فہرست الطاہر
شمارہ 53، ذوالقعدہ 1429ھ بمطابق نومبر 2008ع

آپ کے خطوط

محترم قارئین! السلام علیکم! مزاج بخیر پچیسویں سالانہ عرس مبارک حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہٗ کے موقعہ پر الطاہر آپ کے سامنے موجود ہے۔ ہماری پوری کوشش ہے کہ آپ کی آراء و تجاویز و تنقید کی روشنی میں الطاہر کو بہتر سے بہترین بنایا جاسکے۔ لہٰذا ادارہ الطاہر آ پ کے مضامین آراء تنقید و تبصروں کو ہمیشہ خوش آمدید کہتا ہے۔ امید ہے کہ آپ کی آراء کی روشنی میں الطاہر بہتر سے بہترین کی طرف اپنا سفر جاری رکھے گا۔ اور یقین ہے کہ ہمیشہ کی طرح آپ ہماری حوصلہ افزائی فرماتے رہیں گے۔ ملاحظہ فرمائیں انعامی تبصرہ جسے کراچی سے صنور عباس نے بھیجا ہے۔




سلام کے بعد عرض ہے کہ رسالہ الطاہر دن بدن ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ سارے ہی مضمون ایک سے بڑھ کر ایک تھے۔ کوئی گلاب، کوئی چنبیلی، کوئی موتیا تو کوئی سدا بہار۔ ڈیزائن اور خوشبو تو الگ الگ تھی لیکن سب مضمون دل پسند تھے تمام مضمون نگار حضرات کی جتنی حوصلہ افزائی کی جائے کم ہے۔ رہ گئی داد دینے کی بات تو اس سے بڑھ کر داد کیا ہوگی کہ ہماری نسبت بھی رسالہ الطاہر سے ہے اور رسالہ الطاہر ہمارے محبوب مرشد کامل کے نام مبارک پر شایع ہوتا ہے۔ اور رسالہ الطاہر ایک دینی رسالہ ہے اس لیے ہر کلمہ گو کو حسب توفیق رسالہ الطاہر کی خدمت سرانجام دینی چاہیے۔ کسی کو قلم سے خدمت کرنی چاہیے تو کسی کو پڑھ کر اور کسی کو ہدیہ کرکے یا اپنے دوست و احباب کو تحفہ دیکر تو کسی کو لکھنے پڑھنے کی طرف توجہ دلاکر۔ باقی میری تجویز ہے کہ رسالہ میں تذکرہ اولیاء کے نام سے ایک قسط وار سلسلہ شروع فرمائیں۔ تمام اولیاء اللہ روشنی اور راہ حق کے سفیر تھے اور ہیں۔ اپنے مرشد کامل کے بارے میں جو دینی خدمت کے معاملے میں تذکرہ شروع فرمایا ہے یہ خوش آئند ہے اس سلسلہ کو جاری و ساری رکھا جانا چاہیے۔ نئی نسل کی طرف بھی کوئی پیغام شایع فرمائیں۔ کیونکہ نئی نسل نے مدینے والے محبوب خدا کی ثقافت کو چھوڑ کر مغرب کی ثقافت کو اپنانا شروع کردیا ہے۔ اگر یہ مغرب کی تقلید نہ رکی تو یہ انسانوں کو تباہی کی طرف لے جائے گی۔ باقی الطاہرکی ساری ٹیم کے لیے حوصلہ افزائی کی خبر ہے کہ رسالہ الطاہر کے بہترین نمائندگی کرنے پر میرے والد کو مرکز ساڑھے چار نمبر بلدیہ ٹاؤن سعید آباد بسم اللہ چوک برانچ کی طرف سے حسن کارکردگی پر ایک ایوارڈ اور ایک بہترین بک (جلوہ گاہِ دوست) تحفہ میں دی گئی۔ جو ہمارے لیے بہت بڑی خوشی کی بات ہے۔ ہماری دعا ہے کہ رسالہ الطاہر دنیا کے کونے کونے میں پہنچ جائے اور مرشد کامل کا فیض ہرسو پھیل جائے۔ الطاہر کی ساری ٹیم کے اللہ دین و دنیا میں درجات بلند فرمائے۔ دین و دنیا میں کامیابی سرخرو عطا فرمائے آمین۔

(صنورعباس طاہری۔ کراچی نمبر 51 بلدیہ ٹاؤن سعید آباد)


 

شمارہ نمبر 52 شب قدر کو ملنا نصیب ہوا۔ رسالے کی تحریروں کی تعریف بیان ہی نہیں ہوسکتی۔ اسوقت تو خوشی کی انتہا نہیں رہی جب اپنے بھیجے ہوئے مضمون ”تصور شیخ“ پر نظر پڑی۔ احقر الطاہر کا تہہ دل سے شکرگذار ہے۔ رسالے میں دو پوائنٹ قابل غور تھے ایک تو شمارے میں فہرست کا صفحہ غائب تھا دوسرا سالانہ عرس مبارک حضور سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ کی رسالے کے پچھلی طرف تاریخوں میں غلطی تھی۔

