فہرست الطاہر
شمارہ 53، ذوالقعدہ 1429ھ بمطابق نومبر 2008ع

خلیفہ الحاج محمد حسین غفاری بخشی طاہری

رحمۃ اللہ علیہ
تحریر: محمد افضل طاہری
فرزند حاجی محمد حسین مرحوم
ترجمہ عبدالشکور اعوان طاہری

آپ کا نام محمد حسین تھا۔ آپ 1943 میں کنڈیارو شہر کے ایک چھوٹے گاؤں میں حاجی عبدالرحمٰن شیخ کے گھر میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد صاحب دیسی گھی اور مکھن کا کاروبار کرتے تھے۔ جناب حاجی صاحب نے ابتدائی پرائمری تعلیم گاؤں میں ہی حاصل کی۔ قیام پاکستان کے بعد 1948 میں آبائی گاؤں سے لاڑکانہ منتقل ہوگئے اور لاڑکانہ شاہی بازار میں کپڑے کی دوکان لے کر کاروبار شروع کیا۔ آپ کے دل میں اللہ والوں کی محبت تھی اور آپ کا رجحان صوفیاء کرام کی طرف تھا۔ سنہ 1950ء میں جب غوث الزماں حضرت خواجہ پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ پنجاب سے تشریف لائے اور آپ کے فیض کا نعرہ لگا تو اسی وقت جناب حاجی صاحب نے درگاہ رحمت پور شریف میں حاضری دے کر حضور پیر مٹھا کے دست بیعت ہوئے۔ جب کامل پیر کی نگاہ کرم ہوئی تو محبت میں مزید اضافہ ہوگیا۔ آپ کی محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ دوکاندار ہونے کے باوجود روزانہ چار وقت کی نمازیں فجر، عصر، مغرب اور عشاء درگاہ رحمت پور شریف میں حضور پیر مٹھا کی اقتدا میں پڑھتے تھے۔ آپ کی محبت دیکھ کر مرشد بھی آپ پر مہربان اور شفیق تھے۔ ایک مرتبہ بات بتاتے ہوئے گویا ہوئے کہ کسی گاؤں میں حضور کی دعوت تھی۔ اس دعوت میں عاجز (حاجی صاحب) نہ جاسکا۔ جب حضور واپس تشریف فرما ہوئے تو دوسرے دن فرمایا جو کل جلسے پر چلے تھے وہ فقیر قریب آئیں انہیں زیادہ سبق دیا جائے گا۔ میں نے سوچا کہ میں حضور کے قریب بیٹھا ہوا ہوں اور پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ حالانکہ میں جلسے پر بھی نہیں گیا تھا۔ اچانک حضور کے داماد حضرت مولانا محمد سعید صاحب کی نظر مجھ پر پڑی اور دیکھتے ہی کہا محمد حسین اٹھو تم جلسے پر نہیں چلے تھے۔ یہ سب کچھ میرے پیر روشن ضمیر دیکھ رہے تھے۔ مولانا صاحب کے کہنے کے بعد میں دوکان پر چلا آیا۔ کچھ دیر کے بعد درگاہ شریف سے ایک شخص آیا اور کہا محمد حسین! حضرت صاحب نے تمہیں بلایا ہے۔ اس پر عاجز کی حالت رحم طلب ہوگئی۔ کیونکہ حضور جلال والے اور بے نیاز ہوتے تھے۔ آپ کا چہرہ مبارک لال گلابی، پروقار اور بارعب ہوتا تھا۔ بہرحال میں درگاہ شریف پر آیا تو حضور خطاب فرمارہے تھے۔ مولانا محمد سعید صاحب نے خدمت اقدس میں عرض کی کہ قبلہ! حسین بخش آیا ہے۔ آپ خطاب مبارک فرماکر تسبیح خانے میں جلوہ افروز ہوئے مجھے بلاکر فرمایا کہ جب مولوی صاحب نے تمہیں اٹھایا تو ہمیں اچھا نہیں لگا۔ آپ ہمیں بہت پیارے ہیں اگر آپ کو بھی زیادہ سبق مل جاتا تو کیا ہوجاتا آؤ آپ کو بھی زیادہ سبق دیتے ہیں۔ یہ آپ کی نوازش کرم تھی۔

