الطاہر

الطاہر شمارہ نمبر 44
ربیع الاول ۱۴۲۸ھ بمطابق اپریل ۲۰۰۷ع

اردو مین پیج

مکتوب مبارک حضور پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ

 

بخدمت محترمی و مکرمی مولوی اللہ بخش صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ

بعد السلام علیکم و الشوق الیٰ لقائکم المسئول من اللہ تعالیٰ عافیتکم۔ صحیفہ گرامی آپ کا پہونچا حقیقت سے آگاہی ہوئی۔ عزیزا تبلیغ افضل عبادت ہے، کما ورد ”فان الذکریٰ تنفع المؤمنین“۔ اور جس وقت حضرت موسیٰ علیٰ نبیّنا و علیہ السّلام اپنے سسرال حضرت شعیب علیہ السّلام سے مرخص ہوئے، راستے میں ایک تیہ میں چلتے ہوئے رات پڑگئی۔ اتفاقیہ موسم سرما کی تھی اور تھوڑی بارانی بھی برس رہی تھی، ہوا نہایت تیز اور تند چل رہی تھی، برودت کا بہت زور تھا اور آپ کے ساتھ ایک کثیر تعداد کا بکریوں کا گلہ بھی تھا۔ اور رات کی تاریکی اور بادلوں کی گرج اور بجلی کی کڑک اور مینہ کی گھنگور اور حضرت پیغمبر علیہ السّلام کی بی بی عصمت پروردہ کو وضع حمل کا درد آغاز۔ تو آپ بایں ہمہ ابتلا کمال استقلال سے آگ کی تلاش میں ادھر ادھر پھرنے لگے۔ جب کوہ طور کی لمعانی نظر آنے لگی تو اپنی اہلیہ کو یوں فرمانے لگے:

کما قال اللہ تبارک و تعالیٰ ”و اذ قال موسیٰ لاھلہ انی آنست نارا ساتیکم منھا بخبر اور ایتکم بشھاب قبس لعلکم تعطلون۝ فلمّا جآء ھا نودی ان بورک من فی النّار و من حولھا فسبحٰن اللہ رب العالمین۝ یا موسیٰ انی انا اللہ رب العالمین۝ و القِ عصاک۝ فلمّا راٰہ تھتن کانھا جان ولی مدبرا و لم یعقب یا موسیٰ لا تخف انی لا یخاف لدی المرسلون الا من ظلم ثم بدل لھم حسنا بعد سوء فانی غفور رحیم۝ و ادخل یدک فی جیبک تخرج بیضآؤ من غیر سوء فی تسع آیات الی فرعون و قومہ انھم کانوا قوما فٰسقین۝“

جب کہ آپ نے خلعت رسالت زیب تن فرمائی اور یہ نو معجزات بھی آپ کو ملے، تو اب دیکھ اسی پیغمبر علیہ السّلام کی حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ کے اذن کی تعمیل اور اس کی قبول حسنہ اور اتباع ما احسنہ، باوجود اتنے درد و شدائد جو آپ کو مرکوز خاطر تھے، بلکہ انہیں جملہ تکلفات مسبوق الذکر سے سبکدوش ہونے کے متلاشی تھے سب کو یک لخت لوح قلب سے محو کردیا اور اپنی ضمیر مہر تنویر پر یہی ایک لفظ لکھ دیا ”قل ھو اللہ ثم ذرھم“۔ تو آپ نے کیسا کیا، سیدھے بالا بالا براہ راست فرعون کی طرف چل پڑے حتیٰ کہ مصر میں جا پہونچے۔ کہاں وہ بی بی اور کہاں رہی ان کی تیمار داری، کہاں رہا گلہ اور کہاں گلہ بانی! لکھا ہے کہ حضرت بی بی صاحبہ واپس اپنے والد ماجد حضرت شعیب علیٰ نبینا و علیہ السلام کی خدمت اقدس میں اکیلی جا پہونچی۔

