الطاہر

الطاہر شمارہ نمبر 44
ربیع الاول ۱۴۲۸ھ بمطابق اپریل ۲۰۰۷ع

اردو مین پیج

ولادت مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وسلم

علامہ ساجد حسین گھانگھرو طاہری

 

نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت تاریخ انسان کا سب سے بڑا اہم واقعہ ہے جسے پہلی امتوں کے ہر دور میں بھی سب سے زیادہ شہرت و مقبولیت حاصل رہی، خواص و عوام اپنی دینی محفلوں میں بڑی دلچسپی اور محبت سے اس کا ذکر کرتے تھے اور ایمان کی حرارت سے اپنے دلوں کو گرماتے تھے۔

وجود نبوی صلّی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے مراحل ثلاثہ

1۔ خلقت نور محمدی صلّی اللہ علیہ وسلم: حضرت محمد صلّی اللہ علیہ وسلم کے پیدائش کا سب سے پہلے مرحلا یہ ہے کہ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کو عالم عدم سے عالم وجود میں منتقل فرمایا۔

2۔ ظہور نورانیت محمدی صلّی اللہ علیہ وسلم: حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کے وجود مسعود کا دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ نور مصطفی صلّی اللہ علیہ وسلم پشت در پشت پاکیزہ صلبوں سے پاکیزہ رحموں میں منتقل ہوتا رہا یہاں تک کہ حضرت عبداللہ کی پیشانی سے چمکا اور حضرت بیبی آمنہ کی گود میں اتر آیا۔

3۔ ولادت محمدی صلّی اللہ علیہ وسلم: آپ کا حضرت بیبی آمنہ رضی اللہ عنہا کے بطن اطہر سے عالم دنیا میں تشریف لے آنا۔

آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کا نسب شریف

آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کا نام محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدالمناف بن قصی بن کلاب بن مسرۃ بن کعب بن لوئی بن غالب بن فہر بن مالک بن النضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن عدنان اور عدنان کا نسب حضرت اسماعیل علیہ السلام تک پہنچتا ہے۔ ( نبی رحمت صفحہ 102)

آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کی والدہ: حضرت آمنہ بنت وہب بن عبدمناف بن زہرہ۔ (تاریخ طبری جلد اول)

حضرت محمد مصطفی صلّی اللہ علیہ وسلم کی ولادت

تاریخ ولادت: رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت پیر کے دن ربیع الاول کی بارہویں تاریخ کو ہوئی۔ (ضیاء النبی جلد دوئم)
بمطابق 20 اگست 570ع نوشیرواں کے عہد حکومت کا چالیسواں سال تھا اور واقعہ اصحاب فیل کے 50 روز گذرنے کے بعد پیدا ہوئے۔ (ضیاء النبی)

قبل ولادت کے واقعات انبیاء کرام کے دور میں

1۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب حضرت آدم علیہ السلام جنت سے زمین پر اترے تو وہ ہندوستان میں (جزیرہ سراندیپ) میں اترے تھے، تو اس وقت حضرت آدم علیہ السلام کو اکتاہٹ محسوس ہوئی۔ پھر حضرت جبرئیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے آذان دی اللہ اکبر دو مرتبہ، اشہد ان لاالٰہ الاللہ دومرتبہ، دو مرتبہ اشہد ان محمد رسول اللہ کہا تو حضرت آدم علیہ السلام نے استفسارکیا کہ یہ حضرت محمد صلّی اللہ علیہ وسلم کون ہیں۔ جبرئیل علیہ السلام نے بتایا کہ آپ کی اولاد میں سب سے آخری نبی ہیں۔ (خصائص الکبریٰ جلد اول صفحہ 27)

