فہرست الطاہر
شمارہ 53، ذوالقعدہ 1429ھ بمطابق نومبر 2008ع

ملفوظات طیبات حضور سوہنا سائیں

نور اللہ مرقدہٗ
محمد زبیر طاہری

حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ علماء کرام اور اہل بیت عظام کے ادب و احترام کا خصوصی لحاظ رکھتے تھے۔ اٹھ کر استقبال کرتے، بیٹھنے کے لیے اپنا مصلیٰ (جائے نماز) پیش کرتے اور جاتے وقت چند قدم چل کر رخصت فرماتے تھے۔

ایک مرتبہ حضور محراب پور تشریف فرما تھے کہ سید ظفر علی شاہ صاحب جو صوبائی اسمبلی کے ممبر تھے، (حال ممبر قومی اسمبلی) ملاقات کے لیے تشریف لائے، حضور عزت و احترام سے ملے۔ شاہ صاحب بھی حضور کا احترام بجا لارہے تھے۔ خیر و عافیت معلوم کرنے کے بعد آپ نے ارشاد فرمایا شاہ صاحب یہ کام، تعلیم و تبلیغ دین آپ کا ہے۔ یہ آپ لوگوں کا ورثہ ہے لیکن افسوس کہ آپ لوگوں نے اس طرف توجہ نہ کی، ہم مسکین حیثیت حال کے مطابق کوشش کررہے ہیں۔ البتہ کل بروز قیامت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ ضرور عرض کریں گے میرے مولیٰ سادات حضرات نے اس طرف توجہ نہ کی بہرحال ہم خدمت کررہے ہیں۔ مزید فرمایا شاہ صاحب کل ضرور آپ سے بھی پوچھ گچھ ہوگی۔ اس پر شاہ صاحب نے مؤدبانہ عرض کیا سائیں دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ان نیک کاموں کی توفیق عطا فرمائے۔

ایک مرتبہ علماء کرام کا ایک وفد درگاہ فقیر پور شریف میں آپ کی خدمت میں آیا۔ آپ نے ان کی خاطر مدارات میں کسی قسم کی کمی نہ رہنے دی۔ اپنے گھر سے ان کے لیے کھانا لائے اور خود ہی کھانا کھلانے کی خدمات انجام دیں۔ یہ حضرات الیکشن (غالباً 1970ء کی بات ہے) کے سلسلہ میں تعاون حاصل کرنے کی غرض سے آئے تھے۔ (نیز یہ کہ آپ تحصیل میہڑ کی سیٹ پر بطور امیدوار کھڑے ہوں) آپ نے ان کی گذارشات سن کر ارشاد فرمایا ہمیں کسی سطح پر بھی الیکشن میں کھڑا ہونے کا خیال نہیں۔ ہمارے بزرگ بھی سیاست (بطور ممبر اسمبلی) سے الگ تھلگ رہے ہیں۔ البتہ ہمارا ووٹ یقینا اسلام کے لیے ہے، جو بھی اسلامی جذبہ لیکر سامنے آئے گا ہم اسلام کی خاطر ووٹ اسے دے دیں گے۔ اس لیے کہ جان جائے تو جائے قرآن نہ جائے۔ آگے وہ کیا کرتے ہیں یہ انکی مرضی ہے۔ مزید فرمایا قرآنی قانون جاری کرانے کے لیے اس وقت علماء کرام کو عمدہ موقعہ میسر آیا ہے۔ لیکن افسوس کہ اس موقعہ پر ان کا باہمی اتحاد و اتفاق نہ ہوسکا۔ اسلام کی بات تو سب کرتے ہیں مگر اسکے باوجود نہ معلوم کیوں اتفاق پھر بھی نہیں۔ کرسی کی لالچ سے اللہ تعالیٰ پناہ میں رکھے۔

وصال سے چند روز پہلے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: خدمت خلق ایک بہت بڑی عبادت ہے حضرت پیر مہر علی صاحب گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ خدمت خلق کی وجہ سے اگر نفلی عبادت ورود وظائف رہ جائیں تو کوئی بات نہیں کہ خدمت خلق ان سے بدرجہا افضل ہے۔

فرمایا: رزق حلال بنیادی چیز ہے جس کے بغیر باطنی ترقی نہیں ہوسکتی اسی طرح ذکر اللہ پر ہمیشگی بھی لازمی شرط ہے اگر یاد حق تعالیٰ سے دل غافل ہے تو نرا رزق حلال بھی قلبی غفلت دور کرنے کے لیے ناکافی ہے ذکر اللہ کی کثرت ہی سے محبوب حقیقی کا قرب حاصل ہوتا ہے۔

دربار عالیہ کے مقیم فقراء اور جملہ خلفاء کرام کو عام جماعت کی خدمت خاص کر جلسے کے دن لنگر تقسیم کرنے اور نگرانی کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا میرا جی چاہتا ہے کہ میں بھی آکر فقراء کو لنگر کھلاؤں، اپنی سعادت ہے، کتنی دور سے یہ بیچارے خالص رضائے الٰہی کی خاطر یہاں آئے ہیں، مگر کیا کروں جب باہر آتا ہوں فقراء گھیر لیتے ہیں اور خدمت کا موقعہ ہی نہیں دیتے۔