ایک مرتبہ حاجی محمد حسین صاحب نے حضور پیر مٹھا کی خدمت میں ایک گذارش نامہ لکھا جسکی ایک سطر فارسی میں لکھی۔ جس کے جواب میں حضور قیوم زماں پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ نے جو تحریر فرمائی وہ بھی فارسی میں ہے۔ یہ ایک سرٹیفکیٹ تھا، ایک ڈگری تھی جس کا اصل متن پیش کیا جاتا ہے۔ جناب والد صاحب کی تحریر مندرجہ ذیل ہے جس میں محبت پیر ظاہر ہے۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم حال مارا خود بدانی من چہ گویم پیش تو میں بے ادب، بے فرماں، نالائق، بدکار، بے کار، ادب کا کوئی بھی حق ادا نہ کر پایا۔ خدمت اور غلامی کا حق ادا نہ کرسکا شاید میری بدقسمتی ہے۔ جانے کیوں حضور کے فیض کے باوجود بھی نفس امارہ زوردار حملے کررہا ہے۔ دل میں افسوس سا ہے۔ اللہ کے لیے راضی ہوجائیے۔ میرا یہ یقین ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہم پر احسان کیا جو آپ کے وقت میں پیدا کیا۔ اگر خدا تعالیٰ چاہتے تو کسی اور وقت میں پیدا فرما سکتے تھے۔ الحمدللہ الحمدللہ یہ رب کا احسان ہے ہم پر۔

اس کے بعد حضور پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ نے جو مکتوب تحریر فرمایا وہ آپ کی شفقت، رحمت اور کرم کا سر ٹیفکیٹ تھا۔

”فقیر بر شما راضی و خوشنودیت حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ عزوجل بر شما راضی مدام مستدام باد و رسول الرؤف الرحیم و کریم نیز فی الدنیا و آخرت راضی باد۔ آمین یارب العالمین۔

والد صاحب نے کہا تھا کہ یہ تحریر میرے کفن میں رکھنا۔ آپ کی یہ وصیت پوری کی گئی۔ یاد رہے کہ اس مکتوب کی ایک کاپی میرے مرشدی قبلہ و کعبہ سجن سائیں مدظلہ العالی کی خدمت اقدس میں بھی پیش کی گئی۔

12 دسمبر 1964ء کو حضور پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کا وصال ہوا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ آپ کے بعد آپ کے فرمان کے تحت آپ کے جانشین اور پیارے خلیفہ حضرت خواجہ الحاج اللہ بخش المعروف محبوب سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے دست حق پر بیعت کی۔

آپ بتاتے تھے کہ حضور پیر مٹھا کے وصال کے بعد نماز پڑھنے اور ذکر مراقبہ کی جگہ کے لیے ہم پریشان ہوتے تھے کہ کس جگہ پر فقیر اکٹھے ہوکر محبت اور ذکر کا الاؤ روشن کریں۔ پھر لاڑکانہ شہر میں گھاڑ واہ کے قریب ایک خستہ حال مسجد ملی جس میں نماز پنجگانہ بھی نہیں ہوتی تھی اور اس میں کتیا نے ڈیرا ڈالا ہوا تھا۔ مسجد کو صاف کرنے کے بعد یہیں پر ہم فقیر محبت کی محفل منانے کے لیے اکٹھے ہوئے۔ ان میں حاجی تاج محمد شیخ، حاجی غلام محمد شیخ (مولوی عبدالقدیر کے والد) میاں منظور احمد شیخ، میاں محمد صالح شیخ، مولانا عبدالکریم منگی، مولانا محمد بشیر شیخ اور یہ عاجز (محمد حسین) اکٹھے ہوکر ذکر کرتے اور مسجد کو آباد رکھتے تھے۔

اس مسجد میں ایک مرتبہ حضرت پیر فضل علی قریشی مسکین پوری رحمۃ اللہ علیہ کے داماد حضرت قبلہ سائیں رفیق احمد شاہ صاحب کے والد محترم حضرت قبلہ سائیں عبدالرؤف شاہ صاحب تشریف لائے۔ آپ کے ساتھ سائیں صاحبزادہ قبلہ محمد دیدہ دل صاحب کے والد محترم اور حضرت پیر مٹھا کے داماد حضرت قبلہ سائیں غلام فرید صاحب بھی تھے۔ آپ نے نماز عشاء ادا کی اور حسب معمول نماز عشاء کے بعد مراقبہ ہوا۔ مراقبے کے بعد سائیں عبدالرؤف شاہ صاحب نے فرمایا ہم نے مراقبے میں حضرت پیر قریشی، حضرت پیر مٹھا اور حضرت سوہنا سائیں رحمہم اللہ تعالیٰ اجمعین کو دیکھا۔ ان مشائخ کرام نے دوران مراقبہ فرمایا کہ لاڑکانہ میں ہماری درگاہ اب یہ مسجد ہے۔ اس مسجد کا نام بھی غفاری مسجد رکھا گیا۔ یاد رہے کہ اس مسجد میں میرے کامل پیر روشن ضمیر محبوب سوہنا سائیں کتنی ہی دفعہ تشریف لائے نماز پڑھی اور ذکر و مراقبہ کیا۔ آپ کے جانشین سیدی و مرشدی قبلہ و کعبہ محبوب سجن سائیں بھی مذکورہ مسجد میں تشریف فرما ہوتے رہتے ہیں۔

