الطاہر

الطاہر شمارہ نمبر 44
ربیع الاول ۱۴۲۸ھ بمطابق اپریل ۲۰۰۷ع

اردو مین پیج

درسِ حدیث

دعا

علامہ عبدالقدیر شیخ طاہری

 

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے نزدیک دعا سے بہتر نہیں (رواہ الترمذی)

دعا مانگنا بھی عبادت ہے بلکہ حضور صلّی اللہ علیہ وسلم نے تو دعا کو عبادت کا مغز قرار دیا ہے اور آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دعا عبادت کا نچوڑ ہے۔ دعا کے عقلی اور نقلی بے شمار فائدے ہیں اور وہ مندرجہ ذیل ہیں۔

1۔ دعا سے اظہار بندگی ہوتا ہے اور دعا نہ مانگنا بے پرواہی کی نشانی ہے۔ بندے کی شان یہ ہے کہ اپنے مولیٰ سے ہر وقت دعا مانگتا رہے۔

2۔ دعا سے محبت الٰہی پیدا ہوتی ہے کیونکہ انسان اپنے حاجت روا کو محبوب جانتا ہے۔

3۔ دعا سے اطاعت الٰہی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے کیونکہ اس سے اپنی محتاجی اور رب کی بے نیازی کا پتہ لگتا ہے۔ رعایا اپنی مجبوری اور حاکم کے اختیارات جان کر ہی اس کی اطاعت کرتی ہے۔

4۔ دعا سنت انبیاء ہے۔ ہر پیغمبر نے ہر موقعہ پر دعائیں مانگیں۔

5۔ دعا رب کو پیاری ہے اس لیے اس نے جگہ جگہ اس کا حکم دیا۔ جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے وَقَالَ رَبُّکُمْ ادْعُوْانِی اَسْتَجِبْ لَکُمْ۔

اور کہتا ہے رب تمہارا مجھ کو پکارو مجھ سے دعا مانگو کہ میں تمہاری فریاد کو قبول کروں اور تم کو نوازدوں اور رحمت کی تم پر برسات برسادوں اور نوازش کے خزانے تم پر لٹادوں۔ اور دوسری جگہ ارشاد ہے کہ اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْیَۃً اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ۔ اپنے رب سے دعا کرو گڑگڑاتے اور چپکے سے (پوشیدہ خفیہ) بے شک اللہ تعالیٰ کو حد سے بڑھنے والا پسند نہیں ہے، یعنی جو شخص رب سے دعا نہیں کرتا اس کا شمار معتدین میں سے ہے۔

اور ارشاد فرمایا ہے کہ وَ اِذَا سَأَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ اُجِیْبُ دَعْوَۃَالدَّاعِ اِذَا دَعَانِ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ۔ اور جب میرے بندے تجھ سے میرے بارے میں پوچھیں پھر میں ان کے قریب ہوں میں پکارنے والے کی پکار کو پہنچتا ہوں، مجھ سے اپنی دعائیں قبول ہونے کی درخواست کریں وہ درخواست کرتے جائیں گے میں قبول کرتا جاؤں گا۔ صرف بندے کو مانگنے کی ضرورت ہے۔

6۔ ہر مذہب نے دعا کی رغبت دی ہے اور اس کو بہتر جانا حتیٰ کہ کفار بھی دعائیں مانگتے ہیں۔

7۔ دعا سے آنے والی مصیبت ٹل جاتی ہے اور بد نصیبوں کے نصیب کھل جاتے ہیں۔

8۔ دعا سے رب کی رحمتیں قائم رہتی ہیں۔

9۔ ہر عبادت بغیر دعا معلق رہتی ہے، دعا اس کا پر ہے جس سے وہ بارگاہ الٰہی میں پہنچتی ہے۔

10۔ رب تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے فرمایا کہ ایک کام تمہارا ہے اور ایک کام ہمارا۔ تمہارا کام دعا مانگنا ہے اور ہمارا کام قبول کرنا۔ (در منشور)

11۔ حق تعالیٰ اس سے حیا فرماتا ہے کہ بندے کے پھیلے ہوئے ہاتھ خالی واپس کردے۔ (مشکوٰۃ شریف)

12۔ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بندہ دعا سے ایک نہ ایک تین باتوں میں سے جانے نہیں دیتا۔ یا تو اس کا گناہ بخشا جاتا ہے یا کوئی بہتری سردست مل جاتی ہے یا کوئی چیز اس کے لیے ذخیرہ کردی جاتی ہے۔ اور آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کی درخواست کرو کیونکہ یہ رب تعالیٰ کو پسند ہے کہ اس سے کوئی مانگے اور بہترین عبادت کشادگی کا منتظر رہنا ہے اور حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نیکی کرنے کے ساتھ دعا اس قدر کافی ہے جیسے کھانے کے ساتھ نمک کی مقدار ہے جیسے نمک کے علاوہ کھانا لذیذ نہیں رہتا ایسے عبادت بغیر دعاکے لطف سے خالی ہے۔

حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان ہاتھوں کو دعا کے لیے اٹھاؤں پہلے اس سے کہ زنجیر میں جکڑ ے جائیں۔

دعا کے آداب

1۔ دعا کے وقت چاہیے کہ ہتھیلیاں آسمان کی طرف پھیلی ہوں، دونوں ہاتھوں میں کچھ فاصلہ ہو، نہ بہت نیچے ہوں نہ بہت اونچے بلکہ کندھے کے مقابلے میں رہیں اور دعا کے بعد ان کو منہ پر پھیر لیا جائے۔ (مشکوٰۃشریف)

2۔ ضروری ہے کہ دعا کرنے والے کا رزق حلال ہو۔ صوفیاء کرام فرماتے ہیں کہ دعا آسمان کے دروازے کی کنجی ہے اور غذاء حلال اس کنجی کے دندانے ہیں۔ (روح البیان)

3۔ دعا کے وقت دل حاضر ہو۔

4۔ دعا کے وقت قبول کی قوی امید ہو۔ نا امیدوں کی دعا قبول نہیں ہوتی ہے۔

5۔ طریقہ دعا یہ ہے اول حمد الٰہی کرے، پھر حضور صلّی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے، پھر اپنے گناہوں کو یاد کرکے توبہ کرے اور پھر عرض حاجات کرے پھر درود شریف پر ختم کرے۔

6۔ دعا کے وقت اپنے مقصد کو دھیان میں رکھے کیونکہ خیال کا بڑا اثر پڑتا ہے۔ (روح البیان)

7۔ بہتر ہے کہ صرف اپنے لیے ہی دعا نہ کرے بلکہ اور مسلمانوں کے لیے بھی کرے مگر ابتدا خود سے کرے۔

8۔ دعا کے لیے اوقات شریف کو تاکتا رہے جیسے سال میں سے عرفہ (نو ذوالحج) کا روز اور مہینوں میں رمضان کا مہینہ اور ہفتہ میں جمع کا روز اور رات کی ساعتوں میں سحر کا وقت ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بِاالْاَسْحَارِہُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ۔

ان لوگوں کے استغفارکو سراہا گیا جو سحر کے وقت کرتے ہیں اور رب سے دعا مانگتے ہیں۔ اور آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر شب میں جب تہائی پچھلی رات رہتی ہے آسمان دنیا پر نزول ہوتا ہے اور فرماتا ہے کہ کوئی ہے مجھ سے دعا مانگے اور میں قبول کروں، اور کوئی ہے مجھ سے مانگے تو میں اس کو دوں، اور کوئی ہے جو مجھ سے مغفرت کا خواہاں ہو میں اس کو بخش دوں؟

اور کہتے ہیں کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے جب اپنی اولاد سے کہا تھا کہ سَوْفَ اَسْتَغْفِرْلَکُمْ رَبِّیْ یعنی میں تمہارے لیے اپنے رب سے عنقریب درخواست مغفرت کروں گا تو اس سے ان کی غرض یہ تھی کہ سحر کے وقت دعا کریں گے۔

9۔ عمدہ حالات کو غنیمت جانے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب راہ خدا میں فوجیں دشمنوں سے مقابل ہوتی ہیں اور برسات برسنے کے وقت اور فرض نماز کے لیے تکبیر کے وقت تو آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ ان وقتوں میں دعا مانگنا غنیمت جانو۔ اور حضرت مجاہد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نمازیں بہترین ساعات میں مقرر ہوئی ہیں تو ان کے بعد دعا مانگنا اپنے اوپر لازم کرلو۔ اور آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اذان اور تکبیر کے بیچ میں دعا نہیں رد ہوتی۔ (بخاری و مسلم شریف) اور آپ نے فرمایا روزہ دار کی دعا رد نہیں ہوتی لہٰذا ان حالات میں دعا کرنا نہ بھولنا چاہیے۔ تجربہ کی بات ہے کہ اوقات بہتر ہونے سے واقعی حالات بھی بہتر ہوتے ہیں، مثلاً سحر کا وقت دل کی صفائی اور اخلاص والا ہے اور تشویش میں ڈالنے والی چیزوں سے خالی ہونے کا وقت ہے، اور عرفہ اور جمع کا روز ہمتوں کے جمع ہونے کا وقت ہے، اور سجدہ کی حالت بھی دعا قبول ہونے کا وقت ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب حالتوں سے زیادہ بندہ اپنے رب سے قریب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے، اسی وجہ سے سجدہ میں دعا کثرت سے کرو۔

