فہرست الطاہر
شمارہ 54، ربیع الاول 1430ھ بمطابق مارچ 2009ع

آپ کے خطوط

محترم قارئین!

السلام علیکم !مزاج بخیر۔

قارئین کی آراء و تبصرے جو الطاہر کی بہتری کے لیے خطوط کی صورت میں ہماری رہنمائی کے لیے بھیجے جاتے ہیں یقینا ہمارے لیے اس سفر میں مشعل راہ ثابت ہوتے ہیں اسی لیے حضور قبلہ عالم کے اس فکر کو عام کرنے اور اس کو تکمیل تک پہنچانے کے لیے ادارہ آپ کے مضامین، آراء و تبصروں کا شدت سے منتظر ہے، امید ہے کہ اس پیغام کو ضرور شرف قبولیت بخشیں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ پر اپنے انعامات و اکرامات نازل فرمائے۔ اٰمین۔ اب اپنے خطوط ملاحظہ فرمائیے۔


 

آج کل کے اس مادی ترقی یافتہ دور میں شعبہ نشر و اشاعت (Communication) اپنے خیالات، افکار، اقدار اور سوچ کو دوسروں تک پہنچانے کا ایک بہت ہی اہم اور ضروری ذریعہ ہے، لیکن اس سے اسی صورت میں فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے کہ ہم اسے کس قدر بہتر (Effectively) استعمال کرتے ہیں۔ الطاہر بلاشبہ نہ صرف اسلامی افکار بلکہ جماعت کی سوچ کے اظہار کا ایک بہتر ذریعہ ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ آج کل کے چیلنجز Challanges کو مدنظر رکھتے ہوئے اس میں مزید جدت کی ضرورت ہے جن میں چند ایک قابل نظر ہیں۔ شمارے کی Soft Copy کی ویب سائٹ پر دستیابی جو کہ دوست ایک دوسرے کو Email کرسکیں۔ تاریخی حقائق پر مضامین جن کا آج کے حالات سے تعلق اور ان کا اثر۔ اس مکتبہ فکر کے لوگوں کے جو ”درویشانہ صحبت کے ذریعہ تربیت“ کے حامی ہیں اور جماعت کے دوستوں کے لیے بھی ایسے موضوع پر مضامین ہوں جو کہ مقصد اور وجوہ سے آگاہ کریں کہ کیوں اور کیسے ایک ولی کی صحبت اور اس کے فرمان عام آدمی کے زندگی میں انقلاب لاتے ہیں۔ ”میں کیوں فقیر بنوں؟“ اس مضمون پر ہر شمارے میں ایک مضمون ہو جس میں معزز خلفاء کرام سے لے کر ایک عام فقیر کہ جس کی زندگی میں ایک تبدیلی حضرت شیخ کی صحبت اور ان کی بیان کردہ تعلیمات پر عمل کرنے سے وقوع پذیر ہوئی ہو۔

ہمارے معاشرے کے ناسوروں میں ایک بڑا ناسور ”فرقہ واریت“ ہے، اس موضوع پر تاریخی حقائق کہ یہ کہاں سے کب سے اور کیونکہ پیدا ہوئے اور مزید یہ ہے کہ دوسرے مکتبہ فکر کے علماء کرام کو دعوت دی جائے کہ وہ الطاہر کے لیے مضامین یا اپنی رائے اور تجاویز دیں کہ کیسے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے۔ مغرب جس طرح اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ کر رہا ہے اس کا مقابلہ اور نیز کیسے یہودی مکتبہ فکر عیسائی ممالک کی ترقی اور ان کے وسائل کو بروئے کار لاکر درحقیقت انہیں بے وقوف بنا رہا ہے۔ آپ جیسے اہل ذہن اور دانش کو تجاویز دینا میرے لیے باعث شرم ہے مگر حوصلہ افزائی ہو تو باعث افتخار ہوگا۔

(یاسر عرفات۔ کھنڈوگوٹھ کراچی)

بھائی یاسر عرفات صاحب! آپ کی تجاویز قارئین کے لیے دعوت عمل ہے۔ باقی جہاں تک انٹرنیٹ پر مہیا ہونے کا سوال ہے تو ہر شمارہ جماعت کی ویب سائٹ پر موجود ہوتا ہے اور اس کی ایڈریس بھی الطاہر میں موجود ہوتی ہے۔



