فہرست الطاہر
شمارہ 52، رمضان المبارک 1429ھ بمطابق ستمبر 2008ع

درس قرآن

ابوالعارف محمد کامل سہارن

اعوذ باﷲ من الشیطان الرجیم

بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ

الْحَمْدُ للّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَo الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِo مَالِکِ یَوْمِ الدِّینِo إِیَّاکَ نَعْبُدُ وإِیَّاکَ نَسْتَعِینُo اہدِنَا الصِّرَاطَ المُستَقِیمَo صِرَاطَ الَّذِینَ أَنعَمتَ عَلَیہِمْ غَیرِ المَغضُوبِ عَلَیہِمْ وَلاَ الضَّالِّینَo

ترجمہ:سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو پالنے والا ہے سارے جہانوں کا۔ جو بڑا مہربان ہے، نہایت رحم والا ہے۔ مالک ہے انصاف کے دن کا۔ تیری ہی ہم عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی ہم مدد چاہتے ہیں۔ دکھلادے ہم کو (دین کا) سیدھا راستہ۔ راستہ ان لوگوں کا جن پر تو نے انعام فرمایا۔ نہ ان لوگوں کا (راستہ) جن پر تیرا غضب ہوا اور نہ ان کا جو گمراہ ہوئے۔

قران مجید کی تلاوت تعوذ سے کیجائے: تعوذ کے معنیٰ ہیں "اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم" پڑھنا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے فاذا قرأۃ القرآن فاستعذ باللہ من الشیطان الرجیم۔ یعنی جب تم قرآن مجید کی تلاوت شروع کرو تو اعوذ باللہ سے اس کی ابتداء کرو۔

تعوذ کے فائدے: اعوذ باللہ پڑھنے کے بے شمار فائدے ہیں ان میں سے چند ایک یہ ہیں۔

فائدہ 1۔ جب بندہ اعوذ باللہ پڑھتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آجاتا ہے۔

فائدہ 2۔ اعوذ باللہ پڑھنے والا بندہ شیطان کی شرارتوں سے محفوظ ہوجاتا ہے۔

فائدہ 3۔ اعوذ باللہ پڑھ کر تلاوت قرآن مجید کرنیوالے بندے کو یکسوئی حاصل ہوتی ہے، جس سے تلاوت قرآن مجید میں سرور و سکون اور راحت قلب حاصل ہوتی ہے۔

مسئلہ: تلاوت قرآن مجیدکی ابتداء میں اعوذ باللہ پڑھنا سنت ہے، تلاوت قرآن مجید کے علاوہ کسی اور کام کے شروع میں اعوذ باللہ پڑھنا ضروری نہیں اسی پر امت کا اجماع ہے۔ (عالمگیری)

ہرکام کو سبحان اللہ سے شروع کرنے کا حکم ہے: جاہلیت کے زمانہ میں لوگ اپنے کاموں کو بتوں کے نام سے شروع کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلی وحی میں ہی حکم فرما دیا "اقرأ باسم ربک" یعنی اپنے رب کا نام لے کر پڑھئے۔ حضرت علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ تمام آسمانی کتابیں بسم اللہ سے شروع کی گئی ہیں۔ لیکن "بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ" کی موجودہ صورت امت مسلمہ کا خاصہ ہے ورنہ پہلی امتیں اسے "باسمک اللہم" کی شکل میں لکھتے اور پڑھتے تھے۔ (روح المعانی)

فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا "گھر کا دروازہ کھولو تو بسم اللہ پڑھو، چراغ (بلب، لائٹ) بجھاؤ تو بسم اللہ پڑھو، برتن ڈھکو تو بسم اللہ پڑھو، کھانا کھاؤ تو بسم اللہ پڑھو، پانی پیو تو بسم اللہ پڑھو، سواری پر سوار ہونے لگو تو بسم اللہ پڑھو، سواری سے اترو تو بسم اللہ پڑھو۔ (قرطبی) الغرض ہر کام کرتے وقت پڑھو بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ۔

بسم اللہ پڑھنے کے فائدے: بسم اللہ پڑھنے کے فائدے تو بے حد و حساب ہیں لیکن ان میں سے چند ایک یہ ہیں۔

