فہرست الطاہر
شمارہ 53، ذوالقعدہ 1429ھ بمطابق نومبر 2008ع

 خلیفہ سید نصیر الدین شاہ

رحمۃ اللہ علیہ
علامہ مولانا حبیب الرحمٰن گبول

ماضی قریب کے عرصے میں کافی علماء، فاضل، مبلغ، مربی اور عظیم بزرگ ہستیاں عالم رنگ و بو چھوڑ کے اپنی اصلی اور ابدی آرام گاہ میں جاکر سکون پذیر ہوئے۔ ان کی جدائی کسی ایک گھرانے یا ایک قوم کے لیے نہیں بلکہ پورے عالم کے لیے ناقابل برداشت صدمہ اور ناقابل تلافی نقصان ثابت ہوئی۔ کیونکہ ان کا رہنا اپنے لیے نہیں بلکہ مخلوق خدا کی اصلاح اور ملک و ملت کی فلاح و بہبود کی خاطر تھا۔ ان کی زندگی ”ان صلاتی و نسکی و محیای ومماتی للہ رب العٰلمین“۔ بے شک میری نماز اور میری قربانی، میرا زندہ رہنا اور میرا آخرت کی طرف جانا اللہ رب العالمین کے لیے ہے، کی عملی تصویر تھا۔

ایسے ہی اللہ کے پیاروں میں سے سرزمین سندھ کے قابل فخر فرزند حضرت قبلہ سید نصیر الدین شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ ظاہری، باطنی، حسبی، نسبی خوبیوں سے مالا مال، اللہ والوں کی یاد تازہ کرنے والے ایک بزرگ شخصیت تھے۔

ولادت: آپ کی ولادت 1920ء چودھویں صدی ہجری کے پہلی نصف میں ضلع لاڑکانہ تعلقہ ڈوکری، بگھیو کیٹی کے گاؤں انڑپور میں ہوئی۔ آپ کے والد صاحب کا نام حضرت قبلہ سید عبدالحق شاہ صاحب تھا۔ بچپن میں ہی آپ کے اخلاق و عادات میں اللہ والوں کی نشانیاں ظاہر ہوئیں۔

بزرگوں سے محبت: آپ کو شروع سے ہی عالموں اور بزرگوں سے عقیدت و محبت تھی جس میں وقت گذرنے کے ساتھ اضافہ ہوتا گیا۔ آخر اللہ تعالیٰ نے آپ کی سچی طلب کو حضرت خواجہ خوجگان محمد عبدالغفار المعروف پیر مٹھا سائیں رحمۃ اللہ علیہ کے مرید ہونے کی صورت میں پورا کیا۔ اس زمانے میں حضرت پیر مٹھا سائیں عاشق آباد نامی گوٹھ ضلع ملتان پنجاب میں قیام پذیر تھے اور تبلیغ کے لیے سندھ میں آتے تھے۔ اس زمانے سے ہی حضرت شاہ صاحب کی حضرت پیر مٹھا سائیں کے صدیقی صفت عاشق صادق حضرت الحاج اللہ بخش المعروف سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہٗ سے دلی محبت تھی۔ اس زمانے میں حضرت سوہنا سائیں کی سرپرستی میں کافی مرد اور خواتین (شرعی پردے کے اندر) قافلوں کی صورت میں عاشق آباد شریف (پنجاب) جاتے تھے۔ جن میں حضرت قبلہ شاہ صاحب کا بھی خاندان بڑی اکثریت سے شریک ہوتا تھا۔ عاشق آباد میں زیادہ وقت رہ کر لنگر کا کام کاج بھی کرتے تھے یہاں پر حضرت قبلہ نصیر الدین شاہ صاحب اور آپ کا بھائی سید عبدالخالق شاہ صاحب آپ کے ساتھ ہی غزل بھی پڑھتے تھے اور حضرت پیر مٹھا سائیں رحمۃ اللہ علیہ دونوں بھائیوں کی پرسوز گداز نعتیں اور منقبت سن کر بہت خوش ہوتے تھے۔

