فہرست الطاہر
شمارہ 53، ذوالقعدہ 1429ھ بمطابق نومبر 2008ع

میری بہنا

جمیل اصغر طاہری

میں کمرے کی کھڑکیوں سے باہر گھٹا ٹوپ گھٹاؤں کا چھانا، سرد ہواؤں کا چلنا اور شبنم کے قطروں کے مانند پھوار کا برسنا دیکھ رہا ہوں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ بوندیں نہ ہوں بلکہ ستارے ہوں جو کہکشاں سے کسی پر صدقے اتارے جارہے ہوں۔ ایسا دلکش موسم ہر دل کو بھاتا ہے، خزاں رسیدہ درختوں کو بہار آشنا کردیتا ہے، دلوں کے بجھے ہوئے دیپ جگمگانے لگتے ہیں۔ مگر میرے سینے کی آگ تو اور بھڑک اٹھی ہے۔ میرے زخموں سے درد کی ٹیسیں اور شدت اختیار کرگئی ہیں۔ میری وحشت اور ویرانی اور بڑھ گئی ہے، میری اداس آنکھیں غم کے آنسوؤں سے بھرگئی ہیں، یادوں کے دریچے مجھے ماضی میں دھکیل رہے ہیں۔ وہ کتنا حسین دن تھا، ایسی ہی سرد لہر تھی، بارش سے بھیگے یونیفارم اور بیگ کے ساتھ جب میں نے گھر میں قدم رکھا تو عجیب سا احساس ہوا جیسے کچھ نیا نیا معاملہ ہے۔ اندر داخل ہوتے ہی میری خالہ نے کہا ”بیٹا! دیکھو تو گھر میں کون آیا ہے“ میں حیران نگاہوں سے جو والدہ کے بستر کے پاس گیا تو ایک ننھا سا وجود کمبل میں لپٹا ہوا تھا۔ سرخ گلاب جیسی رنگت، برف کے گالوں کے طرح نرم و ملائم۔ میری والدہ نے سرشاری کے عالم میں کہا ”بیٹا! یہ تمہاری بہنا ہے۔ اس کا خیال رکھنا۔ اپنی بہنا کا خیال رکھنا۔“

میں نے اس گڑیا کو اپنے دل میں بسالیا، اس کی محبت کی مٹھاس میری روح میں گھل مل گئی۔ کتنی معصوم تھی وہ پیاری سی بہنا، روشن ستاروں جیسی آنکھیں، دودھ کی طرح سفید پھول سی نازک میرے اندر تک سماگئی۔ اسکول جانے سے پہلے صبح سویرے ہی میں اس سے کھیلتا رہتا وہ بھی مجھ سے کھیلتی، ہنستی اور کھلکھلاتی تھی، اسکول سے آتے ہی سب سے پہلے میں اسی کو اٹھاتا، چومتا اور اپنے دل کو تسکین پہنچاتا۔

مجھے ہر وقت اسی ننھی گڑیا کا خیال رہتا، اسی کی فکر لگی رہتی نجانے اس نے دودھ پیا ہوگا یا نہیں، کہیں وہ رو تو نہیں رہی، امی نے اس مارا نہ ہو۔ انہی خیالوں میں سارا وقت گذرتا اور اس وقت تک چین نہ ملتا جب تک اسے دیکھ نہ لیتا۔

اس کا رونا، اس کا دکھ مجھ سے دیکھا نہ جاتا تھا۔ وہ کبھی بیمار پڑجاتی تو میں بھی سکون سے محروم ہوجاتا۔ عمر کی منزلیں گذرتی رہیں۔ وقت گذرتا رہا مگر اس بہنا کی محبت میرے من میں گہری سے گہری ہوتی رہی۔ بچپن میں اس کو کوئی مارتا یا دکھ دیتا تو جب تک میں بدلہ نہ لے لیتا چین نہ پاتا۔ اپنے سارے کھلونے، کتابیں اس کو دے دیتا اپنے حق کا جیب خرچ بھی اس پر خرچ کردیتا۔ مجھے ہر وقت یہی خیال رہتا کہ میں نے اپنی بہنا کا خیال رکھنا ہے۔
وہ میرے ساتھ ہی اسکول میں پڑھتی تھی، بہانے بہانے سے اس کی کلاس میں جاتا کہ دیکھوں وہ پریشان تو نہیں ہے۔ اسے کسی نے مارا تو نہیں۔ میرا دل اسی کے ساتھ اٹکا رہتا تھا۔