2۔ حضرت کعب الاحبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حضرت محمد صلّی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے وقت سے بھی آگاہ فرمادیا تھا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو بتایا دیا تھا کہ جب فلاں ستارہ اپنی جگہ سے حرکت کرے گا تو وہ ظہور نبی صلّی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کا وقت ہوگا۔ یہ آگاہی علماء بنی اسرائیل نسل در نسل حاصل کرتے رہے تھے۔ (صفوۃ الصفوۃ ابن جوزی)

3۔ حضرت دانیال علیہ السلام کے زمانے میں بخت نصر مشہور بادشاہ تھا۔ ایک مرتبہ بخت نصر نے خواب دیکھا مگر بیدار ہوتے ہی بھول گیا، صرف اتنا یاد رہا کہ خواب بڑا حیرت انگیز تھا۔ پھر ارکان سلطنت کو بلاکر شاہی حکم جاری کیا کہ بتاؤ میں نے کیا خواب دیکھا ہے۔ لوگوں نے کہا ہم کیا کہہ سکتے ہیں، بادشاہ نے کہا اگر تین دن کے اندر خواب تعبیر کے ساتھ پیش نہیں کیا تو تمہاری گردنیں اڑادی جائیں گی۔ جب یہ خبر حضرت دانیال علیہ السلام تک پہنچی تو آپ نے اپنے ایک ساتھی کو فرمایا کہ جاکر بادشاہ کو بتاؤ میں اس کے خواب کی تعبیر بیان کروں گا۔ آپ کے ساتھی نے عرض کیا کہ حضرت بادشاہی مزاج بہت نازک ہوتے ہیں، اگر آپ کا جواب ان کی طبعیت کے مطابق نہ ہوا تو پھر آپ کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ آپ نے فرمایا ”لاتخف علی فان لی ربا یخبرنی بماشئت من حاجتی“ تو کوئی اندیشہ نہ کر میرا رب مجھے ضرورت پڑتے وقت حسب ضرورت ہر چیز کا علم دے دیتا ہے۔ جب پیغام بادشاہ کو ملا تو اسی وقت حضرت دانیال علیہ السلام کو بادشاہ نے اپنی دربار میں بلایا۔ بخت نصر بادشاہ اپنے سر پر تاج شاہی رکھے تخت پر پورے جاہ و جلال کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، بادشاہ کے دربار میں یہ بات لازم تھی کہ ہر آنے والا بادشاہ کو سجدہ کرے لیکن حضرت دانیال علیہ السلام نے بادشاہ کو سجدہ نہیں کیا۔ یہ بات بادشاہ کو سخت ناگوار گذری لیکن لوگوں کے سامنے پوچھنا مناسب نہیں سمجھا۔ پھر حضرت دانیال علیہ السلام کو تنہائی میں بلایا۔ بادشاہ نے کہا آپ نے مجھے سجدہ کیوں نہیں کیا؟ حضرت دانیال علیہ السلام نے جواب دیاکہ ”ان لی ربا اتانی ہٰذ العلم الذی سمعت بہ علی ان لااسجد لغیرہ خشیت ان اسجد لک فینسخ علی ہٰذا العلم ثم اسیر فی یدک امیا فلا تنتفع بی فتقتلیٰ فرأیت ترک السجدۃ اہون من قتلیٰ“ حضرت دانیال علیہ السلام نے فرمایا ”یہ علم عطا کرنے والا میرا ایک رب ہے، اس کا حکم ہے میں اس کے سوا کسی کو سجدہ نہ کروں، مجھے خوف ہوا کہ اگر میں نے تجھے سجدہ کردیا تو وہ میرا علم چھین لے گا پھر میں تیرے سامنے بے علم رہ جاؤں گا اور تو مجھے قتل کردے گا، اس لیے میں نے قتل ہونے کے بجائے سجدہ نہ کرنے کو آسان سمجھا“ یہ جواب سن کر بخت نصر خوش ہوگیا اور بولا اپنے مالک کے وفادار اور اطاعت گذار لوگ مجھے پسند ہیں، اپنے رب کو راضی رکھنے کے لیے تونے جو کچھ کیا میں اس سے بہت خوش ہوں۔ پھر حضرت دانیال علیہ السلام نے پہلے خواب بتایا پھر اس کی تعبیر کی۔ آپ نے بتایا کہ خواب میں تونے ایک بہت بڑا بت دیکھا ہے جس کے پاؤں زمین پر تھے مگر سر آسماں پر تھا، اس کا بالائی حصہ سونے کا تھا، اس کا پیٹ چاندی کا، نچلا حصہ تانبے کا تھا اور پاؤں مٹی کے بنے ہوئے تھے اچانک آسمان سے ایک پتھر گرا جس نے بت کے تمام حصوں کو پاش پاش کردیا۔ پھر وہ پتھر بڑھنے لگا حتیٰ کہ بڑھتے بڑھتے اتنا بڑھ گیا اور ہر طرف پھیل گیا کہ اور چیزیں آنا بند ہوگئیں۔ تعبیر: بت سے مراد وہ مروجہ مذاہب و رسوم اور بت پرستی کے طور طریقے ہیں، پتھر سے مراد اللہ کا دین ہے جو باطل ادیان کو مٹاکر رکھ دیگا اور خود ہر طرف پھیل جائے گا۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ ایک نبی امی کو مبعوث فرمائے گا، وہ تمام جھوٹے ادیان و امم کو ختم کردے گا، اس نبی کے ذریعے حق کو خالص کردے گا باطل کو مٹادیگا، گمراہوں کو ہدایت اور ان پڑھوں کو علم عطا کرے گا، اس کی بدولت ضعیفوں کو قوت اور ذلیلوں کوعزت بخشے گا اور کمزور اور ناتواں لوگوں کی مدد فرمائے گا۔ (دلائل النبوۃ)

