فہرست الطاہر
شمارہ 54، ربیع الاول 1430ھ بمطابق مارچ 2009ع

حضرت پھر مٹھا کی دین پور آمد

تحریر: مولانا بخش علی کھوسو رحمۃ اللہ علیہ
ترتیب: مولانا حبیب الرحمٰن گبول طاہری

 

ماضی قریب میں سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے عظیم شیخ خواجہ خواجگان حضرت پیر محمد عبدالغفار صاحب عرف پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ بڑے فیاض صاحب کشف و کرامت، مجمع فیوض و برکات، مستجاب الدعوات، عالم باعمل اور ولی کامل بزرگ ہو گذرے ہیں۔ مرکز اولیاء ملتان پنجاب (کے نزدیک چنی گوٹھ)کو آپ کے آبائی وطن اور جائے ولادت ہونے کا شرف حاصل ہے، تو باب الاسلام سندھ کی سرزمین کو آپ کے وطن ہجرت اور آخری آرام گاہ ہونے کی سعادت ہے، جبکہ آپ کی دینی تبلیغی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ پاک و ہند کے علاوہ کئی دوسرے ممالک میں بھی آپ کے خلفاء کرام پہنچے اور خوب دینی خدمت کی۔ حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ نے پہلا تبلیغی مرکز اپنے آبائی وطن کے قریب عاشق آباد شریف میں قائم فرمایا لیکن اپنے پیر و مرشد حضرت پیر فضل علی قریشی قدس سرہ کے فرمان کے مطابق زیادہ تر وقت سندھ میں تبلیغ کرتے گذارتے۔ آپ جہاں رہے وہاں سنۃ نبویہ علیٰ صاحبہا الصلواۃ والسلام کی ترویج و اشاعت کی، اسوہ رسول اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کو اسقدر اپنایا خود عمل کیا اور مریدین کو اس کا پابند بنایا کہ حال یا ماضی قریب میں اسکی نظیر نہیں ملتی۔ نماز باجماعت، تہجد، عمامہ، مسواک، شرعی پردہ کا اہتمام، شادی وغیرہ کے موقعوں پر خلاف شرع رسم و رواج سے اجتناب، مثالی تقویٰ و پرہیزگاری، یہ تمام چیزیں حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کی جماعت میں اس قدر عام ہوئیں کہ لوگ جماعت غفاریہ کی امتیازی علامات سمجھنے لگے تھے۔

یہ حقیقت ہے کہ جس زمانہ میں آپ تبلیغ کے لیے سندھ تشریف فرما ہوئے تھے اہلیان سندھ کی دینی حالت ناقابل دید و ناگفتہ بہ تھی اور صحیح معنوں میں دین حق کی دعوت دینے والے خال خال ہی نظر آتے تھے، خاص کر سندھ کے پس ماندہ دیہات میں پہنچ کر ﷲ فی اللہ دینی دعوت دینے والے اور بھی ناپید و نایاب تھے۔ ایسے میں شیخ العرب والعجم حضرت پیر فضل علی قریشی قدس سرہ کے خلیفہ و نائب حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ ابر رحمت بن کر عاشق آباد سے اٹھے گھوٹکی، ڈہرکی، سکھر، شکار پور، رانی پور، کنڈیارو، محراب پور، انڑ پور اور نور پور پر باران رحمت برساتے ہوئے دریائے سندھ کے مغربی کنارہ پر واقع گھنے جنگل میں رحمت برساتے ہوئے تحصیل کنڈیارو میں دریائے سندھ کے کنارہ پر واقع گھنے جنگل میں چور اور ڈاکؤں کو ابر رحمت سے سیراب کیا (اور آخر میں رحمت پور شریف میں موسلا دھار بارش کی مانند باران رحمت بن کر برسے، لاڑکانہ ہی نہیں ملک بھر کو سیراب کرتے ہوئے غفاری مسجد رحمت پور شریف کے دامن میں آسودہ خواب ہوئے اور اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رحمت الٰہی کے نزول کا مرکز بنا گئے۔)

