فہرست الطاہر
شمارہ 55، جمادی الآخر 1430ھ بمطابق جون 2009ع

اسلام اور تعلیم

طاہرہ عثمان طاہری

دین اسلام ایک سچا اور مکمل دین ہے جو نہ صرف زندگی کے مسائل کا ایک ساتھ معقول اور سائنٹفک حل پیش کرتا ہے بلکہ ہر پریشانی اور الجھن کو دور کردیتا ہے۔ انسان کو پوری قوت سے روحانی حقیقت سے روشناس کرواتا ہے۔ اگر اسلام میں تعلیم کے تصور کا جائزہ لیا جائے تو یہ تب سے ہے جب اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بحیثیت پیغمبر دنیا کے سامنے پیش کیا جب دنیا جہالت کی تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ ایسے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بحیثیت پیغمبر ریگستان عرب میں قرآنی تعلیمات کے علم و بصیرت سے روشنی پھیلادی۔ اسلام صرف فلسفہ حیات ہی نہیں بلکہ ایک اصلاحی اور انقلابی تحریک بھی ہے۔ جو نیکیوں کو قائم کرنے اور بدیوں کو روکنے کی جدوجہد کرتی ہے۔

ان ہی تعلیمات کی بدولت جاہلان عرب معلم اور ہادی بن گئے۔ انہوں نے کتاب اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات سے اکتساب فیض کرکے سینکڑوں علوم و فنون ایجاد کر ڈالے۔ قرآنی تعلیمات کی روشنی میں اہل عرب نے تجوید، تفسیر، حدیث و عقائد، کلام فقہ، اصول فقہ، تاریخ، سوانح، لغت، ادب، شاعری اور سائنسی تعلیمات میں عروج حاصل کیا۔ اسلام نے دیگر تمام مذاہب کے برعکس تعلیمی اصول فراہم کئے ہیں۔ جنہیں مشعل راہ بناکر شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اس لیے برملا یہ کہا جاتا ہے کہ اسلامی تعلیمات کے تحت انسانیت نے اپنے سفر کا آغاز تاریکی اور جہالت سے نہیں بلکہ علم اور روشنی سے حاصل کیا۔

تخلیق آدم کے بعد اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے جس چیز کا شعور دیا وہ اشیاء کا علم تھا۔ یہ ہی وہ علم ہے جو انسان کو باقی مخلوق سے ممتاز کرکے اشرف المخلوقات کے رتبے پر فائز کرتا ہے۔ اسلام ہی وہ دین ہے جس نے تمام مسلمانوں پر تعلیم کو فرض قرار دیا ہے۔ چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی وہ علم کے مقام پر روشنی ڈالتی ہے۔ اس میں صرف تعلیم کی ضرورت کو واضح نہیں کیا گیا بلکہ تعلیم کے علاوہ پڑھنے اور لکھنے کی طرف بھی واضح ارشادات موجود ہیں۔ غرضیکہ اسلام کے وسیع تر پس منظر اور مفہوم کا جائزہ لیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ اسلامی معاشرے میں تعلیم ہی وہ اجتماعی عمل ہے جس کے ذریعے معاشرہ نئی نسل کو تصور حیات دیتا ہے۔ اسلامی افکار کی روشنی میں زندگی گذارنے کے طور طریقے اور اخلاقیات کی تربیت دیتا ہے۔ اور اس اخلاقی نظام کا بنیادی مقصد بلاشبہ رضائے الٰہی کا حصول ہے۔ حصول علم کو ہر طریقے سے سہل بنانا کار ثواب ہے اور اس کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنا اور تعلیم دینے سے انکار کرنا بھی گناہ عظیم ہے۔ چنانچہ تعلیم کو دوسروں تک پہنچانے کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے پڑھ تیرا رب کریم ہے جس نے قلم سے تعلیم دی انسان کو ان چیزوں کی تعلیم جن کو وہ نہ جانتا تھا۔ (سورت علق۔ 3۔ 4)

تعلیم کے متعلق واضح کرتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔ آیت کریمہ کی روشنی میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسلامی تعلیم حاصل کرنا محض معاشرتی ضرورت ہی نہیں بلکہ یہ ایک فرد کی حیاتیاتی اور دینی ضرورت بھی ہے۔ اسلامی تعلیم کی روشنی میں انسان اپنے خدا کی اطاعت کے سانچے میں ڈھل جاتا ہے۔

غرضیکہ تعلیم انسانی نسل کی بقا کے لیے لازمی حیثیت رکھتی ہے۔ بغیر تعلیم کے نہ تو قومیں ترقی کرسکتی ہیں نہ ہی اپنے معاشرتی زندگی کو دوام بخشتی ہیں۔ موجودہ سائنسی ترقی جو اپنے نقطہ عروج پر نظر آتی یہ تعلیم کے ہی مرہون منت ہے۔ تعلیم کے ذریعے ہی انسان نے کائنات کی ہر چیز کو اپنے لیے قابل استعمال بنایا۔ تعلیم ہی ہے جو انسان کو اچھائی اور برائی میں تمیز سکھاتی ہے۔ یہ تعلیم ہی ہے جو انسانوں کو اشرف المخلوقات کے رتبے پر فائز کرتی ہے۔ جو قومیں اپنے افراد کے لیے بہترین تعلیم کا اہتمام نہیں کرتی ہیں وہ نہ صرف ترقی کے دور میں پیچھے رہ جاتی ہیں بلکہ اپنے کردار و اخلاق کے لحاظ سے بھی پست رہ جاتی ہیں۔ لہٰذا آج ہر پاکستانی اور ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ضرورت تعلیم کا ادراک کرکے تعلیمی ماحول بہتر بنانے کے لیے بھرپور کوشش کرے اور اپنی اولاد کو بہتر تعلیم دلا کر انہیں معاشرے میں ذمہ دار فرد بنائے۔