10۔ دعا قبلہ رخ ہوکر مانگے۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم عرفہ کے موقعہ میں جب تشریف لائے اور قبلہ رخ ہوکر دعا کرتے رہے یہاں تک کہ آفتاب ڈوب گیا۔

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا رب حیا والا کریم ہے، جب بندہ اس کی طرف اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتا ہے تو وہ حیا کرتا ہے اس سے کہ وہ ان کو خالی پھیر دے۔

11۔ دعا کی آواز آہستہ اور پکار کے درمیان میں رکھنا جیسے باری تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ وَلَاتَجْہَرْ بِصَلٰواتِکَ وَلَا تُخَافَتْ بِہَا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ہے کہ مقصود اس آیت کریمہ سے یہ ہے کہ اپنی دعا میں جہر اور اخفاء مت کرو بلکہ درمیان والا طریقہ بہتر ہے۔
اسی بات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی زکریا علیہ السلام کی تعریف فرمائی، چنانچہ ارشاد فرمایا اِذْنَادٰی رَبَّہٗ نِدَآئً خَفِیًّا۔ نداء خفی اور جہر کے درمیان ہوتی ہے۔

12۔ دعا میں قافیہ کا تکلف نہ کرے اس لیے کہ دعا مانگنے میں تضرع اور انکسار ہونا چاہیے، اس وقت تکلف مناسب نہیں۔ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ عنقریب کچھ لوگ ایسے ہوں گے کہ دعائیں ان کی حد سے تجاوز کریں گی۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْیَۃً اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْن۔ یہاں مفسرین کرام نے معتدین سے یہ بھی مراد لی ہے کہ تجاوز کرنے والے صاحب تکلف ہیں جو اپنی دعاؤں کے سجع اور قافیہ کی تکلیف اٹھاتے ہیں۔ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ دعا میں سجع سے دور رہو۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ لوگ عنقریب ایسے آئیں گے کہ دعا اور طہارت میں حد سے تجاوز کردیں گے۔ علماء کرام نے تجاوز سے مراد سجع بندی لی ہے۔

آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ دعا کے لیے یہ بھی کہنا کافی ہے کہ اللّٰہم انی اسئلک الجنۃ وما قرب الیہا من قول و عمل و اعوذبک من النار و ما قرب الیہا من قول و عمل۔ اس کی معنیٰ یہ ہے کہ الٰہی میں تجھ سے جنت مانگتا ہوں اور وہ قول اور عمل جو اس کے قریب کردیں ان کی درخواست کرتا ہوں، اور دوزخ سے اور ایسے قول و عمل سے جو اس کے قریب کریں تیری پناہ پکڑتا ہوں۔ اور بہتر یہ ہے کہ دعوات ماثورہ (منقولہ دعائیں) کے سوا اور کچھ نہ مانگے اس لیے کہ ہوسکتا ہے کہ دعا مانگنے میں حد سے تجاوز کرجائے اور ایسی چیز مانگے جو مقتضائے مصلحت نہ ہو، کیونکہ ہر کوئی اچھی طرح دعا مانگنا بھی نہیں جانتا۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ جنت میں بھی علماء کی ضرورت ہوگی کیونکہ جس وقت جنت والوں سے کہا جائے گا کہ تمنا کرو تو ان کو یہ معلوم نہ ہوگا کہ تمنا کس طرح کریں، یہاں تک کہ علماء سے سیکھ کر تمنا کریں گے۔ حضرت حبیب عجمی بزرگ گذرے ہیں جن کی دعا کی برکت مشہور ہے۔ وہ اپنی دعا میں اس سے زیادہ نہیں فرماتے ”اللّٰہم اجعلنا جیدین اللّٰہم لا تفضحنا یوم القیامۃ اللّٰہم وقفنا للخیر“۔ ترجمہ الٰہی ہم کو خالص بے میل کردے۔ الٰہی ہم کو روز قیامت میں رسوا مت کرنا۔ الٰہی ہم کو خیر کی توفیق عنایت کر اور اس کا شاہد سورہ بقرہ کا آخر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی دعا کسی جگہ اس سے زیادہ نہیں بتائی جتنی اس رکو ع میں ہے اور یہ دعا سات جملوں پر مشتمل ہے اور جامع دعا ہے۔ ایسی دعا ہونی چاہیے یعنی یہ ہے کہ جو دعائیں قرآن اور حدیث سے منقول ہوں انہی پر اکتفا کرے یا زبان تضرع اور خشوع قافیہ اور تکلف کے علاوہ دعا کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عاجزی پسند ہے۔

