الطاہر

الطاہر شمارہ نمبر 44
ربیع الاول ۱۴۲۸ھ بمطابق اپریل ۲۰۰۷ع

اردو مین پیج

درس قرآن

مؤمن کی پانچ اوصاف اور ان کے تین ثمرات

علامہ حبیب الرحمٰن گبول طاہری

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اِنَّمَاالْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَ اللہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُہُمْ وَاِذَا تُلِیَتْ عَلَیْہِمْ اٰیاتَہٗ زَادَتْہُمْ اِیْمَانًا وَّعَلیٰ رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ o اَلَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلوٰۃَ وَمِمَّا رَزَقْنَاہُمْ یُنْفِقُوْنَo اُوْلٰٓئِکَ ہُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقا لَہُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ وَمَغْفِرَۃٌ وَّرِزْقٌ کَرِیْمٌ۔ (سورہ انفال آیۃ 4,3,2)

ترجمہ: ایمان والے تو صرف وہی لوگ ہیں کہ جب (ان کے سامنے) اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے (تو ان کے دل اسکی عظمت و جلال کے تصور سے خوفزدہ ہوجاتے ہیں اور جب ان پر اسکی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ (کلام الٰہی کی لذت سے)ان کے ایمان میں زیادتی کردیتی ہیں، اور وہ ہر حال میں اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔ وہ لوگ نماز قائم کرتے ہیں اور اس میں سے جو ہم نے ان کو عطا کیا ہے اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں یہی لوگ سچے مؤمن ہیں۔ ان کے لیے ان کے رب کی بارگاہ میں بڑے درجات ہیں اور گناہوں کی بخشش اور باعزت رزق۔

ربط: سابقہ آیت کے آخر میں اجمالاً فرمایا گیا تھا کہ اگر تم اہل ایمان ہو تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلّی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو، اور ان آیات مبارکہ میں قدرے تفصیل سے مؤمنوں کے اہم اوصاف کا ذکر فرمایا گیا، ساتھ ہی کلمہ حصر اِنَّمَا ذکر کیا گیا، جس سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ کامل مؤمن صرف اور صرف وہی ہیں جن میں مندرجہ ذیل عمدہ اوصاف پائی جائیں۔

نحوی ترکیب کے لحاظ سے المؤمنون مبتدا اور الذین ۔۔۔۔ اسکی خبر ہے۔

پہلی وصف: خدا کا خوف الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَ اللہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُہُم۔۔۔ کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے وقت اسکی قدرت، عظمت و جلال اور گناہوں پر گرفت کے پیش نظر ان کے دل سہم جاتے ہیں۔ اس لیے کہ یہ لوگ فطرتاً نرم خو، نرم مزاج اور نرم دل ہوتے ہیں۔ عظمت و ہیبت الٰہی کے پیش نظر اس کی یاد کے وقت لرز جاتا ہے یہ ان کی خوب خصلت ہے۔ چنانچہ سورۃ حج میں اللہ تعالیٰ نے نرم دل متواضع اور ذکر خدا کے وقت لرز جانے والے اپنے پیارے بندوں کے لیے مخبتین کا کلمہ استعمال کرکے اپنے حبیب صلّی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ان کو آپ خوشخبری سنادیں، وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَ اللہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُہُم ۔(سورۃ الحج) غرض یہ کہ اس آیت میں ذکر خدا کے وقت کامل مؤمنوں کے خوف خدا سے کانپ جانے کا ذکر ہے، جبکہ سورۃ رعد کی آیت 28 میں مؤمنوں کی یہ وصف بیاں کی گئی کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ان کو اطمینان قلب حاصل ہوتا ہے اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْ وتَطْمَئِنُّ قُلُوْبُہُمْ بِذِکْرِاللہ۔

نیز سورۃ رعد میں فرمایا اَلَا بِذِکْرِ اللہِ تَطْمَئِن الْقُلُوْبُ۔ اللہ کی یاد ہی سے دل مطمئن ہوتے ہیں۔