بچپن نوجوانی میں ڈھلا تو میری محبت نے غیرت کا روپ دھار لیا۔ اس کی عزت و عظمت کے تحفظ کی ذمہ داری محبت کا تقاضہ بن گئی۔ میرے بازوؤں کا طاقتور حصار اس کی عصمت کے گرد اس کا محافظ بن گیا۔ ہر غلیظ نظر، گندے جملے سے بچانا میرا فرض بن گیا۔ یہ میری پیاری بہنا ہے۔ کوئی اس کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھے، کوئی انگلی اس کی طرف اٹھے۔ مجھے بھلا کب یہ گوارا تھا۔ خود اسکول چھوڑ کر آتا خود ہی واپسی پر ساتھ لاتا اور اپنی محبت اور حفاظت اس پر نچھاور کرتا۔ میری بہنا کو بھی مجھ سے شدید محبت تھی۔ میرے بغیرکھانا نہیں کھاتی تھی۔ میری پسند کا خیال رکھتی تھی۔

زندگی کا یہ نازک دور مستقبل کو بنانے یا بگاڑنے والا دور ہوتا ہے۔ جہاں نسل نو کو ذہنی و فکری رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس اہم ترین فریضہ میں والدین اور اساتذہ کا کردار بہت اہم ہے۔ ہم دونوں بہن بھائی نوجوانی کے عالم میں اپنی زعم کے مطابق اپنی ڈگر بنارہے تھے۔ گھر سے کالج اور کالج سے گھر اور اپنی تعلیم اور ہم عمروں سے دوستی۔ میڈیاکی یلغار، مسلم دشمن قوتوں کے ہتھکنڈے، کالجز میں مغربی افکار کا پرچار اور اسلام مخالف رویوں کا پھیلاؤ، لادینیت کا فروغ، مخلوط تعلیمی ماحول، ان سب باتوں سے ہم بے بہرہ تھے اور اپنی زہریلے ناگوں کا شکار ہورہے تھے مگر ہمیں خبر تک نہ تھی اور نہ ہی والدین اور اساتذہ نے ہمیں بچانے کی سعی کی۔ غیر نصابی سرگرمیوں میں ڈرامے، فلمیں، رقص و سرور، ملکی و غیر ملکی موویز ہمارا مشغلہ تھیں۔ مخلوط پروگرام تو ہماری مرغوب چیز تھی۔

میری وہ بہنا جو حور جیسی پاکیزگی، گلاب جیسی نزاکت، شبنم جیسی ملائم دنیا میں آئی تھی۔ مجھے انہی چیزوں کا خیال رکھنے کا حکم میری والدہ نے دیا تھا۔ مگر میرے سامنے ہی یہ ساری خصوصیات دھیرے دھیرے نجانے کہاں چلی گئی تھیں۔ ان کی جگہ بے باکی، فیشن، آزادی اور مغربی ماحول نے لے لی تھی۔ کیونکہ میرے خیال میں یہی تو ترقی تھی جو ہم کررہے تھے۔

پھر وہ سانحہ پیش آیا جسکا میں تصور بھی نہ کرسکتا تھا، میری پیاری سی بہن تہذیب نو کی دلدادہ بن گئی۔ نماز جو کبھی پڑھ لیتی تھی وہ بھی چھوڑدی، تلاوت قرآن جاتی رہی، شیطانی رقص اور غلیظ بیہودہ لٹریچر اس کی الماری میں دیکھ کر میں لرز اٹھا۔ جس دفتر میں وہ سیکریٹری تھی وہاں دیر تک رہنا اس کا معمول بن گیا۔ اس کا لباس تنگ اور باریک ہوگیا۔ اس کی آنکھوں سے ستاروں کی وہ چمک غائب ہوگئی، معصومیت اور وقار ختم ہوگیا۔

اب مجھے احساس ہوا کہ جس چیز کی حفاظت کرنا تھی وہ جاتی رہی۔ میرا فرض تھا کہ میں اسے دین اسلام سے محبت سکھاتا، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا شوق دلواتا، اس کے رگ و پے میں ذکر اللہ اور فکر آخرت سموتا۔ میں نے اپنے ہاتھوں سے اس گلاب کو کانٹوں کے نذر کردیا۔ اس معصوم گڑیا کو گندی تہذیب کے زہریلے ناگوں کے حوالے کردیا۔ کاش میں اپنی ذمہ داروں کو سمجھ لیتا۔ مجھے کوئی بتا دیتا۔ میری کوئی رہنمائی کرتا۔ میرے والدین اپنے فرض کو بھول گئے۔ میرے اساتذہ نے اپنی ذمہ داری نہ نبھائی۔ مسجد کے منبر پر وعظ کرنے والے کالجز میں اپنی آوازنہ پہنچا سکے۔ یہ ادارے کتنی بیٹیوں کی قتل گاہ بن گئے اسلام دشمن قوتوں کے محفوظ اڈے بن گئے۔ فکری و نظریاتی جنگ انہوں نے جیت لیں۔ کتنی گڑیا تھیں جو میری بہنا کی طرح بربادی کی مسافر بن گئیں۔

