الطاہر

الطاہر شمارہ نمبر 44
ربیع الاول ۱۴۲۸ھ بمطابق اپریل ۲۰۰۷ع

اردو مین پیج

نعت رسول مقبول

صلّی اللہ علیہ وسلم

 

میں پیاس کا صحرا ہوں، تو رحمت کا خزینہ
تو قاسمِ تسنیم، مرا ذوق ہے پینا

تو وہ ہے، کہ ہر حسن تیری ذات سے مشتق
میں وہ ہوں، کہ مجھ میں نہ سلیقہ نہ قرینہ

میں ایک خزف زیرہ نہ وقعت نہ حقیقت
تو خاتم دوراں کا ہے انمول نگینہ

میں ظلمت و حرماں کے دہانے پہ کھڑا ہوں
روشن ہے تیری ذات سے کونین کا سینہ

ہے تیرے ہی خورشیدِ جہاں تاب کی کرنیں
دانش کدہ رومی و حکمت گہ سینا

ہو عشق تیرا میری تمناؤں کا محور
تیرے ہی لیے ہو مرا مرنا مرا جینا

شرمندہ احساسِ حقِ نعت ہوں انور
ہر لفظ کے ماتھے سے ٹپکتا ہے پسینہ

شاعر :انور جمال