الطاہر

الطاہر شمارہ نمبر 44
ربیع الاول ۱۴۲۸ھ بمطابق اپریل ۲۰۰۷ع

اردو مین پیج

الطاهر اوپن فورم

 

قارئین الطاہر کی دلچسپی کی وجہ سے الطاہر اوپن فورم کا سلسلہ کامیابی کے ساتھ جاری و ساری ہے ۔ گذشتہ شمارہ کے موضوع ”وما ارسلنک الا رحمۃ اللعلمین“ پر احباب نے تحریریں بھیجیں۔ ایڈیٹوریل بورڈ کے فیصلے کے مطابق اس مرتبہ پروفیسر طاہری مسلم بروہی کی تحریر انعام یافتہ قرار پائی۔ انعام کے طور پر ان کی طرف کتاب خطابات طاہریہ بھیجی جارہی ہے۔ آئندہ اوپن فورم کا عنوان ہے ”ایثار“ مضمون بھیجنے کی آخری تاریخ 10 مئی 2007 ہے۔ مراسلہ نگار مضمون کے ساتھ اپنا ایڈریس ضرور تحریر فرمائیں۔

 


انعام یافتہ تحریر

پروفیسر طاہری مسلم بروہی

میرو خان ضلع قمبرشہدادکوٹ

وَمَا اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃَ الِّلْعٰلَمیْن

اور نہیں بھیجا تم کو ہم نے مگر جہاں کے لیے رحمت بناکر۔

قرآن پاک کی اس آیت مبارکہ سے صاف ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بناکر بھیجا۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کے رحمت اللعالمین ہونے کا ثبوت آپ کی سیرت پاک اور زندگی سے بھی ملتا ہے۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم بچوں، بوڑھوں، مرد، عورتوں، غلاموں اور قیدیوں کے ساتھ بھی رحمت بھرے انداز میں پیش آتے تھے۔ یوں تو ولادت سے لے کر وصال تک آپ رحمت ہی رحمت تھے، مگر کفار کی ظلم و زیادتیوں کے باوجود بھی آپ ان پر شفقت فرماتے تھے۔ ایک دفعہ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام مسجد نبوی میں تشریف رکھے ہوئے تھے۔ ایک بدو مسجد میں آگیا اور مسجد میں پیشاب کرنے لگا۔ صحابہ کرام اس کو پکڑ کر لے آئے اور کہہ رہے تھے کہ اس کو سزادیں، مگر آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو چھوڑدو اس کو مسجد کے احترام کا پتہ نہیں، جب ا س نے ایسے رحمت بھرے انداز کو دیکھا تو کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگیا۔

