فہرست الطاہر
شمارہ 52، رمضان المبارک 1429ھ بمطابق ستمبر 2008ع

تصور شیخ

فقیر بلال احمد طاہری

 

یار رفت از چشم لیکن روز و شب در خاطر است
گر بصورت غائب است اما بمعنی حاضر است

ترجمہ: میرا محبوب تو ظاہری طور پر میری نظروں سے دور ہے لیکن حقیقت میں دن رات میرے دل میں موجود ہے۔

سالک طریقت کو چاہیے کہ اپنے مرشد کامل متبع قرآن و سنت کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق زندگی بسر کرے اور ہمیشہ حضور حق تعالیٰ کا طالب رہے اور قرب خداوندی کے حصول اور مقام مشاہدہ پر فائز ہونے کے لیے پیر طریقت کی صحبت و محبت کو ضروری سمجھے۔ سالک کو جس قدر اپنے پیر سے زیادہ محبت ہوگی اسی قدر اسے قرب خداوندی زیادہ نصیب ہوگا۔ چونکہ اولیاء اللہ کے تمام افعال، اعمال اور اقوال، احکام الٰہی کے عین مطابق ہوتے ہیں جسکی بدولت انکو قرب و معیت الٰہی حاصل ہوتی ہے۔ لہٰذا جو ان سے محبت رکھتا ہے اور ان کے اخلاق و اطوار اپناتا ہے وہ بھی انکی طرح قرب الٰہی کے مراتب پر فائز ہوتا ہے۔

حضرت امام ربانی مجدد و منور الف ثانی شیخ احمد فاروقی سرہندی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’’وصول الی اللہ کے طریقوں میں تصور شیخ سے بڑھ کر کوئی طریقہ نہیں۔‘‘ اسی بناء پر صوفیاء کرام نے سالک کو یہ امر دیا ہے کہ اگر کوئی شیخ موجود ہو تو اس کے دونوں ابرووں کے درمیان نظر رکھے اور کسی دوسری طرف توجہ نہ کرے اور اگر شیخ ظاہرا موجود نہ ہو تو اس کی صورت کو پیش نظر تصور کرے۔ ایسا تصور پختہ ہونے کے بعد ہر معاملہ میں سالک اس طریقہ کو اختیار کرے جو پیر کے مذاق و مزاج کے موافق ہوگا۔ الغرض قرب الٰہی کے حصول، نفسانی و شیطانی وساوس و خطرات سے نجات اور اخلاق حمیدہ کے حاصل کرنے کے لیے صوفیاء کرام کا رابطہ و تصور شیخ کا معمول، مفید و مجرب روحانی نسخہ ہے۔

تصور شیخ کا قرآن مجید سے ثبوت:

جب تلاوت کرنے والا قرآنی آیات کے معانی و مطالب میں غور و حوض کرے گا تو لازمی طور پر اسکے ذہن میں ان افراد و اشیاء کا تصور بھی آئیگا جن کا ذکر ان آیات میں ہوگا، مثلا جب آیت کریمہ صراط الذین انعمت علیہم تلاوت کرے گا تو یہ ضرور سوچے گا کہ کونسے افراد اللہ تعالیٰ سے انعام یافتہ ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس وقت ایک مؤمن کے دل میں انبیاء کرام، صحابہ کرام یا دیگر اولیاء اللہ کی فہرست سامنے آجائے گی۔ اسی طرح اپنے شیخ کامل متبع قرآن و سنت کا تصور بھی سامنے آئے گا کہ جسکے فیض سے وہ سکون قلب حاصل کرچکا ہے۔ نیز غیر المغضوب علیہم ولاالضالین تلاوت کرتے وقت قاری کا دھیان یہود و نصاریٰ کی طرف منتقل ہوگا۔ ایک بار یا دوبار نہیں بلکہ فرض، واجب، سنت یا نفل ہو۔ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھنا واجب ہے اور فکر نہ کرنا بقول قرآن دلوں پر تالے لگنے کی علامت ہے۔ لہٰذا اس قسم کے غور و فکر اور تصور کو خلاف شرع شرک اور بدعت اور بت پرستی کہنا تصوف سے ہی نہیں بلکہ قرآن و سنت سے جہالت و بے خبری کی علامت ہے۔

