فہرست الطاہر
شمارہ 54، ربیع الاول 1430ھ بمطابق مارچ 2009ع

حضرت ابوالحسن خرقانی

رحمۃ اللہ علیہ

علامہ محمد ساجد فاروقی طاہری

 

اسلام میں روحانی زندگی کا آغاز کس طرح ہوا؟ یہ ایک بے حد اہم سوال ہے۔ اور اس کا جواب بھی بہت واضح ہے۔ اسلام میں روحانی زندگی کا آغاز آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے ساتھ ہی ہوا۔ نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب اطہار حب دنیا سے نفور تھے، دنیا کی چمک دمک سے بے نیاز تھے۔ جاہ اور نمائش کا ان کی زندگی میں ذرا بھی دخل نہ تھا۔ وہ صرف خدا کی طرف متوجہ تھے اور زندگی کے ہر مرحلے پر اس سے لو لگاتے تھے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے زندہ رہتے تھے، اللہ تعالیٰ کی محبت کے لیے جہاد کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے شہادت کے مرتبے پر فائز ہوتے تھے۔ ان کا جینا اور مرنا دنیا کے لیے نہ تھا، صرف خدا کے لیے تھا۔ ان میں ایمان کی قوت اور یقین کی حرارت اس جذبہ نے پیدا کی تھی۔

رسول اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ پر ایک نظر ڈالیے آپ کومعلوم ہوجائیگا کہ حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا آغاز اس طرح ہوا کہ آپ دن اور رات کا بڑا حصہ لوگوں سے الگ، دنیا سے دور غار حرا کی تنہائیوں میں بسر کرتے تھے۔ یہ اس وقت کا واقعہ ہے ابھی آپ پر وحی نازل نہیں ہوئی تھی لیکن روحانی زندگی کا دور شروع ہوگیا تھا۔ اور اگر آپ صحابہ کرام کی سیرت پر ذرا نظر ڈالیے تو آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ سیدنا صدیق اکبر، فاروق اعظم، عثمان ذالنورین، علی المرتضیٰ رضوان اللہ علیہم اجمعین اور سب صحابہ کرام، محبوب مصطفی صلّی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کو اپنی منزل و مقصود بنا چکے تھے۔

ان حضرات کی سیرت ہمیں بتارہی ہے کہ ان عاشقوں کے سینے میں جو جذبہ تھا، جو محبت تھی، جو شوق تھا اس کی یہ ابتدا تھی کہ اپنی جان، مال، اولاد محبوب کے نام پر قربان کرنے کے لیے صرف اشارہ کے منتظر تھے۔ حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کے ہر قول و فعل پر عمل کرنے کے لیے تیار ہوتے تھے۔

اسی اسلام کے پیغام کو انسان ذات تک پہنچانے کے لیے اولیاء اللہ، ابدال، اخیار، علماء کرام آتے رہیں گے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ہے۔

محبوب صلّی اللہ علیہ وسلم کا محبوب پیغام انسان ذات تک جن ہستیوں نے پہنچایا وہ سب بڑے شان والے ہیں، لیکن جس عظیم شخصیت کے متعلق بیان کرنا چاہتے ہیں وہ ولی کامل ابوالحسن خرقانی رحمۃ اللہ علیہ کی ذات ہے۔ اس مرد قلندر کا نام علی بن جعفر تھا۔ قزوین کے قریب ایک جگہ خرقان کے قدیم باشندے تھے۔ اس مرد قلندر کی ابھی پیدائش بھی نہیں ہوئی تھی کہ اس وقت کے بڑے بڑے اولیاء کرام پیش گوئیاں کرتے تھے کہ ابھی ایک ایسا نوری شخص آنے والا ہے جس کی قدر و منزلت ہم سے کئی مرتبہ زیادہ ہوگی۔

حضرت بایزید بسطامی جو اپنے وقت کے تمام اولیاء کرام میں نمایاں تھے اور آپ کے متعلق حضرت جنید بغدادی کا قول ہے کہ ”حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کو اولیاء کرام میں وہی اعزاز ہے جو حضرت جبرئیل علیہ السلام کو ملائکہ میں ہے۔ اور مقام توحید میں تمام بزرگوں کی انتہا آپ کی ابتدا ہے۔“

حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کا دستور تھا کہ سال میں ایک مرتبہ مزارات شہداء کی زیارت کے لیے جایا کرتے تھے۔ اور جب خرقان کی پاک سرزمین پر اپنے قدم رکھتے تو فضا میں منہ اوپر اٹھا کر سانس کھینچتے جیسے کوئی خوشبو سونگھنے کے لیے سانس کھینچتا ہے۔ جب بھی خرقان میں آتے اسی طرح کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ایک مرید نے پوچھا کہ ”آپ کو کس چیز کی خوشبو آرہی ہے۔ آپ کسی چیز کی خوشبو سونگھتے ہیں۔ ہمیں تو کسی چیز کی خوشبو نہیں آرہی ہے۔“ آپ نے فرمایا ”مجھے اس سرزمین خرقان سے ایک مرد حق کی خوشبو آرہی ہے۔“ (نظم مثنوی)

