فہرست الطاہر
شمارہ 53، ذوالقعدہ 1429ھ بمطابق نومبر 2008ع

قطب الارشاد حضور سوہنا سائیں

مختار احمد کھوکھر

باشرع، باکردار و باکمال انتہائی سخی، ملنسار، زندہ دل ولی بزرگ صفت جنہیں لوگ مٹھل رحمۃ اللہ علیہ کے پیارے نام نامی اسم گرامی سے جانتے تھے۔ تحصیل کنڈیارو قصبہ خانواہن کے قریشی عباسی خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ آپ پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک اور مالی مدد کے حوالہ سے علاقہ بھر میں مشہور تھے۔ ان کے آنگن میں مؤرخہ 10 مارچ 1910ء کو بہار آئی یعنی دو جڑواں بچوں نے جنم لیا، جن میں سے ایک کا نام مبارک (دادا کے نام پر) اللہ ابھایو رکھا گیا جو کہ کم عمری ہی میں داغ مفارقت دے گئے۔ دوسرے بچے کا نام اللہ بخش رکھا گیا۔ وہ اسم بامسمی ثابت ہوئے کہ جن کی پیشانی کی چمک نور ولایت کی عکاسی کررہی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں وہ علوم و معارف عطا فرمائے جن کی نظیر ملنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ لوگ آپ کے اعلیٰ کردار و اخلاق کی بناء پر آپ کو سوہنا سائیں کے حَسِین لقب سے یاد کرتے ہیں۔ آپ نے آگے چل کر دین متین کی خدمت اور عشق مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وسلم میں وہ مقام حاصل کیا کہ ماسلف بزرگ جس پر فخر کریں اور آنے والے اسے مشعل راہ بنائیں۔

نسبی لحاظ سے آپ اس خاندان کے روشن چراغ ہیں جس کے جد اعلیٰ حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں جو منبع رشد و ہدایت ہیں۔ مسلکاً آپ امام اعظم حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی مناسبت سے حنفی ہیں تو مشرباً اس خاندان سے ہیں کہ جس کی نسبت سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ہے یعنی خاندان نقشبند سے کہ جن کی نسبت بے مثل ہے۔

حضرت علامہ جامی رحمۃ اللہ علیہ نے کیا خوب فرمایا ہے

نقشبندیہ عجب قافلہ سالار انند
کہ برند از رہ پنہاں بحرم قافلہ را

از دل سالک رہ جاذبہ صحبت شان
برو وسوسہ خلوت و فکر چلہ را

ہمہ شیران جہاں بستۂ ایں سلسہ اند
روبہ از حیلہ چساں بگسار ایں سلسلہ را

الغرض نسباً و مشرباً ہر لحاظ سے بلند پایہ خاندانی نسبت رکھتے تھے۔ آپ کے والد ماجد کی تمنا تھی کہ میرے یہ فرزند عالم و عارف باللہ بنیں۔ اسی لیے اکثر آپ کی والدہ ماجدہ رحمۃ اللہ علیہا سے فرماتے کہ ”مال کی فراوانی کی دعا نہ کرنا بلکہ یہ دعا مانگو کہ اللہ تعالیٰ ان کو عالم و فاضل اور واصل باللہ بنائے تاکہ دینی امور میں لوگ ان کی طرف رجوع کریں۔“ ابھی آپ کا عہد طفولیت ہی تھا کہ شفقت پدری کا سایہ آپ کے سر سے اٹھ گیا اور تعلیم و تربیت کی اہم ذمہ داری والدہ ماجدہ کے کاندھوں پر آپڑی۔ اس عظیم خاتون نے بھی اس ذمہ داری کو بحسن و خوبی ادا کیا۔

اگرچہ بچپن سب بچوں کا ایک جیسا ہوتا ہے مگر آپ کا بچپن سب سے مختلف نظر آتا ہے۔ نہ فضول باتوں کی طرف توجہ ہے نہ لغو امور میں انہماک، نہ بے فائدہ کاموں کی طرف رغبت ہے نہ ہی ایذا رسانی و تکلیف دہی کی عادت ہے۔ غرضیکہ نیک صالح، محنتی، متوجہ الی اللہ، صوم و صلوٰۃ کے پابند، ایک معصوم بچے کی صورت میں آپ کا بچپن ہماری نظروں کے سامنے آجاتا ہے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ کھیل کود کے دوران عموماً زیادتی ہوجاتی ہے۔ بعض اوقات بچے کسی ساتھی کو بے جا تنگ کرتے ہیں۔ لڑائی جھگڑے تک نوبت آجاتی ہے، تو مجھے ان تمام امور سے سخت تکلیف ہوتی تھی۔ کسی کے ساتھ ظلم و زیادتی دیکھی نہیں جاتی تھی۔ اس لیے ان چیزوں سے دور ہی رہے۔

