فہرست الطاہر
شمارہ 53، ذوالقعدہ 1429ھ بمطابق نومبر 2008ع

حدود اللہ

مشتاق احمد پنہور

رجم کرنے کی سزا صرف اسلام میں نہیں ہے بلکہ اسلام سے پہلے مذاہب میں بھی یہ سزا موجود ہے۔ جیسا کہ ایک حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ایسے یہودی اور ایک یہودی عورت کو لایا گیا جنہوں نے زنا کا جرم کیا تھا۔

رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم یہودی علماء کے پاس گئے اور فرمایا تورات میں زنا کرنے والوں کے متعلق کیا حکم ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہم اس کا منہ کالا کردیتے ہیں اور دونوں کو سواری پر اس طرح بٹھا کر گھماتے ہیں کہ ہر ایک کا منہ مخالف جانب ہوتا ہے۔ حضور صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم سچے ہو تو یہ حکم تورات میں دکھاؤ۔ وہ تورات لے کر آئے اور جب تورات پڑھنے لگے تو ایک شخص نے آیت رجم پر ہاتھ رکھ دیا اور اس کے آگے پیچھے پڑھنے لگا۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بھی تھے جو اسلام لانے سے پہلے یہودیوں کے بہت بڑے علامہ تھے۔ انہوں نے آپ صلّی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اس کو ہاتھ اٹھانے کا حکم دیجیے۔ جب اس نے ہاتھ اٹھایا تو اس کے نیچے آیت رجم تھی۔ پھر حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ان دونوں کو رجم کیا گیا۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان دونوں کو سنگسار کرنے والوں میں میں بھی شامل تھا۔ میں نے دیکھا کہ وہ مرد پتھر کھاکر اس عورت کو بچا رہا تھا۔ (صحیح مسلم) حد زنا کی شرائط: زنا کی سزا جاری کرنے کے لیے جن شرائط پر فقہاء کا اتفاق ہے وہ یہ ہیں کہ زنا کرنے والا بالغ ہو، عاقل ہو، مسلمان ہو، زانی مختار ہو یعنی اس پر جبر (زبردستی) نہ کی گئی ہو۔ عورت کے ساتھ زنا کرے اور ایسی لڑکی سے زنا کیا ہو جس سے عادتاً وطی ہوسکتی ہو۔

جب یہ تمام شرائط پائی جائیں تو پھر حد جاری کی جاسکتی ہے ورنہ اگر کوئی بھی ایک شرط نہیں پائی جارہی یا پھر کسی ایک شرط میں شبہ پڑ رہا ہے تو اس پر بھی حد جاری نہیں کی جائے گی کیونکہ اگر حد جاری کرنے میں معمولی شبہ پڑ رہا ہے تو اس وقت حد جاری نہیں ہوتی بلکہ ساقط ہوجاتی ہے۔

گواہ: مذکورہ شرائط کے پائے جانے کے ساتھ ساتھ حد جاری کرنے کے لیے چار گواہوں کا ہونا بھی لازمی ہے اور اگر تین گواہ ہیں تو پھر بھی حد جاری نہیں ہوگی۔ چار گواہوں کا ہونا قرآن مجید سے ثابت ہے جیسا کہ ہم سورۃ النسآء کی آیت نمبر 15 کا مفہوم ذکر کرچکے ہیں کہ یعنی چار گواہوں کی موجودگی لازمی ہے۔