سید گھرانے کے دونوں چشم و چراغ اکثر سرائیکی میں بنائے ہوئے حضرت خواجہ پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کے اشعار اور سندھی میں بنائے ہوئے حضرت سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ کے غزل پڑھتے تھے۔ دونوں بھائیوں کو بہت جذبہ ہوتا تھا اور سننے والوں پر بھی رقت و جذبہ کی حالت طاری ہوجاتی تھی۔ اسی دوران حضرت قبلہ شاہ صاحب کی خواہش پر حضور سوہنا سائیں نے جناب شاہ صاحب کے خاندان میں شادی کی۔ آپ کی کوششوں سے حضرت پیر مٹھا سائیں رحمۃ اللہ علیہ بھی اسی گاؤں میں تشریف لائے اور آپ نے اس کا نام دین پور تجویز کیا۔ نزدیکی علائقوں سے کافی دوسرے گھرانے بھی یہاں پر آکر آباد ہوئے۔ دن رات ذکر جذبہ جوش کی عجیب کیفیت ہوتی تھی۔ صبح کو ہر طرف سے اللہ اللہ کی پرکیف صدائیں سننے میں آتیں تھیں۔ حضرت سوہنا سائیں نے خود مذکورہ بالا گاؤں میں ماہوار تبلیغی جلسے بھی مقرر کئے جس کے بعد حضرت پیر مٹھا سائیں خود کافی عرصہ وہاں پر قیام پذیر رہے۔ آس پاس کے تقریباً سو گھر آکر اسی گاؤں میں آباد ہوئے۔ حضور پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کو مستقل وہاں پر قیام کرنے کے لیے بھی عرض کیا گیا۔ بہرحال حضور پیر مٹھا سائیں رحمۃ اللہ علیہ نے آنے والے احباب و مریدین کی سہولت کے پیش نظر رحمت پور شریف لاڑکانہ کا سنگ بنیاد رکھا۔ رحمت پور شریف کی تعمیر و ترقی میں حضور پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کے عاشق صادق سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ کا بڑا ہاتھ تھا اور ہر معاملے میں قبلہ شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ دست راست کی حیثیت سے آپ کے معاون رہے۔ دونوں عاشق صادق نقل مکانی کرکے رحمت پور شریف آئے۔ رحمت پور منتقل ہونے کے بعد بھی حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے خاندان اور دوسروں فقیروں کے تعاون سے لنگر کے لیے لکڑی اناج وغیرہ دین پور شریف سے بھیجا جاتا تھا اور اس کام کی نگرانی حضرت سوہنا سائیں یا حضرت شاہ صاحب خود فرمایا کرتے تھے۔

خلافت: حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ ہمیشہ حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ پر راضی رہے اور آپ کا اعلیٰ اخلاق، نیکی، تقویٰ دیکھ کر آپ کو خلافت بھی عطا فرمائی۔ خلافت ملنے کے بعد قبلہ شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے کافی مشکل جگہوں پر جاکر تبلیغ کی۔ کئی کئی دن پیدل جاکر حق کا پیغام پہنچاتے رہے۔

تجدید بیعت: حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کے بعد آپ نے حضور پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کے فرمان اور رضا مؤجب حضرت قبلہ سوہنا سائیں کی بیعت کی اور سفر و حضر میں ہر وقت آپ کے ساتھ رہے۔ درگاہ فقیر پور شریف کے تعمیراتی کام میں جناب شاہ صاحب نے مثالی کردار ادا کیا۔ اسی طرح درگاہ طاہر آباد شریف نزد ٹنڈو الہیار کے تعمیرات میں بھی جناب شاہ صاحب کا بڑا ساتھ تھا۔ مقامی بوزدار فقیروں کی آپ سے بے حد محبت تھی۔ درگاہ اللہ آباد شریف بناتے وقت اگرچہ جناب شاہ صاحب کی عمرکافی زیادہ ہوگئی تھی اور صحت بھی کمزور تھی اس کے باوجود بھی اپنی طاقت اور حیثیت سے زیادہ دن رات لنگر کے کام کاج کرتے نظر آتے تھے۔

تبلیغ دین: باوجود اس کے کہ حضرت قبلہ شاہ صاحب بظاہر کوئی بڑے عالم، فاضل نہیں تھے۔ مگر دینی تبلیغ میں بہت سے عالموں سے آگے تھے۔ یہی سبب ہے جو آپ کے عقیدتمندوں میں مستند علماء کرام کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ جناب شاہ صاحب کی تبلیغ اکثر سندھ کے دیہاتی علائقوں میں تھی۔ جہاں پر ہزاروں کی تعداد میں ان پڑھ اور دین سے منہ موڑے ہوئے لوگ نیکوکار پرہیزگار بن گئے۔ سب سے زیادہ آپ نے تبلیغ نواب شاہ ضلع کے چھوٹے شہروں اور دیہاتی علائقوں میں کی۔ جہاں پر لاکھا، میمن، ڈاہری، سومرا، گبول، پنجابی، لوہار، جویا، اوٹھا، سیرچا اور دوسری قوموں کے کئی سو لوگ آپ کے عقیدتمند تھے۔ خاص طور پر مورو شہر آپ کی تبلیغ کا مرکز تھا جہاں پر آپ نے غریب آباد نامی ایک اور مرکز بھی قائم کیا۔ سال میں ایک دو مرتبہ حضرت سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ یہاں پر تشریف لاتے تھے اور حضرت قبلہ محبوب سجن سائیں مدظلہ العالی بھی اسی مرکز پر تشریف لاتے رہتے ہیں اور حضور سجن سائیں مدظلہ العالی نے یہاں پر اطہر العلوم بخشیہ کے نام سے مدرسہ قائم کیا۔ اس سے علاوہ اڈیرو لعل، ٹنڈو محمد خان اور میہڑ کے نزدیک جتوئی قوم کے کافی لوگ آپ کی تبلیغ سے نیک و صالح ہوگئے اور آج بھی حضرت شاہ صاحب کے جملہ متعلقین اور عقیدتمند حضرت قبلہ سیدی و مرشدی سجن سائیں مدظلہ العالی سے وابستہ اور راہ حق پر گامزن ہیں۔