حاجی محمد حسین صاحب حضور سوہنا سائیں کی محبت میں بھی مست رہے۔ پنجاب، صوبہ سرحد، صوبہ بلوچستان کے سفر میں ہر وقت خدمت کے لیے پیش پیش رہتے تھے۔ آپ محبت میں اس نتہا کو پہنچ گئے کہ ایک مرتبہ حضور سوہنا سائیں نے فرمایا کہ ”حاجی صاحب آپ ہمیں اپنے بچوں کی طرح پیارے ہو۔“

حضور سوہنا سائیں نے حاجی محمد حسین صاحب کو خلافت عنایت فرمائی اور آپ کے فرمان پر ہی آپ نے تبلیغ شروع کی۔ ابتدا میں صوبہ بلوچستان اور بعد میں اندرون سندھ میں کوٹ لعل بخش مہیسر، سجاول، میرو خان، عرض بھٹو، غلام بھٹو، کارانی، ڈوکری، شہداد کوٹ، قمبر، آریجہ، ڈیرہ وغیرہ میں تبلیغ کی۔ آپ کی تبلیغ سے سینکڑوں لوگ درگاہ شریف پر آئے اور حضور کے فیض سے فیض یاب ہوئے۔ 12 دسمبر 1983ء کو وقت کے ولی کامل حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہٗ اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔ ان اللہ واناالیہ راجعون۔

آپ کے بعد آپ کے لخت جگر، نور نظر، قدوۃ الاولیاء، شیخ المشائخ، نائب خیر الوریٰ، مجدد وقت حضرت خواجہ الحاج محمد طاہر المعروف محبوب سجن سائیں دامت برکاتہم العالیہ کے دست بیعت ہوئے اور سلوک کی منازل میں مزید عروج حاصل کیا۔ قبلہ والد صاحب جب بھی اکیلے ہوتے تھے تو اس عاجز کو بلاکر پیر کی کرامتیں بتاتے تھے۔ قبلہ والد صاحب حضور سجن سائیں کے ساتھ کتنے ہی پنجاب اور صوبہ سرحد کے پروگراموں میں شریک ہوئے اور پیر کی خدمت کا شرف حاصل کیا۔ سنہ 1992ء میں جب محبوب حضور سجن سائیں حرمین شریفین حج کی سعادت کے لیے گئے تو اس سنہ سعید میں بھی والد صاحب خادم کی حیثیت سے آپ کے ساتھ تھے۔ مرشد کے ساتھ آپ کی محبت اور عقیدت تو تھی ہی مگر مرشد بھی شفیق اور مہربان تھے۔ جب بھی کوئی شخص لاڑکانہ سے درگاہ اللہ آباد شریف کنڈیارو حضور سجن سائیں سے ملنے جاتا تھا تو آپ اس سے والد صاحب کے متعلق ضرور پوچھتے تھے۔ یہ پیر کامل کی کتنی بڑی مہربانی ہے۔

حالی ہی میں دادو شہر میں حضور کا جلسہ ہوا جس میں محترم والد صاحب بھی شریک ہوئے۔ محبوب کے ساتھ ملاقات کا شرف بھی حاصل کیا۔ حضور سجن سائیں نے فرمایا کہ جعفر صادق (صاحبزادہ قبلہ محمد جعفر صادق طاہری فرزند حضرت خواجہ محبوب سجن سائیں مدظلہ العالی) نے ہم سے پوچھا کہ حضور! حضور سوہنا سائیں کے بعد آپ کے خلفاء کرام میں کونسا خلیفہ آپ کی خدمت میں سب سے پہلے آیا۔ تو حضور سجن سائیں نے فرمایا حاجی محمد حسین صاحب۔ والد صاحب یہ بات کرتے ہوئے رونے لگے اور کہا کہ میرے مرشد مجھ سے راضی ہیں۔