(بلال احمد طاہری۔ ج۔ س۔ ج۔ ا۔ م برانچ حب سٹی)


 

شمارہ نمبر 52 پڑھا بہت ہی دل کو سکون ملا۔ کبھی لکھنے کی کوشش نہیں کی مگر اس مرتبہ یہ عاجز چند تحریریں لکھ کر بھیج رہا ہے۔ امید ہے کہ آپ ان تحریروں کو شائع کرکے مجھے شکریے کا موقع عنایت فرمائیں گے۔ بقیہ الطاہر رسالہ اپنی مثال آپ ہے۔

(پیر بخش طاہری۔ پتھر کالونی حب چوکی ضلع لسبیلہ بلوچستان)


 

پیارا الطاہر ملا پڑھ کر بہت خوشی محسوس ہوئی کیونکہ اس پیارے سے رسالے میں میرا نام تو موجود تھا لیکن جن دوستوں کو میں نے الطاہر گفٹ کے طور پر دیا تھا۔ جب انہوں نے پڑھا اور پڑھ کر کچھ مواد لکھ کر بھیجا اور وہ آپ نے شایع کیا تو بیحد خوشی محسوس کی۔

(سلمان محمود۔ المرکزٹول پلازہ کراچی)


 

الطاہر رسالے کے ہم پرانے قاری ہیں تقریباً تین سال سے ہم اس کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ الطاہر رسالہ ایک جامع اور معلوماتی رسالہ ہے جسے پڑھ کر ہم نادیدہ خوشی محسوس کرتے ہیں۔ ہمارے دوست محمد وسیم طاہری صاحب یہ رسالہ ہمیں تحفتاً نذر کرتے ہیں۔ اگر آپ کی اجازت ہو تو ہم ایک سلسلہ شروع کرنا چاہتے ہیں جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی سیرت پر مشتمل ہوگا۔

(خان سعدی۔ سعیدی آباد بلدیہ ٹاؤں کراچی)

سعدی صاحب مضمون بشرط معیاری ہماری سر آنکھوں پر۔


 

جیسا کہ سب جوابات آسان ہیں مگر شاعر کا نام یا شعر کو مکمل کرنا بہت مشکل ہے۔ ایک تو ہمارے پاس کوئی شعر و شاعری کی کتاب نہیں ہے۔ دوسرا شعر وغیرہ ڈھونڈنا بہت مشکل ہے۔ آپ اگر مہربانی فرما کر شعر و شاعری کا سلسلہ بند کردیں یا اسے آسان کردیں یعنی بتادیں کہ کون سی کتاب ہے جس میں وہ شعر ہے۔

(محمد سلیم بروہی طاہری۔ لاڑکانہ سندھ)

بھائی محمد سلیم صاحب اس مرتبہ تو ذہنی آزمائش میں کوئی شعر شامل ہی نہیں تھا۔ شاید آپ کو غلط فہمی ہوئی ہو۔


 

جناب ایک دفعہ پھر الطاہر لیٹ ہوا ہے جب سے یہ دوماہی ہوا ہے تب سے کبھی بھی ٹائم پر نہیں ملا بلکہ یوں کہوں کہ الطاہر ہمارے لیے وہ ہی سہ ماہی ہے۔ ٹائٹل پر جو Picture ہوتی ہے اس Picture سے Colour بالکل Match نہیں کرتے بلکہ Picture دھندلی سی ہوتی ہے اور بین الاقوامی عرس شریف کی دو دو Dates۔ اتنی ذہنی پریشانی ہوئی ہے کہ سمجھ نہیں آرہا کیا کروں معاف کردوں، درگزر کردوں لیکن غلطی پر غلطی مسلسل ہورہی تھی۔ آخر میں قلم کا سہارا لیا اور اپنی دل کی بھڑاس لکھ ڈالی۔ شمارہ نمبر 52 کے مضامین کی تو بات ہی اور ہے۔ ہر مضمون ایک سے ایک بڑھ کر ایک تھا۔ خاص کر تصور شیخ اور فضائل رمضان۔ مگر فضائل رمضان تب پڑھا جب رمضان رخصت ہورہا تھا بس کیا کریں؟ ایک اہم بات وہ یہ کہ آپ نے شمارہ لیٹ ہونے کی دو وجوہات بتائی ہیں۔ 1 لوڈشیڈنگ۔ 2 پیپر مہنگا۔ ایڈیٹر صاحب ہم پاکستانی ان مسائل سے پیدائشی واقف ہیں کیونکہ یہ ہمیں وراثت میں ملے ہیں۔ پیپر مہنگا ضرور ہے ہم بھی پیپر مہنگے ہونے کی وجہ سے پریشان ہیں۔ آپ نے رسالہ الطاہر کے Rate بڑھائے لیکن Quality کو نظر انداز مت کریں اور رسالے کا سائز بھی بلکل نہ سمجھ میں آنے والا ہے اس پر بھی نظر ڈالیں۔