سورہ بقرہ کے تیسرے رکوع آیت نمبر 3 میں غور کرنے سے اونٹ، گھوڑے، خچر، گدھے، مچھر، مکھی، مچھلی وغیرہ تک کا تصور لازم ہے۔ خواہ انکا ذکر اظہار قدرت کے طور پر ہو یا انعام الٰہی یا صفات غضب و قہر کی بناء پر ہو، تصور ثابت ہوتا ہے۔ انہی نکات کے مدنظر حضرت مقیم الدین امانی رحمۃ اللہ علیہ اپنے ایک قول میں فرماتے ہیں کہ ترجمہ ’’صرف تصور اور خیال غیر اللہ کا، شرک نہیں تاوقتیکہ آدمی غیر اللہ کو ذات، صفات یا عبادت میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک اعتقاد نہ کرے۔‘‘ یا ایھا الذین اٰمنوا اتقو اللہ وکونوا مع الصٰدقین (سورہ توبہ 119)

ترجمہ: اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور سچے بندوں کے ساتھ رہو۔ اس آیت میں صادقین کے ساتھ رہنے کا حکم ہے اور اس کے لیے کسی مخصوص عرصہ و زمان کا ذکر نہیں، جس سے معلوم ہوا کہ اس سے معیت (ساتھ رہنا) دائمی مراد ہے اور اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کہ جسمانی طور پر آدمی ہر لمحہ کسی کے ساتھ نہیں رہ سکتا۔ اس صورت میں قلبی ربط اور باطنی معیت کے ذریعے ہی صادقین کی صحبت میں رہا جاسکتا ہے۔

حضرت خواجہ عبید اللہ احرار اور محبوب سبحانی سیدنا عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہما نے اس آیہ مبارکہ سے تصور و رابطہ ثابت کیا ہے۔

لَولَا اَنْ تَریٰ رَبِّہٖ (سورہ یوسف)

ترجمہ: اگر حضرت یوسف علیہ السلام اللہ کی برہان کو نہ دیکھتے تو سیدہ زلیخا کی طرف متوجہ ہوتے۔ اس آیہ کریمہ میں وارد لفظ ’’برہان‘‘ کے متعلق مفسرین کی رائے یہ ہے کہ اس سے مراد حضرت یعقوب علیہ السلام ہیں جن کی صورت مبارک حضرت یوسف علیہ السلام کو اس وقت نظر آئی اور آپ سے کلام بھی فرمایا تھا۔ حالانکہ اس وقت باپ بیٹے ایک دوسرے سے بظاہر کوسوں دور تھے لیکن باہمی قلبی رابطہ انتہائی مضبوط و مستحکم تھا۔ بالکل اسی طرح شیخ کامل کا غائبانہ تصور جسے صوفیاء کرام رابطہ کہتے ہیں سالک کی ہدایت و اصلاح کا باعث بنتا ہے۔

حدیث شریف سے رابطہ شیخ کا ثبوت:

حلیۃ الاولیاء میں حضرت عبد اللہ بن مسعود سے یہ الفاظ مروی ہے کہ ترجمہ: خدا کی قسم گویا کہ میں غزوۂ تبوک کے موقع پر رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں۔

صحیح مسلم شریف میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے رسول خدا صلّی اللہ علیہ وسلم کے لیے کانی انظر (گویا کہ میں آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہی ہوں) کے الفاظ مروی ہیں۔ یہی تو تصور ہے کہ بظاہر جو غیر موجود ہو اس کو ذہن و خیال میں موجود تصور کیا جائے۔

اسی طرح ایک دوسری حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاکر عرض کرتے ہیں کہ یا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم میں کیا کروں جب آپکی صحبت سے اٹھ کر جاتا ہوں تو ہر طرف ہر چیز ہر جگہ میں مجھے آپ کا چہرہ نظر آتا ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ گستاخی ہوجائے۔ تو آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے مسکرا کر کہا کہ اے ابوبکر صدیق تمہیں مبارک ہو یہ نعمت لاکھوں میں سے ایک کو ملتی ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلّی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ فرمائیں اگر وہ اللہ کی محبت کے طالب ہیں تو میری پیروی کریں۔

کسی کی پیروی یا اتباع کرنے کے لیے مقتدی کے طور طریقہ کو ذہن میں رکھنا بھی ضروری ہے اس لیے تو رسول خدا صلّی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا صلو کما رئیتمونی اصلی۔ (اسی طرح نماز پڑھو جس طرح مجھے نماز پڑھتے دیکھو) بعینہ اسی کیفیت و صورت کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے صحابہ کرام نے دوران نماز بھی نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی حرکات و سکنات کو زیر تصور لایا ہوگا اور حدیث کی پیروی کرتے ہوئے ضرور بضرور لایا ہوگا۔

حضرت ابوالحسن شاذلی رحمۃ اللہ علیہ کے قابل قدر شاگر حضرت ابوالعباس مرسی علیہ الرحمہ کے تصور رسول صلّی اللہ علیہ وسلم کا یہ عالم تھا کہ ایک مرتبہ فقراء سے فرمایا ’’اگر ایک لمحہ بھی رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم میری آنکھوں سے اوجھل ہوجائیں تو میں اپنے آپ کو مسلمانوں میں شمار نہ کروں۔‘‘