اور سورۃ یونس میں اللہ تعالیٰ نے واضح ارشاد فرمایا اَلآ اِنَّ اَوْلِیَآئَ اللہِ لَاخَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَاہُمْ یَحزَنُوْنَ (سورہ یونس) خبردار بیشک اولیاء اللہ پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ رنجیدہ و غمگین ہونگے۔

معلوم ہوا کہ خوف و اطمینان ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ یہاں خوف سے مراد وہ رعب و ہیبت ہے جو بڑوں کی عظمت شان کے سبب دل میں پیدا ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے یہاں کلمہ وجل فرمایا جس کا معنیٰ مطلق ڈر نہیں بلکہ رعب و ہیبت کی بنا پر حاصل ہونیوالا ڈر ہے۔

بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس جگہ ذکر اور یاد سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص گناہ کا ارادہ کرلے اسی وقت اسے اللہ تعالیٰ کی یاد آجائے اور عذاب الٰہی کے خوف سے باز آجائے اور گناہ نہ کرے۔ اس صورت میں خوف سے مراد خوف عذاب ہی ہوگا۔ بحر محیط (معارف القرآن، احسن البیان) میں ارشاد خداوندی ہے اِنَّ الَّذیْنَ التَّقُوْا اِذَا مَسَّہُمْ طآئِفٌ مِنْ الشَّیطَانِ تَذَکَّرُوْا فَاِذَا ہُمْ مُبْصِرُونَ (الاعراف) (بے شک جن لوگوں نے تقویٰ اختیار کیا جب کبھی انہیں شیطان کی طرف سے کوئی برا خیال چھولیتا ہے تو وہ اللہ کے اوامر نواہی اور شیطان کی عداوت کو یاد کرنے لگتے ہیں (اور گناہ کے فریب میں نہیں جاتے)۔

کیفیات: ذکر اللہ کے خوف و وجل کی صورت میں بعض اوقات اہل ذکر پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے اور بعض بے قابو ہوکر تڑپتے، گرتے، بھاگتے، دوڑتے اور نعرے بلند کرتے ہیں، جبکہ بعض اپنے آپ پر کنٹرول کرلیتے ہیں اور دل میں خوف و محبت کی ملی جلی کیفیت سے مستغرق ہمہ تن متوجہ الی اللہ اور گناہوں سے متنفر دور رہتے ہیں۔ یہ آخری کیفیت صاحب ارشاد و کمال ہوتی ہے۔

دوسری وصف۔ زیادتی ایمان

وَاِذَا تُلِیَتْ عَلَیْہِمْ آیاتُہُ زَادَتْہُمْ اِیْمَانًا یعنی تلاوت قرآن سے انکی ایمانی کیفیت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے، خواہ معانی مطالب سمجھیں یا نہ سمجھیں۔ اس لیے کہ تلاوت قرآن کے وقت بندہ اپنے رب سے ہم کلام ہوتا ہے لہٰذا اس وقت جس قدر خلوص و توجہ سے تلاوت کرے گا اسی قدر اسے مزید قرب الٰہی حاصل ہوگا اور علم الیقین، عین الیقین اور حق الیقین جیسے مدارج کی صورت میں ایمانی ترقی کرتا رہے گا۔ اور یہ حقیقت تجربہ و مشاہدہ سے ثابت ہے کہ آدمی جس قدر آداب تلاوت قرآن مجید کا لحاظ کرتے ہوئے تلاوت کرتا ہے اسی قدر اس کے اخلاق حمیدہ و اعمال صالحہ میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ تلاوت قرآن اور نیک اعمال مثلاً فرض کے علاوہ نفلی نماز ذکر وغیرہ اسکی فطرۃ ثانیہ بن جاتے ہیں کہ ان کو بلا عذر ترک نہیں کرتا۔ اگر کبھی کوتاہی ہوجاتی ہے تو پریشان ہوجاتا ہے، اسی طرح گناہوں سے اسے نفرت پیدا ہوتی ہے اور بد کردار لوگوں سے دور بھاگتا ہے۔ یہی ایمانی ترقی اور تقویت کی دلیل ہے۔