دین پور شریف

دریائے سندھ کے کنارے پر واقع کچے کا یہ علائقہ اس زمانہ میں چور ڈاکوؤں کی آماجگاہ تھا، جہاں میلوں پھیلے ہوئے گھنے جنگلوں میں کئی ایسی بستیاں قائم تھیں، جہاں پولیس سمیت کسی بیرونی آدمی کا آنا آنے والے کے لئے خطرے سے خالی نہ تھا۔ یہ لوگ دور کے شہروں اور بستیوں سے بھینسیں چرا کر دریا میں ڈالدیتے، بھینسیں تیرتی ہوئی آتیں اور یہ خود بکری کے چمڑے سے بنے ہوئے سانداری (خود ہی بناتے تھے) پر بیٹھ جاتے اور یوں راتوں رات بھینس گھر لے آتے اور شاذونادر ہی کوئی بھینس مالک یا حکومت کا کارندہ وہاں پر پہنچ پاتا۔ غرض یہ کہ حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے کے زمانہ میں جو عرب بدؤں کی جو حالت تھی، گھنے جنگلوں میں مقیم کچے کے ان جاہلوں کی اخلاقی حالت بھی قریب قریب ایسی ہی تھی کہ رحمت الٰہی کو جوش آیا اور ان کی اصلاح احوال کے لیے اسباب پیدا ہونے لگے۔

ہوا یوں کہ ان میں خان محمد نامی ایک دیندار شخص بھی رہتے تھے اور وقفہ وقفہ سے علماء کرام کو مدعو کرکے وعظ و نصیحت کے ذریعہ ان کی اصلاح چاہتے تھے، لیکن ان کے رشتہ داروں کی یہ حالت تھی کہ ایک مرتبہ مولوی صاحب نے چوری کی مذمت کی اور فکر آخرت کے موضوع پر خطاب کیا تو ایک چور نے اسکی جوتی چرالی تاکہ مولوی کی توہین ہو اور آئندہ کے لئے یہاں نہ آئیں۔ آخرکار جب فقیر خان محمد صاحب کی دعوت پر حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کے خلیفہ راشد سیدی حضرت الحاج اللہ بخش عرف سوہنا سائیں علیہ الرحمۃ وہاں تشریف فرما ہوئے ذکر قلبی کی تلقین فرمائی تو ان چوروں کی چیخیں نکل گئیں اور وجد و جذبہ میں مست ہوکر مرغ بسمل کی طرح تڑپنے لگے، تہہ دل سے تائب اور ذاکر شاکر متقی و پرہیزگار بن گئے، لوگوں کی چرائی ہوئی چیزیں ان کو واپس کردیں، یہی نہیں بلکہ اپنے چور ساتھیوں کو بھی دعوت دیکر حضرت پیر مٹھا علیہ الرحمۃ کی خدمت میں لے آتے اور وہ بھی گناہوں بالخصوص چوری سے تائب ہوجاتے۔ چنانچہ ایک مرتبہ کچے ہی میں رہنے والے اپنے ایک چور دوست کو لے آئے، سومر نامی یہ شخص بڑا ہی دلیر و بہادر ڈاکو تھا، نماز فجر اور مراقبہ کے بعد حضرت پیر مٹھا صاحب علیہ الرحمۃ مسجد شریف میں رونق افروز تھے کہ فقیر اسے لے آئے، حضور نے قلب پر انگلی مبارک رکھ کر قلبی ذکر کی تلقین فرمائی تو اسی وقت سومر کی حالت بدلی اسے جذبہ ہوگیا، مرغ بسمل کی طرح زمین پر تڑپنے لگا، نماز ظہر تک مسلسل جذبہ کا غلبہ رہا، دن بھر دین پور شریف رہا، شام کو لڑکا لینے کے لئے آیا، سومر نے تہہ دل سے توبہ کی تھی اور ولی کامل کے ہاتھ پر بیعت کرکے گھر پہنچا تو آنکھوں سے آنسوں جاری تھے۔ بیوی دیکھ کر حیران رہ گئی کہ اس قدر سخت دل آدمی آج بچوں کی طرح بلک بلک کر رورہا ہے۔ سومر کی سچی ندامت اور حضرت پیر مٹھا علیہ الرحمۃ کی دعا کی بدولت اسکے گھر بھر میں ایک انقلاب آگیا۔ اسکا بیٹا بھی نیک و صالح بن گیا، بیوی بھی طریقہ عالیہ میں داخل ہوکر متقی و پرہیزگار بنی، یہاں تک کہ ایک مرتبہ ان کے گھروں کے قریب سے ایک بارات کشتیوں کے ذریعہ دریا عبور کرکے بیل گاڑیوں پر سوار ہوکر چلی گئی، ان کے جانے کے بعد سومر کے چرواہے بیٹے کو وہاں ایک لوہے کی صندوق ملی اٹھا کر گھر لے آیا۔ وہی سومر جو پہلے گھروں میں گھس کر اور تالے توڑ کر قیمتی سامان لے آتا تھا اب باپ، بیٹا کوئی اسے کھول کر دیکھنا بھی اپنے لیے مناسب خیال نہیں کرتا، بلکہ سومر بارات کی تلاش میں نکلا اور وارہ ضلع لاڑکانہ میں جاکر انکے پاس پہنچا اور امانت باسلامت مالکان تک پہنچادی، واضح رہے کہ اس صندوق میں دلہن کے ریشمی قیمتی کپڑے، سونے چاندی کے زیورات اور نقد پیسے پڑے ہوئے تھے۔