در و دیوار چوں آئینہ شد ازکثرت شوق
ہر کجا می نگرم روئے ترا می بینم

حضرت شاہ ابوسعید دہلوی قدس سرہ رابطہ کے متعلق فرماتے ہیں کہ ’’اور خیالات دور کرنے کے لیے بارگاہ الٰہی میں عاجزی و انکساری کرے اور جس بزرگ سے ذکر کی تلقین حاصل کی ہے دل کے اندر یا دل کے مقابل اسی کی صورت کا تصور و خیال کرنا وساوس اور خیالات کے ختم کرنے میں پورا پورا اثر رکھتا ہے اور اسی تصور صورت شیخ کو ذکر رابطہ کہا جاتا ہے۔‘‘

حضرت خواجہ معصوم علیہ الرحمہ نے فرمایا ’’کہ رابطہ اور فنا فی الشیخ کے بغیر خالی ذکر منزل مقصود تک نہیں پہنچاتا، جبکہ آداب صحبت کی رعایت کے ساتھ خالی رابطہ بھی کافی ہے۔‘‘ وصول الی اللہ کے لیے ریاضات و مجاہدات کثرت نوافل و صوم و صلوٰۃ یا شب بیداری وغیرہ بھی وسائل ہیں مگر ان سب سے زیادہ سہل و آسان و زود اثر طریقہ رابطہ شیخ ہے۔

مکتوبات حضرت خواجہ محمد عثمان دامانی علیہ الرحمہ میں ہے کہ ’’تصور شیخ دوسری چیزوں سے زیادہ وصول الی اللہ میں کار آمد اس لیے ہے کہ مرشد کامل پر بارگاہ الٰہی سے فیض کا پرنالہ جاری رہتا ہے سو اسکے ساتھ رابطہ حاصل ہوتے ہی ضرور مرید بھی اس پرنالے سے فیض یاب ہوگا‘‘ نسبت رابطہ کی قوت اس حد تک غالب آچکی ہے کہ نماز میں اسکو اپنا مسجود دیکھتا اور سمجھتا ہوں بالغرض اگر اسکو ہٹانا چاہوں تو بھی نہیں ہٹتا۔ حصہ ششم مکتوب نمبر 30 میں حضرت امام ربانی مجدد و منور الف ثانی علیہ الرحمہ حضرت خواجہ محمد اشرف اور حضرت حاجی محمد فرکتی رحمۃ اللہ علیہما کے ایک مکتوب کی اس تحریر کے جواب میں فرماتے ہیں کہ اے محبت کے متوالے! طریقت کے طالب اسی دولت کی تمنا کرتے ہیں اور ہزاروں میں سے کسی ایک کو دیتے ہیں۔ ایسی نسبت والا سالک اپنے شیخ سے کامل نسبت رکھنے والا ہوتا ہے۔ ممکن ہے کہ شیخ کامل کی تھوڑی سے صحبت سے اسکے تمام کمالات کو حاصل کرلیتا ہے۔ سالک کو چاہیے کہ شیخ کی صحبت سے دوری کے دوران بھی حصول فیض کے لیے اسکی طرف متوجہ رہے۔ رابطہ و تصور شیخ اس کے لیے اہم اور مجرب ذریعہ اور اس میں کسی قسم کی شرعی قباحت بھی نہیں۔ اسے ناجائز وہی لوگ کہہ سکتے ہیں جنکا اس گلی سے کبھی گذر نہیں ہوا۔

خواجہ خواجگان حضور پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ حاجی نواب شاہ صاحب کے ایک مکتوب کے جواب میں فرماتے ہیں کہ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے لکھا ہے کہ جو شخص غائبانہ چاہے ہزار کوس پر بھی ہو اپنے پیر کا تصور کرکے سامنے (اس تصور کے) با ادب اور کمال نیاز بازانو ہوکر بیٹھے اور فیض کا ان سے انتظار رکھے اور ہر وقت اس طرح کرتا رہے تو فورا تھوڑے عرصہ میں اس شخص کو اتنا ہی فائدہ ہوگا جو شخص کہ پیر کے سامنے رہنے والا ہے اور اس کا فیض اس حاضر رہنے والے سے کم نہ ہوگا بلکہ دن بدن ترقی کرتا جائے گا۔ یہ ایک ایسی نعمت ہے کہ بوالہوس کو نہی دی جاتی بلکہ خاصان کو عطا کی جاتی ہے۔