حضرت عبداللہ والد رسول اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم ) کے لیے دیت

تاریخ طبری میں ابن اسحاق نے بیان کیا ہے کہ حضرت عبدالمطلب کا زم زم کے کھودنے کے وقت قریش سے جھگڑا ہوا اور ان کو دبنا پڑا تو اس وقت حضرت عبدالمطلب نے نذر مانی کہ اگر میرے دس بیٹے پیدا ہوکر بالغ ہوئے اور میری حمایت کرنے کی عمر تک پہنچ گئے تو ایک بیٹے کو ذبح کروں گا۔ جب حضرت عبدالمطلب کو دس بیٹے پیدا ہوئے تو آپ نے اپنے بیٹوں کو اپنی نذر بتائی پھر آپ نے قرعہ اندازی کی تو حضرت عبداللہ کا نام نکلا۔ اس وقت آپ نے چھری اٹھائی تو قریش کے لوگوں نے کہا آپ اس کو ذبح نہ کریں۔ پھر ایک عورت سے پوچھا اس نے کہا آپ کے ہاں جان کی دیت کیا ہے؟ حضرت عبدالمطلب نے کہا 10 اونٹ، پھر اس عورت نے کہا 10 اونٹ اور حضرت عبداللہ کے نام کی قرعہ اندازی کرو۔ پھر اس میں 10 بڑھاؤ پھر اسی طرح جب اونٹوں کے نام نکلیں تو پھر اسی تعداد میں اونٹ ذبح کرنا۔ پھر 100 اونٹ پر قرعہ اندازی میں اونٹوں کا نام نکلا، پھر حضرت عبدالمطلب نے 100 اونٹ ذبح کیے۔

حضرت عبداللہ کے پیشانی میں ام قتال بنت نوفل نے نور محمد دیکھا

حضرت عبدالمطلب 100 اونٹ قربانی کرنے کے بعد حضرت عبداللہ کو ہاتھ سے پکڑ کر کعبہ سے واپس جانے لگے تو راستے میں بنی اسد کی ایک عورت ام قتال بنت نوفل سے گذر ہوا تو اس عورت نے حضرت عبداللہ کی پیشانی کو دیکھ کر کہا تم کہاں جاتے ہو۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا میں اپنے والد کے ساتھ جاتا ہوں۔ پھر عورت نے کہا جس قدر تمہارے فدیہ میں اونٹ ذبح کیے گئے ہیں میں اسقدر تمہیں اونٹ دیتی ہوں تم اس وقت مجھ سے شادی کرو۔ حضرت عبداللہ نے کہا میں اس وقت اپنے باپ کے ساتھ ہوں ان کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا۔