کشف

حضرت پیر مٹھا قدس سرہ صاحب کشف بزرگ تھے۔ یہاں تک کہ اس زمانہ میں یہ مشہور تھا کہ آدمی جس مقصد کے لئے حضرت پیر مٹھا علیہ الرحمۃ کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے آپ دوران تقریر انکے آنے کا مقصد بیان فرماتے، ساتھ ہی ہدایت و رہنمائی بھی فرماتے تھے۔ درگاہ عاشق آباد شریف کے قیام کے زمانہ میں ایک مرتبہ نماز عصر کے بعد آپ نے پانی طلب فرمایا! خلیفہ خاوند بخش صاحب پانی لے آئے، میں اس وقت کپڑے کے بنے ہوئے پنکھے سے ہوا جھول رہا تھا، آپ نے پانی ہاتھ میں لے لیا اور وعظ میں مصروف ہوگئے کچھ دیر بعد پانی کو نوش فرماکر پھر وعظ میں مصروف ہوگئے۔ میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ کاش حضور کا پس خوردہ تھوڑا سا پانی مل جائے لیکن پانی ملنے کی زیادہ امید نہ تھی کہ خلیفہ خاوند بخش جب پانی کا پیالا لینے کے لئے منتظر کھڑے تھے اور سامنے بڑے بڑے علماء اور معزز خلفاء حضرات موجود تھے، میں پیچھے کھڑا تھا، آپ نے ازراہ کشف میری خواہش معلوم کرکے بقیہ پانی کا پیالا میری طرف بڑھایا ہی تھا کہ مولانا خاوند بخش نے بڑھ کر پیالا لینا چاہا لیکن آپ نے اپنا ہاتھ مبارک کھینچ لیا۔ دو بار ایسا ہوا، تیسری بار میری طرف پانی کا پیالا بڑھاکر فرمایا مولوی صاحب یہ پانی لیکر پی لو، خوشی خوشی میں نے پانی لے لیا، ادب کے پیش نظر وہاں نہ پیا، مسجد کے اندر چلا گیا تو پیچھے حضرت سوہنا سائیں قدس سرہ و دیگر معززین بھی آئے۔ میں نے پیالا حضور سوہنا سائیں علیہ الرحمۃ کو پیش کیا آپ نے تبرکا کچھ پانی پی کر مجھے عنایت فرمایا، اسی طرح میں نے خلیفہ سید نصیر الدین شاہ صاحب کو، انکے بھائی سید عبدالخالق شاہ اور مولانا رحمۃ اللہ ریاستی نے وہ بابرکت پس خوردہ پانی پی لیا۔