آہ! میں کیسے اپنی بہنا کو گھر کی دہلیز پر واپس لاؤں؟ میں اس کی واپسی کے لیے سرگرداں ہوں۔ وہ تہذیب نو کی کانٹوں بھری وادی سے اسلام کی جنت میں لوٹ آئے، وہ برائی کی کڑی دھوپ سے نیکی کی ٹھنڈی چھاؤں میں لوٹ آئے۔ پھر سے اسی طرح معصوم و پاکیزہ بن جائے جیسے وہ میری والدہ کے پہلو میں لیٹی تھی جب میں اسکول سے لوٹا تھا۔ اسے معلوم ہوجائے کہ وہ جس قوم کی بیٹی ہے غیرت و حمیت اس کے صنعت لازم ہے۔ اسے پتہ چل جائے کہ مغربی افکار کے حامل لوگ اپنی ہوس زدہ فطرت کو تسکین دینے کے لیے معصوم بچیوں کو ورغلا کر اور آزادیٔ نسواں کا فریب دے کر گھر کی دہلیز سے باہر لا رہے ہیں۔
مخلوط اداروں میں ملازمت دے کر، باس کی سیکریٹری، رسیپنٹ کا روپ دیکر، ریکروٹمنٹ نمائندہ بناکر، مالیاتی اداروں کی پرکشش سیٹ دے کر اسے کانٹوں بھری وادی میں دھکیلا جارہا ہے۔ جہاں صرف اس کا وجود، آواز اور شخصیت کا سہارا لے کر کاروبار کو وسعت دی جارہی ہے۔

میں اپنی بہنا کو ان وادیوں میں ڈھونڈ رہا ہوں، کہیں ان کانٹوں سے زخمی اس ماحول سے بیزار مجھے وہ مل جائے تو میں اسے اسلام کی ٹھنڈی چھاؤں میں لے آؤں۔ میرا سفر جاری ہے مجھے اپنی والدہ کی وہ بات ستاتی ہے، رلاتی ہے ”اپنی بہنا کا خیال رکھنا۔“

میری بہنا! لوٹ آؤ کیا تمہیں بچپن کا وہ پیار یاد نہیں آتا۔ جب میں تمہاری تکلیف پر رویا کرتا تھا۔ کیا تجھے وہ دن بھول گئے جب تیری خاطر میں دوسروں سے ٹکرا جایا کرتا تھا۔ کیا تم نے وہ ساری محبتیں، قربانیاں فراموش کردیں۔ کیا تمہیں اپنے بھائی کا غم واپسی پر مجبور نہیں کرتا۔ جب تو روٹھتی تھی میں تجھ کو مناتا تھا۔ اب میں روٹھا ہوا ہوں کیا تم مجھے منانے نہیں آؤ گی۔

جب تجھے نیند نہیں آتی تھی تو میں تمہیں کہانیاں سناتا تھا اب میں راتوں کو سو نہیں سکتا۔ کیا مجھے کہانیاں سنانے نہیں آؤ گی۔ میں نے گھر کا دروازہ کھلا رکھا ہے اور ہمہ وقت دہلیز پر نظریں جمائے رہتا ہوں کب تیرے قدم اندر آجائیں۔ تہذیب نو سے اسلام کی طرف، ہوس زدہ ماحول سے عفت و عصمت کی طرف، کانٹوں سے پھولوں کی طرف، غلیظ ماحول سے پاکیزہ ماحول طرف، بے بس تنہائیوں سے تحفظ کی طرف۔

تیرے بھائی کی غیرت، دینی حمیت، اس کے مضبوط بازو تیری عزت کے گرد حصار بننے کے لیے بے تاب ہیں۔ لوٹ آؤ! میری بہنا لوٹ آؤ تجھے اپنے بھائی کی محبتوں کی قسم لوٹ آؤ۔ ورنہ ہر بھائی کا بھروسہ ختم ہوجائے گا اور ”مائیں“ اپنے بیٹوں کو بیٹی کی پیدائش پر کبھی نہیں کہیں گی ”اپنی بہنا کا خیال رکھنا“۔