بعد چندیں سال می زاید شہے
می زند بر آسمان خود گہے

کچھ سال بعد ایک بادشاہ پیدا ہوگا جس کی پرواز آسمان پر ہوگی۔

رویش از گلزار حق گلگوں بود
از من واندر مکان افزوں بود

اس کا چہرہ گلزار حق سے پھول کی طرح ہوگا اور وہ مجھ سے مرتبہ و مکاں میں زیادہ ہوگا۔

چیست نامش؟ گفت نامش بوالحسن
حلیہ اش واگفت ابرو و ذقن

اس کا نام ابوالحسن ہوگا اور اس کا ابرو اور ٹھوڑی تمام حسین ہوگی۔

یہ حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کے قول کا خلاصہ تھا کہ اس سرزمین خرقان سے مرد قلندر پیدا ہوگا جس کا نام ابوالحسن خرقانی ہوگا اور مجھ سے مرتبہ میں کئی گنا زیادہ ہوگا۔ اور وہ کاشتکاری کرے گا جس کے ذریعے اپنے اہل و عیال کی رزق حلال سے پرورش کرے گا۔

جب حضرت خواجہ ابوالحسن خرقانی رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش ہوئی، اس وقت خواجہ بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ فوت ہوچکے تھے۔ اور حضرت خواجہ ابوالحسن خرقانی تقریباً بیس سال تک بعد نماز عشاء روزانہ حضرت بایزید بسطامی کی مزار اقدس پر پہنچ کر یہ دعا کرتے کہ ”یا اللہ جو مرتبہ تونے بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کو عطا کیا ہے وہی مجھے بھی عطا فرمادے“ اس دعا کے بعد خرقان واپس آکر نماز فجر ادا کرتے، اور آپ کے ادب کا یہ عالم تھا کہ بسطام سے اس نیت سے الٹ پاؤں واپس ہوتے کہ کہیں حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کی مزار کی بے ادبی نہ ہوجائے۔ اسی طرح بارہ سال گذر گئے لیکن اپنے معمول کو نہیں چھوڑا۔ ایک رات آپ نے حضرت بایزید بسطامی کی مزار سے آواز سنی کہ اے ابوالحسن اب تیرا بھی دور آگیا۔ خواجہ ابوالحسن خرقانی نے عرض کیا ”میں تو قطعی امی ہوں امی ہونے کی وجہ سے علم شرعیہ سے ناواقف ہوں اس لیے میری ہمت افزائی فرمائیے۔“ ندا آئی کہ ”مجھے جو کچھ مرتبہ حاصل ہوا ہے وہ صرف تمہاری بدولت حاصل ہوا ہے۔“ خواجہ ابو الحسن خرقانی نے جواب دیا ”آپ تو مجھ سے کئی سال پہلے رخصت ہوچکے ہیں“ قبر سے آواز آئی کہ ”یہ قول تمہارا درست ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب بھی میں سرزمین خرقان سے گذرتا تھا تو اس سرزمین پر آسمان تک نور ہی نور نظر آتا تھا اور میں اپنی ایک ضرورت کے تحت تیس سال تک دعا کرتا رہا لیکن قبول نہ ہوئی اور مجھ کو یہ حکم دیا گیا کہ ”تو اس نور کو ہماری بارگاہ میں شفیع بناکر پیش کر تو تمہاری دعا قبول کرلی جائے گی۔“ چنانچہ اس حکم پر عمل ہونے سے دعا قبول ہوگئی۔ اس واقعے کے بعد جب ابوالحسن خرقانی خرقان واپس ہوئے تو صرف 24 یوم میں مکمل قرآن کریم ختم کرلیا۔ لیکن بعض روایات میں ہے کہ حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار سے ندا آئی کہ سورۃ فاتحہ سے شروع کرو اور جب آپ نے شروع کی تو خرقان پہنچنے تک پورا قرآن ختم کرلیا۔

چند واقعات:

1۔ ایک مرتبہ آپ اپنے باغ کی کھدائی کر رہے تھے تو وہاں سے چاندی برآمد ہوئی تو آپ نے اس جگہ کو بند کردیا اور دوسری جگہ سے کھدائی شروع کردی تو وہاں سے سونا برآمد ہوا پھر تیسری جگہ سے مرویدار ظاہر ہوا اور چوتھی جگہ سے جواہرات برآمد ہوئے۔ لیکن آپ نے کسی کو بھی ہاتھ نہیں لگایا اور فرمایا کہ ”ابوالحسن ان چیزوں پر فریفتہ نہیں ہوسکتا یہ تو کیا اگر دین و دنیا بھی مہیا ہوجائیں تب بھی وہ انحراف نہیں کرسکتا۔“ ہل چلاتے وقت جب نماز کا وقت آجاتا تو بیلوں کو چھوڑکر نماز ادا کرتے اور جب نماز پڑھ کر کھیت پر پہنچتے تھے زمیں تیار ملتی۔