حضرت عبداللہ کا نکاح

حضرت عبدالمطلب کعبہ سے واپسی کے وقت حضرت عبداللہ کو وہب بن عبدمناف بن زہرہ کے پاس لے آئے اور حضرت آمنہ بنت وہب سے نکاح کرایا۔ جب شادی ہوگئی تو حضرت عبداللہ نے حضرت آمنہ سے شادی کے تین دن گذرنے کے بعد پھر پہلی عورت ام قتال بنت نوفل کے پاس آئے۔ پھر اس عورت نے حضرت عبداللہ کی پیشانی کو دیکھ کر کہا کیا تم نے مجھ سے ملنے کے بعد کسی عورت سے شادی کی ہے۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا میں نے آمنہ بنت وہب سے شادی کی ہے۔ اس وقت ام قتال بنت نوفل نے کہا اے عبداللہ میں نے آپ کی پیشانی میں ایک نور دیکھا تھا، میں نے اس لیے آپ کو کہا تھا کہ مجھ سے شادی کرو۔ لیکن اب وہ نور محمدی صلّی اللہ علیہ وسلم بیبی آمنہ کے نصیب میں آگیا اب میں تجھ سے شادی نہیں کروں گی۔

نور محمدی صلّی اللہ علیہ وسلم کا حضرت عبدالمطلب کی پیشانی میں چمکنا

حضرت کعب احبار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”ان نور رسول اللہلما صار الیٰ عبدالمطلب وادرک نام یوما فی الحجر فانتبہ مکحولا مدہونا قد کسی حلۃ النہاء والجمال فبقی متحیرا لایدری من فعل بہ ذالک فاخذہ ابوہ بیدہ ثم انطلق بہ الیٰ کہنۃ قریش فاخبرہم بذالک فقالو لہ اعلم ان الہ السموات قداذن لہٰذا الغلام ان یتزوج فزوجہ قیلۃ فولدت لہ الحارث ثم ماتت فزوجہ بعدہا ہند بنت عمرو۔“ (مواہب اللدنیہ) جب حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کا نور مبارک حضرت عبدالمطلب میں منتقل ہوا اور وہ جوان ہوگئے تو ایک دن حطیم میں سوکر اٹھے تو آنکھ میں سرمہ اور بالوں میں تیل لگاہوا تھا اور حسن و جمال میں بڑا اضافہ ہوچکا تھا انہیں بڑی حیرت ہوئی۔ ان کے والد انہیں قریش کے کاہنوں کے پاس لے گئے اور سارا ماجرا بیان کیا، انہوں نے سن کر کہا کہ اللہ نے اس جوان کی شادی کا حکم دیا ہے چنانچہ اس نے پہلا نکاح ”قیلہ“ سے کیا جس سے ایک بیٹا حارث پیدا ہوا۔ پھر ان کی وفات کے بعد ہند بنت عمرو (فاطمہ) سے نکاح کیا تو ان کے نصیب میں نور محمدی صلّی اللہ علیہ وسلم آیا اور ان کے بطن سے حضرت عبداللہ پیدا ہوئے۔ روایت میں اس طرح آتا ہے کہ ”کان عبدالمطلب یفوح من رائحۃ المسک الأخذ ونور صلّی اللہ علیہ وسلم یعنی فی عزتہ“ حضرت عبدالمطلب کے بدن سے مشک کی خوشبو آتی تھی اور رسول اللہ کا نور ان کی پیشانی میں چمکتا تھا (مواہب اللدنیہ)

