فہرست الطاہر
شمارہ 55، جمادی الآخر 1430ھ بمطابق جون 2009ع

نوجوانوں کی تربیت

جمیل اصغر

اقوام کی تقدیر نوجوان نسل کی تربیت پر منحصر ہوا کرتی ہے۔ ترقی و تنزل کی سینکڑوں داستانیں شاہد ہیں کہ زمانے کی تمام اقتدار اسی قوم کے ہاتھ رہی جس کی جواں نسلیں اعلیٰ کردار اور ارفع اطوار کی حامل تھیں۔ پستیوں کے نشیب چیخ چیخ کر ان اقوام کا حال سناتے ہیں جن کی نوجوان نسلیں لہوولعب، کھیل کود اور منفی رجحان کے نذر ہوگئیں۔

بحیثیت مسلم و پاکستانی قوم ہماری حالت قابل رشک نہیں۔ ہمارا تعلیمی معیار، اداروں کی حالت، نظام تعلیم و تربیت قابل رحم حالت میں ہے۔ اس پر ستم یہ کہ غیر مسلم قوتیں اسی نکتہ پر کام کررہی ہیں کہ نوجواں مسلم کی سوچ و فکر کے زاویے کبھی درست سمت اختیار نہ کر پائیں۔ میڈیا کا طوفانِ باطل حق کے متوالوں کو اپنی گندی جولانیوں کا شیدا بنانا چاہتا ہے۔ تھنک ٹینک برسوں کی حکمت عملی بناکر مسلم نوجوان کو دیمک زدہ بنانے کی درپے ہیں۔ تحقیق کے میدانوں سے شاہین بچوں کو نکال باہر کرنے کا منصوبہ خطرناک حد تک کامیاب ہوچکا ہے۔ اسی بناء پر ہم ان کے در پر کاسہ گدائی لیے نظر آتے ہیں۔ مغربی تہذیب و تمدن کو اس طرح پیش کیا کہ آج ہمارے طالبعلم اپنی آفاقی تہذیب کو چھوڑ کر اسی تہذیب کے پیکر بن چکے ہیں۔ اور اپنے مذہب، اپنی اقدار و روایات پر شرمندہ شرمندہ نظر آتے ہیں۔ مسلم طلبہ کو علم سے دور کرنے کے لیے اغیار بلکہ اپنے ناہنجار، ناعاقبت اندیش لوگوں نے کتاب سے دور کردیا۔ وہ نوجوان جس نے ملت کی تقدیر بدلنا تھی اس کے ہاتھوں میں ہتھیار دے دیے جو اپنے ہی ملک و مفاد پر ضرب لگا رہا ہے۔ اپنی منزل سے بے خبر ناچ گانے، بیہودہ محافل (فنکشنز)، مخلوط تعلیم کی آڑ میں بے حیائی و فحاشی میں مگن ہوکر ملت کے ستارے کو روشنی سے محروم کررہا ہے۔

توحید کے حسن، سنت نبوی کے رنگ، قرآن کے انقلاب سے محروم طلباء امت کے زوال کی خوں رنگ حالت کی عکاسی کررہے ہیں۔ اس کی فکر پر جمود، سوچ پر قنوطیت وجود پر عیش وعشرت، نگہ پرستی کا راج ہے۔

گلا گھونٹ دیا تیرا اہل مکتب نے
کہاں سے آئے گی صدا لا الٰہ الا اللہ

صفہ سے دیا جانے والا درس انقلاب، بدر و حُنین کی فضاؤں سے ملنے والا پیغام، سب کچھ بھول گیا اور علم کے نام پر عشق مجازی کے افسانے اس کی منزل کو دور کرگئے۔

سائنس کی وہ ترقی جس کی بنیاد جابر بن حیان، ابو یعقوب الکندی، اور ابن الہیثم جیسے مسلم سائنسدانوں نے رکھی تھی، امت مسلمہ کی پہنچ سے دور ہماری حالت زار پر ماتم کررہی ہے۔ اور منتظر ہے کہ اس قوم کا کوئی فرد، گروہ یا طلباء پھر سے اسے ترقی بخشیں اور اپنی قوت و صلاحیت سے سائنسی میدان میں آگے بڑھ جانے پر صرف کریں، مگر ہنوز ہمارا یہ طالب العلم طبقہ نفس شیطان کی راہوں پرناچ رہا ہے۔