شمارہ نمبر 53 بہت اچھا لگا۔ فرنٹ سائیڈ کور پر منقبت شریف پاکر بہت خوشی ہوئی۔

(بلال احمد طاہری۔ حب چوکی ضلع لسبیلہ)


بعد از سلام عرض ہے کہ عاجز یہ لکھتے ہوئے بہت خوشی محسوس کررہا ہے کچھ ہی عرصہ ہوا ناچیز طاہری جیسی عظیم نسبت سے وابستہ ہوا ہے۔ شمارہ نمبر 53 پڑھنے کے بعد عاجز کو بھی شوق ہوا کہ ایسے بے مثال نام والے رسالے میں مجھ حقیر کا بھی نام آئے اگر ایسا ہوا تو عاجز اپنے کو خوش نصیب سمجھے گا۔

(فقیر مشتاق علی طاہری۔۔ حاجی سومار محلہ حب لسبیلہ)

بھائی مشتاق علی طاہری صاحب! طاہری نسب حاصل ہونے پر آپ کو مبارک باد پیش ہو۔


جناب ایڈیٹر صاحب یہاں لاڑکانہ سٹی میں الطاہر رسالہ نہیں ملتا، اگر ملتا ہے تو ہمیں پتا نہیں کہ کس کے پاس ملتا ہے۔ اگر آپ کسی نہ کسی طریقے سے لاڑکانہ سٹی میں الطاہر رسالہ کا ہر شمارہ بھجوادیں تو ہم آپ کے شکر گذار رہیں گے۔

(محمد صادق میمن۔ لاڑکانہ سٹی)

بھائی صادق صاحب! آپ الطاہر کے سرکیولیشن مینیجر صاحب سے رابطہ فرمائیں وہ آپ کا مسئلہ حل کردیں گے۔


رسالہ الطاہر بہت اچھا اور معلوماتی رسالہ ہے۔ میں تین سال سے اس کا مطالعہ کررہا ہوں اور پہلی دفعہ ایک فرمائش کر رہا ہوں امید ہے کہ آپ پوری فرماکر ممنون و مشکور فرمائیں گے۔ اگر ادارہ سالانہ کلینڈر شائع کرتا ہو تو مجھے دو کلینڈر 2009 کے روانہ کریں۔

(ماسٹر محمد ہارون۔ حب چوکی ضلع لسبیلہ بلوچستان)

ماسٹر محمد ہارون صاحب! ادارہ فی الحال کلینڈر شایع نہیں کررہا ہے۔ انشاء اللہ اگلی دفعہ آپ کی یہ فرمائش پوری کردی جائے گی۔


شمارہ نمبر 53 پڑھا، پڑھ کر بہت خوشی اور قلبی سکون حاصل ہوا تمام مضامین قابل تعریف تھے۔

(مصباح صدیق طاہری۔ نواب شاہ)


عرض یہ تھی کہ ہم نے جشن عید میلاد النبی صلّی اللہ علیہ وسلم پر دو رپورٹ (مدرسہ انوار مصطفی ضلع ٹنڈوالہیار) کی طرف سے بھیجی تھیں اس کے بعد تین مرتبہ یہ رپورٹ بھیج چکی ہوں مگر وہ شائع نہیں ہوئی، ہوسکتا ہے کہ وہ آپ تک نہ پہنچی ہوں براہ مہربانی اب میں یہ رپورٹ TCS کروارہی ہوں ضرور شایع کیجیے گا۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔

(حافظہ انیقہ امتیاز۔ ٹنڈوالہیار)

محترمہ بہن! آپ کی رپورٹ اس دفعہ اشاعت ہورہی ہے، امید ہے کہ آپ کی شکایت دور ہوجائے گی۔


دوماہی رسالہ الطاہر دسمبر 2008 کو پڑھنے کی توفیق ملی۔ پڑھ کر دل کو بڑا سکون ملا اور سب سے زیادہ خوشی اس بات کی ہوئی کہ آپ نے سابقہ طرز کا رسالہ پھر سے جاری کیا کہ تمام سوالات کے جوابات رسالے میں موجود ہیں۔ جناب اعلیٰ اس طرح اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو رسالہ پڑھنے میں لطف بھی آئے گا اور معلومات میں بھی اضافہ ہوگا۔ میں آپ کو تقریباً 14 یا 15 سال بعد خط لکھ رہا ہوں۔ آخری دفعہ جنرل سیکریٹری ر۔ط۔ج برانچ کنڈیارو کی حیثیت سے تحریر کیا تھا۔ یہ خط اس امید کے ساتھ لکھ رہا ہوں کہ آئندہ اسی طرح الطاہر رسالہ میں جوابات باہر سے نہیں بلکہ رسالے ہی میں دئیے جائیں گے۔

