الطاہر

الطاہر شمارہ نمبر 44
ربیع الاول ۱۴۲۸ھ بمطابق اپریل ۲۰۰۷ع

اردو مین پیج

روحانی طلبہ جماعت

خلیفہ مولانا محمد حسن اوٹھو

 

گذشتہ سے پیوستہ۔

ملت اسلامیہ کے نوجوانوں کے لیے لمحہ فکر و عمل

ملت کے ساتھ رابطہ استوار رکھ    پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ

نبی اکرم نور مجسم صلّی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ پر نظر ڈالنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بوڑھے آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کی دعوت راہ میں بڑی رکاوٹ تھے۔ نوجوان ان کے اشاروں پر آپ صلّی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کو تکلیف اور ایذاء پہنچاتے تھے۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو تپتی ہوئی ریت پر لٹانے والے نوجوان ہی تھے جو بڑوں کے اشاروں پر عاشق رسول صلّی اللہ علیہ وسلم کو ستا رہے تھے۔ لیکن دوسری طرف رسول اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی ساتھیوں کی لسٹ پر نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی 10 سال کا، کوئی 18 سال کا، کوئی 20 سال کا تھا۔ زیادہ سے زیادہ تیس یا پینتیس سال کی عمر کے تھے جو اسلام پر ثابت قدم رہے اور رسول اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کا سچا ساتھ دیکر ایک ایسا عظیم انقلاب لائے جو صدیوں تک قائم رہا۔ جس کا اثر آج بھی ہے اور قیامت تک اس کا اثر جاری رہے گا۔ آئیں تو رسول اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کے ان ساتھیوں پر ایک نظر ڈالیں جنہوں نے حبیب خدا صلّی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت دل و جان سے کی اور ہمیشہ اسلامی تعلیمات پرعمل پیرا رہے۔

پہلا نوجوان جس نے سب سے اول اسلام قبول کیا وہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم تھے۔ جب آقائے نامدار احمد مختار صلّی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کلمہ شہادت پڑھنے کی دعوت دی تو تھوڑی دیر سوچنے کے بعد کلمہ پڑھ کر غلامان مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وسلم میں شامل ہوگئے۔ آگے چل کر بڑے بڑے کافروں کو شکستیں دیں۔ اسداللہ (شیر خدا) اور فاتح خیبر جیسے القاب حاصل کیے۔ الغرض ماضی کا نوجوان حبیب خدا صلّی اللہ علیہ وسلم کی محبت و اطاعت میں بے مثال تھا، اگر انہیں اطاعت کا پیکر کہیں تو بے جا نہ ہوگا۔ اس کا ادنیٰ مثال ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی ہیں۔ جن راہوں سے آپ صلّی اللہ علیہ وسلم گذرتے تھے تو وہ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کے نشان ڈھونڈتے، ان راہوں پر چلنے کی کوشش کرتے تھے۔ سبحان اللہ اس حد تک اطاعت تھی، لیکن افسوس کہ آج ملت اسلامیہ کا نوجوان مختلف نظر آتا ہے۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کی بڑی بڑی سنتوں کا تارک بلکہ فرضوں کو بھی بھلا بیٹھا ہے۔ آج کے مسلم نوجوان نے نظریاتی طرح نہیں بلکہ عملی طرح بھی حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی ہے۔ اگر حضور صلّی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر کھانے پینے کا حکم فرمایا ہے تو مسلم نوجوان کھڑے ہوکر کھاتے پیتے ہیں، اگر حضور صلّی اللہ علیہ وسلم نے مشرکوں جیسی وضع قطع بنانے سے منع فرمایا ہے تو آج کا مسلم نوجوان غیروں کی تقلید پر فخر کرتا ہے، اگر کوئی انہیں منع کرتا ہے تو اسے تنگ نظر وغیرہ کے القاب دے دیتے ہیں، کہتے ہیں لوگ آسمانوں پر پہنچ گئے آپ ہمیں زمین پر چلنے نہیں دیں گے اور خود کو ترقی کی راہ پر گامزن تصور کرتے ہیں۔ حالانکہ ڈاکٹر محمد اقبال نے فرمایا ہے ”مسلمان نے فرنگی بن کر ترقی کی تو یہ فرنگی کی ترقی ہے مسلمان کی نہیں۔“