ذکر اللہ کے فضائل بیان کرتے ہوئے فرمایا آج کل کے لوگوں کو دو چار آنے کی گولی پر تو اعتماد ہے کہ اس سے بخار، نزلہ، زکام، کھانسی ٹھیک ہوجائے گی لیکن خدا کے نام پر اتنا بھی اعتماد نہیں کرتے حالانکہ کوئی صحیح معنوں میں اللہ کا ذکر کرکے تو دیکھے کہ کس طرح مال ملکیت عزت ہر چیز میں اللہ تعالیٰ کی رحمت و برکت ہوتی ہے، دنیا ہی نہیں قبر قیامت حشر میں ہر موقعہ پر یاد الٰہی ہی کام آتی ہے، اللہ تعالیٰ کے نام مبارک کے اتنے فائدے ہیں کہ انسان کو کیا مجال کہ کماحقہٗ بیان کرسکے، حقیقت یہ ہے کہ اگر ذاکر کامل کسی بیمار پر ہاتھ پھیر لے تو اس سے شفاء مل جائے گی جو کوئی اسے دیکھے اسے سکون مل جائے گا۔

مبلغین کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا مبلغ کے لیے ضروری ہے کہ عام فہم اور ایسی بات کہے جس کی اسے پوری طرح تصدیق ہو اس میں بھی الجھانے کے بجائے حتی المقدور عوام الناس کی سہولت مدنظر رکھے۔

فرمایا شریعت و طریقت کی منزل مقصود ایک ہی ہے دراصل طریقت نام ہی شریعت پر عمل کرنے کا ہے، اسی طرح طریقت کے بغیر شریعت کی تکمیل نہیں ہوتی شریعت سے پہلو تہی کرکے طریقت میں کمال دکھانا زندقہ ہے نہ کہ فقیری۔

فرمایا آج کل دو چیزیں کنٹرول سے آگے جاچکی ہیں، ایک رشوت، دوم علماء کا باہمی اختلاف۔ اہل طریقت پر لازم ہے کہ اپنے آپ کو فرنگی کافر سے بھی کمتر سمجھے ورنہ پورا فائدہ نہیں ہوگا۔ حضرت امام ربانی رحمۃ اللہ علیہ پر تواضح و انکساری اس قدر غالب تھی کہ فرمایا میں ان لوگوں (فقراء) کے ساتھ بیٹھنے کے لائق بھی نہیں، چنانچہ مَنْ تَوَاضَعَ لِلّٰہِ رَفَعَہُ اللہ قَدْ غَفَرْتُ لَکَ۔ (جس نے خدا کی رضا کے لیے عاجزی کی اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کو بلند کردیا) کے مطابق بلند مقامات پر فائز ہوگئے۔ مبداء و معاد میں آپ کے لیے قَدْغَفَرْتُ لَک (ہم نے آپ کو بخش دیا) کے انعام کا ذکر ہے۔

فرمایا دوسرے نیک اعمال کرنے سے ثواب ملتا ہے لیکن ذکر اللہ کرنے سے اخلاص نصیب ہوتا ہے جو کہ تمام امور سے زیادہ اہم اور بنیادی چیز ہے اس لیے ذکر کے لیے زیادہ تاکید کی گئی ہے ذکر کو جہاد سے بھی افضل کہا گیا ہے۔ تبلیغ کی راہ میں لوگوں کے ٹھٹھ مذاق اور مختلف آزمائشوں سے واسطہ پڑے گا صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین پر کئی آزمائشیں آئیں لیکن وہ ہر موڑ پر ثابت قدم رہے بہرصورت میں مشکلات جھیل کر بھی تبلیغ کریں۔ آج کل تو ایسا زمانہ آگیا ہے کہ پیر مرید بنے استاد شاگر بنے، باپ بیٹا، تب ہی کام چل سکتا ہے صحیح طلب ذوق و شوق نہیں رہا۔

محترم سید جیئل شاہ صاحب کو خلافت و اجازت سے نوازتے وقت 12 ربیع الاول 1401ھ بروز پیر فرمایا کہ سالک کے لیے ضروری ہے کہ اپنے آپ کو تمام مخلوقات میں سے کمتر تصور کرے اپنے سے کسی کم عمر کو دیکھے تو یہ سمجھے کہ چونکہ یہ عمر میں مجھ سے چھوٹا ہے اس لیے اس نے گناہ بھی مجھ سے کم کیے ہونگے اور اگر اپنے سے کوئی بڑا دیکھے تو یہ خیال کرے کہ یہ عمر میں مجھ سے بڑا ہے تو اس نے نیکیاں بھی مجھ سے زیادہ کی ہونگی۔ صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ ہندو کافر کو دیکھے تو اپنے آپ کو اس سے بھی کمتر سمجھے۔ یہ محض اس لیے کہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے ایمان کی دولت سے نواز دے اور وہ بخشا جائے اور مجھ سے حساب کتاب لیا جائے انسان ہی نہیں اگر کسی کتے کو دیکھے جو بظاہر حقیر جانور ہے اور لوگ اس سے نفرت کرتے ہیں۔ لیکن سالک اپنے آپ اس سے بھی کمتر سمجھتے ہیں تبھی اس پر حقیقت و معرفت کے دروازے کھلیں گے جب تک طالب اپنے آپ کو سمجھتا رہے گا اس وقت تک اسے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔

(مأخذ از سیرت ولی کامل جلد ثانی)