الطاہر

الطاہر شمارہ نمبر 44
ربیع الاول ۱۴۲۸ھ بمطابق اپریل ۲۰۰۷ع

اردو مین پیج

آخر کیوں؟

فضل رحمان طاہری

 

نئی دہلی کے جریدے ”اخبار نو“ کی ایک حالیہ اشاعت میں ”کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے“ کے عنوان کے تحت چند بنیادی اہمیت کے سوالات اٹھائے گئے ہیں جن کا مقصد عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنا ہے۔ ان سوالات کا خلاصہ درج ذیل ہے۔

٭کیوں ایک یہودی، عیسائی، سکھ یا ہندو اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے کی غرض سے داڑھی رکھ سکتا ہے، لیکن جب ایک مسلمان یہی کام کرتا ہے تو وہ انتہاء پسند کہلاتا ہے؟

٭کیوں ایک نن اپنی خدا کی بندگی کے لیے خود کو سر سے پیر تک ڈھانپ سکتی ہے لیکن ایک مسلمان باحجاب رہتی ہے تو وہ مظلوم کہلاتی ہے؟

٭کیوں ایک مغربی عورت جب اپنے گھر اور بچوں کی دیکھ بھال کی خاطر ملازمت یا تجارت سے گریز کرتی ہے تو اسے اپنے کیریئر کی قربانی پر عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، لیکن جب ایک مسلمان عورت اپنی مرضی سے گھر گرہستی کو اپنی زندگی کا محور بناتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ اسے قید و بند کی زندگی گذارنے پر مجبور کیا جارہا ہے اور اسے غلامی سے نجات ملنی چاہیے؟

٭کیوں کوئی مغربی لڑکی کسی بھی طرح کا لباس زیب تن کرسکتی ہے اور کسی بھی طرح کی آرائش سے مزین ہوکر اپنے تعلیمی ادارے میں آسکتی ہے اور اسے شخصی آزادی کا نام دیا جاتا ہے، لیکن جب ایک مسلمان طالبہ حجاب پہن کر یونیورسٹی جاتی ہے تو اسے پس ماندہ قرار دے کر داخلے سے روکا جاتا ہے؟

٭کیوں کوئی بچہ کسی خاص مضمون (سائنس، ٹیکنالاجی، مصوری، آرٹس، مجسمہ سازی، رقص و موسیقی) میں دلچسپی لیتا ہو تو اس کی صلاحیت کو سراہا جاتا ہے، لیکن ایک مسلمان بچہ خود کو اسلام کے مطالعے کے لیے وقف کرتا ہے تو اس کے مستقبل سے اس کے خاندان ملک و قوم اور عالمی برادری کو تشویش لاحق ہوجاتی ہے؟

٭کیوں ایک جب کوئی عیسائی یا یہودی کوئی قتل کردیتا ہے تو مذہب کا عنصر شامل تفتیش نہیں ہوتا، لیکن جب کوئی مسلمان کسی جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کا تعلق اس کے مذہب سے جوڑ دیا جاتا ہے؟

٭کیوں جب کوئی مصیبت آتی ہے تو مادی وسائل سے اس کا مقابلہ کرنے کے لیے سر توڑ کوششیں شروع ہوجاتی ہیں، لیکن جب اگر اس کا حل اسلام میں موجود ہو تو اسے حقیر جان کر نظر انداز کردیا جاتا ہے؟

٭کیوں کوئی شخص جب اچھی کار غلط اندازے سے چلاتا ہے تو کار کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاتا لیکن جب ایک مسلمان کوئی غلطی کر بیٹھتا ہے یا لوگوں سے غلط رویہ اپناتا ہے تو اسلام کو قصور وار ٹھہرایا جاتا ہے؟

٭کیوں اسلامی روایت کی روح اور حقیقت کو جانے بغیر امن عالم کے دعویدار خصوصاً اہل مغرب محض اخباری بیانات پر یقین کرتے ہیں لیکن قرآن و حدیث کو جو اسلامی روایت کے ماخذ ہیں وہ اعتنا نہیں سمجھا جاتا؟

اخباری نوع کے سوالات یہاں ختم ہوگئے لیکن ہمارے ذہن میں چند اور سوالات کلبلا رہے ہیں جنہیں بیان کیے بغیر ہمیں چین نہیں آئے گا دیکھیے

٭کیوں آمریکی صدر انجیل مقدس پر اپنے عہدے کا حلف اٹھاتا ہے تو وہ سیکیولر ہی رہتا ہے لیکن جب ایک مسلمان اللہ کی آخری کتاب (قرآن مجید) کے احکام پر کاربند رہنے کا عہد کرتا ہے تو اس پر مذہبی، جنونی ہونے کا الزام لگ جاتا ہے؟

٭کیوں دوسرے جنگ عظیم کے دوران ہولوکاسٹ میں ہٹلر کے ہاتھوں یہودیوں کی ہلاکت کی مذمت کو مغربی ملکوں میں ایمان کا درجہ حاصل ہے اور اس واقعے کی صداقت پر شک و شبہے کا اظہار لائق تعذیر ہے، لیکن فلسطین، کشمیر، لبنان، بوسنیا، سربیا، چچنیا، عراق اور افغانستان میں لاکھوں مسلمانوں کے قتل عام پر مغرب میں ایک آنکھ بھی اشک بار نہیں ہوئی اور حکومتیں خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی رہی ہیں؟ آخر کیوں؟