اسلامی تعزیرات اور حدود اللہ کے نفاذ کے لیے بنیادی کامل ثبوت اور مکمل شہادت ہے۔ شہادت بھی ایسی جو ہر قسم کے شک و شبہ سے بالا ہو۔ یہ اسلامی تعزیرات کی ایک ایسی وصف ہے جو انہیں دنیا کے تمام نظام ہائے تعزیرات سے ممتاز کردیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس ملک میں، جہاں کہیں اور جب بھی اسلامی حدود کا نفاذ اپنی اصل روح کے ساتھ ہوا وہاں جرائم کا نشان ہی نہیں رہا۔ اور لطف یہ ہے کہ سزا کی نوبت بھی شاذونادر ہی آئی ہے۔
ثبوت اور گواہ کے بغیر کوئی بھی فیصلہ نہیں کیا جائے گا: حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت ام سلمۃ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ دو اشخاص کے درمیان میراث کے معاملہ میں جھگڑا ہوا تھا۔ دونوں حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کے خدمت میں حاضر ہوئے۔ ان کے پاس کوئی ثبوت یا گواہی نہ تھی۔ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خوب سمجھ لو کہ تم اللہ تعالیٰ کے رسول کے سامنے اپنا معاملہ پیش کررہے ہو، میں رسول ہونے کے ساتھ ساتھ بشر بھی ہوں، میں جو کچھ تم سے سنوں گا فیصلہ اس کی بناء پر کروں گا۔ ہو سکتا ہے کسی کے پاس بہترین دلیل ہو لیکن اگر میرے فیصلے کی وجہ سے تم میں سے کسی کا حق دوسرے کو پہنچنے لگے تو وہ اسے ہرگز نہ لے۔ میں اس طرح سے خلاف حق لینے والے کے لیے جہنم کے ایسے ٹکڑے کی دعا کرتا ہوں جو قیامت کے دن اس کی گردن میں ایک چمٹے کی طرح ڈالا جائے گا۔ یہ سن کر وہ دونوں رونے لگے اور ایک دوسرے کو کہنے لگے میں اپنا حق تمہیں دیتا ہوں۔ حضور صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب جبکہ تمہارا یہ حال ہے تو جاؤ آپس میں ٹھیک ٹھیک خود تقسیم کرلو اور اس پر قائم رہو۔ اور اس امر پر تیار رہو کہ ہر ایک دوسرے کے ساتھ جائز اور ٹھیک ٹھیک معاملہ کرے۔ (مسند امام احمد)

گواہ کی ذمہ داری: اسلامی شریعت کی رو سے ایک گواہ کا گواہی کے لیے پیش ہونا گویا ایک دینی فریضہ انجام دینا ہے۔ چنانچہ سچی گواہی کو فرض کفایہ شمار کیا گیا ہے۔ اور گواہی کے چھپانے کو کبیرہ گناہ قرار دیا گیا ہے لہٰذا گواہی کو چھپانا یا گواہی سے انکار کرنا کسی طرح بھی جائز نہیں ہے۔ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے کہ ”جب گواہی کے لیے بلایا جائے تو حاضری سے انکار نہ کرو۔“ (البقرہ۔ آیت 282)

دوسرا ارشاد ہے کہ ”اس سے زیادہ ظالم کون ہے جس نے وہ گواہی چھپائی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو ثابت ہوچکی اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں“۔ (البقرہ۔ آیت 14)

گواہ کی صفات اور فرائض: اسلام کے نظام عدل کی رو سے ہر گواہ کے اندر درج ذیل صفات کا ہونا ضروری ہے۔

1۔ اول یہ کہ وہ گواہ قول کا سچا اور حق و صداقت کا حامل ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ”اے ایمان والو انصاف پر قائم رہو اور اللہ کو حاضر و ناظر جان کر گواہی دو۔“ (النسآء۔ آیت 135)

2۔ گواہی بے لوث ہو اس میں کسی کی رو سے رعایت نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ”گواہی اللہ کے واسطے ہو۔ اس سے قطع نظر کہ گواہی خود تمہاری ذات کے خلاف ہو۔ تمہارے ماں باپ یا رشتہ داروں کے خلاف ہو۔ کوئی مالدار ہو یا غریب۔ اللہ تعالیٰ تم سے زیادہ ان کا خیر خواہ ہے سو تم دل کی خواہش کی پیروی نہ کرو۔ انصاف کرنے میں اگر زبان پھیر لو گے یا پہلو تہی کرو گے تو یاد رکھو اللہ تمہارے سب کاموں سے باخبر ہے۔“ (النسآء۔ آیت 135)

