الطاہر

الطاہر شمارہ نمبر 44
ربیع الاول ۱۴۲۸ھ بمطابق اپریل ۲۰۰۷ع

اردو مین پیج

اداریہ ۔ سنتیں

 

جس وقت آپ ان سطروں کو پڑھ رہے ہوں گے تب تک ماہ ربیع الاول کی آمد ہوچکی ہوگی اور مسلمانان عالم پورے جذبے، محبت و خوشی کے ساتھ اس کو منا رہے ہونگے، بلکہ اس جہاں کی ہرچیز اس ماہ کی عنایتوں سے مستفید ہورہی ہوگی۔ لیکن یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔ کیا صرف خوشی منانے سے اس ماہ کی حق ادائیگی ہوجاتی ہے یا یہ مہینہ خوشی منانے کے ساتھ ہم سے کچھ اور بھی اقتضا کرتا ہے؟ جب اس کے جواب پر غور کیا جائے گا تو ہر صاحب دل پر یہ بات بالکل واضح ہوجائے گی کہ صرف خوشی منانے سے اس ماہ کی حق ادائیگی مکمل نہیں ہوجاتی بلکہ محسن دوجہاں صلّی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا یہ مہینہ ہم سے یہ چاہتا ہے کہ ہم خوشی منانے کے ساتھ اپنے عمل و کردار کو بھی اس طرح بنالیں کہ رسول اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کی ذات بھی ہم سے خوش و راضی ہوجائے۔ اب رسول اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کی رضامندی اس میں ہے کہ ہم قرآن کریم کے احکامات پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کو بھی اپنا شعار بنالیں۔ مگر یہاں یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ سنتیں صرف ظاہر تک ہی محدود نہیں ہیں جس طرح کہ آج چند نامکمل سوچ رکھنے والوں نے اپنے آپ کو ظاہری سنتوں تک محدود کردیا ہے اور صرف انہیں سنتوں کو اپنانا شروع کردیا ہے جو لوگوں کو آسانی سے نظر آجاتی ہیں، مثلا لباس اور ظاہری ہیئت۔ ہم لوگوں نے ان سنتوں کو نظر انداز کردیا ہے جو انسان کے اندر سے تعلق رکھتی ہیں، جن کا تعلق قلب سے ہوتا ہے اور جن پر عمل کرنے سے ہی انسان کا کردار تبدیل ہوکر اس قالب میں ڈھل جاتا ہے جو آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی و رضامندی کے حصول کا باعث ہے۔ وہ سنتیں یہ ہیں کہ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کسی کو بھی کم تر نہیں سمجھتے تھے بلکہ ہر ایک کے ساتھ محبت و شفقت فرماتے تھے، کسی کے لیے اپنے دل مبارک میں بغض، کینہ، حسد نہیں رکھتے تھے، کسی کے لیے بھی برا نہیں سوچتے تھے اور نہ ہی پسند فرماتے تھے بلکہ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم چوپایوں، پرندوں، حشرات الارض، نباتات و جمادات کے لیے بھی رحمت کا پرتو تھے۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ صبر، حلم و عفو فرماتے تھے، ہمیشہ تواضع و انکساری سے رہتے تھے، سخاوت و ایثار فرماتے تھے، صدق، عدل و انصاف کرتے تھے، عفت و حیا کا بے مثل نمونہ تھے، عورتوں، بچوں، یتیموں، بیواؤں، مسکینوں اور غلاموں کے لیے مہربانی و عنایت کا باعث تھے۔ مگر آج جب ہم اپنے اندر کو دیکھتے ہیں تو ان چیزوں سے خود کو بالکل خالی پاتے ہیں۔ ان تمام تر سنتوں کو ہم نے ترک کردیا ہے۔ بلکہ اللہ معاف فرمائے ہم نے انہیں سنتیں سمجھنا ہی چھوڑدیا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آج ہمارا معاشرہ تباہی کی دہلیز پر جا پہنچا ہے، ہم کھوکھلے پن کا شکار ہوچکے ہیں۔ مگر اب بھی موقع موجود ہے کہ اپنی سوچ، عمل و کردار کو درست کرلیں اور ظاہری سنتوں کے ساتھ ان باطنی سنتوں پر بھی عمل پیرا ہوجائیں اور اولیاء اللہ خصوصا مرشد و مربی حضور قبلہ عالم سجن سائیں قلبی و روحی فداہ کی طرح ان سنتوں کی ترقی و ترویج کے لیے کمربستہ ہوجائیں تو وہ دن دور نہیں جب ہمارا معاشرہ حسن معاشرت کا مثال بن کر پوری دنیا کے لیے نمونہ عمل بن جائے۔