انفارمیشن ٹیکنالاجی نے کامرانی کی نئی راہوں کی نشاندہی کی تو ہماری ابتری اور گہری ہوگئی۔ غیر مسلم طلباء نے اسے تحقیقی سرگرمیوں میں استعمال کرکے ترقی کی منزلیں طے کرنا شروع کردیں مگر آہ ہماری بھٹکی ہوئی یہ اہم نسل نے اسے اپنی اخلاقی و روحانی گراوٹ کا ذریعہ بنالیا۔ برائی و بے حیائی کے رنگ اور گہرے ہوتے چلے گئے۔
اکابر امت پر فرض ہوگیا کہ اپنا مستقبل بچانے کے لیے ایسا مربوط طریقہ کار اختیار کریں جس سے ہماری طلبہ کی فکر و ذہنی نشونما ہو اور بھٹکا ہوا آہو پھر سوئے حرم چل دے۔ اسے یہ فکر دیا جائے کہ

تیرے دریا میں طوفاں کیوں نہیں ہے
خودی تیری مسلماں کیوں نہںل ہے

عبث ہے شکوۂ تقدیر یزداں
تو خود تقدیر یزداں کیوں نہیں ہے

اور اس نسل کو جو جنسی تسکین کو اوڑھنا بچھونا بنا چکی ہے اور مخلوط تعلیم نے اس کے اذہان کو جنسیت زدہ کر دیا ہے۔ اسے عفت و حیا، عصمت و پاکیزگی کا پیکر بنایا جائے تاکہ پستی کا سفر ختم ہوسکے۔ ایسا کوئی جتن کیا جائے کہ یہ بنجر زمیں زرخیر ہوسکے۔

نہیں ہے نو امید اقبال اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

توحید و رسالت کے دروس، اولیاء اللہ کی عشق و مستی کی داستانیں اس کے شعور کو اجاگر کریں اور وفا کے درس اس کو حسن حقیقی سے روشناس کردیں۔

ایسی تنظیم بنائی جائے، جس کا مقصد طلبہ کی ذہنی و فکری تربیت کرنا ہو اور انداز و دستور بھی قرآن و سنت کا آئینہ دار ہو۔

٭جس کے دامن میں اس حرماں نصیب گروہ کا درد بھی ہو اور انکی حالت زار پر آہ وزاری اور اشک بھی ہوں۔

٭جو طلبہ کو سیاسی و ذاتی مقاصد کے لیے استعمال نہ کرے۔

٭جو ان کا خون اقتدار کے حصول کے لیے نہ بہائے۔

٭جو اسے فوقیت، لسانیت، علاقائیت کا درس نہ دے۔

٭جو اس کے ہاتھ سے قلم چھین کر اسلحہ نہ تھمائے۔

٭جو طلبہ کو ایک دوسرے کے خون کا پیاسا نہ بنائے بلکہ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی طرح ایک دوسرے پر فدا ہونے کا جذبہ بخشے۔

٭جو انہیں عشق مجازی میں کھوکر مجنوں بننے کا ماحول نہ دے بلکہ عشق صدیق و بلالی کی گرمی بخشے۔

٭جو اسے نصابی سرگرمیوں میں مصروف کرکے سائنس و ٹیکنالاجی کو عزت مسلم کی بحالی کے لیے درس دے۔

٭جو اسے غیر مسلم تہذیب و ثقافت کی ظاہری چمک سے نکال کر تہذیب محمدی کا عمل نمونہ بنائے۔

٭جس کو ایسی اعلیٰ صفت قیادت ملی ہو جس کی نگہ بلند، سخن دلنواز اور جال پرسوز ہو۔

٭جس کے پاس آفاقی لائحہ عمل ہو جو مسلم طلبہ کو موجودہ پستی سے نکال کر بلندی پر لے جاسکتا ہو۔