یعنی گواہی میں کسی سے بھی رعایت نہ کی جائے چاہے وہ گواہی اپنی ذات کے خلاف ہو یا والدین کے خلاف ہو یا عزیز و اقارب کے خلاف ہو۔ چاہے کوئی غریب ہو یا امیر، حدود اللہ میں سب برابر ہیں۔ گواہی کسی کے بھی خلاف ہو بے خوف ہوکر دینی چاہیے۔

3۔ گواہی کسی فرد یا کسی قوم کی دشمنی کے نقطہ نظر سے نہ ہو۔ حکم الٰہی ہے کہ ”اے ایمان والو انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے ہوجاؤ۔ کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کردے کہ تم اس کے ساتھ انصاف نہ کرو۔ خوب انصاف کرو کہ یہ تقویٰ (پرہیز گاری اور خداخوفی) سے قریب تر ہے۔“ (المائدہ۔ آیت 8)

4۔ اصل واقعات پر ہرگز پردہ ڈالنے کی کوشش نہ کی جائے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ”گواہی کو نہ چھپاؤ جو کوئی بھی چھپائے گا اس کا دل گناہ گار ہوگا۔ تم جو کچھ بھی کرتے ہو اللہ اس کو جاننے والا ہے۔“ (البقرہ۔ آیت 283)

5۔ گواہی بلا معاوضہ ہو۔ اس کی کوئی فیس، اجرت وغیرہ وصول نہ کی جائے جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے کہ ”ہم گواہی کی اجرت نہیں لیتے۔“ (المائدہ۔ آیت 106)

جتنا ہوسکے جھوٹی گواہی سے پرہیز کیا جائے۔ کہتے ہیں کہ ایک جھوٹ کو چھپانے کے لیے سو جھوٹ بولنے پڑتے ہیں اور دوسری بات یہ کہ مسلمان تو جھوٹ بول ہی نہیں سکتا۔ چنانچہ حضرت صفوان بن سلیم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور صلّی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کوئی مسلمان بزدل ہوسکتا ہے۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں (یہ ممکن ہے) پھر عرض کیا گیا کیا ایک مسلمان بخیل ہوسکتا ہے؟ حضور صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں (یہ کمزوری بھی ممکن ہے)۔ پھر سوال کیا گیا کیا کوئی مسلمان جھوٹا ہوسکتا ہے؟ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں۔ ایمان کے ساتھ جھوٹ جمع نہیں ہوسکتا۔ (موطا امام مالک۔ شعب الایمان، بیہقی)

گواہی سے مقصود رضائے الٰہی اور شہادت حق ہو۔ گواہی میں نہ اپنے مفادات کی رعایت کرے نہ اپنے والدین اور عزیز رشتہ داروں کی۔ گواہی کسی کی خاطر یا کسی کے دباؤ کے تحت نہ بدلے۔ خواہ وہ کتنا امیر کبیر اور باحیثیت کیوں نہ ہو۔ گواہی کسی غریب کے ساتھ جذبہ ہمدردی کی بناء پر بھی نہ بدلے، گواہی میں نہ زبان بدلے نہ ایچ پیچ کرے اور نہ سرے سے گواہی سے پھر جائے۔ گواہی میں اپنی ذات میلانات اور رجحانات کو بھی ہرگز اہمیت نہ دے۔ ہر حال میں انصاف سے کام لو کہ اللہ پاک تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔

