فہرست الطاہر
شمارہ 55، جمادی الآخر 1430ھ بمطابق جون 2009ع

بے موقع سچ

حکیم محمد سعید

جھوٹ بولنا بہت بری عادت ہے، جھوٹے آدمی کو کوئی پسند نہیں کرتا۔ سچ کو سب پسند کرتے ہیں اور سچے آدمی کی قدر کی جاتی ہے لیکن سچ بولنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ موقع بے موقع سچی بات کی جائے۔ موقع سے مراد یہ ہے کہ اگر سچ بولنے سے کسی کا نقصان ہوتا ہے یا لڑائی جھگڑے یا فساد کا اندیشہ ہو تو اس وقت زبان کھولنے سے اچھا ہے کہ آدمی خاموش رہے میرا مطلب یہ نہیں کہ آدمی جھوٹ بولے لیکن اگر سچ بولنے کا مقصد نقصان پہنچانا یا فساد پیدا کرنا ہو تو یہ سچائی نہیں ہوئی۔ ایسے موقعوں پر کوشش کرنی چاہیے کہ آدمی چپ رہے یا وہاں سے ٹل جائے۔ شیخ سعدیؒ نے فرمایا ہے ”فتنہ پیدا کرنے والی سچائی سے وہ جھوٹ اچھا ہے جو بھلائی کے لیے ہو۔“ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جھوٹ اچھی چیز ہے۔ جھوٹ بہرحال بری عادت ہے۔ صرف ان موقعوں پر جھوٹ بولنا برا نہیں ہے جب اس سے کسی کو فائدہ ہوتا ہو اور وہ بھی جائز فائدہ ورنہ آدمی کو ہر وقت سچ بولنا چاہیے۔