف نہ پایا۔ حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ ام نمار کے غلام تھے۔ جب حلقہ اسلام میں داخل ہوئے تو ام نمار نے لوہا گرم کرکے ان کے سر پر رکھا۔ ایک دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی پیٹھ دیکھی تو فرمایا ’’آج تک ایسی پیٹھ میری نظر سے نہیں گذری‘‘ حضرت خباب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کفار نے انگاروں پر لٹا کر مجھے گھسیٹا تھا۔ حضرت صہیب اور عمار رضی اللہ عنہما کو کفار لوہے کی زرہیں پہنا کر دھوپ میں چھوڑ دیتے تھے اور دھوپ کی شدت سے انکی حرارت اسلام میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی تھی۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جب اول اول خانہ خدا میں قرآن مجید کی چند آیات باآواز بلند پڑھیں تو کفار نے ان کو اس قدر مارا کہ چہرے پر نشان پڑ گئے۔ مگر اس کا ان پر کچھ اثر نہ ہوا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے کہا ’’اگر کہو تو کل پھر اسی طرح باآواز بلند قرآن مجید کی تلاوت کر آؤں۔‘‘

ان اذیتوں کے علاوہ کفار ان غریبوں کو اور بھی مختلف طریقوں سے ستاتے تھے۔ پانی میں غوطے دیتے، مارتے، بھوکا پیاسا رکھتے یہاں تک کہ ضعف سے بیچارے بیٹھ نہ پاتے تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جن میں اکثر یا تو لونڈی، غلام یا غریب الوطن تھے لیکن ان کے علاوہ بہت سے دولت مند اور معزز لوگ بھی کفار کے دست تطاول سے محفوظ نہ رہ سکے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ امیر و معزز شخص تھے لیکن جب اسلام لائے تو خود ان کے چچا نے انہیں رسی میں باندھ دیا۔ حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ جب اسلام لائے تو ان کا چچا انہیں چٹائی میں لپیٹ کر لٹکا دیتا تھا پھر نیچے سے انکی ناک میں دھواں دیا کرتا تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بڑے مشہور و معروف تاجر تھے جب اسلام لائے تو ایک تقریر کے ذریعے سے دعوت اسلام دی، کفار نے یہ نامانوس آواز سنی تو ان پر دفعتاً ٹوٹ پڑے اور اس قدر مارا کہ ان کے قبیلہ بنوتمیم کو ان کی موت کا یقین آگیا اور وہ انہیں کپڑے میں لپیٹ کر گھر لے گئے، شام کے وقت ان کی زبان کھلی، بجائے اس کے کہ اپنی تکلیف بیان کرتے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کا حال پوچھا۔ اب خاندان کے لوگ بھی ان سے الگ ہوگئے لیکن اپنے محبوب کے نام کی رٹ لگی رہی۔ بالآخر لوگوں نے ان کو آپ صلّی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دیا۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے یہ حالت دیکھی تو ان کا بوسہ لیا اور رقت کا اظہار فرمایا۔

مرد تو مرد ہوئے عورتوں نے بھی بہت تکالیف برداشت کیں جیسا کہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کی والدہ حضرت سمیہ بنت خباط رضی اللہ عنہا ضعیف اور کبیر السن عورت تھیں۔ جب اسلام قبول کیا تو کفار نے انہیں سخت اذیتیں دینا شروع کیں یہاں تک کہ گرم ریت پر دھوپ میں کھڑا کردیتے تھے اور وہ تلملایا کرتی تھیں۔ ایک دن وہ اسی حال میں زمین پر تڑپ رہی تھیں کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کا گذر ہوا۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے یہ حال دیکھ کر فرمایا ’’گھبراؤ نہیں صبر کرو جنت تمہارا ٹھکانہ ہے۔‘‘ یہ وہ اذیت تھی کہ اگر مرد بھی ان کی جگہ ہوتا تو اسلام ترک کردیتا لیکن کوئی بھی اذیت انہیں اسلام سے منحرف نہیں کرسکی آخر وقت تک ثابت قدم رہیں دم لٹایا قدم نہیں ہٹایا۔

یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی بہترین مثالیں تھیں۔ قوت ایمان پر ان کے زمانہ میں خود اہل کتاب تک ان کی قوت اسلام کے معترف تھے۔ چنانچہ استیعاب میں ہے کہ جب صحابہ ملک شام گئے تو ایک اہل کتاب نے ان کو دیکھ کر کہا کہ ’’عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے وہ اصحاب جو آروں سے چیرے اور سولی پر لٹکائے گئے ان سے زیادہ تکلیف برداشت کرنے والے نہ تھے۔‘‘

قطع تعلقات: انسان مال و دولت سے بھی بے نیاز ہوسکتا ہے، اگر عزم و استقلال سے کام لے تو ابتلاء و امتحان پر بھی صبر کرسکتا ہے لیکن ماں باپ، بھائی، بہن، اعزہ و اقارب اور اہل و عیال کے تعلقات کو منقطع نہیں کرسکتا۔ یہی لوگ مفلوک الحال اور مفلسی میں اس کی دستگیری کرتے ہیں، تکلیف و مصیبت میں باعث تسکین بنتے ہیں، عیش و عشرت میں لطف زندگی بڑھاتے ہیں غرضیکہ کسی حالت میں انکے تعلقات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ پر جو لوگ اپنا رشتہ صرف خدا سے جوڑتے ہیں ان کو کبھی کبھی یہ رشتہ بھی توڑنا پڑتا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایمان لائے تو حالات نے ان کو اس رشتے کے توڑنے پر مجبور کردیا۔ اسلام و ایمان کے لیے انہوں نے آسانی سے اسے گوارا کرلیا، شمع مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وسلم کے پروانے رسول مجتبیٰ صلّی اللہ علیہ وسلم پر مر مٹنے کے لیے ہر وقت حاضر رہتے تھے۔ ان کے لیے یہ کیا بڑی بات تھی۔ دین و ایمان کے معاملہ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے صرف معاشرتی بے تعلقی کو گوارا نہیں کیا بلکہ ان کو اعزہ و اقارب کے رشتہ حیات کے منقطع کردینے میں تأمل نہ ہوا۔ ایک غزوہ میں عبد اللہ بن سلول نے انصار کو مہاجرین کے خلاف اشتعال دلایا تو اسکے بیٹے حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا ’’یارسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم اگر آپ اجازت دیں تو میں اسے قتل کر ڈالوں‘‘۔ عتبہ غزوہ بدر میں شمشیر بکف میدان آیا تو مقابلے کے لیے اسکے لخت جگر حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ نکلے اسی غزوہ میں حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ (اس وقت دائرہ اسلام میں داخل نہ ہوئے تھے) صف جنگ سے نکلے تو ان کے والد بزرگوار حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ان کا مقابلہ کیا۔

اعزہ و اقارب کے علاوہ قبائل کی یکجہتی بھی عرب کی سب سے بڑے طاقت تھی لیکن بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسلام کے لیے قبیلہ کے تعلق کو بھی منقطع کرلیا۔ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ اسلام لائے تو اپنے قبیلہ کے تمام تعلقات منقطع کرلیے اور کہا کہ ’’مجھ پر تمہارے مردوں اور عورتوں سے بات چیت کرنا حرام ہے۔‘‘

لیکن ان تمام واقعات سے یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ اسلام نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ میں قساوت اور سنگدلی پیدا کردی تھی اور اسی سنگدلی کی وجہ سے تمام اعزہ و اقارب اور افراد قبیلہ سے تعلقات منقطع کرلیے تھے بلکہ اس کے برعکس اسلام نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے جذبہ محبت کو اور بھی زیادہ مشتعل کردیا تھا اس لیے جب وہ اپنے اعزہ و اقارب بالخصوص اپنے والدین، اپنی اولاد اور اپنی شریک حیات، اپنے بہن بھائی، دوست احباب کو دیکھتے تھے کہ وہ کفر کی بدولت جہنم کا ایندھن بن رہے ہیں تو فطری محبت کی بنا پر ان کا دل جلتا تھا اور وہ سخت اضطراب کی حالت میں اللہ رب العزت سے دعا کرتے تھے ’’ربنا ھب لنا من ازواجنا وذریٰتنا قرۃ اعین واجعلنا للمتقین اماما۔‘‘ یعنی ہماری ہی طرح ہمارے بیوی اور بچوں کو بھی ایمان و اسلام کی دولت عطا فرما اور وہ اس معاملے میں ہماری پیروی کریں تاکہ ان کو دیکھ کر ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور پرہیزگاروں کے پیشوا بن سکیں۔