٭جو تنظیم صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لیے میدان عمل میں اتری ہو۔

٭جس کے دامن میں توحید باری، عشق رسول، محبت صحابہ و اہل بیت، صحبت اولیاء کی دولت کے موتی ہوں۔

٭جس کا دامن محبت کے خوش رنگ پھولوں سے بھرا ہو اور فرقہ واریت و تشدد کا کوئی کانٹا نہ ہو۔

اگر اس تناظر میں مسلمہ مذہبی و سیاسی تنظیموں کا جائزہ لیا جائے تو افسوسناک صورتحال سامنے آتی ہے کہ سبھی کا دامن تنگ ہے۔ اسی لیے برسوں کی جدوجہد نسل جواں کی سوچوں کی دھارا نہ موڑ سکی۔ اور یہ پھول خزاؤں کی منحوس فضاؤں میں مرجھاتے چلے جارہے ہیں۔

اس خوفناک صورتحال کا احساس کرتے ہوئے اور طلبہ کے اخلاقی بگاڑ کو مدنظر رکھتے ہوئے اکتوبر 1975ء میں سندھ کی عظیم روحانی شخصیت، انقلابی رہنما حضرت خواجہ اللہ بخش غفاری المعروف سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ نے مشاورت کے بعد مندرجہ بالا خصوصیات کی حامل تنظیم ”روحانی طلبہ جماعت“ کی بنیاد رکھی۔

اور یوں اللہ نے اپنے دوست کے آنسوؤں، آہوں اور دعاؤں کو پذیرائی بخش کر طلبہ کے روگ کا علاج دے دیا۔
سوہنا سائیں کا یہ مبارک عمل اس بات کا عکاسی کرتا ہے۔

جو قافلہ عزم و یقین سے نکلے گا
جہاں سے چاہے گا رستہ وہیں سے نکلے گا

وطن کی ریت ہے ذرا ایڑیاں رگڑنے دو
مجھے یقین ہے پانی یہیں سے نکلے گا

عزم و یقین کا یہ قافلہ سندھ کی ایک بستی اللہ آباد کنڈیارو سے چلا تو راستے کٹھن اور منزل دشوار نظر آتی تھی، مگر لیڈر کی فراست، پیغام کی آفاقیت اور امت کا درد متاع کارواں تھا جس نے اس تنظیم کو مختصر وقت میں عظیم بنادیا اور بھٹکے ہوئے طالبعلم اس کے دامن میں آکر راہ ہدایت پاگئے۔ وحشت و بربریت کے پیکر محبت کے امین بن گئے، لسانیت، قومیت، فرقہ واریت کے بتوں کے پجاری اسلام کی مساوات کا نمونہ بن گئے، مغربی تہذیب کے دلدادہ محمدی سانچے میں ڈھل گئے۔ کتنے ہی نوجوان دل عشق مجازی سے نکل کر عشق الٰہی میں کھوگئے۔ کتاب سے رابطہ مضبوط ہوا۔ سائنس و ٹیکنالاجی کے میدان کے شاہین بنے، ملک و قوم کے لیے مفید بنے، کالجوں، یونیورسٹیوں کے بہکے ہوئے ماحول میں شرافت و حیا کے چراغ بن گئے۔

”خود نہ تھے جو راہ پر اوروں کے رہبر بن گئے“ کا مصداق بن کر انفارمیشن ٹیکنالاجی پر دسترس حاصل کرکے انہی میدانوں میں جہاں سے اسے گمراہی کے درس ملتے تھے، اسلام کے آفاقی پیغام اور صداقت کے غلغلے بلند کررہے ہیں۔ جہاں سے اسے پستی ملتی تھی آج انہی پیغامبروں کو رفعت و بلندی کی دعوت دے رہے ہیں۔ شاہین بچے خاکبازی کے درس بھلاکر محبت الٰہی و اطاعت پیغمبر کے ارفع جہاں میں محو پرواز نظر آتے ہیں۔