(محمد رفیق حنفی کراچی)


 

شمارہ نمبر 52 پڑھا تمام مضامین اچھے ہیں۔ خاص کر درس قرآن، رمضان المبارک عطیہ خداوندی، شب قدر، ناموس مصطفی اولین مقصد ہے بہت اچھے تھے۔

(صدام علی طاہری۔ حب بلوچستان)


 

شمارہ نمبر 52 پڑھا تمام مضامین بہت ہی اچھے ہیں خاص کر درس قرآن، رمضان المبارک، عظمۃ صحابہ، فضائل رمضان اور تمام ہی مضامین اچھے تھے۔

(محمد اسلم۔ اللہ آباد ٹاؤن۔ مگسی کالونی حب)


 

الطاہر کا شمارہ نمبر 52 پڑھنے کو ملا جسے پڑھ کر بہت سکون ملا اور جامع معلومات ملی۔ گذشتہ کافی شماروں سے ہمارا مواد نظر انداز کیا جارہا ہے یا شاید آپ کو نہیں ملتا ہے۔ میں آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ یہ کرامت ہے کہ جب سے میں نے الطاہر میں لکھنا شروع کیا تو اس کے فوراً بعد میرا مواد دوسرے رسالوں اور اخباروں میں شائع ہونے لگا جب کہ اس سے پہلے میں نے بہت کوشش کی اور بہت مواد بھیجا لیکن کسی بھی رسالے یا اخبار نے اسے شایع نہیں کیا۔ یہ سب میرے محبوب سجن سائیں کی نگاہ کرم ہے۔

(محمد رمضان طاہری جوکھیو۔ برانچ بندیچا اسٹاپ)


 

عرض یہ کہ میں نے ”حضرت سوہنا سائیں نور اللہ کا اتباع سنت رسول“ کے عنوان پر داڑھی، مسواک اور دستار پر مضمون لکھ کر الطاہرکے مضمون نویسوں میں اپنا نام شامل کرنا چاہا ہے۔ امید ہے کہ کرم نوازی فرماکر مشکور فرمائیں گے۔

(غلام محمد طاہری۔ ج۔ س۔ ج۔ ع۔ ط ضلع لسبیلہ)

بھائی غلام محمد صاحب آپ کا مضمون نمبر آنے پر شایع کیا جائے گا۔


 

ماشاء اللہ الطاہر بہت اچھا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ اس میں خاص نمبر بھی شایع کریں۔ اوراس میں ہماری دینی معلومات میں اضافے کے لیے ”آپ کے مسائل اور ان کا حل“ بھی شروع کریں اور اس سلسلے کو روکیں مت۔ آپ اس میں نوجوانوں، خواتین اور بچوں کے حوالے سے مضمون شایع کریں اوراس میں سائنس، تاریخی اور دینی معلومات کے لیے مضمون شایع کریں۔ آپ اس کے اندر اسلامی معیشیت اسلامی بینکنگ اور اسلامی ثقافت کے حوالے سے مضمون شایع کریں۔

(فقیر زین العارفین انصاری طاہری۔ گلشن اقبال کراچی)


 

شمارہ نمبر 52 پڑھا تمام مضامین اچھے تھے۔

(محمد اسلم طاہری۔ دارو ہوٹل پتھر کالونی حب بلوچستان)


 

بندہ ناچیز مقابلہ ذہنی آزمائش اور بزم الطاہر میں تحریریں ارسال کررہا ہے۔ امید ہے کہ شائع کرکے شکریے کا موقع دیں گے۔

(فقیر حضور بخش طاہری۔ دارو ہوٹل حب بلوچستان)


 

الحمدللہ پہلی بار خط لکھ رہی ہوں مجھے امید ہے کہ آپ میرا خط ضرور شایع کریں گے۔ شمارہ نمبر 52 پڑھا بہت اچھا لگا ایڈیٹر کے قلم سے، فضائل رمضان پڑھا بہت اچھا لگا اور شب قدر کے بارے میں پڑھا بہت اچھا لگا ہمیں بہت سی معلومات حاصل ہوئی۔

(بے نظیر طاہری۔ دنبہ گوٹھ کراچی)


 

