فہرست الطاہر
شمارہ 53، ذوالقعدہ 1429ھ بمطابق نومبر 2008ع

 

فضائل حضرت ابوبکر صدیق

رضی اللہ عنہ
زاہد علی لغاری طاہری۔ ایم۔ اے۔ ایل۔ ایل۔ بی

آپ کا نام ونسب مبارک: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا نام عبد اللہ جبکہ کنیت ابوبکر تھی۔ آپ کے والد کا نام عثمان بن عامر اور کنیت ابوقحافہ تھی اور والدہ ماجدہ کا نام سلمیٰ اور کنیت ام الخیر تھی۔ قبول اسلام سے قبل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا نام والدین نے عبدالکعبہ رکھا تھا۔ جب آپ مشرف بہ اسلام ہوئے تو سرور کائنات صلّی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کا نام تبدیل کرکے عبداللہ رکھا۔ آپ کا سلسلہ نسب بنوتمیم سے تھا۔ یہ ساتویں پشت میں مرہ بن کعب پر حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کے شجرہ نسب سے مل جاتا ہے۔ آپ واقعہ فیل کے تقریباً ڈھائی برس بعد مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ شروع سے قلب سلیم، حلیم، ذہن رسا اور توحید پرست کی فطرت پر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پیدا ہوئے تھے بلکہ پیدائشی مسلمان تھے۔ کیوں کہ وہ اس دور کے گمراہ کن اعتقادات، جاہلانہ رسم و رواج اور قول و فعل کے تضادات سے نفرت کیا کرتے تھے۔ بلکہ کبھی بھی یعنی بچپن سے لے کر مسلمان ہونے تک بتوں اور غیر ضروری رسموں رواجوں کے آگے کبھی بھی مائل نہ ہوئے۔ جب آپ رضی اللہ عنہ کے والد آپ کو بچپن میں بت خانے میں لے گئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے بت سے کہا کہ ”میں بھوکا ہوں، مجھے کھانا دیں“ اس نے کچھ نہ بولا۔ فرمایا ”میں ننگا ہوں، مجھے کپڑے پہنا دیں“ وہ کچھ نہ بولا۔ پھر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ایک پتھر ہاتھ میں لے کر فرمایا ”میں تجھ پر پتھر مارتا ہوں اگر تم خدا ہو تو اپنے آپ کو بچانا“ آخر آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو پتھر مارا تو وہ (بت) منہ کے بل گر پڑا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے والد نے یہ ماجرا دیکھ کر کہا ”اے میرے بچے! تم نے یہ کیا کیا؟“ فرمایا ”وہی کیا جو آپ دیکھ رہے ہیں۔“

(بحوالہ اعلیٰ حضرت امام اہل سنت احمد رضا بریلوی رحمۃ اللہ علیہ۔ تنزیہ المکنۃ الحیدریہ۔ صفحہ 13)

قبول اسلام: جب حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم نے رب کائنات کے حکم سے اعلان نبوت فرمایا تو سب سے پہلے مردوں میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت اور توحید باری تعالیٰ دین اسلام کو قبول کیا۔ تو رب کائنات نے یہ آیات کریمہ نازل فرمائی۔ ”اور وہ جو یہ سچ لے کر تشریف لائے اور جنہوں نے ان کی تصدیق کی، یہی ڈرنے والے (متقی) ہیں۔“ (الزمر۔ آیت 33۔ پارہ 24)

اس آیت کریمہ کی تفسیر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے یعنی الذی جآء بالصدق سے مراد جو صدق لے کر آیا وہ حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کی ذات انور ہے اور جس نے اس صدق کی تصدیق کی وہ ابوبکر صدیق کی ذات بابرکت ہے۔ (بحوالہ صواعق، بروایت ابن عساکر، ایسا ہی تفسیر مدارک، تفسیر نور العرفان، کنز الایمان، تفسیر روح البیان)

بہت سے صحابہ کرام و تابعین عظام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے حضرت ابوبکر صدیق ہیں۔ امام شعبی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ سب سے پہلے اسلام لانے والا کون ہے؟ انہوں نے فرمایا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ۔

