فہرست الطاہر
شمارہ 55، جمادی الآخر 1430ھ بمطابق جون 2009ع

اداریہ: ایڈیٹر کے قلم سے

ابتدائے آفرینش سے انسان کے اندر خیر و شر کی جنگ جاری ہے۔ انسان کے اندر موجود یہ دونوں قوتیں انسانی قلب و دماغ پر قابو پانے کے لیے آپس میں دست و گریباں رہتی ہیں۔ ان دونوں قوتوں کو بیرونی عوامل سے بھی مکمل مدد حاصل ہوتی ہے اور بیرونی عوامل میں سے جس بھی قوت کو سازگار ماحول میسر آتا ہے وہ دوسری قوت پر حاوی ہوجاتی ہے۔ جس معاشرے میں جس جگہ پر اخلاقی ماحول بہتر ہوتا ہے اور افراد کے اندر سچائی، اصول پسندی، قانون پسندی، عفو درگذر اور اصلاح پسندی کی صفات موجود ہوتی ہیں وہاں پر اگر کوئی فرد باہر سے آجائے اور اس کے اندر شر کا پہلو نمایاں ہو لیکن پھر بھی وہاں کا ماحول اس پر اثر انداز ہوتا ہے اور اس کے اندر موجود شر کی قوت کمزور ہوتی جاتی ہے اور خیر کا پہلو نمایاں ہوتا جاتا ہے۔ جیسے ہم اپنے ملک پاکستان کے اندر قانون توڑنے کو اپنا شعار بنالیتے ہیں اور اپنے ضمیر کو یہ کہہ کر خاموش کرلیتے ہیں کہ “یہ پاکستان ہے، یہاں سب چلتا ہے“ لیکن انہی افراد میں سے کوئی فرد ایسے ملک چلا جاتا ہے جہاں اصول پسندی اور قانون پرستی کا راج ہے جیسے یورپین ممالک وغیرہ تو وہ پاکستانی وہاں جاکر وہاں کے ماحول سے متاثر ہوکر اپنے ہر عمل و فعل میں قانون پسند ہوجاتا ہے اور ضمیر کی آواز پر لبیک کہنے لگتا ہے حالانکہ پاکستان کے اندر قانون توڑتے ہوئے اپنے ضمیر کو مطمئن کرلیتا تھا۔ تو اس سے یہ چیز ظاہر ہوئی ہے کہ انسان کے اندر خیر و شر کی قوتیں ماحول سے اثر لیتی ہیں اور بیرونی عوامل کے اثر سے وہ انسان پر حاوی ہوجاتی ہیں۔ اسی بات کے پیش نظر تصوف و طریقت میں صحبت شیخ کا بہت بڑا مقام ہے اور اس کو ازحد ضروری قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ انسان جب تلاش معاش میں سرگردان ہوتا ہے تو اس ماحول میں وہ مختلف لوگوں سے ملتا جلتا ہے اور ان کی صحبتیں اختیار کرلیتا ہے۔ ان ملنے جلنے والے افراد میں آج کل اکثریت ان لوگوں کی ہوگئی ہے جو پیسے کو حصول مقصد بنائے بیٹھے ہیں اور اس کو پانے کے لیے ہر جائز ناجائز ذریعہ استعمال کرتے ہیں۔ تو سالک طریقت جب ایسے لوگوں کی صحبت میں اٹھنا بیٹھا شروع کرلیتا ہے تو ان لوگوں کا ماحول اس پر بھی اثر انداز ہونا شروع ہوجاتا ہے اور اس کے اندر خیر کی قوت کمزور ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہوجاتا ہے کہ اس خیر کی قوت کو کمزوری سے بچانے اور طاقتور بنانے کے لیے مرشد کامل کی صحبت اختیار کرے۔ اور مکمل یکسوئی و توجہ اور وافر وقت نکال کر پیر کی صحبت میں رہے تاکہ خیر کی قوت اہل اللہ کی صحبت سے اثر لیکر اپنے حقیقی مقصد یعنی ذکر اللہ میں شاغل ہوجائے اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مستفیض ہوکر سالک کو سکوں حقیقی سے بھردے۔