(علی مراد قائم خانی۔ کنڈیارو)


پیارا الطاہر پڑھا اور بہت خوشی محسوس ہوئی اور لسٹ میں اپنا نام دیکھ کر بہت خوشی محسوس ہوئی اور میرا گفٹ ابھی تک مجھے نہیں ملا۔ محترم ایڈیٹر صاحب خاص بات یہ ہے کہ جب میں رسالہ لے کے پنجاب گیا تو عزیز دوستوں اور رشتہ داروں کو مطالعہ کے لیے دیا، ان لوگوں نے اس رسالے کی اتنی تعریف کی جسے میں الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا اور انہوں نے مجھ سے عہد کیا ہم اس کے سالانہ ممبر شپ بننا چاہتے ہیں۔

(رضوان علی۔ ٹول پلازہ کراچی)


یہ عاجز ایک مضمون بھیج رہا ہے امید ہے کہ اس کو آپ الطاہر میں ضرور شامل کرو گے۔ کیونکہ آدمی کو اور زیادہ شوق جاگے گا اور وہ لکھے گا۔

(عبد اللہ ضمیر لاشاری طاہری۔ میہڑ)


اس عاجز نے پہلے ہی بہت کچھ مواد الطاہر کے لیے بھیجا تھا، کبھی شائع ہوتا ہے اور کبھی نہیں لیکن اس بار امید ہے کہ ضرور بالضرور شائع ہوگا۔

(عبدالشکور خاصخیلی۔ ٹنڈوالہیار)

بھائی عبدالشکور صاحب! زیادہ مواد ملنے کی وجہ سے بعض اوقات آپ کا مواد ہوسکتا ہے کہ چھپنے سے رہ گیا ہو لیکن آپ ہمت نہ ہاریں کیونکہ الطاہر آپ جیسے لکھنے والے قارئین کا ہمیشہ منتظر رہتا ہے۔


رسالہ الطاہر شمارہ نمبر 53 عرس شریف کے موقعہ پر ملا بہت پسند آیا، خاص الخاص قطب الارشاد حضرت سوہنا سائیں اور ملفوظات طیبات حضور سوہنا سائیں بے حد پسند آئے۔ ایک خاص عرض کہ رسالہ ہمیشہ دربار پر مل جاتا تھا لیکن گذشتہ دو شمارے 51 اور 52 دربار پر نہیں آئے اس لیے ان سے محروم رہے، عرض ہے کہ ہمارے مرکز پر تو رسالہ ہر وقت موجو ہونا چاہیے۔ سالانہ خریداری پر بھی رسالے پورے نہیں ملتے اسلئے دربار پر سے خریدتے ہیں۔ اس لیے عرض ہے کہ اس طرف بھی کچھ نظر فرمائیں تو انشاء اللہ کام اور بھی اچھا ہوگا۔

(فقیر حبیب اللہ میمن طاہری۔ بھریا سٹی ضلع نوشہروفیروز)

محترم حبیب اللہ صاحب! آپ کے معاملے پر سرکیولیشن مینیجر صاحب کہہ دیا گیا ہے۔ آپ ان کے فون نمبران سے رابطہ کریں۔