فائدہ 1۔ بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ سورۃ النمل کا جز ہے اس لیے بسم اللہ پڑھنے سے تلاوت قرآن مجید کا ثواب حاصل ہوتا ہے۔

فائدہ 2۔ بسم اللہ میں اللہ تعالیٰ کے تین نام ہیں۔ (ا) اللہ، اسم ذات۔ (ب) الرحمٰن، صفت خاص۔ (ت) الرحیم، صفت عام ذکر ہوئے ہیں۔ لہٰذا جو شخص بسم اللہ پڑھتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے تین ناموں کا ذکر کررہا ہوتا ہے اور یوں اس بندے کو ذکر ثواب ملتا رہتا ہے۔

فائدہ 3۔ بسم اللہ پڑھنے والا اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دریا میں غوطہ زن ہوتا ہے اور اس بندے کو رحمت الٰہی اپنے گھیرے میں لے لیتی ہے۔

مسئلہ: سورۃ برأت (توبہ) کے علاوہ ہر سورۃ کے شروع میں بسم اللہ پڑھنا سنت ہے لیکن اگر تلاوت ہی سورۃ برأت سے شروع کی جائے تو بسم اللہ کے ساتھ ابتدا کی جائے اس پر امت کا اجماع ہے۔

سورۂ فاتحہ کے نام: سورۂ فاتحہ کے بہت سے نام ہیں، ان میں سے چند ایک یہ ہیں۔

1؂ سورۃ الشفاء، اس سورۃ میں ہر بیماری کی شفاء موجود ہے۔ (دارمی)

2؂ فاتحۃ الکتاب، قرآن مجید کتاب کی افتتاح اسی سورۃ مبارکہ سے ہے۔(مفسرین)

3؂ سورۃ الحمد، عوام میں یہ نام زیادہ مشہور ہے اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ کا حمد (تعریف) ہے اس لیے اس سورۃ کو سورۂ الحمد کہا جاتا ہے۔

4؂ سورۃ الدعآء، اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ سے صراط مستقیم پر ثابت قدم رہنے اور اللہ تعالیٰ کے انعام یافتہ بندوں راستہ پر چلنے، مغضوب علیہم (جن پر خدا کا عضب ہوا) اور گمراہوں کے راستہ سے بچنے کی دعا کی گئی ہے۔

5؂ السبع المثانی: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے "ولقد اٰتینٰک سبعا من المثانی" یعنی ہم نے آپ کو سبع (سات آیتیں) دیں جو مثانی (دہرائی جاتی ) ہیں۔ (سورۃالحجر 87)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "الحمدللہ رب العٰلمین" السبع مثانی ہے اور وہ قرآن عظیم ہے جو مجھے عطا کیا گیا ہے۔ (صحیح بخاری)

احادیث مبارکہ میں اس سورۃ کو عظیم کہا گیا ہے اور یہ کہ اس کی مثل تورات میں نازل ہوئی نہ انجیل میں اور نہ زبور میں (اس کی مثل کوئی اور سورت) قرآن مجید میں۔ (ترمذی)

سورۃ فاتحہ کے مضامین: سورۃ فاتحہ پانچ مضامین پر مشتمل ہے۔

1؂ حمد باری تعالیٰ: اللہ تعالیٰ نے فرمایا "الحمد للہ" سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ۔کیوں؟ خود ہی ارشاد فرمایا اس لیے کہ وہ ’’رب العالمین‘‘ ہے یعنی تمام جہانوں کو مرتبۂ کمال تک پہنچانے والا ہے۔ واضح ہوا کہ کائنات میں جس کسی کی تعریف کی جائے وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی تعریف ہے کہ اسی نے اس چیز میں وہ باکمال خوبی پیدا فرمائی، جس کی بناء پر اس چیز کی تعریف کی گئی، اور سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے کیوں نہ ہوں، کہ اللہ تعالیٰ ’’الرحمٰن الرحیم‘‘ یعنی بڑا ہی مہربان اور نہایت رحم فرمانے والا ہے۔ تو جو سب سے بڑا مہربان ہو اور سب سے زیادہ رحم فرمانے والا ہو سزاوار تعریف بھی وہی ہے۔