٭وہ طلبہ جن کا اوڑھنا بچھونا رقص و سرور تھا اور جنسی آزادی کے آرزو مند تھے اس جماعت نے وہ حیا بخشی کہ آج جنسی بے راہ روی کے سامنے دیوار بن کر کھڑے نظر آتے ہیں۔

٭جو استاد کے مقام ارفع سے نابلد تھے بلکہ گستاخی کے مرتکب ہوئے تھے آج وہ اساتذہ کے قدموں میں بچھے نظر آتے ہیں۔

٭سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ کے فکر کو جلا ملی اور ان کا خواب پورا ہوا کہ نوجوان نسل کو اسلام کی عظمت کا احساس دلایا جائے اور اس کے شب و روز اسی مقصد کے لیے صرف ہوں آج الحمدﷲ ر۔ط۔ج کے ہزاروں ممبر اپنی راہوں کے مسافر اپنی منزل کی طرف بڑھتے چلے جارہے اور نئے طلبہ اس قافلے میں شامل ہوتے چلے جارہے ہیں۔

میں اکیلاہی چلا تھا جانب منزل مگر
ہمسفر ملتے گئے، کارواں بنتا گیا

یہ روحانی کارواں آج سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ کے لخت جگر، صفات حسنہ کے پیکر اور عظیم صلاحیتوں کے حامل، ظاہری و باطنی علوم سے مزین قائد حضرت خواجہ محمد طاہر نقشبندی المعروف سجن سائیں مدظلہ العالی کی قیادت میں بدلتے ہوئے عالمی حالات کے تقاضوں سے ہم آہنگ منزل کی طرف رواں دواں ہے۔

چھوٹی سی بستی سے اٹھنے والی یہ خوشبو آج پاکستان سے باہرکئی ممالک کو معطر کررہی ہے۔ نئی سائنسی ایجادات کو استعمال کرتے ہوئے اس کی کرنیں پوری دنیا پر پڑ رہی ہیں اور وہ دن دور نہیں جب ان کاوشوں کے نتیجہ میں امت مسلمہ کے طلبہ امت کے زوال کو اس کے عروج میں، اس کی ذلت کو اس کی عزت میں بدل دیں گے اور عظمت رفتہ پھر سے اسی عظیم امت کو حاصل ہوجائے گی۔

طلبہ کو دعوت ہے کہ وہ اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لیے، روحانیت کے اعلیٰ اقدار کے حصول کے لیے اور اپنی تعلیم کی مقصدیت کے لیے ر۔ط۔ج میں شامل ہوں۔ یوں آپ بے دینی، بے حیائی، غیر مسلم تہذیب کے رنگوں اور اپنی جوانی کو ضائع ہونے سے بچاسکیں گے۔ تعلق با اللہ، ربطِ رسالت، ذکر اللہ و مراقبہ، صحبت صالحین کے ذریعہ نہ صرف آپ اپنی دنیاوی زندگی میں کامیاب ہوں گے بلکہ آخری فلاح بھی آپ کا مقدر بنے گی۔

اس سے پہلے کہ

٭آپ کی فکری صلاحیتیں زنگ آلود ہوجائیں۔

٭غیر مسلم قوتیں آپ کو اپنا آلہ کار بنالیں۔

٭آپ سیاست و اقتدار کی بھینٹ چڑھادیے جائیں۔

٭آپ کا قلم و کتاب سے رشتہ کمزو ہوجائے۔

٭آپ کی نگاہوں سے منزل پوشیدہ ہوجائے۔

٭ملک و ملت کی امیدیں دم توڑ جائیں۔

تعلیم کے حصول، کردار کی پاکیزگی و عظمت، اسلام دشمن عناصر کی سازشوں کے خاتمے، اخلاقی و روحانی عظمت کے حصول، اسلامی ثقافت کے اصولوں کی ترویج اور تحقیق کے میدانوں میں مسلمانوں کا وافر حصہ ڈالنے کے لیے ”روحانی طلبہ جماعت“ میں شامل ہوجائیں۔ کہ یہی آج کے مرض کہن کا چارہ ہے۔