تیسری وصف: توکل: وَعَلیٰ رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْن۔

توکل کی معنیٰ ہے مکمل اعتماد و بھروسہ کرنا۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے تمام افعال و احوال میں مؤمن کا بھروسہ اپنے رب پر ہوتا ہے۔ توکل کے دو قسم ہیں 1۔ توکل مع الاسباب، اس کا مطلب یہ ہے کہ مالی اسباب و ذرائع کو کام میں لانے کے بعد نتیجہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کردے۔ ”اعقلہا و توکل علی اللہ“، جسکا فارسی میں ترجمہ ہے ”بر توکل زانوئے اشترببند“ یعنی اونٹ کو رسی سے باندھو اور بھروسہ اللہ پر رکھو۔ ”کسب کن پس تکیہ بر جبار کن“ کہ محنت کرو اور بھروسہ اللہ پر رکھو۔ 2۔ توکل بترک الاسباب: کہ اپنی ضروریات کے لیے اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ مادی ذرائع و اسباب سے فائدہ حاصل نہ کرے اور یہ کہے کہ جو میرے مقدر میں ہوگا بیٹھے بٹھائے مل جائے گا۔

دین اسلام میں پہلے قسم کے توکل کی تعلیم دی گئی ہے دوسرے کی نہیں۔ اسباب و وسائل بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیے ہیں، ان پر اثرات و ثمرات بھی وہی مرتب کرتا ہے، لہٰذا ترک اسباب توکل نہیں جہالت ہے۔

چوتھی وصف : اقامۃ نماز: اَلَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلوٰۃ۔

اقامۃ کے معنیٰ ہیں کسی چیز کو درست طریقہ پر سیدھا کھڑا کرنا۔ قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں نماز کے لیے یقیمون صیغہ مضارع اقامۃ کے باب سے ذکر کرنے میں اس جانب اشارہ ہے کہ نماز پابندی سے پڑھی جائے اور رکوع و سجود اور تعدیل ارکان کا پورا پورا لحاظ کرکے پڑھی جائے، جس میں فرائض، واجبات، سنن و مستحاب سبھی کا لحاظ رکھا گیا ہو۔ یقینا اس قسم کی نماز اِنَّ الصَّلوٰۃَ تَنْہیٰ عَنِ الْفَحشَائِ وَالْمُنْکَرِ (عنکبوت) کے مصداق گناہوں سے ڈھال ہوگی۔

محض نماز ادا کرنا کافی نہیں، نماز کے فوائد کے حصول کے لیے اس کے شرائط اور آداب کا لحاظ کرنا بھی ازحد ضروری ہے۔ حضرت امام ربانی مجدد و منور الف ثانی قدس سرہ فرماتے ہیں ”ادائے فرضے از فرائض در وقتے از اوقات بہ از ادائے نوافل ہزار سالہ است اگرچہ بہ نیت خالص ادا شود۔ ہر نفلے کہ باشد از صلوٰۃ و زکوٰۃ و صوم و ذکر و فکر امثال اینہا۔“ فرائض میں سے کسی ایک فرض کو اسکے اپنے وقت میں ادا کرنا ہزار سال کے نوافل ادا کرنے سے بہتر ہے، اگرچہ نوافل اخلاص نیت کے ساتھ ادا کیے جائیں۔ خواہ نفلی نمازیں ہوں یا زکوٰۃ، روزہ اور ذکر و فکر یا ان کی مثل کوئی اور نفلی عمل۔ مکتوب 29 حصہ اول بنام شیخ نظام الدین علیہ الرحمۃ۔

