الطاہر

الطاہر شمارہ نمبر 44
ربیع الاول ۱۴۲۸ھ بمطابق اپریل ۲۰۰۷ع

اردو مین پیج

حضور پیر مٹھا اور تبلیغ اسلام

مفتی عبدالرحیم طاہری

 

اللہ تعالیٰ نے جب سے نوع انسانی کا آغاز کیا ہے تب سے انبیاء علیہم السلام کے ذریعے رشد و ہدایت کا سلسلہ بھی جاری فرمایا ہے، یہاں تک کہ خاتم الانبیاء سیدنا محمد مصطفی علیہ التحیۃ والتسلیمات تشریف فرما ہوئے اور اس کے ساتھ ہی نبوت و رسالت کا باب سر بمہر ہوگیا۔ لیکن ہدایت و رہنمائی کا یہ سلسلہ برابر جاری و ساری رہا اور نبی اکرم نور مجسم صلّی اللہ علیہ وسلم کے وارث علماء اور اولیاء ہر وقت اور ہر زمانے میں امت کو صراط مستقیم کی طرف بلاتے رہے۔ خدمت خلق اور تبلیغ دین کا عظیم کام سر انجام دیتے رہے۔ ایسے ہی بلند پایہ لوگوں میں خواجۂ خواجگان، مجدد دوران حضرت محمد عبدالغفار المعروف پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کا اسم گرامی سرفہرست ہے۔ ویسے تو آپ کی ذات گرامی صفات و کمالات کی حامل تھی لیکن یہاں صرف تبلیغ کے سلسلے میں آپ کی مساعی کی ایک جھلک دکھانا مقصود ہے۔ کسی بھی بڑی شخصیت کے حالات زندگی اور اہم کارناموں کو پرکھنے سے پہلے اس وقت کے حالات اور زمانے کے رخ اور بہاؤ کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے تاکہ ان کی مساعی جمیلہ کے خدوخال کھل کر سامنے آجائیں اور صحیح قدر و قیمت معلوم ہوسکے۔ اس لیے آئیے پہلے پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کے تبلیغی مشن پر کچھ لکھنے سے پہلے اس وقت کے عام رجحانات پر سرسری نگاہ ڈالتے ہیں۔

آپ جب سندھ میں تشریف فرما ہوئے تو اس وقت سندھ میں مسلمانوں کے دینی حالات عموماً ابتری کا شکار تھے۔ شہروں کے دنیادار، جدید تعلیم یافتہ اور بڑے لوگ شریعت مطہرہ کی پابندی کرنا اپنی کسر شان سمجھتے تھے۔ عام لوگ اور دیہات کے رہنے والے اگرچہ کسی حد تک دین و مذہب سے لگاؤ رکھتے تھے لیکن اس کے باوجود ان کی نشست و برخاست میں شریعت و سنت کو کم اور اپنی اپنی پسند ناپسند کو زیادہ عمل دخل تھا۔ جہالت انتہاء کو پہنچی ہوئی تھی۔ بیشمار ایسے لوگ بھی تھے جو مسلمان ہونے کے باوجود کلمہ طیبہ تک پڑھنا نہیں جانتے تھے۔ بے عملی اس حد تک پہنچ چکی تھی کہ نماز جیسی اہم ترین عبادت کو اکثر لوگ بھول چکے تھے، مسجدیں نمازیوں کے لیے ترستی تھیں۔ پیروی سنت کو معیوب سمجھا جارہا تھا۔ وہ خانقاہیں اور مدرسے جہاں علم و عمل اور معرفت و حکمت کے چشمے ابلتے تھے عرصہ ہوا خشک ہوچکے تھے، ناخلف گدی نشین تھے، پیر اور ان کے مرید نذر و نیاز لینے اور دینے کو ہی پیری مریدی اور طریقت و تصوف سمجھ بیٹھے تھے۔ علماء اگرچہ کافی تعداد میں موجود تھے اور وعظ و تقریر اور تعلیم و تعلم میں بھی مشغول تھے لیکن ان کے خطبات اور تقریروں میں عموماً بیان اختلافی اور علمی مسائل کا ہوتا تھا جن کو عام لوگوں کے سامنے بیان کرنے کی چنداں ضرورت نہیں تھی۔ لیکن چونکہ عام رجحان پیدا ہوچکا تھا اس لیے علماء کے پسندیدہ موضوعات بھی وہی مسائل ہوا کرتے تھے۔ وقت کے تقاضوں اور لوگوں کی ضرورتوں کو بہت کم مدنظر رکھا جاتا۔ ان ہی اسباب کی بناء پر مسلمان قوم کے عملی اور اخلاقی حالات دن بدن ابتری کا شکار ہوتے جارہے تھے۔ ایسے حالات میں حضرت پیر مٹھا قدس سرہ نے مجدد دین سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے عظیم پیشوا خواجۂ خواجگان حضرت شاہ فضل علی قریشی قدس سرہ العزیز کے فیوضات سے مستفیض و معمور ہوکر آپ ہی کے فرمان عالی سے سرزمین سندھ پر قدم رنجہ فرمایا۔

