فہرست الطاہر
شمارہ 53، ذوالقعدہ 1429ھ بمطابق نومبر 2008ع

درس قرآن

علامہ ابوالعارف محمد کامل سہارن

بِسْمِ اللّہِ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ

اآلم۔ ذَالِکَ الْکِتَابُ لاَ رَیْبَ فِیہِ ہُدًی لِّلْمُتَّقِینَ۔ الَّذِینَ یُؤْمِنُونَ بِالْغَیْبِ وَیُقِیمُونَ الصَّلاۃَ وَمِمَّا رَزَقْنَاہُمْ یُنفِقُونَ۔ والَّذِینَ یُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَیْکَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِکَ وَبِالآخِرَۃِ ہُمْ یُوقِنُونَ۔ أُولٰئِکَ عَلَی ہُدًی مِّن رَّبِّہِمْ وَأُولٰئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ۔

1: الف لام میم (حقیقی معنی اللہ اور رسول صلّی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں) 2: (یہ) وہ عظیم کتاب ہے جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں، (یہ) پرہیزگاروں کے لیے ہدایت ہے۔ 3: جو غیب پر ایمان لاتے اور نماز کو (تمام حقوق کے ساتھ) قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا ہے اس میں سے (ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں۔ 4: اور وہ لوگ جو آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے اور جو آپ سے پہلے نازل کیا گیا (سب) پر ایمان لاتے ہیں اور وہ آخرت پر بھی (کامل) یقین رکھتے ہیں۔ 5: وہی اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور وہی حقیقی کامیابی پانے والے ہیں۔ (عرفان القرآن)

سورۃ بقرہ کا تعارف:

قرآن مجید کی تمام سورتوں میں سب سے طویل سورۃ بقرہ ہے، اس کی آیت نمبر 281 کے علاوہ باقی پوری سورت مدینہ منورہ میں نازل ہوئی۔ اور یہ مدینہ منورہ میں نازل ہونے والی سورتوں میں سب سے پہلی سورت بھی ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن)

سورۃ بقرہ کے مضامین:

1:ایمان بالغیب :2 اقامت صلواۃ 3: اداء زکواۃ 4: تحویل قبلہ :5 دلائل توحید :6 ماہ رمضان کے روزے 7:حج بیت اللہ 8:جہاد فی سبیل اللہ 9: حقوق والدین 10: مصارف صدقات 11: کفالت یتیم 12: احوال کفار و منافقین 13: عائلی زندگی کے اصول 14 احکام نکاح، طلاق، رضاع، عدت اور ایلاء 15: قسم کھانے کے احکام 16: حرمت جادو 17: قتل ناحق کی ممانعت 18: قصاص قتل 19: شراب کی حرمت 20: سود کی حرمت 21: جوئے کی حرمت 22: احکام و مسائل حیض وغیرہ۔ سینکڑوں ایسے مضامین سورۃ بقرہ میں واضح طور پر بیان کیے گئے ہیں جن سے مسلمانوں کے اجتماعی و انفرادی نظام حیات، عبادات، معاملات، سیاسیات، معاشیات، اقتصادیات اور عمرانیات کے مسائل بڑی خوبصورتی کے ساتھ حل ہوجاتے ہیں۔

سورۃ بقرۃ کے معنی و مفہوم:

سورت لفظ سور البلد سے لیا گیا ہے۔ سور البلد کے معنی ہیں شہر کی حفاظتی دیوار (قلعہ)۔ جس طرح قلعہ میں پورا شہر محفوظ ہوتا ہے اور حفاظتی دیوار اس شہر کو محیط ہوتی ہے اسی طرح سورۃ بھی اپنی تمام آیات، کلمات اور حروف کو محیط ہوتی ہے۔

بقرہ لفظ کے معنی ہیں ”گائے“۔ اس سورۃ پاک میں بنی اسرائیل (یہود) کی ایک گائے کا ذکر کیا گیا ہے، اس لیے اس سورۃ کو سورۃ بقرہ کہا گیا ہے، یعنی وہ سورۃ جس میں گائے کا ذکر کیا گیا ہے۔

سورۃ بقرۃ کی آیات و حروف کی تعداد:

سورۃ بقرہ میں ایک ہزار خبریں، ایک ہزار امر (حکم) اور ایک ہزار نہی (منع) کے احکام مذکور ہیں اور یہ سورت 287 آیات اور 2121 کلمات اور 25500 حروف پر مشتمل ہے (ابن کثیر)۔

فضائل و برکات سورۃ بقرہ:

سورۃ بقرہ کے بے شمار فضائل و برکات، احادیث و آثار میں مذکور ہیں، ان میں چند ایک یہ ہیں۔

1: رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ، شیطان اس گھر سے بھاگ جاتا ہے جس میں گھر میں سورۃ بقرہ پڑھی جاتی ہو۔ (سنن نسائی)