ماضی کے مسلم نوجوان جذبہ سے سرشار صبر و استقامت کے پیکر تھے۔ انہیں اپنی جان سے زیادہ عزیز اسلام اور اسلام کا لانے والا تھا۔ ایسے مسلم نوجوانوں میں سے دو کمسن بھائی معوذ و معاذ رضی اللہ عنہما مشہور ہیں جنہوں نے حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کے بڑے دشمن ابوجہل کو جہنم رسید کیا۔ مسلمانوں کے سپہ سالار عقبہ بن نافع نے آفریقہ کا علائقہ فتح کیا حالانکہ خشکی ختم ہوگئی۔ اسپین میں نوجوان سپہ سالار طارق بن زیاد نے مٹھی بھر مجاہدوں سے لاکھوں کے لشکر کو شکست دی۔ 19 سالہ نوجوان محمد بن قاسم نے سندھ کا علائقہ اس وقت فتح کیا جس وقت یہاں جہالت عروج پر تھی۔ جہالت کے دور میں مسلم نوجوان کرنوں کی طرح چمکے، اسپین میں علم کی روشنی پہنچی اور سندھ کو امن اور سلامتی والا مذہب ملا اور اسے باب الاسلام کا شرف حاصل ہوا۔ جب مسلم نوجوان حاکم محمد بن قاسم واپس جانے لگے تو مقامی لوگوں نے آپ کو روکنے کی بڑی کوشش کی۔ جب وہ واپس ہونے لگے تو لاکھوں کی آنکھیں اشک بار ہوگئیں۔ ان مسلم نوجوانوں نے اپنے حسن اخلاق اور بے داغ کردار سے لوگوں کے دل موہ لیے۔ ایسے نوجوان ہی مسلمان کہلوانے کے حقدار تھے جو اخلاق وکردار میں، معرکہ تیغ و تلوار میں اور عشق و اطاعت احمد مختار صلّی اللہ علیہ وسلم میں سب سے آگے تھے۔ لیکن آج کا مسلم نوجوان اسکے برعکس ہے۔ بزرگوں کی وہ آنکھیں جو ملت اسلامیہ کے نوجوانوں کی جدائی میں اشک بار ہوتی تھیں وہ آج مسلم نوجوان کے گرے ہوئے اخلاق، مذہبی اور معاشی حالات پرروتی ہیں۔

آج بھی اس کی اشد ضرورت ہے کہ مسلم طلباء کی طرف توجہ دی جائے۔ ان کو روحانی طلبہ جماعت میں شامل کرکے روحانی طلبہ جماعت کی تنظیم کو مستحکم کیا جائے۔ ہر ادارے میں اس کے یونٹ اور برانچز قائم کرکے نوجوان کی اصلاح کا اہم فریضہ ادا کیا جائے۔ یہ درست ہے ”باز با باز کبوتر با کتوبر کند پرواز“ یعنی باز اور کبوتر اپنے ہم جنس کے ساتھ پرواز کرتا ہے۔ اسی طرح طلباء کو بھی طلباء ہی آسانی کے ساتھ اور اچھی طرح سے روحانی طلبہ جماعت پاکستان کے پلیٹ فارم پر جمع کرسکتے ہی، جہاں سے وہ اپنی تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد مستقل طور پر ہمارے حضرت کی جانب سے دیے گئے جماعت اصلاح المسلمین پاکستان کے پلیٹ فارم پر آکر اللہ والوں کے اس عظیم روحانی مشن میں مستقل بنیادوں پر کام کرتے رہیں گے جو زیادہ منظم اور مضبوط ہوگا۔ مسلم نوجوانوں کی بچپن سے تربیت کرنے کے لیے اور انہیں میں سے اچھے افراد تلاش کرکے تنظیم کے کام کو روحانی طلبہ جماعت پاکستان ہی اس ذمہ داری کو اچھی طرح سے انجام دے سکتی ہے اور انشاء اللہ حضرت سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ کی اس دعا کے صدقے دن دگنی رات چوگنی ترقی ہوتی رہے گی۔