میری تمنا یہ ہے کہ حضور مجھے سندھ میں تبلیغ کا حکم فرمائیں

سندھ میں تبلیغ دین کی خاطر تشریف لانے کا واقعہ آپ نے یوں بیان فرمایا ہے کہ میرے پیر و مرشد محبوب الٰہی خواجہ فضل علی قریشی رحمۃ اللہ علیہ کا تبلیغی مشن پورے ملک میں پھیلا ہوا تھا اور اپنے خلفاء کو اپنی صوابدید پر ان کے خیالات اور صلاحیتوں کے مطابق مختلف علاقوں میں بھیجا کرتے تھے۔ فرمایا کہ ایک مرتبہ میں اور مولانا عبدالمالک صاحب (مولانا صاحب عالم باعمل اور حضرت قریشی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ تھے) آپس میں باتیں کررہے تھے۔ دوران گفتگو مولانا عبدالمالک صاحب نے کہا میرا دل چاہتا ہے کہ کاش حضور (حضرت قریشی) مجھے تبلیغ کے لیے ہندوستان بھیجیں کیونکہ ہندوستان میں بنسبت اور علاقوں کے اہل علم زیادہ ہیں۔ وہاں کے لوگ اس نعمت (روحانیت) کی قدر کریں گے، جس پر میں نے بھی انہیں بتایا کہ مولانا صاحب میری یہ تمنا ہے کہ حضور مجھے سندھ میں تبلیغ کا حکم فرمائیں تو بہت ہی اچھا ہو، کیونکہ سندھی لوگ اللہ والوں کے بڑے عاشق ہیں۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے تھے کہ بچپن سے میں دیکھا کرتا تھا کہ سندھی مرد اور عورتیں پا پیادہ حضرت غوث بہاؤ الحق ملتانی رحمۃ اللہ علیہ کے عرس میں شرکت کے لیے ملتان جاتے تھے۔ آپ فرماتے تھے کہ ہمارا گاؤں دریا کے کنارے پر تھا اس لیے وہ سندھی رات ہمارے ہاں قیام کرکے صبح کو دریا عبور کرکے آگے جاتے تھے۔ رات کو میرے والد سر پر روٹیاں رکھ کر بھیجتے تھے جو میں انہیں کھلاتا تھا۔ اس لیے مجھے انہیں قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ میں نے کئی بار دیکھا کہ پیدل چلنے کی وجہ سے ان کے پیر پھٹ جاتے تھے اور ان کے پیروں سے خون بہتا تھا، وہ ان زخموں پر پٹیاں باندھ کر اپنا سفر جاری رکھتے تھے۔ ان کی اس والہانہ محبت و صداقت کو دیکھ کر اس فقیر (پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ) کے دل میں سندھ میں تبلیغ کرنے کا شوق پیدا ہوا۔ آپ فرماتے تھے کہ حضرت قریشی قدس سرہ کو کشف القلوب بہت ہوتا تھا، آپ نے بغیر کسی عرض معروض کے مولانا عبدالمالک کو ہندوستان کی طرف اور مجھے سندھ میں تبلیغ کا حکم فرمایا۔

