| فہرست | الطاہر شمارہ 55، جمادی الآخر 1430ھ بمطابق جون 2009ع |
گلہائے رنگ رنگفرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلملوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ ان کا مقصد ان کا پیٹ ہوگا اور دولت ان کی عزت ہوگی اور پیسہ ان کا دین ہوگا، اور وہ بدترین ہوں گے اور آخرت میں ان کا حصہ نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں برائی سے بچائے اور آخرت میں شرمندگی نہ ہو آمین۔ مرسلہ: رابعہ مستوئی۔ ٹنڈوالہیار حدیثحضرت عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا جس نے تین چیزوں کو جمع کرلیا اس نے ایمان (کی علامتوں) کو جمع کرلیا۔
مرسلہ: سید مظہر علی شاہ جیلانی۔ میرپورخاص خدا کا غصہحضرت عیسیٰ سے کسی نے پوچھا کہ کائنات میں سب سے سخت چیز کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ خدا کا غصہ جس سے جہنم بھی لرزتی ہے۔ اس شخص نے پھر پوچھا یا حضرت خدا کے غصے سے بچنے کا کیا طریقہ ہے؟ آپ نے فرمایا کہ جب تمہیں کسی پر غصہ آئے تو خدا کے غصے کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنا غصہ پی جاؤ کیونکہ جو شخص دوسروں پر رحم نہیں کرتا ہے وہ رحمت خدا کی امید کیسے رکھ سکتا ہے۔ (مثنوی مولانا رومی) مرسلہ: حافظ محمد حنیف۔ سجن آباد۔ اوتھل۔ بلوچستان فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم
مرسلہ: زینت طاہری۔ لیاری ٹاؤن کراچی اقوال حضرت علی رضی اللہ عنہ
مرسلہ: ندیم احمد سومرو طاہری حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ
مرسلہ: حمیر عباس انصاری۔ ماتلی پانچ کامآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا اے علی رات کو سوتے وقت پانچ کام کرکے سویا کرو۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یہ کام تو بہت مشکل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”چار دفعہ الحمد شریف پڑھنے سے چار ہزار دینار صدقہ کرنے کا اجر ہے۔ تین دفعہ درود شریف پڑھنے سے جنت کی قیمت ادا ہوجاتی ہے۔ دس دفعہ استغفر اللہ پڑھنے سے دو لڑنے والوں میں صلح ہوجاتی ہے۔ کلمہ سوئم پڑھنے سے حج یا عمرہ کی قیمت ادا ہوجاتی ہے۔ تین بار سورہ اخلاص پڑھنے سے ایک قرآن پڑھنے کا اجر ملتا ہے۔ عرض کیا یہ کام تو روزانہ کرکے سویا کروں گا۔ مرسلہ: بے نظیر طاہری۔ دنبہ گوٹھ ملیر فرمان حضرت علی رضی اللہ عنہ
مرسلہ: فقیر شکیل احمد طاہری۔ مولا مدد لیاری کراچی معلومات مسجد نبوی