ابتدائی قرآنی، دینی اور زراعت میں فائنل تک کی تعلیم آپ نے اپنے قصبہ خانواہن میں ہی حاصل کی۔ صغر سنی سے ہی اسکول میں تمام اساتذہ و ہم سبق آپ کے ادب و اخلاق سے انتہائی متاثر تھے۔

ابتدائی تعلیم کے بعد آپ کی خواہش تھی مزید علم دین درس نظامی حاصل کریں، لیکن معاشی و مالی مشکلات کی وجہ سے آپ رحمۃ اللہ علیہ نے گھریلو ذمہ داریاں سنبھال لیں اور آپ فارغ وقت میں شوق مطالعہ پورا کرتے رہے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کی صاحب بصیرت والدہ نے آپ کے ذوق و شوق کو دیکھ کر آپ کو بخوشی اجازت عطا فرمائی کہ آپ مزید تعلیم حاصل کریں اور گھر کی فکر نہ کریں۔ چنانچہ قریبی علاقہ میں کوئی معقول مدرسہ نہ ہونے کی وجہ سے آپ نے گیریلو ضلع لاڑکانہ کے مدرسہ میں داخلہ لے لیا جو کہ تعلیمی لحاظ سے اچھی شہرت رکھتا تھا۔ مدرسے کے مدرس اعلیٰ حضرت الحاج مولانا رضا محمد صاحب تھے جو کہ علم، تقویٰ و بزرگی کے لحاظ سے وقت کے جنید و غزالی تھے۔

چند ہی روز میں نووارد، خاموش طبع، سنجیدہ مزاج، سادگی پسند، انتہائی مؤدب شاگرد سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے اساتذہ کے دل میں گھر کرلیا، مدرسہ کے تمام منتظمین، اساتذہ اور طلباء سبھی آپ کے اخلاق کریمانہ سے بہت متاثر ہوئے۔ بالخصوص حضرت علامہ مولانا رضا محمد رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کی اعلیٰ صلاحیتوں کو بھانپتے ہوئے اپنے بچوں کی طرح اپنالیا اور تعلیمی و تنظیمی امور میں آپ پر خصوصی توجہ و شفقت فرمانے لگے۔

اہل اللہ کا ہر دور ایک مجاہدہ ہوتا ہے کیونکہ قدرت کی طرف سے انہیں سونے سے کندن بناکر رہنمائی کے لیے تیار کرنا ہوتا ہے۔ سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہٗ کی تو پوری حیات طیبہ سراسر مجاہدہ ہے، جو ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ دوران تدریس بھی آپ پر کافی آزمائشیں آئیں مگر آپ کے پائے ثبات میں ذرا بھی لغزش نہ آئی بلکہ وہ تکالیف آپ کے عزم میں مزید اضافہ کا سبب بنیں۔ کئی کئی وقت آپ بھوکے رہتے لیکن آپ نے کبھی دست سوال دراز نہ فرمایا اور توکل کی اعلیٰ مثال قائم فرمادی۔

بچپن ہی سے آپ کی طبیعت تصوف کی طرف مائل تھی، چنانچہ آپ خود ارشاد فرماتے تھے کہ ”دوران تعلیم ہی میں نے طریقہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کے بزرگ شیخ العرب والعجم حضرت خواجہ فضل علی قریشی رحمۃ اللہ علیہ کے فیوضات کی باتیں سنیں تو دل میں ارادہ کرلیا کہ ظاہری تعلیم سے فراغت کے بعد فوراً ہی طریقہ عالیہ میں داخل ہوجاؤں گا۔“ چنانچہ 1354 ہجری میں شیخ العرب والعجم حضرت پیر فضل علی قریشی رحمۃ اللہ علیہ کنڈیارو کے نزدیک تشریف لائے تو آپ اپنے پڑوسی اور مخلص دوست قاضی دین محمد صاحب کے ساتھ جو حضرت پیر قریشی رحمۃ اللہ علیہ سے پہلے سے بیعت تھے، ہالانی جاکر حضرت پیر قریشی رحمۃ اللہ علیہ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے۔

رمضان المبارک کی چاند رات کو بروز جمعرات 1354 ہجری کو حضرت پیر قریشی رحمۃ اللہ علیہ واصل بحق ہوگئے۔ ان اللہ وانا الیہ راجعون۔