2: جس شخص نے سورۃ بقرۃ اور سورۃ آل عمران کو پڑھا، روز قیامت یہ دونوں سورتیں کہیں گی: اے ہمارے پروردگا! تو اس شخص سے مواخذہ نہ فرما۔ (درمنثور)

3: ہر چیز کا ایک کوہان ہوتا ہے اور قرآن کا کوہان سورۃ بقرہ ہے، جس کسی گھر میں سورۃ بقرۃ پڑھی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا بھاگ جاتا ہے۔ (سیوطی)

الٓم: ان حروف ثلاثہ (الف، لام، میم) کے حقیقی معنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلّی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کوئی بھی نہیں جانتا اور چوں کہ اللہ تعالیٰ کا کلام عبث (بے کار، فضول) نہیں ہوتا، لہٰذا اس کے معنیٰ و مفہوم، رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم ضرور جانتے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے محبوب محمد مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وسلم کے درمیان راز و نیاز کے کلمات ہیں۔

ذَالِکَ الْکِتَابُ لاَ رَیْبَ فِیہ

کتاب سے مراد قرآن مجید ہے یہی مراد تمام مفسرین نے بیان فرمائی ہے، اس جملے کے بہت سے معنیٰ اور مفہوم بیان کیے گئے ہیں ان میں سے ایک معنیٰ یہ بھی ہیں کہ ”قرآن مجید وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں“۔ اس سے واضح کردیا گیا ہے کہ قرآن مجید، کلام الٰہی، لاریب ہے شک کرنے والے اپنی کم علمی کا ثبوت پیش کررہے ہیں ورنہ یہ کتاب ہر قسم کے شک و شبہ سے بالکل بھی پاک ہے۔

ہُدًی لِّلْمُتَّقِینَ:

قرآن پاک، کلام خدا، پرہیزگاروں کے لیے ہدایت ہے۔ ہدایت کے معنیٰ و مفہوم:

ہدایت کے معنی راست دکھانا، نشان راہ، منزل مقصود کا پتہ دینا، رہبری کرنا یا منزل مقصود کا پتہ بھی بتانا ہے، اپنے پڑھنے والے کی رہبری و رہنمائی بھی کرتا ہے تو جو اس پر عمل کرتا ہے اس کو قرآن اپنی مقصودی منزل تک پہنچا بھی دیتا ہے۔

تقویٰ اور اس کے درجات:

تقویٰ کے معنیٰ ہیں حفاظت، پردہ۔ شریعت مطہرہ میں تقویٰ سے مراد یہ ہے کہ انسان ان کاموں سے بچے جو اس کے لیے آخرت میں نقصان کا باعث ہوں۔

تقویٰ کے تین درجے ہیں۔

1: دائمی عذاب سے بچنا۔ اس اعتبار سے ہر مسلمان متقی ہے کہ اس کو دائمی عذاب نہیں ہوگا۔
2: تمام گناہوں سے بچنا، اور عموماً تقویٰ کے یہی معنی مراد لیے جاتے ہیں اس اعتبار سے پرہیزگار لوگ متقی ہیں۔

3: ہر اس چیز سے بچنا جو اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کی رضا اور اس کے قرب سے روکے۔ اس اعتبار سے انبیاء کرام علیہم السلام اور اولیاء کاملین علیہم الرحمۃ متقی ہیں۔ اور قرآن مجید ہر درجے کے متقی کے لیے، اسی کے لائق و مناسب، ہدایت ہے۔ لہٰذا تمام لوگوں کو تو اسلام اور ایمان کی ہدایت، خواص جو احسان و ایقان کی ہدایت اور خاص الخاص کو جمال و کمال دوست کے مشاہدے کی ہدایت ہے۔

تقویٰ کے تقاضے : 1۔ گناہ پر قائم نہ رہے اور اپنی عبادت پر غرور نہ کرے۔ (حضرت علی) 2: اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں غیر اللہ کو اختیار نہ کرے اور ساری چیزیں اللہ تعالیٰ کے قبضے میں جانے۔ (حضرت حسن بصری) 3: خلق خدا تیری زبان میں، فرشتے تیرے کاموں میں اور پروردگار تیرے دل میں عیب نہ پائے (حضرت ابراہیم بن ادہم) 4: جس طرح تو اپنے جسم کو خلقت کے لیے لباس وغیرہ سے آراستہ کرتا ہے اسی طرح ہی اپنے دل کو حق تعالیٰ کے لیے آراستہ کر۔ (حضرت واقدی) 5: متقی وہ ہے جو ہر بلا پر صابر اور ہر نعمت پر شاکر اور ہر قضا پر راضی، قرآن پاک پر مکمل عامل رہے (جمہور صوفیائے کرام)

(جاری ہے)