شمارہ نمبر 53 پڑھا سارے مضامین عمدہ اور خوبصورت ہیں۔ حضور سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں پڑھ کر دل کو بڑا سکون ملا۔ نئے لوگ اس سے مستفید ہونگے۔ خلفاء حضرات جو کہ اب اس دنیا میں نہیں ان کی خدمات اپنے مرشد سے محبت کے بارے میں جان کر بڑی خوشی ہوئی اور حوصلہ افزائی بھی ہوئی۔ سلسلہ ”نگاہ ولی میں یہ تاثیر دیکھی بدلتی ہزاروں کی تقدیر دیکھی“ اس کو دوبارہ جاری کیا جائے تو بہتر ہوگا۔ برانچ کھنڈو گوٹھ کراچی میں الخادمات طاہریہ میں ہفتہ وار اور ماہانہ پروگرام ہوتے ہیں۔ جن کی تفصیل ارسال کی جو شائع نہیں ہوئی۔ جہاں ہم بڑوں نے یہ تقریب کا پروگرام رکھا وہاں ہمارے چھوٹے بچے جو 6 سال سے 12 سال تک ہیں انہوں نے بھی بڑے جوش و جذبے سے اپنی پاکٹ منی سے محفل منعقد کی۔ تمام اخراجات کا انتظام کیا خصوصی طور پر بچوں نے حضور قبلہ عالم کے لیے دعائیں کیں۔ ناچیز نے اس کی رپورٹ بھی روانہ کی۔ بچوں کے علم میں بات آئی کہ باجی نے ہمارے پروگرام کی رپورٹ روانہ کی ہے خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا۔ جب رسالہ آیا تو بچے میرے اردگرد جمع ہوگئے لیکن رسالے میں ان کی رپورٹ نہیں تھی بے حد دکھ ہوا بچے تو پھر بچے ہیں سوال پہ سوال کیے جارہے تھے۔ ان کو بڑی مشکل سے مطمئن کیا کیونکہ ہمارا اپنا دل مطمئن نہ تھا۔ کچھ معلومات بھی ارسال کی ہیں ضرور شائع کریں۔

(بنت محمد زمان طاہری۔ کھنڈوگوٹھ کراچی)

محترمہ بہن! انشاء اللہ آپ کو آئندہ شکایت کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔


شمارہ نمبر 53 ملا اور پڑھنا نصیب ہوا۔ رسالے کی تمام تحریریں اپنی مثال آپ ہیں۔ عاجز کو خاص طور ایڈیٹر کے قلم سے اور میری بہنا بہت پسند آیا۔ اس عاجز کا عرض ہے کہ اگر آپ الطاہر رسالہ انگلش میں دیں تو زیادہ فائدہ ہوگا، بھلے ہی تعداد کم ہو مگر چھپنا ضرور چاہیے۔

(محمد وقاص طاہری۔ ماتلی)


اس بات پر مبارک باد دینا چاہوں گی کہ الطاہر کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش بہت شاندار طریقے سے جاری ہے۔ اور آپ کی شکر گذار بھی ہوں کہ عرصہ سے میرے دل کی خواہش کو آپ نے صفحہ زینت بنایا یعنی ”آپ کے مسائل اور ان کاحل“۔ جمیل اصغر طاہری کا ”میری بہنا“ پڑھ کر احساس ہوا کہ موجودہ دور میں بہنوں کی عصمت کی حفاظت اور پاسداری کرنے والے بھائیوں کی اشد ضرورت ہے۔ اور عورتوں سے متعلق بھی مضامین گاہے بگاہے شامل کرتے رہا کریں۔

(بنت رفاقت۔ گلستان جویر کراچی)

محرمہ بہن! انشاء اللہ آپ کی قابل قدر تجاویز پر عمل کیا جائے گا۔


عرض ہے کہ شمارہ ستمبر 2008 نیا پڑھ کر بہت خوشی ہوئی، صفورہ برانچ کے تمام عہدیداروں نے پڑھا اور نئے دوستوں کو بھی دئیے گئے اور الحمد اللہ کافی لوگوں میں مقبول ہورہا ہے۔

(فقیر الاہی بخش گبول طاہری۔ فقیر عبدالغفار سولنگی طاہری۔ فقیر محمد صادق سومرو۔ فقیر غلام مرتضیٰ گبول طاہری۔ فقیر وزیر احمد آلکھانی طاہری)


سارے مضامین اپنی مثال آپ تھے ”آپ کے مسائل اور ان کا حل“ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ میں کچھ تحریریں ارسال کررہی ہوں امید ہے کہ شایع کرکے ہمیں شکریہ کا موقع دیں گے۔

(طاہرہ عثمان طاہری۔ لاڑکانہ)