یہی نہیں بلکہ حضور پیر مٹھا نور اللہ مرقدہ کے صدقہ میں اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی کشف و حال کی کیفیات سے نوازا۔ چنانچہ ایک مرتبہ میں نے حالت کشف میں دیکھا کہ حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کے مکان کے صحن کے اوپر فضا میں ایک خوبصورت مسجد معلق ہے جس میں بڑی تعداد میں سفید لباس میں ملبوس نورانی چہروں والے بزرگ موجود ہیں، ایک بہت ہی خوبصورت نورانی چہرہ مہرہ والے بزرگ مصلیٰ (جائے نماز) پر رونق افروز ہیں، حضرت پیر رحمۃ اللہ علیہ مسجد میں آئے تو انتہائی ادب و احترام سے ان کے قدم بوس ہوئے اور ان کی اقتداء میں باجماعت نماز ادا کی گئی۔ نماز سے فارغ ہونے پر انہوں نے حضرت پیر مٹھا علیہ الرحمۃ کی طرف اشارہ کرکے جماعت سے فرمایا! ہم اس نوجوان سے راضی ہیں ہم اس نوجوان سے راضی ہیں، ہم اس نوجوان سے راضی ہیں، تین بار ارشاد فرمایا۔ حضرت پیر مٹھا قدس سرہ گردن جھکائے ادب سے بیٹھے ہوئے تھے گو میں زبان سے تو کچھ نہ پوچھ سکا لیکن دل ہی دل میں یہ سوچ رہا تھا کہ مصلیٰ پر بیٹھے ہوئے پرنور بزرگ کون ہیں۔ اسی اثناء میں انہوں نے خود اپنا تعارف فرمایا کہ میں غریبوں اور مسکینوں کا ملجا و ماویٰ حضرت محمد مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ مزید فرمایا تمہارے مرشد فنا فی الرسول کے مقام پر فائز ہیں، اس لیے ان کا قلبی ذکر کی تلقین کرنا اور مراقبہ کرانا یہ سب ہمارے ہی عمل ہیں۔ وہیں پر مجھے حضرات خلفاء راشدین اور عشرہ مبشرہ رضی اللہ تعالیٰ علیہم کی زیارت نصیب ہوئی، اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ایک چھتری نما سنہری تاج لیکر آئے جو ان سے حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم نے لے لیا اور حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ کے سر مبارک پر رکھا ارشاد فرمایا! ہم ان سے راضی ہیں، انہوں نے ہماری سنۃ کی اخلاص سے خدمت کی ہے۔ اس وقت بھی وہ روح پرور منظر اور نورانی مجلس میرے تصور کے سامنے ہیں۔

مرے غریب خانے پر

حضور پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ حاجی محمد یوسف چنہ صاحب کی دعوت پر محراب پورتشریف فرما ہوئے تو میں نے اپنے گاؤں شیر خان کھوسہ تحصیل کنڈیارو پروگرام کی دعوت عرض کی۔ آپ نے دعوت قبول فرمالی، پھر دریافت فرمایا: سواری کا کیا انتظام ہے؟ اور لنگر کا کیا پروگرام ہے؟ ان دنوں میں فارمیسی ٹریننگ کالج حیدرآباد میں زیر تعلیم تھا اور مسیکینی کا انتظام تھا، میں نے عرض کیا جو حضور پسند فرمائیں گے انشاء اللہ وہی سواری اور وہی طعام خدمت میں پیش کیا جائے گا۔ فرمایا، وعدہ کرو ہماری پسند کے مطابق سواری اور کھانے کا نتظام کرو گے۔ میں نے عرض کیا حضور دل سے وعدہ کرتا ہوں کہ پوری کوشش کروں گا کہ حضور کی پسند کے مطابق سب انتظام کرلوں۔ فرمایا تو پھر گندم کے دانے چکی سے پسوائیں لیکن آٹا باریک نہ ہونے پائے، وہی دیگ میں پکائیں اور اس میں پہاڑی نمک ڈالیں، ہم بھی وہی کھائیں گے اور دیگر فقراء بھی، بصورت دیگر جوار کی روٹی اور سرسوں کا ساگ پکا کر کھلائیں ہم دل سے خوش ہونگے اور آپکو دعائیں دینگے اور ہماری سواری کے لئے گدھا لے آئیں، یہ سواری سنت بھی ہے اور بے خرچ بھی۔ حضور کے یہ ارشادات سن کر میں ہکابکا رہ گیا اور بے ساختہ رونے لگا۔ کافی دیر بعد دل پر پتھر رکھ کر ادب سے عرض کیا حضور کھانے کے لیے جو حضور نے فرمایا انشاء اللہ ضرور اسکی تعمیل کرونگا البتہ حسب توفیق اگر کچھ انتظام کرلوں تو قبول فرمالیں، البتہ سواری کے سلسلہ میں عرض یہ ہے کہ بلاشبہ گدھے کی سوار ی مسنون ہے لیکن ہمارے یہاں گدھے پست قامت ہیں اور کمزور ہیں، اتنے فاصلے تک آدمی اٹھانے کی ہمت نہیں رکھتے، نیز یہ کہ حضور جیسے عظیم المرتبت شیخ اگر گدھے پر سوار ہونگے تو مقامی مخالف آدمی مجھے ٹوکیں گے اور مذاق اڑائینگے اس لئے حضور اجازت مرحمت فرمائیں میں کنڈیارو اسٹیشن پر دو تانگے لیکر حاضر ہوجاؤں گا۔ چنانچہ میں اجازت لیکر گاؤں آگیا اور حضور پروگرام کے تحت حاجی غلام نبی نانگور کی دعوت پر چلے گئے۔ غرض یہ کہ حضور کی آمد پر میں نے گندم کے آٹے کا بھت پکوایا، سرسوں کا ساگ بھی بنوایا، ایک بکرا اور چند مرغیاں بھی ذبح کرکے حسب توفیق مناسب لنگر کا انتظام کیا اور پانی بھی نہر کا استعمال کیا، حضور کی نظر کرم سے کافی لوگ فیضیاب ہوئے، اگلے دن پھر تانگوں پر روانہ ہوکر کنڈیارو پہنچے۔