شیخ العرب والعجم کے وصال پرملال کے بعد آپ نے سحاب رحمت یعنی حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کے دست حق پرست پر تجدید بیعت کی، سلوک و احسان کی منازل طے کرتے ہوئے قرب و مقام حاصل کیا کہ آپ کے مرشد بھی کہہ اٹھے کہ ”یہ سوہنا سائیں ہیں“ یعنی ظاہری و باطنی ہر لحاظ سے سوہنے ہیں۔ ایک مرتبہ آپ کے شیخ کامل قیوم زمان نے اپنی گوہر زبان افشاں سے اپنے مرید صادق کو اس طرح خراج تحسین پیش کیا کہ ”میرا دل چاہتا ہے کہ سونے کا محل بنواؤں اور اس کی کھڑکی میں مولوی صاحب (سوہنا سائیں) کو بٹھاؤں اور انہیں محبت سے دیکھتا رہوں۔“ ایک مرید صادق کے لیے اپنے مرشد کے یہ کلمات دنیا ومافیہا سے زیادہ بہتر اور سرمایہ عظیم ہیں۔ آپ اپنے مرشد کامل کی ذات میں مکمل طور پر فنا تھے۔ آپ کی حیات مبارکہ محبت مرشد کی جیتی جاگتی تصویر تھی۔ آپ کی ہر ہر ادا میں اسی محبوب کی جلوہ گری تھی بقول شخصے

اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا ثبوت زندگی
میرے سارے جسم و جاں میں کارفرما آپ ہیں

جہاں مرشد کی خدمت قرب خداوندی کا ذریعہ بنی وہیں آپ نے فقراء کی بھی خوب خدمت کی۔ آپ کی عادت تھی کہ رحمت پور شریف لاڑکانہ میں روزانہ بعد نماز عشاء جب سب سوجاتے آپ مسجد میں آتے اور بوڑھے و ضعیف مسافروں کے ہاتھ پاؤں دباتے رہتے۔ فارسی کا مشہور مقولہ ہے کہ ”ہر کہ خدمت کرد او مخدوم شد“ یعنی جو خدمت کرتا ہے وہی مخدوم بنتا ہے، چونکہ آپ نے خدمت کو شعار بنایا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو مخدومیت عطا فرمائی۔

اپنے پیر کامل حضرت پیر مٹھا نور اللہ مرقدہٗ کی وفات کے بعد آپ نے فقیر پور شریف نزد رادھن اسٹیشن دادو ضلع میں اپنا ڈیرہ جمایا اور مخلوق خدا کی خدمت کے ساتھ ساتھ دعوت تبلیغ دین متین دینے لگے۔ آپ کی دعوت کے محور جہاں عوام الناس تھے وہیں آپ نے خواص بالخصوص علماء کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا۔ کیونکہ آپ اس بات سے بخوبی آگاہ تھے کہ جہاں عمائدین سلطنت کی اصلاح معاشرے پر اثرانداز ہوتی ہے تو علماء کی اصلاح اس سے کہیں زیادہ اثر رکھتی ہے۔ اس سلسلے میں آپ نے دینی مراکز و مدارس قائم کیے، علماء کے ساتھ ساتھ اساتذہ پر بھی توجہ مرکوز کی کیونکہ یہ بھی اصلاح معاشرہ میں اہم حیثیت کے حامل ہیں اور نوجواں تو معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، معاشرے کی تعمیر و تخریب میں نوجوان کا بڑا حصہ ہوتا ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہ سیاسی مذہبی ہر دو طبقوں نے نوجوانوں کو محض اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا ہے۔ اسی بات کے پیش نظر آپ نے ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر نہایت دردمندی اور دلسوزی کے ساتھ نوجوانوں پر اپنی خاص توجہ مرکوز کی اور انہیں اپنی تعلیم پر مکمل توجہ دینے کی ہدایت کے ساتھ شمع محمد صلّی اللہ علیہ وسلم کا پروانہ بنانے کی کوشش کی۔

آپ کا طریقہ ذکر یہ تھا کہ مردوں کے قلوب پر انگلی رکھ کر انہیں ذکر قلبی کی تلقین فرماتے اور خواتین کو صرف لاؤڈ اسپیکر پر مسجد میں بیٹھ کر نصیحت فرماتے، آپ پردے کے سخت پابند تھے۔

