فہرست الطاہر
شمارہ 54، ربیع الاول 1430ھ بمطابق مارچ 2009ع

اداریہ: ایڈیٹر کے قلم سے

پسندیدہ وصف

حضرت موسیٰ علیہ السلام پر جب خدا تبارک و تعالیٰ نے عنایت فرماتے ہوئے انہیں نبوت کے لیے منتخب کیا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خدا تعالیٰ کی خدمت میں عرض کی یا الٰہ العالمین تیری اتنی بڑی مملکت میں کتنے ہی بندے موجود ہیں مگر تونے مجھ پر مہربانی فرماتے ہوئے اپنی دوستی کے لیے منتخب کیا اور نبوت عطا کی، کسی کو نبوت کے لیے منتخب کرنا آپ کی مرضی تھی، آپ جسے بھی چاہتے نبوت عطا فرماتے، آخر میرے اندر وہ کونسی چیز موجود تھی جس کی وجہ سے میں تیری بارگاہ ایزدی میں نبوت کا مستحق سمجھا گیا۔ مولانا رومی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں ارشاد فرمایا اے موسیٰ تیری ایک وصف مجھے بہت پسند آئی۔ موسیٰ کیا تونے دیکھا ہے جب ماں اپنی اولاد پر غصہ ہوتی ہے تو وہ اسے تھپڑ رسید کرتی ہے حالانکہ ماں اپنے بچے سے بے تحاشہ محبت رکھتی ہے اور در حقیقت یہ غصہ اور تھپڑ رسید کرنا بھی اسی محبت کا ایک جزو ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچے کے اندر کوئی خرابی یا غلطی دیکھتی ہے تو اس غلطی کو اپنے بچے کے اندر دیکھنا وہ برداشت نہیں کر پاتی اور اسی غلطی سے اپنے بچے کو دور کرنے کے لیے، محفوظ رکھنے کے لیے وہ اپنے بچے کو تکلیف پہنچاتی ہے تاکہ اس کے اندر یہ چیز پیدا ہو کہ وہ سمجھے کہ دوبارہ ایسی حرکت ماں کی ناراضگی کا سبب بن سکتی ہے۔ لیکن موسیٰ تونے دیکھا ہوگا کہ بچہ تھپڑ کھاکر بھی ماں کو چمٹتا ہے ماں بچے کو خود سے علاحدہ کرنے کے لیے اسے خود سے دور دھکیلتی ہے مگر بچہ پھر بھی ماں کے قریب ہوتا ہے اور اس سے چمٹنے کی کوشش کرتا ہے۔ موسیٰ اس بات پر تونے کبھی غور کیا ہے کہ بچہ اپنے اس عمل کے ذریعے یہ بتلانا چاہتا ہے کہ میری ماں کے سواء میرا اور کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔ اے موسیٰ تونے ایسا ہی تعلق مجھ اللہ سے قائم کیا ہے۔ اگر میری طرف سے کبھی بھی کوئی سختی، آزمائش یا عتاب تجھ پر لایا گیا تو تو ہمیشہ میرے ہی پاس آیا۔ اے موسیٰ تیری یہ وصف مجھے بہت پسند آئی۔ اس واقعہ کے ذریعے ہمیں اس وصف کا علم ہوتا ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ کے پاس پسندیدہ ترین ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس پسندیدہ وصف کو کس طرح اپنے اندر پیدا کیا جائے کہ خدا تبارک و تعالیٰ کی رضامندگی کا حصول ہوجائے۔ جب غور کیا جائے گا تو علم ہوگا کہ اس وصف کا پیدا ہونا دراصل قلب انسانی پر منحصر ہے، کیونکہ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جسم کے اندر ایک ایسا لوتھڑا ہے جو اگر صحیح ہوجائے تو پورا جسم صحیح ہوجاتا ہے اور اگر اس میں خرابی ہو تو پورا جسم خراب بن جاتا ہے۔ اس دل کو صحیح کرنے کے لیے ذکر اللہ سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہیں ہوسکتی، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسان کو پیدا ہی اپنے ذکر کے لیے کیا ہے اور ساتھ ساتھ انسان کے پورے جسم پر دل کو حکمراں بنادیا ہے۔ اس سے یہ ہی معلوم ہوتا ہے کہ انسانی جسم میں اصل مطلوبی چیز دل ہی ہے جو ذکر الٰہی کے لیے ہی پیدا کی گئی ہے، اس لیے اگر یہ دل ذکر کرنا شروع کردے گی تو باقی جسم تو دل کا تابع ہی ہے، دل کے ذکر کرتے ہی وہ خود بخود ذکر الٰہی میں مصروف ہوجائے گا اور یوں انسان اپنے اندر خدا تعالیٰ کے پاس پسندیدہ وصف کو اپنے اندر پیدا کرکے اپنے منزل و مقصود کے حصول میں کامیاب و کامران ہوجائے گا۔ ثابت یہ ہوا کہ پسندیدہ وصف کے حصول کا صحیح اور بہترین طریقہ ذکر قلبی ہی ہے جو کہ اولیاء نقشبند کی صحبت میں بیٹھنے سے حاصل ہوتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سے التجا ہے کہ وہ ہمیں اپنے مرشد و مربی کی صحبت سے مستفیض ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

محمد جمیل عباسی طاہری