پانچویں وصف خرچ کرنا: وَمِمَّا رَزَقْنَاہُمْ یُنْفِقُوْن۔

اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے رزق میں سے اس کی رضا کے مطابق خرچ کرنا یہ عام ہے صدقات واجب ہے جیسے فرضی زکوٰۃ قربانی اور نفلی صدقات جیسے مساجد، مدارس، مہمانوں، دوستوں، پڑوسیوں پر خرچ کرنا سبھی اس میں شامل ہیں۔ صدقات واجبہ پر کفایت کرنا کافی نہیں، محتاجوں غریبوں پر خرچ کرنا بھی ضروری ہے، بلکہ چاہیے کہ ہر قسم کی نعمت میں سے خدا کی رضا کے لیے دیدے جو اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے۔ بقول مولانا مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمۃ زکوٰۃ پر کفایت نہ کرے پھر صرف ایک دو بار پر قناعت نہ کرے بلکہ ہر جگہ اور ہر اچھے مقام پر خرچ کرتا رہے ہر جگہ دانہ ڈالے، نہ معلوم کونسا دانہ کب اگ جائے۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت کے سو درجات ہیں اور ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین کے درمیان فاصلہ ہے۔

نتیجہ :اُوْلٰٓئِکَ ہُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقا۔

یعنی جن اشخاص میں مذکورہ پانچ اوصاف موجود ہوں وہی سچے پکے مؤمن ہیں کہ وہ جان، مال، دل، زبان، ظاہر و باطن میں یکساں مخلص مؤمن ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انکے لیے تین انعامات کا اعلان فرمایا ہے۔

1۔ لَہُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں ان کے بلند درجات ہیں یا جنت میں بلند و بالا درجات عطا کیے جائیں گے اس لیے کہ وہ ایمان باللہ اور توکل علی اللہ کے عمدہ اوصاف سے موصوف تھے۔

2۔ وَمَغْفِرَۃ اور بخشش کہ انہوں نے رضائے الٰہی کے لیے نمازیں پڑھیں، روزے رکھے، اپنے جسم و جان کو رضائے الٰہی کے امور میں صرف کیا۔ تو جیسا کہ حدیث شریف میں دو نمازوں کے درمیان سرزد ہونے والے (صغیرہ) گناہوں کے لیے ان دو نمازوں کو کفارہ فرمایا گیا ہے۔

3۔ وَّ رِزْقٌ کَرِیْمٌ کہ اس سے مراد یا جنت کی نعمتیں ہیں یا دنیا میں حلال و طیب روزی کا حصول کہ یہ بھی ایک بڑی نعمت ہے۔

ایک قصہ۔ ایک شخص نے حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے دریافت کیا کہ اے ابوسعید! کیا آپ مؤمن ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ بھائی ایمان دو قسم کے ہیں، تمہارے سوال کا مطلب اگر یہ ہے کہ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں، کتابوں اور رسولوں پر اور جنت، دوزخ اور قیامت اور حساب و کتاب پر ایمان رکھتا ہوں تو جواب یہ ہے کہ بیشک میں مؤمن ہوں، اور اگر تمہارے سوال کا مطلب یہ ہے کہ میں وہ کامل مؤمن ہوں جس کا ذکر سورہ انفال کی آیات میں ہے تو مجھ کو معلوم نہیں کہ ان میں داخل ہوں یا نہیں۔ سورہ انفال کی آیات سے مراد وہی آیات ہیں جن کا ابھی مذکورہ بالا سطور میں ذکر ہوا۔ (معارف القرآن)

اللّٰہم اجعلنا من المؤمنین المخلصین الموصوفین بالاوصاف المذکورۃ الموعودین بعندک بالدرجات والمغفرۃ والرزق الکریم، وارزقنا حبک وحب حبیبک علیہ الف الصلوات واکمل التحیات

فرمان رسول صلّی اللہ علیہ وسلم۔ مسلمان کو برا بھلا کہنا بڑا گناہ ہے اور اس کے ساتھ بغیر کسی سبب کے لڑنا کفر ہے۔ (بخاری)

فرمان حضرت علی رضی اللہ عنہ۔ اگر تم کمزور کو کچھ دے نہیں سکتے تو اس کے ساتھ مہربانی کے ساتھ پیش آؤ۔