فہرست الطاہر
شمارہ 55، جمادی الآخر 1430ھ بمطابق جون 2009ع

انسانی حقوق

علامہ الطاف حسین میمن

انسانی حقوق کے بارے میں اسلام کا تصور بنیادی طور پر بنی نوع انسان کے احترام، وقار اور مساوات پر مبنی ہے۔ قرآن حکیم کی رو سے اللہ رب العزت نے نوع انسانی کو دیگر تمام مخلوق پر فضیلت و تکریم عطا کی ہے۔ قرآن حکیم میں شرف انسانیت وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ تخلیق آدم کے وقت ہی اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حکم دیا اور اس طرح نسل آدم کو تمام مخلوق پر فضیلت عطا کی گئی۔ قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

ولقد کرمنا بنی اٰدم وحملنٰہم فی البر والبحر ورزقنٰہم من الطیبٰت وفضلنٰہم علی کثیر ممن خلقنا تفضیلا (بنی اسرائیل 17۔ آیت 70)

ترجمہ: اور بے شک ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور ہم نے ان کو خشکی اور تری میں (مختلف سواریوں پر) سوار کیا اور ہم نے انہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق عطا کیا اور ہم نے انہیں اکثر مخلوقات پر جنہیں ہم نے پیدا کیا فضیلت دے کر برتر بنادیا۔

قرآن حکیم کے الفاظ

الم ترو ان اللہ سخرتکم ما فی السمٰوٰت ومافی الارض۔ (لقمان 20۔ آیت 31)

ترجمہ: کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمیں میں ہے سب کو تمہارے ہی کام لگادیا ہے۔

اور ارشاد کہ

لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم۔ (التین 95۔ آیت 4)

ترجمہ: ہم نے انسان کو بہترین (اعتدال اور توازن والی) ساخت پر بنایا ہے۔

بیان کرتے ہیں کہ انسان کو شرف و تکریم سے نوازا گیا ہے اور اس کو انعامات و نوازشات الاہیہ کے باعث اعلیٰ رتبہ کمال تفویض کیا گیا ہے۔ مساوات انسانی کو اسلام نے بے حد اہمیت دی ہے۔ اس حوالے سے کوئی اور نظام یا اقدار اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ قرآن حکیم نے نبی نوع انسان کی مساوات کی اساس بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا

یٰٓاایہا الناس التقو ربکم الذی خلقکم من نفس واحدۃ وخلق منہا زوجہا وبث منہما رجالا کثیر ونسآء والتقوا اللہ الذی تسآء لون بہ والارحام، ان اللہ کان علیکم رقیبا۔ (النساء 4۔ آیت 1)

ترجمہ: اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہاری پیدائش (کی ابتدا) ایک جان سے کی، پھر اسی سے اس کا جوڑ پیدا فرمایا۔ پھر ان دونوں میں بکثرت مردوں اور عورتوں (کی تخلیق) کو پھیلادیا۔ اور ڈرو اس اللہ سے جس کے واسطے سے تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو۔ اور قرابتوں (میں بھی تقویٰ اختیار کرو) بے شک اللہ تم پر نگہبان ہے۔

ایک دوسرے مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

یا ایہا الناس ان خلقلنٰکم من ذکر وانثیٰ وجعلنٰکم شعوبا وقبائل لتعارفوا ان اکرمکم عنداللہ اتقاکم ان اللہ علیم خبیر۔ (الحجرات 49۔ آیت 13)

ترجمہ: اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور ہم نے تمہارے طبقات اور قبیلے بنادیئے تاکہ ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بے شک اللہ کے نزدیک تو تم سب میں عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہو۔ بے شک اللہ سب کچھ جانتا ہے۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع میں واضح الفاظ میں اعلان فرمایا۔

یا ایہا الناس الا ان ربک واحد وان اباکم واحدأہ لا فضل لعربی علی عجمی ولا عجمی علی عربی ولا حمر علی اسود ولا لاسود علیٰ احمر الاباالتقویٰ۔

ترجمہ: اے لوگو! خبردار ہوجاؤ کہ تمہارا رب ایک ہے اور بے شک تمہارا باپ (آدم علیہ السلام) ایک ہے۔ کسی عرب کو غیر عرب پر اور کسی غیر عرب کو عرب پر کوئی فضیلت نہیں، اور نہ کسی سفید فام کو سیاہ فام پر اور نہ سیاہ فام کو سفید فام پر فضیلت حاصل ہے۔ سوائے تقویٰ کے۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید ارشاد فرمایا۔

الناس کلہم بنو آدم وآدم خلق من تراب۔

ترجمہ: تمام انسان آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے پیدا کئے گئے تھے۔

اسی طرح اسلام نے تمام قسم کے امتیازات اور ذات پات، نسل، رنگ، جنس، زبان، حسب و نسب اور مال و دولت پر مبنی تعصبات کو جڑ سے اکھاڑ دیا۔ اور تاریخ میں پہلی مرتبہ تمام انسانوں کو ایک دوسرے کے ہم پلہ قرار دیا خواہ وہ امیر ہوں یا غریب، سفید ہوں یا سیاہ مشرق میں ہوں یا مغرب میں، مرد ہوں یا عورت اور چاہے وہ کسی بھی لسانی یا جغرافیائی علاقے سے تعلق رکھتے ہوں۔ انسانی مساوات کی اس سے بڑی مثال کیا ہوسکتی ہے کہ دنیا کے مختلف ملکوں، نسلوں اور زبانوں سے تعلق رکھنے والے ہر سال مکۃ المکرمہ میں ایک ہی لباس میں ملبوس حج ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