2۔ ایک دفعہ شیخ المشائخ حضرت ابوالعمر ابوالعباس نے آپ سے کہا کہ ”چلو میں اور تم درخت پر چڑھ کر چھلانگ لگائیں۔“ آپ نے فرمایا کہ چلئے میں اور تم فردوس و جہنم سے بے نیاز ہوکر خدا تعالیٰ کا دست کرم پکڑ کر چھلانگ لگائیں۔ پھر ایک مرتبہ شیخ المشائخ نے پانی میں ہاتھ ڈال کر زندہ مچھلی پکڑ کر آپ کے سامنے رکھ دی۔ اس کے جواب میں خواجہ ابوالحسن خرقانی نے تنور میں ہاتھ ڈال کر زندہ مچھلی آپ کے سامنے پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ ”آگ میں سے زندہ مچھلی پکڑ کر نکالنا پانی میں سے مچھلی نکالنے سے کہیں زیادہ معنی خیز ہے۔“

شیخ المشائخ فرمایا کرتے تھے کہ خواجہ ابوالحسن خرقانی رحمۃ اللہ علیہ کے خوف کی وجہ سے مجھے بیس سال تک نیند نہیں آئی اور جس مقام پر میں پہنچتا ہوں انہیں اپنے سے چار قدم آگے ہی پاتا ہوں۔ اور اس مرتبہ اس کی کوشش کی کہ کسی طرح میں ان سے قبل حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر پہنچ جاؤں لیکن کامیاب نہ ہوسکا۔ کیونکہ خدا تعالیٰ نے ان کو وہ طاقت عطا کی ہے کہ تین میل کا راستہ لمحہ بھر میں طے کرکے بسطام پہنچ جاتا ہے۔

ایک مرتبہ کوئی جماعت کسی مشکل راستے پر سفر کرنا چاہتی تھی، لوگوں نے آپ سے عرض کیا کہ جب کوئی مصیبت پیش آئے تو ہم کیا کریں دعا بتادیجیے۔ آپ نے فرمایا جب کوئی مصیبت آئے تو میرا نام پکارنا۔ لیکن لوگوں نے اس پر کوئی توجہ نہ دی اور اپنا سفر شروع کردیا۔ راستے میں ان لوگوں کو ڈاکوؤں نے گھیرلیا۔ ایک شخص نے اپنے دل میں خواجہ ابوالحسن خرقانی کا نام لیا جس کے نتیجے میں وہ شخص اپنے مال اسباب سمیت لوگوں کی نظروں سے غائب ہوگیا یہ دیکھ کر ڈاکوؤں کو بہت تعجب ہوا مگر جن شخصوں نے آپ کا نام نہیں لیا وہ سب لٹ گئے۔ پھر ڈاکوؤں کی واپسی کے بعد وہ شخص سب کی نظروں کے سامنے آگیا۔ اور جب اس شخص سے پوچھا گیا کہ وہ کہاں غائب ہوگیا تھا تو اس نے کہا میں نے سچے دل سے شیخ کو یاد کیا اور خرقانی نے اپنی قدرت سے مجھے سب کی نگاہوں سے چھپادیا۔ جب یہ واقعہ آپ کے سامنے بیان کیا گیا تو آپ نے فرمایا تم لوگ خدا تعالیٰ کو فقط زبان سے یاد کرتے ہو لیکن میں اللہ تعالیٰ کو خلوص قلب سے یاد کرتا ہوں اور جو مجھے یاد کرتا ہے میں اس کے لیے خدا تعالیٰ کو دل سے یاد کروں گا۔

ارشادات:

  • آپ فرماتے تھے نماز ہر کوئی پڑھتا ہے لیکن مرد وہ ہے جس کے لیے کراما کاتبین ساٹھ سال تک کوئی برائی نہ لکھ سکیں اور خدا تعالیٰ کے سامنے شرمندہ ہوجائے۔
  • آپ فرماتے تھے چالیس برس ہوگئے ہیں میں نے اپنے لیے روٹی تیار نہیں کی ہے لیکن مہمانوں کے لیے تیار کرتا ہوں۔
  • آپ نے فرمایا ستر برس ہوگئے ہیں کہ میں اللہ تعالیٰ کا بن گیا ہوں اور کبھی نفس کی مراد پوری نہیں کی۔