آپ ذکر کا طریقہ بتا رہے ہیں کہ نووارد افراد میں سے کہ ایک نے بے باکی سے عرض کیا کہ حضرت یہ دل تو انتہائی سخت ہے، اس پر تو کلہاڑی کے وار کیے جائیں تو شاید کچھ اثر ہو انگلی اس پر کیا اثر کرے گی؟ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی دل پہ نگاہ کی، اس کو نصیحت فرمائی اور دولت خانہ پر تشریف لے گئے۔ بس آپ کے جاتے ہی اس نووارد پر گریہ کی کیفیت طاری ہوئی اور بڑی شدت سے ہوئی، جو کافی دیر تک جاری رہی، جب اسے کچھ قرار آیا تو اس کے دل کی دنیا بدل چکی تھی وہ دل جو بے انتہا سخت تھا خدا اور رسول صلّی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے درد سے لبریز ہوگیا۔ کسی ساتھی نے پوچھا بتاؤ انگلی نے اثر کیا یا نہیں؟ اس نے کہا سائیں انگلی نے تو کلہاڑی سے بھی زیادہ اثر کیا۔

باوجود اس کے کہ آپ متبحر عالم دین تھے، کبھی بھی تصنع اور تکلفات سے کام نہیں لیا جیسا آج کل کے علماءِ ظاہر اپنے علم کا سکہ بٹھانے کے لیے خوب علمی نکات بیان کرتے ہیں اور لفاظی سے کام لیتے ہیں۔ آپ ہمیشہ تکلفات سے دور رہے۔ دوران تقریر قرآن و حدیث کے علاوہ حکایات و واقعات اس ذوق و شوق اور پرتاثیر انداز میں بیان فرماتے کہ حاضرین پر وجد کی کیفیت طاری ہو جاتی۔

آپ کی تربیت کا انداز منفرد اور جداگانہ تھا۔ اور وہ وقت کے تقاضاؤں اور سیرت رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کے عین مطابق تھا۔ آپ ہر شخص سے اس کی طبیعت، مزاج اور ذہنی استعداد کے مطابق گفتگو فرماتے اور اپنی نورانی توجہ سے نوازتے، جس سے آنے والا بہت متاثر ہوتا۔ آپ ”حریص علیکم بالمؤمنین رؤف الرحیم“ کی نبوی صفت سے عشق مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وسلم کی بدولت متصف تھے۔ آپ کا ارشاد گرامی ہے کہ ”کاش ہمارے پاس کوئی ایسی مشین ہوتی کہ ایک طرف سے بندے کو داخل کیا جاتا تو دوسری طرف سے ولی بن کر عالم دین بن کر نکلتا“۔ آپ کا تصوف سے متعلق ارشاد گرامی ہے جو عاجز نے خود سنا کہ ”تصوف سے مراد ادارہ خدمت خلق ہے“ کتنا جامع ترین فرمان ہے کہ جس پر پوری کتاب مرتب کی جاسکتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اولاد نرینہ میں آپ کو صرف ایک ہی لخت جگر عطا فرمایا جس کا نام مبارک آپ نے محمد طاہر رکھا، جو حقیقتاً ظاہری و باطنی پاکیزگی و طہارت اور نفاست کے پیکر ہیں۔ آپ اپنے اس لخت جگر کے لیے دعائیں فرماتے، اپنے نسبی و روحانی لخت جگر کے لیے بھی بارگاہ ربوبیت میں فریاد کناں ہوتے اور جملہ جماعت اہل ذکر سے فرماتے کہ آپ لوگ بھی محمد طاہر کے لیے دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں نیک اور صالح بنائے۔

آپ نے اپنے لخت جگر کی تربیت میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور نبوی میراث کے حصول میں انہیں اپنی توجہات سے خوب نوازا۔ صاحبزادہ صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے جہاں مختلف مدارس میں قرآن و حدیث پر مشتمل علوم و فنون حاصل کیے وہیں آپ کے قائم کردہ مدرسہ جامعہ عربیہ غفاریہ میں دورہ حدیث کی تکمیل کی جو کہ بعض مدارس میں صرف بخاری شریف کے ختم پر مکمل کرادیا جاتا ہے، لیکن جامعہ غفاریہ میں دورہ حدیث کی مکمل کتابیں پڑھائی جاتی ہیں۔ دورہ حدیث کی تکمیل کے بعد اسی مدرسہ میں بطور مدرس و منتظم کے فرائض انجام دینے لگے اور ساتھ ہی آپ سے باطنی توجہات و سلسلہ عالیہ کے اسباق بھی حاصل کرتے رہے تاوقتیکہ آپ روحانیت کے اعلیٰ مقام پر فائزالمرام ہوئے۔