طائف والوں نے تو ظلم و ستم کی کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ آپ کو تکلیفیں دیتے تھے۔ ایک دفعہ اتنے پتھروں کی بارش کردی کہ آپ کے جسم مبارک سے خون بہنے لگا تو آپ مجبوراً شہر سے باہر نکلے تو جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا یارسول اللہ اگر آپ حکم فرمائیں تو طائف کے دونوں جانب پہاڑ ہیں ان دونوں کو ملادوں تاکہ یہ تباہ اور برباد ہوجائیں۔ پھر بھی آپ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے رحمت بنا کر بھیجا ہے اور آپ نے ہاتھ اٹھاکر دعا کی کہ اے اللہ ان کو دل کی آنکھیں عطا کر تاکہ یہ مجھے پہچان سکیں۔ قریش مکہ آپ کو برا بھلا کہتے تھے، ہر طرح کے طعنے دیتے تھے، بلاوجہ زندگی کے معاملات میں زیادتی کرتے تھے۔ آپ نے ان چیزوں کا کبھی بھی برا نہیں مانا اور غصے کا اظہار نہیں کیا، مسکرا کر چلے جاتے تھے۔ ابوسفیان کی بیوی ہندہ نے غزوہ احد کے موقع پر حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کے عزیز ترین چچا حضرت حمزہ کی لاش کو چیر کر دل اور جگر کو اپنے دانتوں سے چبایا تھا، پھر بھی وہ جب حضور صلّی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اسلام لانے کے لیے حاضر ہوئی، وہی ہندہ کہہ رہی تھی حضور صلّی اللہ علیہ وسلم آپ سے زیادہ مجھے کوئی محبوب نہیں۔ انسان تو انسان مگر آپ چرند پرند کے لیے بھی رحمت بن کر آئے ہیں، تاریخ میں ایسے ہزاروں واقعات ہیں۔ ایک دفعہ کسی صحابی نے آپ سے کہا کہ یارسول اللہ میرا اونٹ میرے ساتھ صحیح نہیں چل رہا تو آپ نے اونٹ سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ کیا ماجرا ہے؟ اونٹ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ میرا مالک مجھے کھلاتا پلاتا کم ہے اور کام زیادہ لیتا ہے۔ تو آپ نے اونٹ کے مالک کو ہدایت کی کہ اس کو زیادہ کھلایا اور پلایا کرو۔ کسی نے ایک ہرنی کو شکار میں پکڑا تھا، جب وہاں سے حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم جارہے تھے تو ہرنی نے رو کر فریاد کی کہ یا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم میرے چھوٹے بچے ہیں ان کو دودھ پلا کر واپس آؤنگی تو آپ نے اس شخص کو حکم دیا کہ اس کو چھوڑ دو یہ واپس آجائے گی۔ جب ہرنی اپنے بچوں کو دودھ پلا رہی تھی اور کہہ رہی تھی کہ جلدی کرو میں رحمت اللعالمین سے وعدہ کرکے آئی ہوں کہ میں واپس آؤنگی ہرنی جب واپس آئی تو وہ شخص یہ ماجرہ دیکھ کر حیران رہ گیا اور حضور صلّی اللہ علیہ وسلم نے اس ہرنی کو ہمیشہ کے لیے آزاد کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کو اس دنیا کے لیے تو رحمت بنایا مگر آخرت میں بھی سب آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کے رحمت کے طلبگار ہیں۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کی رحمت نے انسان کو انسانیت سکھائی ورنہ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے پہلے انسان حیوان سے بھی بدتر ہورہا تھا۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کی رحمت بھری زندگی سے ہم سب کے لیے بھی سبق ہے کہ صرف رحمت کو گائیں نہیں بلکہ اسوہ حسنہ پر عمل کرنے کی کوشش کریں تاکہ دین و دنیا اور آخرت کی کامیابی حاصل کرسکیں۔

دیگر احباب کی تحریروں سے اقتباسات

 

طارق مقصود طاہری۔ ضلع وہاڑی

ایک مرتبہ جب آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نماز ادا فرمارہے تھے تو ایک آدمی نے آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کے اوپر اوجھری ڈال دی اور ہنسنے لگے، مگر آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے اسی بھی معاف فرمادیا۔ اگر اسی طرح مثالیں دیکھیں تو بے انتہا ہیں۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کی شفقت جو بچوں کے ساتھ تھی چاہے دشمن کے بچے کیوں نہ ہوتے۔ ایک مرتبہ آپ راستے سے گذررہے تھے اور بچے کھیل رہے تھے جس میں آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کے نواسے حسن اور حسین بھی شامل تھے آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو گود میں اٹھالیا اور پیار کیا اور دوسرے بچوں کو گلے لگایا۔ ایسے محسوس ہورہا تھا کہ سارے بچے اپنے ہیں۔ ایک شخص آیا اور کہا اے محمد صلّی اللہ علیہ وسلم آپ اجنبی بچوں کو پیار کرتے ہو جبکہ میرے سات بچے ہیں، میں نے اس طرح پیار نہیں کیا۔ آپ فرماتے ہیں کہ اگر تیرے دل میں محبت نہیں ہے تو میں کیا کروں۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ آپ بچوں سے کتنا پیار کرتے تھے۔ جنگ کے موقع پر آپ تمام سپاہیوں کو باقائدہ حکم دیتے کہ کسی بچے، عورت، جانور وغیرہ کو قتل نہیں کرنا۔ یہ ایسے واقعات ہیں جو آپ نے خوش اخلاقی سے اپنائے۔

ثمینہ کوثر طاہری۔سانگلہ ہل بھلیر 119

وَمَا اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃَ الِّلْعٰلَمیْن

اور ہم نے آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کو سارے جہانوں کے لیے رحمت بناکر بھیجا ہے۔