انتخاب اللہ آباد شریف

میں نے آنے اور جانے کے لیے دو تانگے کرایہ پر لے گیا تھا، فی تانگہ چار روپیہ کرایہ تھا، واپسی پر اسٹیشن کی بجائے حضور پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ اسی جگہ اترے جہاں آجکل درگاہ اللہ آباد شریف کی جامع مسجد موجود ہے حضور کے لئے ہم قریبی گاؤں بالادیوں سے چارپائی لے آئے حضور اس جگہ آرام فرما ہوئے اور جہاں اس وقت حضور سوہنا سائیں قدس سرہ کا مکان ہے وہاں بھی تشریف فرما ہوئے اور پھر مسجد کے سامنے والے آموں کے باغ والی زمین پر بھی کافی دیر تک قدم رنجہ فرماکر تفریح فرماتے رہے شاید ان مقامات کو اپنے بابرکت قدموں سے متبرک بنا کر مستقبل کے مثالی اسلامی مرکز کی نشاندہی فرمارہے تھے جسکا کوئی چند عشروں بعد قیام عمل میں آیا۔ درگاہ اللہ آباد شریف قائم ہوا اور دنیا بھر میں یہاں سے فیض پہنچا اور پہنچتا رہے گا۔ انشاء اللہ

حضرت سوہنا سائیں علیہ الرحمۃ سے پیار

ایک مرتبہ آپ کسی بات پر خلفاء کرام پر خفا ہوگئے تو غصہ کے عالم میں فرمایا: رحمت پور کو چھوڑ کر چلے جاکر ریجھل شاہ سے خلافت لے لو، ہم اپنے آبائی گاؤں وطن چلے جاتے ہیں۔ پھر فرمایا: ایک مولوی صاحب ہیں (حضرت سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ کو نام کی بجائے مولوی صاحب کہہ کر پکارتے تھے) جنکی محبت مجھے سندھ میں رہنے پر مجبور کرتی ہے، مولوی صاحب بہت ہی مخلص انسان ہیں، دل چاہتا ہے سونے کی ماڑی (محل) بنواؤں اس میں بیٹھ کر وہ مجھے دیکھتے رہیں اور میں ان کو دیکھتا رہوں، ہم نے تو مولوی صاحب سے یہ تک کہا ہے کہ ہمیں تسبیح خانے میں بیٹھ کر عبادت الٰہی میں مشغول رہنے دو اس جماعت کو آپ سنبھالیں لوگوں سے بیعت بھی آپ لے لیں، یہ منظر دیکھ کر ہمیں خوشی ہوگی لیکن ادب کی بنا پر مولوی صاحب نے معذرت کرلی۔ پھر فرمایا اگر عطر کی ایک بوتل میں سے کچھ عطر دوسری صاف شیشی میں ڈالدیا جائے تو شیشیاں گو مختلف ہونگی مگر خوشبو دونوں سے ایک جیسی آئیگی، اسی طرح مولوی صاحب اور میرا وجود علیحدہ علیحدہ ہیں لیکن فیض برکت ایک ہی ہے، جو یہ حقیقت نہیں مانتے وہ اس ٹیڑھے آدمی کے مانند ہے جسے ایک چاند کے بجائی دو چاند نظر آرہے تھے۔ ایک اور مرتبہ فرمایا کل بروز قیامت جب اللہ تعالیٰ مجھ سے پوچھے گا کہ اتنے برس دنیا میں رہ کے تم نے تبلیغ کی، کتنے لوگ آپ سے فیضیاب ہوئے؟ تو یہ فقیر فقط مولوی صاحب (حضرت سوہنا سائیں علیہ الرحمۃ کے لئے فرمایا) پیش کرکے عرض کرے گا اس فقیر نے صرف ایک ہی آدمی تیار کیا ہے (دین کی خدمت کے لئے باصلاحیت بنایا)