نور محمدی صلّی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے باران رحمت کا نزول

”کانت قریش اذااصابہا قحط تاخذ بیدہ عبدالمطلب فتخرج بہ الیٰ جبل شبیر فیتقربون الیٰ تعالیٰ ویسألونہ ان یستقیم الغیث فکان یغیثہم ویسقیہم ببرکۃ نور محمدصلّی اللہ علیہ وسلم غیثا عظیما“ (مواہب اللدنیہ)

جب قریش میں قحط ہوتا تو وہ عبدالمطلب کا ہاتھ پکڑ کر جبل شبیر پر لے جاتے اور ان کے واسطے اور وسیلے سے اللہ تعالیٰ سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تقرب حاصل کرتے اور بارش کی دعا کرتے تو اللہ تعالیٰ اس نور محمدی صلّی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے انہیں باران رحمت سے نوازتا تھا۔

نور محمدی صلّی اللہ علیہ وسلم کی سیدہ آمنہ کے بطن میں منتقلی

جب اللہ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کی ان کے والدہ کے بطن سے تخلیق کا ارادہ فرمایا تو رجب مہینہ جمع کی رات تھی اللہ تعالیٰ نے اس رات جنتوں کے پہریدار خازن کو حکم دیا جنت الفردوس کھول دے اور ایک منادی کرنے والا آسمانوں اور زمین میں ندادے کہ آگاہ ہوجاؤ کہ وہ نور جو ایک محفوظ اور مخفی خزانہ تھا جس نبی ہادی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم نے متولد ہونا تھا وہ آج کی رات اپنی والدہ کے بطن میں منتقل ہوگیا، اس کے جسم عنصری کی تکمیل ہوگی اور وہ لوگوں کے لیے بشیر و نذیر بن کر دنیا میں تشریف لائے گا۔ (مواہب اللدنیہ)

حضرت ابوہریرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کی والدہ محترمہ آمنہ بنت وہب نے اپنے خواب میں دیکھا کہ ان سے کہا گیا آپ تمام عالم کے سردار اور خیرالبرید سے حاملہ ہیں، تو جب ان کی ولادت ہو تو ان کا نام احمد اور محمد صلّی اللہ علیہ وسلم رکھنا اور اس دوران اپنے حال کو چھپائے رکھنا۔ (دلائل النبوۃ)

امام قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں حضرت بیبی آمنہ رضی اللہ عنہا کے حاملہ ہونے کی دلیل یہ بھی ہے کہ اس رات قریش کی تمام سواریاں بول پڑیں اور یہ کہا کہ ”رب کعبہ کی قسم حضرت آمنہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاملہ ہوئیں“۔

مخدومہ کائنات حضرت بیبی آمنہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس نور نبوت کی امین قرار پانے کے بعد عرصہ دراز تک مجھے احساس تک نہ ہوا کہ میرے جسم میں ایک نیا وجود پرورش پارہا ہے اور میں کچھ عرصہ بعد ماں بننے والی ہوں۔ خواتین جن تخیلات سے دوچار ہوتی ہیں میں ان سے بالکل محفوظ رہی۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت بیبی آمنہ نے فرمایا ”لقد علمت بہ فما وجدت لہ مشقۃ حتیٰ وضعۃ“۔ (الطبقات الکبریٰ)

آپ فرماتی ہیں کہ ”میں باردار ہوگئی تھی لیکن اول سے آخر تک میں نے کوئی دقت اور مشقت محسوس نہ کی۔“ حضرت عبداللہ بن عباس سے یہ بھی روایت ہے کہ ”وبقی فی بطن أمۃ تسعۃ کمالا تشکو وجعا ولا ریحاولا مغصا ولامایعرض للنساء ذوات الحمل۔“ (خصائص الکبریٰ) اور آپ صلّی اللہ علیہ وسلم والدہ ماجدہ کے بطن میں نو ماہ تک جلوہ گر رہے۔ اس دوران انہوں نے کسی قسم کی تکلیف، قے، متلی، بے چینی اور جو عوارض عورتوں کو ان ایام میں پیش آتے ہیں ان کی شکایت کا اظہار نہیں کیا۔