مرسلہ: کاشف احمد راجپوت۔ کشمیری محلہ ماتلی محراب النبی صلی اللہ علیہ وسلمیہ محترم و مقدس مقام ہے جہاں سردار دو عالم صلی اللہ علیہ وسل منے کھڑے ہوکر حیات طیبہ کے آخری لمحات تک امامت فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے قدمین شریفین کی جگہ چھوڑ کر دیوار کھڑی کرادی تھی۔ تاکہ جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جبین مقدس رہتی تھی۔ وہاں کسی کا قدم نہ پہنچے۔ موجودہ محراب سلطان قائتبانی نے قائم کی۔ اور اس کو ادب و احترام کا لحاظ رکھتے ہوئے اس انداز پر بنایا گیا ہے کہ سجدہ کرنے والے کا سر عین اس مقام پر ہوتا ہے جہاں سرور دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک ہوتے تھے۔ محراب کے بیچ والے حصے کے داہنی طرف دیوار پر ”ھذا مصلی النبی صلی اللہ علیہ وسلم“ کے الفاظ کندہ ہیں۔ اس کتبہ کے عین سامنے کھڑے ہونے اصل مصلیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کا شرف حاصل ہوتا ہے۔ اکثر ناواقف حضرات محراب کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے اقامت خیال کرتے جو صحیح نہیں۔ غیر موسم حج نیز رمضان شریف کے عشرہ آخری کے تہجد کی نماز امام صاحب یہیں کھڑے ہوکر پڑھاتے ہیں۔ مرسلہ: بنت محمد زمان طاہری۔ برانچ کھنڈو گوٹھ کراچی منقبتمیرے رہبر میرے دلبر میرے سجن سائیں ہیں جو رکھتے ہیں نظر مجھ پر میرے سجن سائیں ہیں لگی ہے بھیڑ دیوانوں کی ان کے آستانے پر مسواک عمامہ داڑھی طاہری ٹوپی ذکر قلبی ہے ان کی عطا زمانہ مانے یا روٹھے بلا سے اپنی اے فرمان مرسلہ: محمد فرمان علی راجپوت طاہری۔ سانگھڑ خوشبو کی باتیں
مرسلہ: انور علی مستوئی۔ مستوئی کالونی ٹنڈوالہیار معلومات
مرسلہ: شہاب الدین پیرزادہ طاہری۔ حب چوکی ہنسنا منع ہےڈاکٹر (مریض کو دوا دیتے ہوئے) ”دو چمچ صبح، دو چمچ دوپہر اور چمچ شام پی لیں“ مریض ”جناب کوئی اور دوا دے دیں میں غریب آدمی ہوں میرے گھر میں اتنے چمچ نہیں ہیں۔“ ایک فقیر گھر کے سامنے صدا لگاتا ہے ”باجی! اللہ کے واسطے کھانا دے دو“ باجی ”ابھی کھانا تیار نہیں ہے بعد میں آنا“ فقیر ایک پرچی باجی کی طرف بڑھاتے ہوئے ”اس پر میرا نمبر لکھا ہے جب کھانا تیار ہوجائے تو مجھے مس کال دے دینا“ مرسلہ: شہاب الدین پیرزادہ۔ حب چوکی قرآن کریم میں انبیاء کرام کے نام
مرسلہ: غلام مصطفیٰ لاسی۔ حب چوکی بلوچستان معلومات پاکستان
مرسلہ: محمد طاہر رونجہ۔ حب بلوچستان علم
مرسلہ: جہانگیر مقبول۔ حب بلوچستان سب سے افضل
مرسلہ: محمد علی انگاریہ طاہری۔ مرکزٹول پلازہ کراچی قدر پوچھو
مرسلہ: اسرار اللہ گدور۔ مرکز ٹول پلازہ کراچی بچوں کی عادات
مرسلہ: اقبال طاہری۔ ٹنڈوالہیار مختلف ملک کے فاتح
معلومات
مرسلہ: فیضان احمد راجپوت طاہری۔ ماتلی کس نے کیا کہا
دعااللہ وہ دل دے جو ترے عشق کا گھر ہو دل دے کہ ترے عشق میں یہ حال ہو اس کا مرسلہ: علی خان مری طاہری۔ میرپور خاص عیسوی سال
مرسلہ: محمد ہارون۔ حب چوکی بلوچستان منقبتعشق کا پیارا ساز سجن مٹ جاتے ہیں غم سارے دو جگ میں کامیابی کا در تیرے پر سوالی ہوں مرسلہ:مسز اعجاز۔ راولپنڈی ارشاد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم
مرسلہ: عبدالحمید طاہری۔ مرکز حسن آباد حب بلوچستان زندگیزندگی کا مقصد سامنے رکھ کر آگے بڑھنا چاہیے کیونکہ مقصد کے بغیر زندگی ایک ایسے تاریک غار کی مانند ہے جس میں ٹھوکر لگ کر گرجانے کا اندیشہ رہتا ہے اور اگر اس تاریک غار میں مقصد حیات کی شمع روشن کرلی جائے تو آگے کا سفر آسانی سے طے ہوسکتا ہے۔ مرسلہ: محمد فیضان مغل۔ ماتلی تلاوتنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”آنکھوں کو ان کا حق دو“ لوگوں نے پوچھا حضور آنکھوں کا کیا حق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قرآن شریف کی طرف نظر کرنا اور اس کی تلاوت کرنا“ درود شریفایک شخص نے خواب میں خوفناک بلا دیکھی گھبرا کر پوچھا تو کون ہے؟ بلا نے جواب دیا میں تیرے برے اعمال ہوں۔ پوچھا تجھ سے نجات کی کیا صورت ہے؟ جواب ملا درود شریف کی کثرت۔ مرسلہ: محمد اکرم چنہ۔ سوبھو ڈیرو ضلع خیرپورسندھ استاد کی تعظیم﴾سکندر اعظم سے کسی نے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ آپ اپنے استاد کی تکریم اپنے والد سے بھی زیادہ کرتے ہیں سکندر اعظم نے جواب دیا ”باپ نے مجھے جسمانی زندگی دی اور استاد نے روحانی اور وہ فانی اور یہ غیر فانی ہے۔ مرسلہ: محمد رمضان مغل ثانی۔ ماتلی دنیادارحضرت علی رضی اللہ عنہ سے کسی نے سوال کیا “امیرالمؤمنین ! دنیا داری کی آپ کیا تعریف کریں گے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ”دنیادار بھونکنے والے کتوں کی طرح ہوتا ہے جو ایک دوسرے پر غراتے ہیں یہ سب درندوں کی طرح ہوتے ہیں ان میں طاقتور اپنے سے کمزور کو کھا جاتے ہیں اور بڑے چھوٹوں کو ہڑپ کرجاتے ہیں۔“ مرسلہ: محمد وقاص طاہری۔ ماتلی قابل غور
مرسلہ: حافظ سجاد احمد طاہری۔ ماتلی معلومات عام
مرسلہ: محمد حنیف خاصخیلی طاہری۔ حب ضلع لسبیلہ بلوچستان فرمان سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہفرمایا مبلغ کے لیے ضروری ہے کہ تبلیغ کے لیے جاتے وقت یہ خیال کرے کہ میرے پاس نہ علم ہے نہ عمل ہے میری ذاتی حیثیت کچھ بھی نہیں۔ البتہ جن کا بھیجا ہوا ہوں (اپنے پیرومرشد) ان کے پاس بہت ہے۔ فیض دینے والے وہی ہیں میں محض قاصد ہوں، اس نظریے کے تحت تبلیغ کرنے سے ہی تبلیغ کا اصل فائدہ حاصل ہوگا ورنہ نہیں۔ مرسلہ: جاوید عمران۔ ٹنڈوالہیار معلومات
مرسلہ: قرآن میں آنے والے حروفالف 48872۔ ب 11228۔ ت 1199۔ ث 1276۔ ج 3273۔ ح 973۔ خ 2416۔ د 5642۔ ذ 4697۔ ر 11793۔ ز 1590۔ س 5891۔ ش 2253۔ ص 2013۔ ض 1607۔ ط 1274۔ ظ842۔ ع92200۔ غ2208۔ ف8499۔ ق6813۔ ک9522۔ ل3432۔ م26535۔ ن26560۔ و2556۔ ہ1907۔ لام الف3420۔ ہمزہ4115۔ ی25919۔ مرسلہ: صائمہ سیال طاہری۔ دربار اللہ آباد شریف نعتقسمت سے مل گئی ہے قیادت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دو لفظ میں خلاصہ ہے پیغام دین کا ہر ایک کی مراد یہاں آکے مل گئی رب کریم شان کریمی کا واسطہ یہ معجزہ ہے آپ کا ہر دور میں یہاں ہم کو خدا نصیب کرے اپنے فضل سے مرسلہ: محمد عثمان طاہری۔ لسبیلہ حب سٹی بلوچستان پانچ انعاماترسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانچ چیزیں اللہ تعالیٰ جس کو دیتا ہے اس کو پانچ اور بھی عنایت فرماتا ہے۔