عزیزا نور فیض ولایت کا نور نبوت اور رسالت سے مقتبس مکتسب ہے۔ ولذٰلک قال النّبی صلّی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہ وسلم ”العلماء ورثۃ الانبیآء“، ایضًا ”علمآء امتی کا انبیآء بنی اسرائیل“۔ اور علماء سے مراد اولیائے کرام ہیں نہ کہ علمائے ظواہر۔ کیونکہ حضرات اولیائے عظام مورث علم ظاہر و باطن کے ہوتے ہیں اور انہوں کا علم باطنی خاص مشکٰوۃ اور مصباح نبوت سے ماخوذ ہے اور علمائے ظواہر محروم ازیں حظ العظیم۔ اور ولی اللہ بعد ملی مراحل فنائیت کے جس وقت بقا باللہ کے مقام پر پہونچتا ہے تو اس وقت پوری نبیوں کی طرح تبلیغ کے کام کو انجام دے سکتا ہے کہ قولہ علیہ السلام ”الشیخ فی الخلق کا النبی فی امتیہ لھذا ملتمس“۔ کہ ہر چند یہ تبلیغ کا کام نہایت دُشوار اور گراں ہے اور اس سے بری الذمہ ہوں، نیز از قبیلۂ محال لیکن حسب استطاعت مجال اپنے کو اس میں صرف کرنا بغایت اعلیٰ ہمّتے اور من عزم الامور سے متصوّر ہے۔ محبت اور اخلاص سے اتباع شیوخ اور بزرگوں کی کرنا اور مزدگی توقع حق سبحانہ و تعالیٰ رکھنا اور ”ان اجری الا علی اللہ“ کے مصداق پر قصہ کو مصحما رکھنا یہ ہی صراط مستقیم اور راہ راست ہے کما قال صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فی شعرہ

احب الصالحین لست منھم لَعل اللہ یرزقنی صلاحًا

قدر ما اگرچہ یہ بندہ کمینہ نالائق غلیظ القلب لاشئی اس بات کے قابل نہیں کہ آپ لوگوں کو فہمائش کرسکے لیکن بالکل ساکت رہنا نیز نامناسب سمجھتا ہے۔ بجا گفتن و گفتن بجا خاموش۔ اس لیے بصد ادب معروض ہوں کہ اس کام تبلیغ میں جو اک اہم الہام سے ہے اور جس کے منقبت اور آداب اور لوازمات خدمت بالا مذکورہ پڑھ چکے ہیں لاریب حتی المقدور کوئی دقیقہ فروگذار نہ فرماویں اور آخرت کا توشہ اس سے مہیا رکھیں۔ مشفقا اس قلیل زندگی میں اس نعمت غیر مترقبہ کے حاصل کرنے میں سعی بلیغ اور کوشش کما ینبغی مبذول فرماؤ۔ کسی نے کہا ہے کہ ؎

مارے نہ موت جس کو کوئی بشر نہیں
سامان سو برس کا کل کی خبر نہیں

بس بے برگی کو برگ اور سامان سمجھو اور سفر کو حضر سمجھو۔

خدا خود می رسان است ارباب توکل را

دولت داریں مکمل و محصل باد

بندہ کو بیماری کا ابتک آرام نہیں ہے۔ دعا فرماؤ حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ شفاء کاملہ عاجلہ عطا فرماوے آمین۔ آپ کے ہر دو عطوقت ناموں کے جواب کا مضمون اسی ایک عریضہ میں مندرج ہے۔ مشفقی و مکرمی میاں دین محمد کو السّلام علیکم مطالع باد و جناب ہتر صاحب میاں اللہ آندو خان کو السلام علیکم و عالم اندرونی عفت پناہ اہلۃ الذکر را دعوات کثیر۔ مشفقی و مکرمی میاں شیر محمد صاحب کو و جمیع مرداں و زناں۔ ”و الذاکرون اللہ و الذاکرت کثیرًا“۔ جملہ کو سلام و دعوات ”والمسئول من اللہ تعالیٰ عافیتکم و سلام متکم فی الدارین“۔

لاشئی فقیر محمد عبدالغفّار فضلی