پھلا پھولا رہے یا رب چمن میری امیدوں کا
جگر کا خون دے دے کر یہ بوٹے میں نے پالے ہیں

طلباء کے ساتھ والدین اور اساتذہ کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ نوجوانوں کی رہنمائی کرتے ہوئے انہیں روحانی طلبہ جماعت کے پلیٹ فارم پر لے آئیں اور اپنی دینی اور اخلاقی ذمہ داری کو ادا کریں۔ حضرت سوہنا سائیں اکثر یہ شعر پڑھا کرتے تھے

جب دل میں خوف ہو اور خدا کی یاد بھی    تسکین نظر ہوتا ہے مال بھی اور اولادبھی

مال کو رضائے خدا میں صرف کرنا چاہیے    رنگ دیں اولاد کی سیرت میں بھرنا چاہیے

یقینا ہر کوئی چاہتا ہے کہ ہم خود بھی اور ہماری اولاد عزیز و اقارب بھی نیک بن جائیں کوشش کرنے کے باوجود یہ مقصد حاصل نہیں ہوتا، جس کا سبب یہ ہے کہ وہ جوہر اور قوت ہمارے اندر نہیں جس سے دوسرے متاثر ہوں۔ وہ قوت اللہ تعالیٰ نے اپنے صادقین بندوں میں رکھی ہے جن کی صحبت میں آنے والے اور نگاہ کرم کے سامنے بیٹھنے والوں کو نصیب ہوتی ہے۔

نگاہ ولی میں وہ تاثیر دیکھی    بدلتی ہزاروں کی تقدیر دیکھی

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں خصوصا ایمان والوں سے مخاطب ہوتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ ”یٰا اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا تَّقُو اللہ وَ کُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ۔“ اے ایمان والو ڈرو اللہ سے اور ساتھ رہو صادقین کے۔

صادقیں کا لفظ جو قرآن میں    حق نے فرمایا انہیں کی شان میں

ان کی صحبت مردہ کو زندہ کرے    زندہ ایسا ہو پھر کہ ہرگز نہ مرے

یہ صادقین جن کو ولی اللہ بھی کہا جاتا ہے ان کی صحبت کی فضیلت میں مولانا رومی نے فرمایا

یک زمانہ صحبت با اولیاء     بہتر ازصد سالہ طاعت بے ریا

یعنی ایک ساعت اللہ کے دوست کی صحبت سو سالہ بے ریا عبادت سے بہتر ہے۔ اسی صحبت کی ہم سب کو اشد ضرورت ہے بلکہ طلباء کے لیے تو خصوصی طرح نہایت ہی ضروری ہے۔ ڈاکٹر محمد اقبال نے فرمایا

نہ شامل درس میں ہو نور فیضان نظر جب تک    فقط تدریس کرسکتی نہیں اہل نظر پیدا

غالبا مولانا اکبر اللہ آبادی نے بھی فرمایا

نہ کتابوں سے نہ وعظوں سے نہ زر سے پیدا     دین ہوتا ہے بزرگوں کی نظر سے پیدا

آئیے اللہ کے کامل ولی سندھ کے مشہور و معروف بزرگ حضرت قبلہ عالم سجن سائیں مدظلہ العالی کی قیادت میں کام کرنے والی اصلاحی عالمگیر تنظیم روحانی طلبہ جماعت پاکستان جو حضور سوہنا سائیں کی نظر کرم کا صدقہ ہے، اس کا ساتھ دے کر زندگی کے حقیقی مقصد اور سکون قلب کو حاصل کریں۔

ہے مقصد زندگی تیرے دین کی سرفرازی     اسی لیے میں مسلماں اسی لیے میں نمازی