مرسلہ: شکیلہ یوسف۔ چھینی ٹیٹو نارووال مہکتی کلیاں
مرسلہ: عبدالغفار تھیبو۔ ڈاسوڑی شریف ٹنڈوالہیار علم
مرسلہ: علی مراد بروہی طاہری۔ ٹول پلازہ کراچی سب سے عظیم
مرسلہ: برکت علی بوزدار جارکی۔ ٹنڈوالہیار مسکرائیےایک لڑکا نیا نیا انگلش میڈیم اسکول میں داخل ہوا۔ وہ انگلش میں کمزور تھا۔ ایک روز بارش کی وجہ سے اسکول نہ جاسکا۔ اگلے دن ٹیچر نے نہ آنے کی وجہ پوچھی تو اس نے وجہ اس طرح بتائی۔ “سر وین آئی کم، رین واز چھم چھم، واٹر گوڈے گوڈے، مائی لیگ سلپ اینڈ آئی دھڑام ان کھڈا، دس از صورت حال اینڈ دجہ۔ مرسلہ: حافظ مراد بروہی۔ میرکی گوٹھ ضلع ٹنڈوالہیار بڑا جھوٹبچوں میں جھوٹ بولنے کا مقابلہ ہورہا تھا سب سے بڑا جھوٹ بولنے کے لیے انعام رکھا گیا تھا۔ ایک بابا جی کا گذر ہوا۔ جب انہیں اس کھیل کے بارے میں علم ہوا تو غصے سے بولے ”لاحول ولا قوۃ جب ہم تمہاری عمر کے تھے ہمیں تو یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ جھوٹ کیا ہوتا ہے۔“ یہ سن کر بچے وہ انعام بابا جی کو دے کر اپنے اپنے گھر چلے گئے۔ مرسلہ: عظمیٰ صدیق طاہری۔ نواب شاہ امام ربانی کی کرامتشیخ حمید کے حالات میں مصنف حضرات القدس نے لکھا ہے کہ جب حضرت صاحب نے شیخ صاحب کو خلافت سے نوازا، شیخ صاحب نے حضرت صاحب کو عرض کیا کہ اپنی نعلین مبارک تبرک کے لیے عنایت فرمائیں۔ حضرت صاحب نے شیخ صاحب کو نعلین مبارک عنایت کی۔ شیخ صاحب قدس سرہ نعلین مبارک کو منہ سے پکڑ کر عاجزی سے الٹے پاؤں اپنے ملک چلے۔ شیخ صاحب نے اس درگاہ کو پیٹھ نہ دی۔ پھر اس نے نعلین مبارک کو اپنے سر پر رکھا ایسی حالت میں اپنے گاؤں پہنچا تو نعلین مبارک کو ہجرے میں رکھا۔ اس ملک کے لوگ پہلے مشکلات میں تھے جب یہ پتا چلا کہ حضرت صاحب کی نعلین مبارک یہاں آگئی ہے۔ تو وہ لوگ اس جتی مبارک کے لیے آتے تھے اور شفا یاب ہوجاتے تھے۔ بیماروں کے لیے پانی لاتے تھے شیخ قدس سرہ اس پانی میں نعلین مبارک کو ڈال کر نکالتا تھا اور وہ پانی بیماروں کو پلایا جاتا تھا تو وہ بیمار اسی وقت شفایاب ہوتے تھے۔ وہ نعلین مبارک اس وقت بھی زیارت گاہ منگل کوٹ کے شہر میں ہیں۔ مرسلہ: امجد عالم کنبھر۔ وہروشریف عمر کوٹ معلومات
مرسلہ: مصباح صدیق۔ نوابشاہ دعاحضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”جب میری دعا قبول ہوتی ہے تو میں خوش ہوتا ہوں کہ یہ میری مرضی ہے اور جب میری دعا قبول نہیں ہوتی تو میں خوش ہوتا ہوں کہ یہ اللہ کی مرضی ہے۔“ مرسلہ: راحیلہ یوسف۔ چھینی ٹیٹو۔ نارووال عظیم معلومات
مرسلہ: محمد صادق میمن طاہری۔ لاڑکانہ سٹی۔ باپ کیا ہے؟
مرسلہ: عبدالمناف۔ اوٹھور ریگستانی آف مٹھی تھر مہکتی کلیاں