گواہوں کی تعداد: گواہوں کی تعداد دعوے اور جرم کی نوعیت پر موقوف ہے۔ بعض دعواؤں کے ثبوت کو ایک گواہ کافی ہے اور بعض دعواؤں کے لیے دوگواہوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ جبکہ بعض واقعات کے لیے چار گواہوں کی شہادت ضروری ہوتی ہے۔ زنا کے مجرم کو سنگسار کرنے کے موقع پر ایک جم غفیر (بڑی جماعت) کی موجودگی مطلوب ہوتی ہے۔ اسی طرح بعض معاملات میں مرد و عورت دونوں کی گواہی تسلیم کرلی جاتی ہے۔ جبکہ بعض مقدمات میں صرف مرد کی گواہی لازمی ہے۔ مثلاً زنا کی گواہی میں عورت کی گواہی قابل قبول نہیں ہے۔ زنا میں چار مردوں کی شہادت کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ چوری وغیرہ کے معاملات میں دوگواہ کافی ہوتے ہیں۔ لیکن حدود اللہ کے نفاذ کے لیے ضروری ہے کہ گواہ فاسق نہ ہوں۔ عام حالات میں دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں۔ ان میں سے جن کو تم گواہی کے لیے پسند کرتے ہو، گواہی دیں تاکہ ان میں سے ایک عورت بھول جائے تو دوسری اس کو یاد دلائے۔ (البقرہ۔ آیت 282)

حدود شرعی کے نفاذ کے لیے عورتوں کی گواہی کافی نہیں۔ مردوں کی شہادت ضروری ہے۔ اس کی کئی وجوہ ہوسکتی ہیں۔ مثلاً عورت کا صنف نازک اور ضعیف ہونا۔ مرد کا عورت پر قوام ہونا۔ عورت کو منظر عام پر لانے اور عدالتوں میں مقدمات کی جرح قدح سے بچانے کے لیے اس زحمت میں نہ ڈالنا وغیرہ۔ شک و شبہ کی صورت میں گواہ سے حلف بھی لیا جاسکتا ہے کہ وہ جو کچھ کہے سچ سچ کہے گا۔ جیسا کہ فرمان الٰہی ہے ”اگر تمہیں شک ہو تو دونوں گواہ قسم کھائیں کہ ہم اس کا دنیوی حقیر معاوضہ قبول نہیں کریں گے خواہ وہ ہمارے قریبی عزیز رشتہ دار کا معاملہ ہو اور خدا ترسی کے تحت سچی بات کو نہیں چھپائیں گے ایسا کیا تو ہم گناہ گار ہوجائیں گے۔“ (المائدہ۔ 106)

اسلام نے گواہ کے لیے جس قدر پابندیاں عائد کی ہیں اتنی قدر ان کے احترام اور تقدس کو واجب قرار دیا ہے۔ نہ صرف مدعی (دعویٰ کرنے والا) اور مدعا علیہ (جس پر دعویٰ کی گئی ہو) پر بلکہ ان کے ورثاء اور متعلقین پر بھی ضروری ہے بلکہ حکومت اور عدلیہ کی بھی ذمہ داری ہے کہ گواہوں کو ان کی گواہی کی بناء پر کسی طور پر کوئی گزند نہ پہنچے۔ کوئی فریق انہیں نقصان یا ایذا نہ پہنچائے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کاتب اور گواہ کو کوئی بھی نقصان نہ پہنچایا جائے۔ (البقرہ۔ آیت 282)

موجودہ معاشرے کے بگاڑ، تنازعات کی بھرمار اور عدالتی نظام کی بحالی کا صرف ایک ہی حل ہے کہ اسلام کے اس عادلانہ اور حکیمانہ نظام کو اس کی اصل روح کے ساتھ نافذ اور جاری کیا جائے۔ بے ثبوت دعوے نہ ہوں۔ گواہ سچے ہوں۔ گواہیاں بے لاگ ہوں۔ لین دین کے معاملات ضبط تحریر لائے جائیں۔ فرضی تمسکات نہ لکھے جائیں۔ گواہوں کا تحفظ ہو۔ گواہ پر کوئی ہاتھ اٹھانے کی جرأت نہ کرے۔ ناقابل اصلاح جھوٹے گواہ زندگی بھر کے لیے گواہی سے محروم اور واجب تعزیر قرار پائیں تاکہ انہیں قرار واقع سزا ملے اور دوسروں کے لیے سبق بن جائے۔