حضرت میمون بن مہران رضی اللہ عنہ سے جب دریافت کیا کہ حضرت ابوبکر صدیق پہلے مسلمان ہوئے یا حضرت علی رضی اللہ عنہ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ قسم ہے خدائے عزوجل کی کہ حضرت ابوبکر صدیق بحیری راہب ہی کے زمانے میں نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاچکے تھے جب کہ حضرت علی پیدا ہی نہیں ہوئے تھے۔ (تاریخ الخلفاء۔ صفحہ 23)
اسی طرح رحمت للعالمین صلّی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق کا سب سے پہلے مردوں میں ایمان لانے کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا بیشک جب اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہاری طرف مبعوث فرمایا تو تم سب لوگوں نے کہا کہ یہ جھوٹ بولتا ہے لیکن اکیلے ابوبکر نے کہا کہ یہ سچ فرماتے ہیں اور پھر اپنی جان اور اپنے مال سے میری خدمت میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا۔ (حدیث 861 صحیح بخاری۔ جلد 2)

ان تمام شواہد سے معلوم ہوا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے تمام صحابہ میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔

آپ رضی اللہ عنہ کی تبلیغ اسلام: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے صحابہ میں سے پہلے اسلام کی تبلیغ کی، جس سے ان کے دوست اور ملنے جلنے والوں میں سے جو مشرف بہ اسلام ہوئے ان میں حضرت عثمان غنی بن عفان، حضرت عبدالرحمٰن بن عوف، حضرت طلحہ بن عبید اللہ، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت زبیر بن العوام اور حضرت عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہم خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

آپ رضی اللہ عنہ کی سخاوت: حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسلام کی تبلیغ کے ساتھ ساتھ خدا کی رضا میں اپنا مال و متاع بھی قربان کرنے میں کوئی بھی کوتاہی نہیں کی بلکہ جو مال و متاع اللہ کی راہ میں قربان کیا اس کی گواہی رب العالمین اور رحمت اللعالمین صلّی اللہ علیہ وسلم نے یوں بیان کی ہے۔ ارشاد ربانی ہے کہ تو وہ جس نے دیا (اللہ کی راہ میں اپنا مال) اور پرہیز گاری کی اور سب سے اچھے (مذہب اسلام) کو سچ مانا تو بہت جلد ہم اسے آسانی مہیا کردیں گے اور جس نے بخل کیا اور بے پرواہ بنا، سب سے اچھے (مذہب اسلام) کو جھٹلایا تو بہت جلد ہم اسے دشواری مہیا کریں گے اور اس کا مال اسے کام نہ آئے گا جب وہ ہلاکت میں پڑے گا۔ بیشک ہدایت فرمانا ہمارے ذمہ ہے اور بیشک آخرت اور دنیا دونوں کے ہم مالک ہیں۔ تو میں تمہیں ڈراتا ہوں اس آگ سے جو بھڑک رہی ہے۔ نہ جائے گا اس میں مگر بڑا بد بخت جس نے جھٹلایا اور منہ پھیرا۔ اور اس سے بہت دور رکھا جائے گا جو سب سے بڑا پرہیزگار ہے۔ جو اپنا مال (اللہ کی راہ میں) دیتا ہے کہ وہ پاک ہو اور کسی کا اس پر کچھ احسان نہیں جس کا بدلہ دیا جائے۔ صرف اپنے رب کی رضا چاہتا ہے جو سب سے بلند ہے اور بیشک قریب ہے کہ وہ راضی ہوگا۔ (سورۃ اللیل۔ پارہ 30)