سب سے پہلے تو الطاہر کے تمام ارکان کا نہایت ہی مشکور و ممنوں ہوں جنہوں نے میرے خط کو الطاہر میں شامل کیا اور بے انتہا خوشی محسوس ہوتی ہے کہ ہمارے تنظیم کی معلومات، اصلاحی باتیں اور دین و دنیا کا علم بھی اس رسالے سے حاصل ہوتا ہے۔ اس ناچیز کو محض چار مہینے ہوئے اس تنظیم میں آئے ہوئے، محمد اشرف طاہری کی تبلیغ کی بدولت اور مرشد کی مہربانیوں سے کافی سکون حاصل ہوا۔ ہماری دعا ہے کہ یہ رسالہ (الطاہر) دن دگنی رات چوگنی ترقی حاصل کرے۔ آمین۔

(برکت علی طاہری۔ حاجی سومار حب ضلع لسبیلہ بلوچستان)


شمارہ نمبر 53 عرس مبارک کے دنوں ہاتھ آیا۔ یقین جانیں کہ اسٹال پر اپنا من پسند رسالہ ”الطاہر“ دیکھ کر دل میں فرحت و تازگی محسوس ہونے لگی۔ الطاہر میں مضامین اور دیگر تحاریر لکھنے والوں کے نام کے ساتھ ان کے علائقے کا نام بھی شایع کریں تاکہ پتا چل سکے کہ لکھنے والا کہاں کا باشندہ ہے۔

(محمد حیات لاسی طاہری۔ حب سٹی بلوچستان)


عرض یہ کہ میں نے آپ کی خدمت میں پہلے بھی چند مضامین بھیجے ہیں اور آپ نے بڑی وسعت قلبی سے ان کو الطاہر میں جگہ دی ہے اور اب میں سعی کرکے ایک مضمون ”من نہ گفتم“ لکھ دیا ہے جو پانچ اقساط پر مشتمل ہے مجھے امید ہے کہ آپ اس کو اس دفعہ بھی رسالہ میں جگہ عطا فرمائیں گے، اللہ آپ کو اور الطاہر کی پوری ٹیم کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے۔

(حافظ علی بخش پنہور۔ مٹیاری)


میں یہ تحریر صرف اس لیے لکھ رہی ہوں کہ آپ سے یہ گذارش کرسکوں کہ میں ”دو ماہی الطاہر رسالہ“ کی ممبر شپ کروانا چاہتی ہوں کیونکہ میرے پاس وقت پر رسالہ نہیں پہنچ پاتا۔ برائے مہربانی خط و کتابت کے ذریعے ہی میری ممبر شپ کردیں آپ کی بڑی مہربانی ہوگی۔

(حافظہ کنول ناز طاہری)

محترم! آپ الطاہر کے سرکیولیشن مینیجر کے نام پتہ لکھ کر الطاہر کی ایڈریس پر روانہ کردیں۔


سب سے پہلے تو میں ”سوہنا سائیں“ کے عرس میں شرکت کرنے والے پیارے پیارے عقیدت مند بھائی بہنوں کو اس عظیم الشان عرس میں علم و معرفت کے عظیم خزانے لوٹنے پر مبارک باد دیتی ہوں۔ الطاہر رسالہ اگر دیر سے ملے تو طبیعت بے چین ہوجاتی ہے۔ اس دفعہ کچھ ایسا ہی ہوا، بہرحال دیر آید درست آید پر اکتفا کیا۔ سرورق کو دیکھ کر زبان سے سبحان اللہ نکلا۔ حمد و نعت اور منقبت پڑھ کر دل سرشار ہوا۔ جناب جمیل عباسی کی ”چھوٹی سی بات“ بہت زیادہ عظیم اور قابل عمل ہے۔ حضرت سوہنا سائیں کے بارے میں پڑھ کر علم کے ساتھ عقیدت محبت اور عاجزی میں مزید اضافہ ہوا۔ خلفاء کرام کی سوانح حیات کے بارے میں پڑھتے ہوئے دل سے دعا نکلی کہ اللہ رب العزت تمام مریدین اور خلفاء کرام کو اپنے پیر و مرشد حضور قبلہ عالم محمد طاہر سجن سائیں کے ساتھ ان ہی کی طرح کا جذبہ عقیدت و محبت اور عاجزی رواں دواں رکھنے کی مزید توفیق عطا فرمائے۔ جناب جمیل اصغر طاہری نے اپنے مضمون ”میری بہنا“ کے ذریعے معاشرے کے بھیانک پہلو کو اجاگر کرکے اپنے لیے تعریف وستائش کے کلمات کو حاصل کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔

(سیدہ مدیحہ گیلانی۔ محلہ مائی مستانی 229 ر۔ ب مکوآنہ فیصل آباد)


مضامین کے حوالے سے میری رائے ہے کہ ہم اپنے لٹریچر میں صرف ان ہستیوں کا ذکر کرتے ہیں جو کہ ہم میں نہیں رہے اگر ہم اپنے شمارے میں ایک ایسا سلسلہ شروع کریں جس میں جماعت سے وابستہ تنظیمی عہدیداران، خلفائے کرام اور شمارہ الطاہر کے حوالے سے نمایاں کارکردگی دکھانے والے افراد جو کہ ہم میں موجود ہیں ان کے حالات زندگی اور کام کرنے کا انداز بھی تحریر کریں جسے پڑھ کر قارئین جب ان شخصیات کو اپنے ارد گرد پائیں گے اور ان سے ملیں گے تو یقینا شمارہ کی ترقی میں اضافہ ہوگا اور اس شخصیت کے متعلق تو ضرور وہ شمارہ خریدیں گے۔

(نادیہ علی محمد طاہری۔ سعید آباد بلدیہ ٹاؤن کراچی)


الطاہر کے سارے مضامین بہترین اور اصلاحی ہیں پڑھ کر پیر بھائیوں کی محنت میں خوشی محسوس ہوتی ہے۔ الحمد اللہ کہ میں پہلی بار خط لکھ رہا ہوں اور امید ہے کہ آپ کی کاوشوں اور محنتوں اور مصروفیتوں سے آگاہی ہوتے ہوئے چاہتے ہیں کہ یہ ضرور شایع ہوگا۔ شمارہ نمبر 53 پڑھ کر بہت خوشی ہوئی اور رسالہ تو پڑھنا عرس مبارک سے واپسی میں گاڑی ہی پڑھنا شروع کردیا تھا ”میری بہنا“ کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔

(ڈاکٹر محمد صدیق طاہری۔ سنگرار سوزوکی اسٹاپ صالح پٹ سکھر)


رسالہ الطاہر بہت ہی زبردست اشاعت ہے۔ یہ بہت سے موتیوں میں پرویا ہوا ہے۔ دراصل یہ رسالہ ہر طاہری کے لیے دل کا سکون میسر کرتا ہے بہت سی معلومات کا منبع ہے۔

(صبیح اللہ طاہری۔ تحصیل وضلع جھنگ)


جناب اعلیٰ، رسالہ الطاہر ہاتھوں میں ہے، تمام مضامین اپنی مثال آپ تھے، میں نے خبرنامہ اور گلہائے رنگ رنگ کے لیے چند سطریں ارسال کی ہیں امید ہے کہ آپ ضرور شایع کریں گے تو آپ کا بیحد مشکور و ممنون رہوں گا۔

(نذیر احمد شر طاہری دربار اللہ آباد شریف کنڈیارو)


سلام کے بعد عرض ہے کہ شمارہ نمبر 53 پڑھ کر بہت خوشی ہوئی ہے کیونکہ شمارہ میں بہت دلپسند اور معیاری موضوع ہیں۔ اس دفعہ میں نے اپنے دوستوں کو بھی الطاہر گفٹ کیا۔ دعا ہے رب العزت سے آپ کی یہ محنت قبول فرمائے کہ آپ بڑی محنت سے مواد جمع کرکے حسن ترتیب دیتے ہیں۔

(عبدالحفیظ طاہری۔ تمبون صیر آباد)


دیگر احباب کے نام:

  • فقیر صدام علی طاہری۔ المرکز جامع مسجد ربانی پتھر کالونی حب ضلع لسبیلہ۔
  • فقیر زین العارفین انصاری طاہری۔ گلشن اقبال کراچی۔
  • محمد اسلم طاہری۔ دارو ہوٹل پتھر کالونی بلوچستان۔
  • فقیر حضور بخش طاہری۔ دارو ہوٹل پتھر کالونی بلوچستان۔
  • محمد اسلم۔ حب چوکی بھٹ آباد بلوچستان۔
  • محمد اشفاق شر طاہری گلال محلہ ہنگورجہ۔
  • صائمہ طاہری۔ دنبہ گوٹھ کراچی۔