13۔ دعا میں رغبت (توقع) اور خوف رکھنا چاہیے، جیسے باری تعالیٰ کا ارشاد ہے اِنَّہُمْ کَانُوْایُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرَاتِ وَیَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّرَہَبًا۔ ترجمہ وہ لوگ دوڑتے ہیں بھلائی پر اور پکارتے ہیں ہم کو توقع سے اور ڈر سے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا دل میں ڈر بھی موجود ہو، دعا قبول ہونے کا بھی یقین کرے کیونکہ بڑے سخی کے در التجا کرتا ہے۔ سفیان بن عیینیہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ تم اپنے نفس کی خرابی سے واقف ہو کر دعا سے باز نہ رہو اور یہ مت جانو کہ ہم برے ہیں ہماری دعا قبول نہ ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے تو خلق میں سب سے برے یعنی شیطان ملعون کی بھی دعا قبول فرمائی ہے۔ چنانچہ قرآن میں موجود ہے شیطان نے دعا مانگی قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْ اِلیٰ یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ قَالَ فَاِنَّکَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ۔ شیطان بولا اے رب تو مجھ کو ڈھیل دے اس دن تک جب مردے زندہ ہوں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا تجھ کو اس دن تک ڈھیل ہے۔ جب اس کی دعا قبول ہوتی ہے تو ایک بڑے گنہگار کی بھی دعا قبول ہوگی۔ کسی شاعر نے خوب کہا

گرتے ہوؤں کو کس نے اٹھایا تیرے بغیر    بگڑے ہووں کو کس نے بنایا تیرے بغیر

14۔ مقامات دعا: یہاں ان مقامات کا ذکر کیا جاتا ہے جن جگہوں پر دعا زیادہ مقبول ہوتی ہے

1۔ بیت اللہ شریف پر پہلی نظر پڑنے کے وقت۔

2۔ چاہ زم زم کے پاس۔

3۔ زم زم پینے کے وقت۔

4۔ صفا اور مروہ پر۔

5۔ سعی میں۔

6۔ مقام ابراہیم کے نزدیک۔

7۔ عرفات میں۔

8۔ منیٰ میں۔

9۔ مزدلفہ میں۔

10۔ تین جمروں کے پاس۔

11۔ انبیاء کرام کے مزارات مقدسہ کے پاس۔

12۔ بزرگان دین کے مزارات پر، بلکہ بزرگوں کے پاس دعا مانگنا سنت انبیاء ہے۔ حضرت زکریا علیہ السلام نے بی بی مریم کے پاس کھڑے ہوکر اولاد کی دعا کی۔ قرآن فرماتا ہے ”ہُنَا لِکَ دَعَا زَکَرِیَّا رَبَّہٗ قَالَ رَبِّ ہَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ ذُرِّیَّۃً طَیِّبَۃً“۔ اولیاء اللہ رحمت رب کی اسٹیشن ہیں، یہاں سے رحمت ملتی ہے۔ ارشاد باری ہے ”اِنَّ رَحْمَتَ اللہ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ“ بیشک اللہ کی رحمت نیکوکار لوگوں کے قریب ہے۔ (روح البیان) اس لیے وہاں دعا مانگنا رحمت الٰہی حاصل کرنا ہے۔

کن کی دعا زیادہ قبول ہوتی ہے

چند شخصوں کی دعا زیادہ قبول ہوتی ہے

1۔ روزہ دار کی افطار کے وقت۔

2۔ عادل بادشاہ کی۔

3۔ مظلوم کی۔

4۔ ماں باپ کی۔

5۔ مسافر کی۔

6۔ بیمار کی (مشکوٰۃشریف)۔

7۔ گھر پہنچنے سے پہلے حاجی کی۔

8۔ مسلمان کے لیے اس کے پیچھے دعا۔

9۔ مجاہد کی۔

مسئلہ، محال چیز کی دعا کرنا منع ہے۔

مسئلہ، دعا قبول ہونے میں دیر لگے تو دعا مانگنا نہ چھوڑے۔ دعا تو اظہار بندگی ہے اگر قبول نہ ہو تو بھی مانگنا نہ چھوڑے اور سمجھے اس میں ہماری بہتری ہے۔ کیونکہ قبولیت دعا کی چند صورتیں ہیں۔ اگر بندے کی دعا اس کے لیے بہتر ہے تو وہ قبول ہوجاتی ہے، ورنہ دعا کی برکت سے کوئی اور بلا ٹل جاتی ہے، یا اسے دعا کا دنیا یا آخرت میں ثواب دے دیا جاتا ہے۔ غرضیکہ دعا رائیگاں نہیں جاتی۔ بندہ کبھی بری چیز کو اچھی سمجھ کر مانگ لیتا ہے۔ رب اپنے کرم سے نہیں دیتا جیسے کہ نادان بیمار کامل طبیب سے نقصان دہ غذائیں مانگے اور وہ نہ دے تو اسی صورت میں نہ قبول ہونا بہتر ہے۔ واللہ اعلم باالصواب۔