فہرست الطاہر
شمارہ 53، ذوالقعدہ 1429ھ بمطابق نومبر 2008ع

اداریہ: ایڈیٹر کے قلم سے

چھوٹی سی بات

یہ شمارہ اس وقت آپ کے ہاتھوں میں ہوگا جب اپنے وقت کے عظیم مصلح اور صوفی باصفا، عالم باعمل اور خلق خدا سے ہمدردی و پیار رکھنے والے اللہ کے پیارے دوست اور رسول اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کے نائب حضرت اللہ بخش المعروف سوہنا سائیں غفاری فضلی نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ کے عرس مبارک کی عظیم الشان تقریبات مجدد دوراں ولی ابن ولی حضرت خواجہ محبوب سجن سائیں مدظلہ العالی کے زیر نگرانی انتہائی شایان شان طریقے سے جاری و ساری ہونگی۔ پاکستان بھر اور بیرون پاکستان سے کئی عشاق اپنی محبت و مریدی کی حق ادائیگی کرنے کے لیے ایک لمبا اور مشکل سفر طے کرکے اللہ آباد شریف کنڈیارو پہنچ چکے ہوں گے۔ ہر طرف اللہ کے ذکر کی دھوم ہوگی اور نور محمدی صلّی اللہ علیہ وسلم ٹھاٹھیں مار رہا ہوگا۔ اللہ آباد شریف کی فضا عرش تک نوری فرشتوں سے بھری ہوئی ہوگی۔ اللہ اور اس کے رسول صلّی اللہ علیہ وسلم سے عشق اور محبت رکھنے والے مختلف ناموں، مختلف قبیلوں، مختلف نسلوں اور مختلف رنگوں والے ہزارہا انسان بغیر کسی مفاد و غرض کے جمع ہوکر ذکر اللہ اور آقا صلّی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجنے میں مصروف ہوں گے۔ ہر کوئی شخص چاہتا ہوگا کہ جتنا بھی ہوسکے یہاں سے فیض و محبت کی جھولیاں بھر بھر کے سمیٹ لوں۔ سبحان اللہ کیا منظر ہوگا کہ اللہ کے دوست حضرت خواجہ خواجگان سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہٗ نے جو عشق الٰہی اور عشق مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وسلم کا پودا اللہ آباد شریف میں لگایا تھا وہ آج بہت ہی مضبوط اور تناور درخت کی صورت میں ان کی روح کو تسکین دے رہا ہوگا اور سلف صالحین کے ارواح طیبہ حضور سوہنا سائیں کو خوب مبارک بادیں دے رہے ہوں گے اور حضور سوہنا سائیں وہ مبارک بادیں وصول کرتے ہوئے اس محبت بھرے اجتماع میں فقیروں کا جوش و جذبہ دیکھ کر خوب خوش ہو رہے ہوں گے اور اپنے اکلوتے فرزند دلبند کی اپنی مشن سے والہانہ وابستگی اور اس کو روز بروز ترقی دلاتا دیکھ کر ان پر فخر کررہے ہوں گے، اپنے لخت جگر کو دعاؤں سے نواز رہے ہوں گے اور آقائے نامدار آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں اپنے لخت جگر کی ترقی و عروج کے لیے عرض گذارش کررہے ہوں گے اور عرس مبارک کی تقریبات کا احوال پیش کررہے ہوں گے۔ سبحان اللہ کیا منظر ہوگا کہ مدینہ طیبہ میں آقا صلّی اللہ علیہ وسلم کی محفل سجی ہوگی جہاں پر آپ صلّی اللہ علیہ وسلم اپنے پیارے صحابہ کرام، اہل بیت عظام، ائمہ حضرات اور اولیاء اللہ کے جھرمٹ میں جلوہ افروز ہوں گے اور اپنے پیارے عاشق کی زبانی عرس مبارک کا احوال سن کر جاننے کے باوجود بھی تفصیل سے تقریبات کا احوال معلوم کررہے ہوں گے اور اپنے خادم و عاشق کی باتیں سنتے ہوئے زیر لب مسکرائے جارہے ہوں گے۔ سبحان اللہ۔ سبحان اللہ۔ سبحان اللہ۔ دل کرتا ہے کہ پورا صفحہ سبحان اللہ کے الفاظ سے بھردیا جائے۔ سبحان اللہ

صرف ایک چھوٹی سی بات ان دوستوں کے نظر ہے جو عرس مبارک پر تشریف فرما ہوئے ہیں۔ عرس مبارک پر حاضر ہونا خوش بختی کی علامت اور سعادت و نیک بختی ہے لیکن ہمیں اپنے مرشد و مربی حضرت خواجہ محبوب سجن سائیں کا یہ فرمان پیش نظر رکھنا چاہیے کہ یہاں عرس مبارک پر حاضری صرف رسماً نہ ہو بلکہ اس نیت سے ہو کہ عرس مبارک سے واپسی پر ہمارے اندر حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہٗ کی محبت، اخوت و رواداری کی صفات جلوہ گر ہونی چاہییں کیونکہ یہی دل ہے جو جلوہ گاہ دوست ہے، اگر وہ دل عرس مبارک پر حاضری کے باوجود دوست کے جلوہ کے قابل نہ بن سکے تو پھر آنے سے کیا حاصل۔۔۔۔۔

محمد جمیل عباسی طاہری