فہرست الطاہر
شمارہ 52، رمضان المبارک 1429ھ بمطابق ستمبر 2008ع

اداریہ

ایڈیٹر کے قلم سے

اس دنیا میں سلیم الطبع اور نیک صفت آدمی خدائے عزوجل کے قرب حاصل کرنے کا خواہش مند ہوتا ہے۔ چونکہ اس کے اندر ملکوتی صفات زیادہ قوت والی ہوتی ہیں اس لیے وہ جانے یا انجانے میں ہمیشہ اسی کاوش میں لگا رہتا ہے کہ خدائے لم یزل کی بارگاہ تک اس کی جلد پہنچ ہوجائے اور پھر یہ رابطہ مضبوط اور قوی تر ہوتا رہے تاکہ وہ اپنے عبدیت کے مقصد کو پانے میں سرخرو ہوجائے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے وہ آدمی ہر وہ راستہ استعمال کرتا ہے جو اس کے رائے میں خدا تک پہنچنے کا مضبوط ذریعہ ہوتا ہے۔ پھر کبھی وہ خاندان ، اولاد ، کاروبار چھوڑ چھاڑ کر ویرانوں کی طرف نکل جاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خدا تک رسائی کا یہی ذریعہ ہے، تو کوئی محنت مجاہدہ و چلہ کشی کو اپنا شعار بناکر یہ تصور کرتا ہے کہ خدا اس طرح مل جائے گا اور کوئی خدا تعالیٰ کی بنائی ہوئی نعمتوں کو ترک کرلیتا ہے اور سوچتا ہے کہ اپنے آپ کو تکلیف دے کر ہی خدا تعالیٰ تک پہنچا جاسکتا ہے۔ اب ہم کونسے راستے کو درست سمجھیں اور کونسا طریقہ اختیار کریں۔ اس جواب کو جاننے کے لیے ہمیں سیرت صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے رہنمائی حاصل کرنا ہوگی کہ انہوں نے کس طرح اللہ عزوجل کا قرب و رضامندی حاصل کی اور انہوں نے کیا طریقہ اختیار کیا۔ جب ہم سیرت صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مطالعہ کرتے ہیں اور ان کے قرب خداوندی حاصل کرنے کے طریقہ کار کو ڈھونڈتے ہیں تو ہم پر عیاں ہوجاتا ہے کہ انہیں جو قرب خداوندی حاصل ہوا اس کی وجہ صحبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورمحبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ یہ صحبت و محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اتنا مضبوط اور قوی ذریعہ تھی کہ صحابہ کرام نے بغیر کسی دشواری کے قرب خداوندی کو حاصل کیا اور نہ صرف حاصل کیا بلکہ خدائے عزوجل نے خود اعلان فرمایا "رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ" کہ میں ان سے راضی ہوں اور وہ مجھ سے راضی ہیں۔تو اب یہ واضح ہوگیا صحبت رسول اور محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی خدا تک رسائی کا صحیح ذریعہ ہے۔ اور فی الوقت زمانہ میں صحبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فیض نائبین رسول صلی اللہ علیہ وسلم یعنی اولیاء کاملین سے آسانی سے حاصل ہوسکتا ہے۔کیونکہ اولیاء اللہ نائب رسول ہوتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فیض محمدی اولیاء اللہ کے سینوں سے ہوتا ہوا امت تک پہنچتا ہے۔ تو ان نائبین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کے فائدے سے قطعی انکار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ فیض محمدی علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی قرب خداوندی تک پہنچا سکتا ہے اور فیض محمدی ان اولیاء اللہ کے سینوں سے ہی منتقل ہوتا ہے ۔ ظاہر ہے یہ چیز صحبت سے ہی ممکن ہے اس لیے صوفیاء کرام فرماتے ہیں کہ سالک کے لیے صحبت و محبت پیر ہی وہ سہل آسان اور آزمودہ طریقہ کار ہے جو سالک کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے توسط سے بہت جلد اللہ کا قرب عطا فرمادیتا ہے اور مرشد کامل کی صحبت و محبت درحقیقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت و محبت ہوتی ہے اور اس کے بغیر مطلوبہ فائدے کا حصول مشکل اور دشوار ہوجاتا ہے۔ تو اگر ہم بھی اصلاح نفس اور قرب خداوندی کے متلاشی ہیں تو ہمیں سب سے پہلے صحبت پیر اور محبت کے فوائد سے مکمل طور پر مطلع ہونا ہوگا تاکہ ہم صحیح طور پر صحبت کے فوائد حاصل کریں اور پھر مرشد مربی حضور قبلہ عالم محبوب سجن سائیں جیسے ولی کامل سے وابستہ ہوکر فیض محمدی علیہ الصلوٰۃ والسلام حاصل کرنا ہوگا تاکہ ہم اپنی زندگی کے اصل مقصد یعنی عبدیت کے مقام کے حصول میں کامیاب ہوسکیں۔