2؂ روز جزاء: دنیا میں ملکیت پر مختلف مالکوں کے نام ہیں۔کہا جاتا ہے یہ زمین زید کی ہے، یہ دکان خالد کی، یہ ریاست منظور کی ہے اور یہ گاڑی حکیم کی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ مگر ایک ایسا دن آئے گا کہ ہر چیز پر صرف اللہ تعالیٰ کی ملوکیت کا نام لیا جارہا ہوگا۔ کوئی بھی تو ایسا نہ ہوگا جو یہ کہتا ہوا سنا جائے کہ فلاں چیز تو میری ہے ۔ خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’اس دن سوال کیا جائے لِمَن المُلک الیوم‘‘ آج کس کی بادشاہی ہے؟ تو ہر طرف سے ایک ہی جواب آئے گا ’’للہ الواحد القہار‘‘ اللہ تعالیٰ کی بادشاہی ہے جو اکیلا ہے اور سب پر غالب ہے۔

3؂ عبادت: عبادت کے معنیٰ ہیں کسی ذات کی انتہائی عزت و عظمت اور محبت کی بناء پر اس کے سامنے انتہائی عاجزی و تذلل کا اظہار کرنا۔ اور عبادت کا یہ مفہوم کماحقہ سجدہ میں ہی پایا جاتا ہے اور سجدہ بغیر ارادت و نیت کے متصور نہیں ہوتا۔ اگر کسی نے توبہ کرنے کی غرض سے اپنی ناک زمین پر رگڑی تو اس کو سجدہ نہیں کہا جائے گا۔ عبادت خالص خدا کی ہوتی ہے کسی اور کی نہیں، تبھی تو مسلمان کہتا ہے ’’ایاک نعبد‘‘ یا اللہ ہم تیری ہی بندگی کرتے ہیں یہاں پر آکر بندہ اپنے آپ کو بارگاہ ایزدی میں حاضر کردیتا ہے تو نہایت عجز و انکساری کے جذبات سے بھرے الفاظ میں اپنے رب کریم کو ملتجی ہوتا ہے کہ اے تمام جہانوں کے پروردگار ہم تیری ہی بندگی کرتے ہیں۔

4؂ استعانت: استعانت کے معنی ہیں مدد طلب کرنا۔ مادی اسباب اور غیر مادی اسباب میں ایک انسان دوسرے انسان کا محتاج ہے۔ چنانچہ صنعت کار اپنی صنعت سے، فنکار اپنے فن سے، معلم اپنے علم سے اور مزدور اپنی جسمانی محنت سے دوسروں کی امداد و معاونت کرتے ہیں اور مرید اپنے مرشد سے، شاگرد اپنے استاد سے اور بچہ اپنے بڑوں سے اکتساب علم، فیض روحانی اور تربیت پانے میں مدد حاصل کرتا ہے۔ یا کوئی شخص نبی یا ولی سے دعا کراتا ہے، یا اللہ تعالیٰ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ولیوں کے وسیلہ و تصدق کے ذریعہ سے دعا مانگتا ہے۔ تو یہ سب روایات و احادیث اور آیات کی رو سے جائز اور درست ہے ۔ لیکن کسی نبی، ولی یا فرشتے وغیرہ کو ذاتی طور پر قادر مطلق یا مالک و مختار سمجھ کر یا کفار ومشرکین کی طرح اﷲ تعالیٰ کے کاموں میںکسی کو برابر کا شریک سمجھ کر غیر اللہ سے مدد طلب کرنا قطعی کفر و شرک ہے۔ اور ماشاء اللہ تعالیٰ یہ عقیدہ کسی ایک مسلمان کا بھی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی ذاتی طور پر کچھ کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ ہر مسلمان کا عقیدہ ہے کہ ہر طاقت و قوت کا مرکز اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اس نے جس کو جتنا چاہا دیا اور ہمارے پیارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ سب کچھ عطا فرمادیا جو ہم لے سکتے ہیں یا تصور کرسکتے ہیں بلکہ ہمارے لینے اور تصور سے بھی بہت ہی بالا عطا فرمایا ہے۔ تب ہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’واللہ معطی وانا قاسم‘‘ یعنی ’’دینے والا خدا ہے اور تقسیم کرنے والا میں ہوں‘‘ فرمایا ہے۔

