فہرست الطاہر
شمارہ 54، ربیع الاول 1430ھ بمطابق مارچ 2009ع

اپنی خاطر

فقیر غلام مرتضیٰ عباسی

 

اپنی نفسیاتی صحت مندی کے لیے اپنا ذاتی رجحان بدل دیں۔ دوسرے لوگوں میں دلچسپی لیں۔ لوگوں سے محبت کریں گے تو آپ کو محبت ملی گی۔ اپنی ذات سے توجہ ہٹا کر دوسروں کے مسائل میں دلچسپی پیدا کریں۔ ہوسکتا ہے کہ شروع میں آس پاس آپ کو توجہ نہ ملے پھر بھی آپ یہ رویہ جاری رکھیں کہ دوسروں کے مسائل حل کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔ ضد بلکل نہ کی جائے۔ بات منوانے کی کوشش نہ کی جائے۔ جھوٹی بات نہ کریں نہ جھوٹ بولیں۔ دوسروں کے وقار کا لحاظ کریں، اونچا نہ بولا کریں کیونکہ قرآن شریف میں اس کو ناپسندیدہ کہا گیا ہے۔

جائز بات تسلیم کریں اپنی غلطی تسلیم کریں۔ سب کو بولنے کا حق دیں۔ والدین، بیوی، دوست بچے سبھی کو بولنے کا حق ہو۔ دوسروں کو پہلے سنیں پھر اپنی سنائیں۔ آپ اعتدال پسند اور ڈسپلن کو پسند کرنے والے ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ اپنا ذاتی رجحان بدلا جائے۔ لیکن یہ انقلاب سے کم نہ ہوگا۔ کامیاب ہونے کے لیے خواہش کافی نہیں بلکہ باارداہ ہوں اور صحیح خطوط پر کوشش کریں۔ قوت ارادہ کو بیدار کریں تو بری باتیں بھی چھوٹ جائیں گی۔ مرد یا خاوند ہونے کے ناتے آپ پر زیادہ ذمہ داری ہے کیونکہ گھر کو جنت بنانا اتنا آسان نہیں۔ اپنے آپ کو توجہ کا مرکز مت بنائیں، ہر ایک فرد کے جذبات کا خیال رکھیں۔ اگر قصور آپ کا بھی ہے تو اپنے حصے کے لیے بھرپور کوشش کریں۔

آپ حقیقت پسند ہوں ویرانے میں بھٹکنے کا کیا فائدہ۔ اپنے برے خصائل دور کریں۔ خود لذتی اور خواہشات کو بہت کم کردیں۔ اپنے ذہن کو بیدار رکھیں۔

اچھے لوگوں کی سوانح حیات پڑھیں اور سمجھیں۔ آج کا کام کل پر نہ چھوڑیں کیونکہ کل کا کیا بھروسہ۔ موڈ کا بہانا بناکر لاشعوری طور پر زندگی سے فرار حاصل نہ کریں۔ معمولی باتوں پر وقت ضایع کئے بغیر غیر معمولی بن جائیں اور پر عزم ہوں۔ وقتا فوقتاً اپنا جائزہ ضرور لیا کریں۔ اوروں کو اپنے سے بہتر سمجھیں۔ درشت مزاجی چھوڑدیں، آدمی بن کر سکون کے ساتھ رہیں۔ نرم گفتگو خوش اخلاقی اور وقت کی پابندی کریں۔

فقط اچھے لوگوں سے متاثر ہونا سیکھیں۔ ذہنی بلوغت حاصل کریں۔ صحت مند ماحول میں رہا کریں۔ جنسی آوارگی اور انحراف سے کچھ بھی ملنے کا نہیں۔ سنجیدہ ہونا اور اپنے اوپر قابو رکھنا سیکھیں۔ دوسروں کا ضرور خیال رکھیں۔ اللہ تعالیٰ کا شکر گذار ہونا ضروری ہے۔ قدرت کے قانون میں کوئی نقص مل نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ سے ان کی محبت مانگیں۔ مکافات عمل ایمانداری سے ہی ہے۔ دی گئی نعمتوں کا شکریہ اور یادگیری ضرور رکھیں۔

امن اور خوراک بھی ضروری ہیں لیکن ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے مانگیں اور مناسب کوشش بھی کرتے رہیں۔

قرآن شریف میں دونوں جہانوں کی کامیابی کے راز ہیں اور رازداروں سے ہی معلوم ہوں گے۔ پوری کوشش کریں، ایمانداری سے کوشش کامیابی اور اطمینان دلاتی ہیں۔ کامیابی سب کے ساتھ ہو تو واہ واہ۔ دوسروں کو اٹھانا اپنا بھی فائدہ ہے۔ اسطرح باطنی طمانیت ملے گی۔

عمر کے ساتھ بہت کچھ ملتا ہے لیکن قوت ارادہ ہو۔ بیشک روز کا ماحول متاثر کرتا ہے اور طبعیت میں تندی پیدا ہوتی ہے لیکن اس کو ذہنی صلاحیتوں کی مدد سے ضابطہ میں رکھیں۔ گھر میں میاں بیوی دو اہم پارٹنرز ہیں تو کسی بھی معاملے میں ہر ایک کی خواہش کا خیال رکھیں۔ اپنی اچھی آرزؤں کو اپنے اوپر مسلط رکھیں تو اللہ تعالیٰ ضرور مدد کرتا ہے۔