مرسلہ: سید نعمان شاہ جیلانی۔ میرپورخاص کارآمد باتیں
مرسلہ: محمد عالم بروہی طاہری۔ پیر کونانہ بیلہ بلوچستان مسکراہٹوکیل گواہ سے ”کیا تمہیں پڑھنا آتا ہے؟“ گواہ ”لکھنا آتا ہے پڑھنا نہیں آتا“ وکیل قلم دیتے ہوئے ”اپنا نام لکھیں“ گواہ نے کاغذ پر لکیریں ماردیں۔ وکیل ”یہ کیا لکھا ہے آپ نے“ گواہ ”میں نے پہلے ہی بتایا تھا کہ مجھے پڑھنا نہیں آتا“ مرسلہ: ابوالعارف بروہی طاہری۔ پیر کونانہ بیلہ بلوچستان اقوال زریں
مرسلہ: صدام علی طاہری۔ پتھر کالونی حب بلوچستان معلومات
مرسلہ: فریدہ طاہری۔ دنبہ ولیج ملیر کراچی ذرا مسکرائیےایک پاگل بم کو بال سمجھ کر کھیل رہا تھا ایک شخص نے کہا اگر یہ پھٹ گیا تو؟ پاگل نے جواب دیا کوئی بات نہیں یہ پھٹ گیا تو دوسرا جیب میں پڑا ہے۔ مرسلہ: محمد حفیظ طاہری چار کوہی۔ انڑپور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااچھے اور برے دوست کی مثال خوشبو اور لوہے کی بھٹی دھونکنے والے لوہار جیسی ہے خوشبو بیچنے والے کی دوستی سے تمہیں فائدہ پہنچے گا یا تو خوشبو پاؤ گے یا اس کی مہک، لیکن لوہار کی بھٹی تمہارے کپڑے جلائے گی آگ نہ بھی لگی تو بھی دھوئیں سے دماغ ضرور متاثر ہوگا۔ مرسلہ: صائمہ طاہری۔ دنبہ گوٹھ کراچی پاکستان کے صدر مملکت
مرسلہ: سائیں عبدالوہاب۔ ماتلی اقوال زریںعلم وہ چیز ہے جو خرچ کرنے سے بڑھتی ہے لیکن کم نہیں ہوتی۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات دین یہ تاقیامت قائم رہنا ہے۔ مرسلہ: راجہ تجمل حسین۔ اسلام آباد صدیق اکبر رضی اللہ عنہآپ سنہ 573ء میں مکہ مکرمہ پیدا ہوئے۔ آپ کا نام ”عبداللہ“ کنیت ”ابوبکر“ اور لقب صدیق و عتیق تھے۔ آپ کے والد کا نام ”عثمان“ کنیت ”ابو قحافہ“ تھی اور والدہ کا ”سلمیٰ“ کنیت ”ام الخیر“ تھی۔ آپ کا تعلق قریش کی شاخ ”تمیم“ سے تھا اور آپ کا شجرہ نسب مرہ بن کعب پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جاملتا ہے۔ اپنی ارفع و اعلیٰ خصوصیات کا بنا پر آپ زمانہ جاہلیت ہی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی ساتھی تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صبح و شام دونوں وقت آپ کے مکان پر ضرور تشریف لاتے اور یہ دستور بعد اسلام بھی قائم رہا۔ آپ مردوں میں سب سے پہلے ایمان لائے۔ مشہور صحابیء رسول اور مؤذن مسجد نبوی حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کو بھی آپ ہی نے خرید کر آزاد کروایا۔ آپ کے تین لڑکے عبدالرحمٰن، عبداللہ ، اور محمد رضی اللہ عنہم جبکہ تین لڑکیاں اسماء، عائشہ اور ام کلثوم رضی اللہ عنہن تںی ۔ آپ کی صاحبزادی ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوا اس بنا پر آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سسر ہونے کا شرف بھی حاصل ہے۔ مرسلہ: حسنہ طاہری محمد سلیمان۔ لیاری ٹاؤں کراچی
|