آخر میں آپ کو شگر کی تکلیف ہوگئی۔ کافی علاج کے بعد بھی افاقہ نہ ہوا۔ پاؤں میں زخم ہوا۔ زخم بڑھتے بڑھتے ٹانگ تک پہنچ گیا۔ آپ کو علاج کے لیے سول ہاسپٹل لاڑکانہ میں ایڈمٹ کیا گیا۔ وہاں پر کئی ڈاکٹر تھے۔ آخر کار جب افاقہ نہیں ہوا تو آپریشن کرکے ٹانگ کاٹی گئی۔ اس کے باوجود آپ ذکر اور پیر کی مناقب پڑھنے میں مشغول تھے۔ رات کے وقت اس عاجز کو اور عاجز کے بھائی محمد اسلم کو خدمت کا شرف ملا۔ دن کے وقت ہمارا بھائی محمد شفیق خدمت میں حاضر رہتا تھا۔

سرجری کے باوجود رات کے ساڑھے تین بجے فرماتے تھے کہ محمد افضل ٹائم کیا ہوا ہے؟ جب ٹائم سنتے تھے تو فرماتے تھے مجھے تیمم کراؤ میں تہجد نماز پڑھوں گا۔ یہ عاجز عرض کرتا تھا ابا جان آپ کو تکلیف ہے نفل نہ پڑھیں آپ روتے ہوئے فرماتے تھے کہ محمد افضل کل میں اپنے پیر کو کیا جواب دوں گا۔ یہ آپ کے عبادت گذار ہونے اور مرشد سے محبت کامل کا ثبوت ہے۔

گورنمنٹ ہاسپٹل میں ہی آخری ایام کے دوران حضور قبلہ عالم محبوب سجن سائیں مدظلہ العالی آپ کے عیادت کے لیے تشریف لائے اور مہربانی فرمائی اور نگاہ کرم و دعاؤں سے نوازا۔ آپ کی نگاہ کرم اور دیدار کرنے کے بعد والد صاحب مطمئن رہتے تھے۔ جب بھی کوئی عیادت کے لیے آتا تو تکلیف کے باوجود ہنس کر فرماتے کہ الحمدللہ حضور مرشد کریم کی مہربانی سے خوش ہوں۔

آخری دنوں میں بے ہوشی کی حالت تھی مگر اس کے باوجود اشاروں سے نماز پڑھتے تھے۔ آخری دو راتیں ہاسپٹل میں ہی محفل نعت و منقبت کی گئی۔ جس میں خلیفہ ڈاکٹر گل حسن شیخ صاحب اور ہم بھائی بھی شریک تھے۔ منگل کے دن غریب آباد شریف کی طرف یہ پیغام بھیجا گیا کہ دعا فرمائیں۔ حضور پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کے خاندان پاک نے یہ فرمایا کہ حضور آقائے نامدار صلّی اللہ علیہ وسلم، حضور پیر مٹھا اور حضور سوہنا سائیں حاجی صاحب کو لینے آئے ہیں۔ پھر اس عاجز نے قبلہ صاحبزادہ محمد جعفر طاہر صاحب کی خدمت میں عرض کی کہ حضور قبلہ عالم کو عرض کردیں کہ مہربانی فرمائیں۔

منگل کے دن بدھ کی رات کو پھر محفل نعت ہوئی۔ بدھ کے دن نماز فجر کے بعد اس عاجز کو اشارہ کیا کہ قریب آؤ۔ یہ عاجز آپ کے قریب ہوا۔ آپ ”اللہ اللہ اللہ“ اور ”حضور سجن سائیں کرم کریں“ کہتے ہوئے 27 محرم الحرام 1429 ہجری بمطابق 8 فروری 2008 بروز بدھ صبح 9 بجے اس فانی جہاں سے ذکر کرتے ہوئے اور مرشد کو یاد کرتے ہوئے رخصت ہوگئے۔ ان اللہ وانا الیہ راجعون

آپ کی نماز جنازہ غفاری مسجد میں بعد نماز عشاء غوث الزماں حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے نواسے اور سیدی و مرشدی محبوب سجن سائیں مدظلہ العالی کے بھانجے صاحبزادہ محمد جمیل عباسی طاہری صاحب نے پڑھائی۔ نماز جنازہ میں جماعت اصلاح المسلمین پاکستان کے مرکزی صدر حضرت مولانا مفتی عبدالرحیم طاہری صاحب اور دیگر علماء کرام، خلفاء عظام اور فقراء اہل ذکر شامل ہوئے۔ آپ کی وصیت کے مطابق غفاری مسجد میں ہی آپ کو دفن کرنے کا بندوبست کیا گیا۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں آپ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور مرشد کے ساتھ ایسی ہی محبت نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین بحرمۃ سید المرسلین۔