اخلاق و کردار: آپ کی مثالی نیکی اور تقویٰ دیکھ کر متعلقین کے سوا دوسری پوری جماعت بھی آپ کو عزت کی نگاہ سے دیکھتی اور نہایت ادب و احترام سے پیش آتی تھی۔ حالانکہ آپ اہل بیت سید گھرانے کے چشم و چراغ تھے مگر اس کے باوجود آپ کے اندر تواضع، خوش خلقی، سلام کلام میں عاجزی اور اٹھنے بیٹھنے میں سادگی نمایاں تھی۔ آپ ہر کسی سے چاہے وہ عمر میں چھوٹا ہوتا یا بڑا نہایت پیار و محبت سے پیش آتے تھے اور تکبر کی بو بھی نہیں ہوتی تھی۔ کسی بھی آدمی میں اگر کوئی کام ہوتا تھا تو ان کو بلانے کے بجائے آپ خود ان کے پاس جاتے تھے۔

انتقال پر ملال: مؤرخہ یکم ذی القعد 1403 ہجری بمطابق اگست 1983ء جمعرات کی رات سات 7 بجے جناح ہسپتال کراچی میں آپ کا انتقال ہوا۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔ وہاں پر موجود آپ کے بھائی سید عبد الخالق شاہ صاحب اور مولانا محمد رمضان صاحب اور مولانا رحمت اللہ صاحب آپ کے جسد خاکی کو طاہر آباد شریف لے آئے جہاں پر حضور شمس العارفین سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہٗ اور قبلہ شاہ صاحب کے اہل خانہ بھی موجود تھے۔ اپنے صالح مخلص مرید اور ایک قدیم وفادار دوست کی جدائی کی خبر معلوم ہونے پر حضرت سوہنا سائیں کو سخت صدمہ ہوا۔ آپ پر بے اختیار رقت اور رونے کی کیفیت طاری ہوگئی جو کافی دیر تک رہی۔ سید نصیر الدین شاہ صاحب کی وفات سے رشتہ داروں اور دوسری ساری جماعت کو گہرا دکھ پہنچا۔ جیسے ہی یہ خبر عام ہوئی تو دور دور سے رشتہ دار، دوست و عقیدتمند بڑی تعداد میں آخری دیدار اور جنازے میں شرکت کے لیے پہنچ گئے۔ تکفین کے وقت حضور سوہنا سائیں نے اپنی سفید چادر مبارک بھیجی جو کہ کفن میں شامل کی گئی۔ یہ وہ چادر تھی جو حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہٗ سنت نبوی صلّی اللہ علیہ وسلم کی تابعداری میں اوڑھا کرتے تھے۔ نماز ظہر کے بعد اپنے عاشق صادق کی نماز جنازہ حضور سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ نے خود پڑھائی۔ حالانکہ حضور سوہنا سائیں کی طبیعت مبارک سخت ناساز تھی پھر بھی دعا کے بعد آپ نے جنازے کو کندھا دیا اور کچھ قدم آگے چلے۔ کچھ فاصلے کے بعد پوری جماعت کو جنازے کے ساتھ جانے کا حکم دیا اور آپ مجبوراً کھڑے ہوگئے اور جب تک جنازہ جاتا رہا تب تک آپ اشکبار آنکھوں سے دیکھتے رہے اور بعد میں حویلی مبارک کی طرف تشریف لے گئے۔ نماز عصر کے بعد آپ نے سید عبدالخالق شاہ صاحب سے تعزیت کی اور کافی دیر تک قبلہ شاہ صاحب کی کافی تعریف فرماتے رہے۔ نماز فجر کے بعد قرآن شریف کا ختم پڑھواکر ایصال ثواب کیا اور پھر قبلہ شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی محبت، اخلاص، لنگر کی بے لوث خدمت کا ذکر کرکے فرمایا کہ بوزدار فقیروں سے شاہ صاحب کی زیادہ محبت تھی اور فقیروں کی بھی آپ سے بے حد محبت تھی اور بوزدار فقیروں کے پاس ہی آپ کی آرام گاہ ہے تاکہ آپ کے وفاداری کا ثبوت اور اس مرکز کو قائم کرنے میں اللہ تبارک و تعالیٰ حضرت قبلہ شاہ صاحب کو اپنے مقربین میں شامل کرے۔ یہی سعید موقعہ اس سیاہ کار بلکہ جماعت بخشیہ طاہریہ کے ہر فرد کو نصیب فرمائے۔ جو سیدی و مرشدی مدظلہ العالی خود نماز جنازہ پڑھائیں اور اپنے مبارک ہاتھوں سے آخرت کی طرف روانہ کریں۔ آمین