اکرام آدمیت اور نوع بشر کی برابر کے نظام کی بنیاد ڈالنے کے بعد اسلام نے اگلے قدم کے طور پر عالم انسانیت کو مذہبی، اخلاقی، معاشی اور سیاسی شعبہ ہائے زندگی میں بے شمار حقوق عطا کئے۔

انسانی حقوق اور آزادیوں کے بارے میں اسلام کا تصور آفاقی اور یکساں نوعیت کا ہے جو زمان و مکان کی تاریخی اور جغرافیائی حدود سے ماورا ہے۔ اسلام میں حقوق انسانی کا منشور اس اللہ کا عطا کردہ ہے جو تمام کائنات کا خدا ہے اور اس نے یہ تصور اپنے آخری پیغام میں اپنے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وساطت سے دیا ہے۔ اسلام کے تفویض کردہ حقوق اللہ تعالیٰ کے طرف سے ایک انعام کے طور پر عطا کئے گئے ہیں اور ان کے حصول میں انسانوں کی محنت اور کوشش کا کوئی عمل دخل نہیں۔ دنیا کے قانوں سازوں کی طرف سے دیئے گئے حقوق کے برعکس یہ حقوق مستقل بالذات، مقدس اور ناقابل تنسیخ ہیں۔ ان کے پیچھے الاہی منشا اور ارادہ کار فرما ہے۔ اس لئے انہیں کسی عذر کی بناء پر تبدیل، ترمیم یا معطل نہیں کیا جاسکتا۔ ایک حقیقی اسلامی ریاست میں ان حقوق سے تمام شہری مستفیض ہوسکیں گے۔ اور کوئی ریاست یا فرد واحد ان کے خلاف ورزی نہیں کرسکتا۔ اور نہ ہی وہ قرآن و سنت کی طرف سے عطا کردہ بنیادی حقوق کو معطل یا کالعدم قرار دے سکتا ہے۔

اسلام میں حقوق اور فرائض باہمی طور پر مربوط اور ایک دوسرے پر منحصر تصور کئے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں فرائض، واجبات اور ذمہ داریوں پر بھی حقوق کے ساتھ یکساں زور دیا گیا ہے۔ اس ذیل میں مقصد آیات قرآنی اور احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا حوالہ دیا جاسکتا ہے۔ جن سے یہ بات ثابت ہے کہ اسلامی شریعت کے ان اہم ماخذ و مصادر میں انسانی فرائض و واجبات کو کس قدر اہمیت دی گئی ہے۔ ارشاد ربانی ہے۔

واعبدواللہ ولا تشرکوا بہ شیئا وبا الوالدین احسانا وبذی القربیٰ ویتٰمیٰ ومسٰکین والجار ذی القربیٰ والجار الجنب والصاحب بالجنب وابن السبیل وما ملکت ایمانکم ان اللہ لایحبت من کان مختالا فخورا۔ (النساء 4۔ آیت 36)

ترجمہ: اور تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو اور شتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں (سے) اور نزدیکی ہمسائے اور اجنبی پڑوسی اور ہم مجلس اور مسافر (سے) اور جن کے تم مالک ہوچکے ہو (ان سے نیکی کیا کرو) بے شک اللہ اس شخص کو پسند نہیں کرتا جو تکبر کرنے والا (مغرور) فخر کرنے والا (خود بین) ہو۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی درج ذیل حدیث مبارکہ میں حقوق اللہ اور حقوق العباد کے باہمی تعلق کو بڑی تاکید سے بیان کیا گیا ہے۔

عن معاذ بن جبل قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا معاذ اتدری ماحق اللہ علی العباد قال اللہ ورسولہ اعلم۔ قال ان یعبداللہ ولایشرک بہ شیئا قال اتدری ماحقہم علیہ اذا فعلو ذالک فقال اللہ ورسولہ اعلم قال ان لا یعذبہم۔ (صحیح البخاری، صحیح المسلم)

ترجمہ: حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے معاذ کیا تو جانتا ہے کہ اللہ کا بندے پر کیا حق ہے؟ حضرت معاذ نے کہا اللہ اور اس کا رسول بہت جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یقینا اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اسکے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تو جانتا ہے کہ اللہ پر بندے کا کیا حق ہے؟ حضرت معاذ نے کہا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندوں کا حق اللہ پر یہ ہے کہ وہ (اپنے ایسے) بندوں کو عذاب نہ دے۔

اسی طرح حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل ایمان کو تلقین فرمائی ہے کہ وہ ان فرائض کو ادا کریں جو ان پر والدین، بچوں، عورتوں، ان کے پڑوسیوں، غلاموں اور ذمیوں کے وغیرہ طرف سے عائد ہوتے ہیں۔

انسانی حقوق کا قرآنی فلسفہ

اسلام جملہ شعبہ ہائے حیات میں اعتدال اور توازن کا درس دیتا ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی کے ہر پہلو کے حوالے سے ایسی تعلیمات عطا کیں جو زندگی میں حسین توازن پیدا کرنے کی ضمانت دیتی ہیں۔ اسلام کا یہ بنیادی اصول اس کی تمام تعلیمات اور احکام میں کار فرمایا ہے۔ حضور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عطا کردہ انسانی حقوق بھی اسی روح سے ہیں۔ دنیا کے دیگر معاشرتی و سیاسی نظام حق کے احترام و ادائیگی کی اس بلندی و رفعت کی نظیر پیش نہیں کرسکتے۔ جس کے مظاہرہ تعلیمات نبوی میں نظر آتا ہے۔ اسلام کا فلسفہ حقوق دیگر تمام نظام ہائے حیات کے فلسفہ حقوق سے بایں طور مختلف و ممتاز ہے۔

(جاری ہے)