شمارہ نمبر 52 پڑھ کر بہت خوشی ہوئی۔ درس قرآن، ایڈیٹر کے قلم سے، رمضان المبارک عطیہ خداوندی، فضائل رمضان اور تمام مضامین بہت پیارے ہیں اور میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضور قبلہ عالم کی جماعت اور تمام اہل اسلام پر اپنی رحمت کا سایہ قائم رکھے۔

(صائمہ طاہری۔ دنبہ گوٹھ کراچی)


 

بعد از سلام عرض ہے کہ آج کافی عرصہ کے بعد الطاہر میں واپسی ہورہی ہے۔ باقی الطاہر کے تمام مضامین اچھے تھے۔ مضامین پڑھ کر تبصرہ خطوط کی شکل میں کرنے والی بات عاجز کو بہت پسند آئی۔ امید ہے کہ آپ وقت کے ساتھ ساتھ الطاہر کو اور زیادہ بہتر بتائیں گے۔

(راشد محمود طاہری۔ نشتر کالونی لاہور)


 

ایڈیٹر صاحب جیسا کہ آپ کا پیارا سا الطاہر پڑھا۔ پڑھ کر بہت خوشی ہوئی کیونکہ اس میں اس عاجز کا نام بھی آپ نے شامل کیا۔ اور خوشی کی بات یہ بھی ہے کہ سوہنا سائیں کا عرس مبارک بھی قریب آرہا ہے جس کی آگاہی ہمیں آپ نے کروادی۔

(حافظ وحید علی بھٹی۔ جامعہ عربیہ طاہریہ ٹول پلازہ کراچی)


 

شمارہ نمبر 52 ماہ ستمبر زیر مطالعہ ہے۔ ماشاء اللہ تمام مضامین بہت ہی زیادہ معلوماتی اور پرفیض ہیں۔ آپ سے گذارش ہے کہ ”آپ کے مسائل اور ان کا حل“ ضرور شایع کریں۔ ہمیں الطاہر رسالہ بہت دیر سے ملتا جب تک الطاہر نہیں پڑھتے چین نہیں ملتا۔ڳ

(فریدہ طاہری۔ دنبہ گوٹھ ملیر کراچی)


 

شمارہ نمبر 52 پڑھ کر دل سرور سے سرشار ہوگیا۔ اس امید سے پہلی بار خط لکھ رہے ہیں کہ آپ ہمیں مایوس ہونے نہ دیں گے اس رسالے میں مضمون ”ناموس مصطفی اولین مقصد ہے“ اور ”فضائل رمضان“ کے بارے میں کافی معلومات حاصل ہوئی اور بہت ہی خوشی محسوس ہوئی۔ کالم نگار نے بڑے ہی دلفریب انداز میں موتیوں جیسے الفاظ چن کر لکھا ہے۔ ایڈیٹر صاحب برائے مہربانی گلہائے رنگ رنگ کی ترتیب پر تھوڑا سا غور و فکر کیجیے۔ مطلب یہ کہ اس میں اک قسم کی ترتیب ہو یعنی پہلے خدا کی وحدانیت کا ذکر ہو اس کے بعد قرآن مجید اور احادیث، نعت و منقبت اور اسکے بعد عام معلومات اقوال زریں اور آخر میں لطیفے وغیرہ کی ترتیب بنائی جائے تو بہتر رہے گا۔ اور آخر میں الطاہر رسالے سے مستفیض والے احباب کی التماس ہے کہ رسالہ پڑھ کر اپنے نئے دوستوں کو گفٹ کردیں تاکہ دوسرے بھی اس کے فیض سے مستفیض ہوسکیں۔

(قاری نثار احمد جونو طاہری۔ گلشن معمار کراچی)


 

میں پہلی بار خط لکھ کر حصہ لے رہی ہوں، امید ہے کہ آپ مجھے مایوس نہیں فرمائیں گے، میں اگر مضامین ارسال کروں تو آپ شایع کریں گے؟۔

(این شر طاہری۔ دربار اللہ آباد شریف کنڈیارو)

محترم بہن الطاہر ہمیشہ معیاری مضامین کو خوش آمدید کہتا ہے۔


 

جناب میں نے الطاہر کا نیا شمارہ پڑھا ماشاء اللہ پہلے سے بہتر نظر آیا، سب مضامین اپنی مثال آپ تھے، میں نے رسالہ الطاہر میں ”مسکراہٹ“ کے عنوان پر ایک کالم ارسال کیا تھاجو ابھی تک شایع نہیں ہوا، شاید آپ کو میری منتخب کردہ تحریر پسند نہیں آئی!

(بیوفا نذیراحمد شر طاہری۔ دربار اللہ آباد شریف کنڈیارو)

محترم بیوفا بھائی آپ کا مضمون شاید موصول نہ ہو پایا ہے برائے مہربانی دوبارہ ارسال فرمائیں۔