آمد مصطفی صلّی اللہ علیہ وسلم کی آسمانی بشارت

حضرت بیبی آمنہ کو دوران حمل جو لطافت و سہولت تھی اس عظیم امانت کا علم ہی نورانی بشارات کے ذریعے ہوا، پہلے اس کا پتہ نہ چل سکا۔ حضرت بیبی آمنہ فرماتی ہیں: اتانی آت وانا بین النائم والیقظان فقل ہل شعرت انک حملت فکانی اقول ما ادری فقال انک قد حملت بسید ہٰذہ الامۃ ونبیہا۔ (مواہب اللدنیہ) میں سونے اور جاگنے کی کیفیت میں تھی کہ کوئی آنے والا (فرشتہ) آیا، اس نے کہا کیا آپ کو علم ہے کہ آپ ماں بننے والی ہیں؟ گویا کہ میں نہ جانتی تھی تو اس نے کہا آپ اس امت کے سردار اور نبی کی ماں بننے والی ہیں۔

حضرت بیبی آمنہ فرماتی ہیں ”میرے پاس آنے والا فرشتہ آیا اس نے ہدایت کی جب اس کی ولادت ہوجائے تو یہ دعا پڑھنا اعیذہ اعیذہ بالواحد من شر کل حاسد“ یعنی میں ہر حاسد و بدخواہ کے شر سے اسے اللہ وحدہ لاشریک کی پناہ و حفاظت میں دیتی ہوں“ پھر اس کا نام محمد صلّی اللہ علیہ وسلم رکھنا کیونکہ ان کا نام تورات و انجیل میں احمد صلّی اللہ علیہ وسلم ہے زمین و آسمان والے سب ان کی تعریف کریں گے قرآن ان کی کتاب ہے۔ (تاریخ طبری)

مذکورہ واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے ہر طرح سے دنیا کو خبردار کیا گیا کہ یہی وہ ہستی ہے جس کی وجہ سے دنیا کو خوبصورتی سے سجایا گیا ہے، یہی وہ ہستی ہے جس کی ذات بابرکات کعبۃ اللہ شریف کو بتوں کی غلاظتوں سے پاک کردے گی۔ بالآخر وہ سہانی گھڑی آگئی جب نور مصطفی صلّی اللہ علیہ وسلم سیدہ آمنہ کی گود میں آیا تو اس شب اللہ تعالیٰ نے حوض کوثر کے کنارے مہکتی کستوری کے ستر ہزار درخت لگائے جن کے پھل اہل جنت کے لیے بخور کا کام دیں گے۔ اس واقعہ کی یادگار میں پھر آسمان پر ایک ستون زمرد کا اور ایک ستون یاقوت کا نصب کیا گیا، تین جھنڈے مشرق، مغرب اور کعبہ کی چھت پر نصب کیے گئے۔ اس رات شیاطین کو مقید کیا گیا، کاہنوں کی خبریں بند ہوگئیں، سارے جہاں کے بت سر بسجود ہوگئے۔ اس رات بادشاہوں کے تخت الٹ گئے، ایوان کسریٰ میں زلزلہ برپا ہوا جس سے اس کے چودہ کنگرے گرگئے جو بزبان اشارہ یہ کہہ رہے تھے کہ بادشاہ وقت کی چودہ پشت تک سلطنت رہے گی، اور اس بات کا اعلان کررہے تھے کہ اب ظلم و بربریت کا دور ختم ہوجائے گا۔ غرضیکہ تاجدار کائنات پرنور صلّی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کے موقع پر اس قسم کے بہت سے قدرتی اشارات و واقعات ایسے ظہور میں آئے کہ جن کی نظیر نہیں ملتی۔ باقی آئندہ