مؤرخہ 5 ربیع الاول کو بعد نماز عصر تا مغرب مسجد شریف ہی میں جلوہ افروز رہے۔ پہلے تبلیغی خطوط سماعت فرمائے، نئے واردین کو طریقہ عالیہ میں داخل کرکے اذان مغرب تک نصیحت فرماتے رہے، نماز عشاء بھی مسجد شریف باجماعت ادا کی۔ رات کو معمول کے مطابق تہجد پڑھنے کے لیے اٹھے تو شدید تکلیف محسوس کرکے اہل خانہ کو بتایا۔ اسی وقت حضرت قبلہ صاحبزادہ صاحب (سجن سائیں) مدظلہ العالی نے بذریعہ فون ڈاکٹر عبدالرحیم صاحب کو اطلاع دی۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ ڈاکٹر صاحب کی آمد تک وضو کرکے تہجد نماز پڑھنے میں مشغول ہوگئے۔ یہ مقربین الٰہی کا ہی حوصلہ ہوتا ہے کہ شدید تکلیف میں بھی نہایت اطمینان سے اپنے خالق سے لو لگالیتے ہیں اور اس طرح انہیں زبردست سکون قلبی میسر ہوتا ہے۔ ابھی آپ نے دونفل ہی ادا فرمائے تھے کہ ڈاکٹر صاحب انجکشن لیے حاضر خدمت ہوئے۔ آپ نے ڈاکٹر صاحب کو دیکھا تو فرمایا ”نہیں اب اس کی ضرورت نہیں، اب اس کا وقت نہیں رہا“ یہ فرماکر روحانی و جسمانی طور پر کعبہ کی طرف متوجہ ہوکر لیٹ گئے اور ذکر بتانے کے طریقے پر ہاتھ اٹھاکر اللہ اللہ فرماتے ہوئے بروز پیر 6 ربیع الاول سن 1404 ہجری بمطابق 12 دسمبر 1983ء رات دو بج کر چالیس منٹ پر اپنے محبوب و معبود و مذکور خالق و مالک عزوجل کے ذکر کی انوار و تجلیات کے محویت کے عالم میں اس کے حضور جا پہنچے۔ ان اللہ واناالیہ راجعون

آہ درچشم زدن صحبت یار آخر شد
روئے گل سیرندیدم وبہار آخر شد

کیا کریں شکوہ کسی سے اپنی ویرانی کا ہم
اٹھ گیا سر سے ہمارے دوستو ظل ہما

آپ کا مزار پرانوار درگاہ اللہ آباد شریف کنڈیارو ضلع نوشہروفیروز سندھ میں پرانے مدرسہ کی جگہ پر مرجع خلائق عام ہے۔ اور آپ کی خانقاہ سے آج بھی بندگان خدا فیض کا اکتساب کررہے ہیں۔


 

سفرنامہ

سفرنامہ علمی و ادبی اعتبار سے بڑی اہمیت رکھتا ہے یہ واحد صنف ادب ہے جس کا تقریباً تمام اہم معاشرتی علوم سے گہرا تعلق ہے۔ مؤرخوں، سوانح نگاروں اور جغرافیہ دانوں نے اس صنف سے بہت فائدہ اٹھایا ہے اور اسی وجہ سے دنیا کی تمام چھوٹی بڑی زبانوں کے ادبیات میں سفرناموں کو ایک اہم مقام حاصل ہے ”سفر وسیلہ ظفر“ صحیح معنوں میں اسی وقت ہوسکتا ہے جب کہ ”مسافر“ اپنے سفر میں دوسروں کو بھی شریک کرے، سفر میں دوسروں کو شریک کرنا اسی طرح ممکن ہے کہ تمام تجربات و مشاہدات کو اس طرح بیان کردیا جائے کہ ”سفرنامہ“ پڑھنے والا ذہنی طور پر انہیں راستوں اور گذرگاہوں پر گام فرسا نظر آئے جن سے ”سفرنامے“ کا مصنف گذرا ہے۔ سفرنامہ لکھنا ہر شخص کے بس کی بات نہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ حالات و واقعات کا گہری نظر سے مطالعہ کیا جائے اور گرد و پیش کی پھیلی ہوئی دنیا کے رازوں کو جاننے کی بے پناہ صلاحیت رکھتا ہو۔ 10 اپریل 1980ء (مفتی عبدالرحیم صاحب کی ڈائری سے اقتباس)