فہرست الطاہر
شمارہ 53، ذوالقعدہ 1429ھ بمطابق نومبر 2008ع

آپ کے مسائل اور ان کا حل

علامہ ساجد علی طاہری

 

سوال : کیا میں اپنے والدین کی طرف سے حج بدل کرسکتا ہوں؟ (محمدیونس۔ بنوں)

جواب: والدین کی طرف سے حج بدل کرنا جائز ہے۔ اگر آپ کے والدین پر حج فرض تھا اور انہوں نے اپنی زندگی میں نہیں کیا تو ان کی طرف سے ایصال ثواب کے لیے حج کرنا جائز ہے۔ حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلّی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی اور اس نے کہا کہ یارسول اللہ میری ماں نے نذر مانی تھی کہ میں حج کروں گی۔ اور وہ حج کرنے سے پہلے فوت ہوگئی کیا میں اس کی طرف سے حج کروں؟ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اس کی طرف سے حج کرو۔ یہ بتاؤ کہ اگر تمہاری ماں پر قرض ہوتا تو کیا تم ادا کرتیں؟ اس نے کہا ہاں۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر اللہ کا قرض بھی ادا کرو کیونکہ وہ ادا کیے جانے کا زیادہ حقدار ہے۔

اگر آپ صاحب استطاعت ہیں تو پہلے آپ اپنا فرض ادا کرو۔ اس کے بعد اپنے والدین کی طرف سے حج ادا کرو۔ یہ ان کے لیے نفلی حج ہوگا۔ ان کا ثواب آپ کے والدین کو پہنچ جائے گا۔ آپ کے حج کرنے سے ان کا فرض ساقط نہیں ہوگا لیکن نفلی حج کا ثواب ان کو ملے گا۔

(صحیح بخاری رقم الحدیث 7315۔ تفہیم المسائل جلد 3 صفحہ 179)۔


 

سوال: کیا نظر کا لگنا حدیث سے ثابت ہے؟ (محمدعمر۔ بلوچستان)

جواب: بخاری شریف کی حدیث کے الفاظ ہیں کہ ”العین حق“ یعنی نظر کا لگنا حق ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”قضا و قدر کے بعد لوگ نظر سے مرتے ہیں“ اس لیے جب کسی اچھی چیز کو دیکھا جائے تو ”ماشاء اللہ لاحول ولا قوۃ الا باللہ“ پڑھنا چاہیے۔ اس چیز کو نظر نہیں لگے گی۔ احادیث میں آتا ہے کہ نظر کے لیے اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللہ تَاماَتَ مِنْ شَرِّ مَاخَلَق۔ پڑھنی چاہیے یا گلے میں لٹکانی چاہیے تو اس سے نظر کا اثر ختم ہوجائے گا۔


 

سوال: کیا زخمی جانور کی قربانی جائز ہے؟ (حبیب اللہ۔ کراچی)

جواب: جس جانور کا پورا کان یا زیادہ حصہ کٹا ہوا ہے اس کی قربانی جائز نہیں۔ جس جانور کی دم یا سرین کٹی ہوئی ہوں اس کی قربانی درست نہیں۔ جبکہ ایک تہائی حصہ سے زیادہ حصہ کٹا ہو اگر دو تہائی باقی ہے تواس کی قربانی جائز ہے۔ (منہاج الفتاویٰ جلد دوم صفحہ 564)


 

سوال: اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو دو مرتبہ کہہ دیا کہ تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے تو کیا اس کے بعد رجوع کرسکتا ہے؟ (اسد عالم۔ عمرکوٹ)

جواب اگر کسی نے اپنی بیوی کو کہا کہ میں تجھے طلاق دیتا ہوں یا تجھے طلاق ہے یا تجھے طلاق دی یہ الفاظ دو مرتبہ کہے تو عورت کو دو رجعی طلاقیں آگئیں۔ اب اگر عدت کے درمیان بیوی سے رجوع کیا تو اس کا بیوی سے رجوع ہوگیا۔ دوسرے نکاح کے بغیر عدت کے درمیان رجوع جائز ہے۔ اگر عدت گذر گئی تو وہ عورت خود مختار ہے پہلے شوہر سے نکاح کرلے یا دوسرے سے کرے۔ اگر پہلے سے نکاح کیا تو اب اس شوہر کو فقط ایک طلاق کا حق ہوگا۔ اگر اب ایک طلاق دی تو عورت حرام ہوجائے گی۔

(تفہیم المسائل ج اول 307)


 

سوال: قرآن مجید سے نام رکھنے کا طریقہ کیا ہے؟ (محمدزبیر۔ خالصہ)

جواب: قرآن مجید سے نام رکھنے کی شریعت میں کوئی حیثیت نہیں ہے۔ البتہ احادیث مبارکہ میں بچوں کے نام رکھنے کے بارے میں رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اقوال یہ ہیں۔

1۔ تم قیامت کے روز اپنے نام اور باپ کے نام سے پکارے جاؤ گے اس لیے اچھے نام رکھو۔

2۔ انبیاء کرام کے ناموں پر اپنے نام رکھو۔

3۔ میرے نام (محمد اور احمد) پر اپنے نام رکھو۔

4۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ایک بیٹی کا نام ”عاصیہ“ تھا تو رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بدل کر ”جمیلہ“ رکھ دیا۔ مطلب کہ نام بامعنیٰ ہونے چاہییں۔ سب سے پہلے نام عبداللہ، عبدالرحمٰن وغیرہ ہیں جن کی نسبت اللہ تعالیٰ طرف عبد یعنی بندے کی ہے۔ لیکن ایسے ناموں کو توڑ کر نہیں پکارنا چاہیے جیسے عبداللہ کو عبدو، عبدالغفار کو غفار صاحب وغیرہ یہ منع ہے۔ حضرت رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے نام رکھنا مستحسن ہے جیسے محمد محسن، محمد صادق وغیرہ۔