5؂ دعا: سورۃ الفاتحہ کا اہم مضمون دعا ہے جو آخری تین آیات میں بیان کیا گیا ہے۔ بندہ رب کریم کے حضور میں حاضر ہوکر دست دعا دراز کرتا ہے تو عرض کرتا ہے ’’اھدنا الصراط المستقیم‘‘ اے باری تعالیٰ ہمیں سیدھا راستہ دکھا، سیدھا راستہ ہی اہم اور مقصود اعظم ہے جو مطلوب و محبوب حقیقی کے قرب تک پہنچاتا ہے۔ ہدایت کے معنی ہیں لطف و کرم اور مہربانی کے ساتھ رہنمائی کرنا اور راستہ بتانا۔ صراط الذین انعمت علیھم۔ ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا۔ یعنی اے مالک و مختار ہمیں ان خوش نصیب بندوں کے راستہ پر چلنے کی رہنمائی فرما جن پر تونے انعامات و احسانات فرمائے۔ قرآن مجید میں ان بندوں کا ذکر موجود ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’ومن یطع اللہ والرسول فاولٰٓئک مع الذین انعم اللہ علیہم من النبیٖن والصدیقین والشہدآء والصالحین وحسن اولٰٓئک رفیقا۔ (النساء 69) جو کوئی اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرے گا تو وہ ان کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا وہ (انعام پانے والے) نبی، صدیق، شہید اور نیکو کار لوگ ہیں اور یہ اچھے دوست ہیں۔

غیر المغضوب علیھم ولا الضآلین۔ یعنی نہ ان کا راستہ جن پر خدا کا غضب نازل ہوا اور نہ ہی گمراہوں کا راستہ۔ یہاں پر غضب سے مراد اللہ تعالیٰ کا عتاب ہے۔ حدیث شریف میں ہے جن پر خدا کا عذاب نازل ہوا وہ یہودی ہیں اور گمراہوں سے مراد نصاریٰ ہیں ۔(مظہری)

مسئلہ: سورۃ فاتحہ کی تلاوت ختم کرنے پر قدرے توقف سے اٰمین کہنا سنت ہے۔ نماز میں سورۃ فاتحہ کی تلاوت ختم ہونے پر علماء احناف کے نزدیک اٰمین آہستہ سے کہنا چاہیے۔

مسلمانو ہوش کے ناخن لو: دنیا میں سب سے زیادہ تلاوت کی جانے والی کتاب قرآن مجید ہے۔ اس کی حفاظت کا ذمہ خود مالک کلام نے لے لیا ہے۔ غیر مسلم اقوام کی لاکھوں بار تحریف کی کوششوں کے باوجود قرآن مجید میں کہیں بھی زیر و زبر تک کا فرق نہ آسکا۔ یہ اس عظیم ذمہ داری کا واضح ثبوت ہے۔ سورہ فاتحہ قرآن مجید کی تمام سورتوں اور آیات سے زیادہ پڑھی جانے والی سورۃ ہے۔ اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جو دعا مانگنے کا طریقہ سکھایا ہے اس میں ایک طرف جمع کے صیغوں کو استعمال کرکے مسلمانوں کو اجتماعیت اور ملی وحدت کا درس دیا گیا ہے تو دوسری جانب یہود اور نصاریٰ کے طریقوں سے بچنے کی مناجات بھی موجود ہے، جسے مسلمان سب سے زیادہ تلاوت کرتا ہے، مگر آج کا مسلمان اتنا زیادہ روشن خیال بن گیا ہے کہ تمام تر معاملات (کلام، قیام، طعام اور لباس وخیال وغیرہ) میں یہود ونصاریٰ کا مقلد بنا ہوا ہے اور اس تقلید پر فخرمحسوس کررہا ہے۔ مسلمانو ذرا ہوش کے ناخن لو، خدا سے دعا کیا مانگتے ہو اور عمل کیا کرتے ہو۔۔؟