اگرچہ آپ اس سے پہلے اپنے پیر و مرشد کے ساتھ اور انفرادی طور پر بہت سے تبلیغی سفر فرما چکے تھے لیکن اپنے مشفق و محسن مرشد کے حکم ملنے کے بعد خود کو تبلیغ کے لیے بالکل وقف کردیا۔ دن رات اسی لگن میں مگن رہتے تھے۔ شہر شہر، گاؤں گاؤں سلسلہ در سلسلہ چلتے رہتے اور مخلوق خدا کو خدائی احکام سناتے اور فیض محمدی صلّی اللہ علیہ وسلم سے دلوں کو منور کرتے رہتے۔ مسلمانوں کی تعلیم و تربیت کے لیے روحانی مراکز اور خانقاہیں بھی قائم کیں۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے اپنے آبائی علائقے میں ”عاشق آباد“ نامی بستی کا قیام عمل میں لائے۔ اس کا افتتاح بھی اپنے شیخ کامل حضرت قریشی قدس سرہ سے ہی کروایا۔ انہوں نے ہی اس بستی کا نام ”عاشق آباد“ منظور فرمایا۔ محل و وقوع کو پسند کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے اس کا اظہار ان الفاظ میں فرمایا ”ہم چاہتے تھے کہ تربیت گاہ کی بنیاد ایسی جگہ پر رکھی جائے جس کے ایک طرف آبادی ہو اور دوسری طرف جنگل ہو۔ الحمدللہ آپ کو ایسی جگہ مل گئی۔ آپ کی جگہ ہماری اپنی جگہ ہے ”۔ اللہ والوں کا کام کسی دنیاوی غرض کے حصول کی خاطر نہیں ہوا کرتا بلکہ رضائے الٰہی کا حصول ہی ان کا مقصد اعلیٰ ہوتا ہے۔ اسی خلوص کی بناء پر ان کے کاموں میں اللہ تعالیٰ کی مدد شامل ہوتی ہے اور اس کی طرف سے ترقی کی راہیں کھلتی چلی جاتی ہیں۔ آپ کی محنت اور کاوشیں بھی رنگ لائیں اور سندھ میں کافی بڑی ذاکرین کی جماعت تیار ہوگئی۔ ان مخلصین کو کچھ زیادہ وقت دینے کی ضرورت محسوس کی گئی تو آپ اپنے پیر بھائی، اپنے خلیفہ مطلق، دست راست اور بعد میں آپ کے جانشین حضرت غریب نواز سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کے مشورے اور اصرار پر سندھ میں روحانی درسگاہ تعمیر کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ حضرت غریب نواز سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نے اپنی جماعت کے ساتھ مل کر کچے کے علائقے میں ”دین پور“ نامی بستی کی بنیاد رکھی اور اس طرح سندھ میں ایک روحانی درسگاہ بلکہ تربیت گاہ کا قیام عمل میں آگیا۔ اسی کے ساتھ ہی بڑے ہی زور شور کے ساتھ تبلیغ کے کام کو وسعت دی گئی۔ جماعت میں دن دونی رات چوگنی ترقی ہوتی چلی گئی۔ لوگ جوق در جوق طریقہ عالیہ میں داخل ہونے لگے۔ سندھ کے کونے کونے میں آپ کا پیغام پہنچ گیا۔ باہر سے آنے والی جماعت کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے لاڑکانہ کے قریب ”رحمت پور شریف“ کی بنیاد رکھی گئی، جس کے لیے زمین کے اور باقی سارے اخراجات بھی حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نے اپنی جیب خاص سے ادا فرمائے۔ رحمت پور شریف پہنچنے تک نہ صرف مخلصین و ذاکرین بلکہ مصلحین و مبلغین کی ایک بہت بڑی جماعت تیار ہوچکی تھی۔ یہاں پر سکونت پذیر ہونے کے بعد ان تمام حضرات کو پورے ملک میں پھیلادیا، جس کے نتیجے میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ طریقہ عالیہ میں داخل ہوگئے۔ بے شمار ڈاکو، چور، زانی، راشی، شرابی اور فاسق و فاجر گناہوں سے تائب ہوگئے۔ قانون شریعت اور سنت نبوی پر طعن و تشنیع کرنے والے پابند شریعت اور متبع سنت بن گئے۔ درحقیقت یہ سب آپ کی نوری نظر اور صحبت کی تاثیر تھی جس نے رہزنوں کو رہبر و رہنما بنادیا اور رہبر و رہنما بھی ایسے جو بے لوث، بے طمع اور بے غرض خالصتاً لوجہ اللہ اپنی جیب سے آنے جانے کا اور کھانے پینے کا خرچہ برداشت کرکے دین متین کی تبلیغ کرتے تھے اور طریقہ تبلیغ بھی وہی سلف والا یعنی جوڑنے والا نہ کہ توڑنے والا۔ جب قیادت ایسی باکمال ہوگی تو یقینا ایسے باصلاحیت افراد پیدا ہونگے۔ یہ کام صرف مردوں تک ہی محدود نہ تھا بلکہ عورتوں کی بھی ایسی ہی پاکیزہ جماعت تیار فرمائی تھی۔ وہ عورتیں جو رسومات میں جکڑی ہوئی تھیں وہ شریعت و سنت کی پیروی میں خوشی محسوس کرنے لگیں۔ جنہوں نے اپنی زندگی میں کبھی سجدہ تک نہیں کیا تھا وہ تہجد گذار بن گئیں۔ آپ کی بستی رحمت پور شریف وہ مثالی بستی تھی جہاں عملاً قانون شریعت نافذ تھا۔ مرد ہو چاہے عورت، بوڑھا ہو چاہے جوان ہر ایک کی نشست و برخاست شریعت و سنت کے مطابق تھی۔ وہاں ہر بات کا فیصلہ قرآن و سنت کی روشنی میں ہوا کرتا تھا۔ اس دور میں جو لوگ نفاذ شریعت کو ناممکن سمجھتے تھے ان کو آپ نے اپنے عمل سے جواب دیا۔ ہوا کے پیچھے نہیں چلے بلکہ ہوا کے رخ کو پھیر دیا اور ناممکن کو ممکن کرکے دکھایا۔ اس منزل پر پہنچنے تک انہیں اس راہ میں بہت کچھ برداشت کرنا پڑا۔ لوگوں کی بے رخی اور سخت و درشت کلام کو بھی سننا پڑا اور طرح طرح کی رکاوٹوں کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن اس مرد مجاہد کے قدم کبھی بھی کسی موقع پر بھی نہیں لڑکھڑائے، بلکہ اپنے کام سے کام رکھا اور یہی ایک اللہ والے کی شان ہوا کرتی ہے۔ کیونکہ ان کو دنیا والوں سے کوئی غرض غایت نہیں ہوتی، انہیں اگر کوئی غرض ہوتی ہے تو وہ یہ ہوتی ہے کہ فقط محبوب حقیقی کی محبت میں وہ اس کی مخلوق کی خدمت کرتے رہیں۔ نہ ان کی محبت ماند پڑتی ہے نہ کبھی خدمت خلق کا جذبہ کم ہوتا ہے۔ آپ کا معمول تھا کہ صبح کی نماز کے بعد سورج نکلنے تک اپنے مصلے پر بیٹھتے تقریر وعظ فرماتے رہتے۔ لوگ آتے رہتے اور فیض محمدی سے جھولیاں بھر بھر کر لے جاتے رہتے۔ عصر کے بعد مغرب نماز تک پھر وہی رشد و ہدایت کا سلسلہ جاری رہتا۔ نماز عشاء پر آتے اور کسی نے شرعی مسئلہ دریافت کیا تو رات کے بارہ بجے تک علم و حکمت کے گوہر لٹاتے رہتے۔ حالانکہ عمر مبارک کافی ہوچکی تھی اور عوارضات بھی بہت سے لاحق تھے لیکن اس کے باوجود اپنی تھکاوٹ کا احساس تک نہیں ہونے دیتے۔ تن آسانی کو گویا بھول چکے تھے۔ انہی صفات حمیدہ کی بناء پر یقینا آپ ان لوگوں میں سے تھے جن کے دردمند دل بنی نوع انسان کو گمراہی اور ہلاکت کے گڑھوں میں گرتا دیکھ کر تڑپ اٹھتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ آپ ایسے لوگوں کو بڑی دلسوزی سے تبلیغ فرماتے اور ہلاکت سے بچانے اور راہ راست پر لگانے کی کوشش کرتے تھے۔ اپنے خلفاء اور مریدین کو بھی یہی فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کی امت کا یہ حال دیکھ کر تمہیں گھروں میں بیٹھ کر کیسے سکون آتا ہے، اٹھو اور تبلیغ کرو۔ آپ کے حالات پر غور کرتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا کہ آپ کا اوڑھنا بچھونا بس یہی تبلیغ دین اور اصلاح خلق تھا۔ اگر کبھی طبعیت پر بوجھ اور ملال ہوتا تو حضرت غریب نواز سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ تبلیغی سفر سے واپس آئے ہوئے کسی خلیفہ صاحب یا مبلغ کو اٹھاکر روئیداد سفر سنانے کو کہتے، وہ خلیفہ صاحب فیوض و برکات کی باتیں سناتے اور لوگوں کے گناہوں سے تائب ہونے اور صالح و دیندار بننے کے واقعات بتاتے تو طبعیت پر سے سارا بوجھ اترجاتا، چہرہ کھل اٹھتا، ہشاش بشاش ہوجاتے۔ یہ سب اس لیے تھا کہ آپ گناہوں سے تو نفرت کرتے تھے لیکن گناہگاروں سے ان کو محبت تھی۔ اسی محبت کا نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ گناہگار گناہوں سے بیزار ہوجاتے تھے اور توبہ و انابت کے ذریعہ راہ راست پر آجاتے تھے۔ آپ کی تبلیغ کے طریقہ کار میں جہاں شفقت و محبت اور حکمت و تدبر کا عمل دخل تھا وہاں زیادہ تر تاثیر اس بات کی تھی کہ وہ جو کہتے تھے اس سے زیادہ خود اس پر عمل کرتے تھے، بلکہ ان کی تبلیغ میں قال سے زیادہ ان کے حال کا حصہ تھا اور یہی آپ کی کامیابی کا راز تھا۔ آپ یقینا ان پاکیزہ شخصیات میں سے تھے جنہوں نے اگرچہ ملک فتح نہیں کیے لیکن اپنے حسن عمل اور حسن اخلاق سے دلوں کی اقلیموں کو ضرور فتح کیا ہے اور معاشرے کے بگڑے ہوئے افراد کو سنوار کر صالح افراد میں تبدیل کردیا ہے۔ ایسے ہی لوگ اسلام کے لیے سرمایہ فخر ہیں۔