تفسیر نور العرفان و تفسیر کنز الایمان میں درج ہے کہ یہ آیات کریمہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر رحمت اور امیہ بن خلف پر عتاب کے لیے اتریں۔ ان آیات کریمہ سے چند مسئلے معلوم ہوئے۔ ایک یہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مومن برحق اور بڑے متقی پرہیزگار ہیں۔ رب کائنات نے ان کی تعریف فرماتے ہوئے کہا کہ وہ (ابوبکر صدیق) جنہوں نے اپنا بہترین مال، غلام اور دولت اللہ کی راہ میں دی اور روز ازل سے متقی ہوئے۔ اور انہوں نے ہر اچھی بات یعنی حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کے ہر قول و فعل کو قولاً، عملاً اور اعتقادًا سچ جانا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے لیے دنیا، نزع، قبر، حشر میں ہر طرح کی آسانی مہیا کی جائے گی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو دوزخ سے بہت دور کھا جائے گا۔ دوسرا یہ کہ ساری امت محمدیہ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بڑے متقی، پرہیزگار ہیں کیونکہ اتقیٰ لفظ مطلق ارشاد ہوا ہے۔ قرآن مجید کی نص سے ثابت ہے کہ تمام صحابہ میں بڑا پرہیزگار حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ذات بابرکت ہیں۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو امیہ بن خلف سے بہت زیادہ قیمت دے کر خریدا اور آزاد کیا تو بعض کفار مکہ نے کہا کہ شاید حضرت بلال یا امیہ بن خلف کا ابوبکر پر احسان ہوگا۔ جس کے بدلے میں انہوں نے اتنی گراں قیمت حضرت بلال کو خریدنے میں خرچ کی ہے اور اس کو آزاد کیا ہے۔ کفار کی تردید میں یہ آیات کریمہ نازل ہوئیں کہ حضرت ابوبکر صدیق نے حضرت بلال کو صرف رضائے الٰہی کے لیے آزاد کیا۔ اس سے یہ مسئلے معلوم ہوئے ایک یہ کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رب کو راضی کرنے کی نیت سے مال خرچ کیا۔ جب وہ راضی ہوگیا تو سب کچھ ہوگیا۔ یعنی عنقریب رب کائنات ابوبکر صدیق سے راضی ہوجائے گا۔ انہیں اتنا دے گا کہ وہ خوش ہوجائیں گے۔ سبحان اللہ اپنے حبیب کے لیے فرمایا ولسوف یعطیک ربک فترضیٰ اور ابوبکر صدیق فرمایا ولسوف یرضیٰ۔ قارئین کرام خود اندازہ کریں کہ طرز کلام میں کتنی یکسانیت ہے۔

ترمذی شریف میں روایت ہے رسول کریم صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کسی نے بھی میرے ساتھ احسان کیا میں نے ہر ایک کا احسان اتار دیا علاوہ ابوبکر کے احسان کے۔ انہوں نے میرے ساتھ ایسا احسان کیا ہے جس کا بدلہ قیامت کے دن ان کو خدا تعالیٰ ہی عطا فرمائے گا۔ (یعنی اور کسی کے مال نے مجھے اتنا فائدہ نہیں پہنچایا ہے جتنا فائدہ ابوبکر کے مال نے پہنچایا ہے) مشکوٰۃ شریف۔ صفحہ 555

صحیح بخاری اور مسلم میں حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور سرکار مدینہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ پر جس شخص نے اپنی دوستی اور مال سے سب سے زیادہ احسان کیے ہیں وہ ابوبکر ہیں۔ اگر میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا۔ مگر اخوت اسلام اب موجود ہے۔ حضرت رسول اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم تمام صحابہ میں سے سب سے زیادہ محبوب حضرت ابوبکر رضی اللہ کو رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اپنی زندگی میں ہر وقت اپنے ساتھ رکھا تھا۔ (بخاری و مسلم)

ترمذی میں ہے کہ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوبکر غار ثور میں تم میرے ساتھ رہے اور حوض کوثر پر بھی تم میرے ساتھ رہو گے اور حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں اور اپنی موجودگی میں اپنے مصلے یعنی جاء نماز پر حضرت ابوبکر صدیق کو امام بنایا اور اپنی زندگی میں ہی حضرت ابوبکر صدیق کو اپنی جگہ پر امیر حج بنایا۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوبکر سے محبت کرنا اور ان کا شکر ادا کرنا میری پوری امت پر واجب ہے۔ (تاریخ خلفاء)

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا وصا : حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا وصال مبارک بروز منگل کی صبح 22 جمادی الثانی سنہ 13 ہجری بعمر 63 سال میں ہوا۔ حضرت ابوبکر صدیق کو روضہ رسول کریم صلّی اللہ علیہ وسلم میں مدفون کیا گیا۔ یعنی قیامت تک یار غار کو رسول کریم نے اپنے ساتھ سایہ رحمت میں سلایا۔