یعنی اس نور کی روشنی لامحدود ہے، سارے جہانوں کو گھیرے ہوئے ہے۔ جن و انس، حیوانات، معدنیات، نباتات، شمس و قمر اس نور ہدایت سے فیضیاب ہورہے ہیں۔ اللہ جل شانہ اپنی ذات اقدس کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں اَلْحَمدُ ﷲِ رَبِّ الْعَالَمِیْن اور اپنے محبوب صلّی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فرماتے ہیں وَمَا اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃَ الِّلْعٰلَمیْن۔ یعنی اللہ سبحانہ و تعالیٰ تمام جہانوں کے پالنے والے ہیں اور محبوب خدا تمام جہانوں کے لیے رحمت ہیں۔ جس طرح رب کی ربوبیت کل جہانوں کے لیے ہے اسی طرح رحمت بھی کل جہانوں کے لیے ہے۔ رحمت ایک وسیع المعانی لفظ ہے جیسا کہ بارش کو اللہ کی رحمت کہا جاتا ہے۔ اس رحمت کو قرآن میں دنیا والوں کی زندگی قرار دیا گیا ہے کیونکہ یہی باران رحمت ہر قسم کے اناج پھل پھول میوے اور کھیتیاں اگانے اور پکانے کا باعث بنتی ہے اور ان ہی غذاؤں پھلوں اور رزق کو کھاکر ہر ذی روح کی زندگی قائم اور باقی ہے۔ اگر بارش نہ ہو تو پھر اس کی جگہ خشک سالی، قحط، بھوک، افلاس، بیماری اور تنگدستی اور موت کے آثار نمودار ہونگے یعنی زحمت ہوگی جس طرح بارش جسمانی زندگی کے لیے رحمت ہے اس طرح دین اسلام روحانی زندگی کے لیے رحمت ہے اور باعث حیات ہے جن کے ذریعے دین حق کی تکمیل ہوئی جس طرح باران رحمت میں جسموں کو توانائی اور تازگی میسر ہوتی ہے اسی طرح دین اسلام، ذکر الٰہی، درود و سلام، تلاوت قرآن سے روح تقویت پکڑتی ہے۔ جسم کا تعلق فانی جہاں کے ساتھ ہے اور روح کا تعلق رب رحمٰن کے ساتھ ہے۔ قرآن پاک میں آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کو رحمت للعالمین کا خطاب دیا گیا جس کا مطلب یہی ہے آپ کی رحمت عام ہے، سارے جہانوں کے لیے ہے، جیسے ہوا عام ہے اسی طرح آپ کی رحمت عام ہے۔ انسانوں حیوانوں چرندوں پرندوں غرض کہ جمادات حیوانات نباتات سبھی کچھ رحمت اللعالمین کی رحمت سے فیض یاب ہورہے ہیں۔ اسی طرح اللہ کی تخلیق میں سب سے اولین اور افضل تخلیق رحمت اللعالمین ہیں، جن کے لیے ساری کائنات بنائی اور سجائی گئی اور جس مقصد کے لیے یہ کائنات بنائی گئی وہ دین اسلام کی تکمیل تھا جس کی ابتدا حضرت آدم علیہ السلام سے ہوئی لیکن تکمیل رحمت اللعالمین پر ہوئی اور اللہ نے اپنے محبوب کو رحمت اللعالمین کے تاج سے سرفراز فرمایا۔

 

محمد محسن طاہری۔ اسلامک سینٹر کراچی

رحمت اللعالمین۔ ہمارے نزدیک اس آیت کریمہ کا مصداق رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہے۔ اللہ نے آپ کو سراپا اور مجسم رحمت بناکر بھیجا اور ہمیں زندگی کا ایسا نظام دیا جو انسانیت کے امن و سلامتی کی طرف لے جاتا ہے اور انسان ذات کے لیے سراسر رحمت ہے۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم ساری زندگی مخلوق خدا کے ساتھ پیار، محبت، شفقت اور نرمی کے ساتھ پیش آتے تھے۔ فتح مکہ کے وقت جب کافروں نے سمجھا کہ ہم اب قتل کیے جائیں گے اور ان میں ہندہ بھی موجود تھی جس نے حضرت حمزہ کو شہید کرکے ان کا سینہ چیر پھاڑ کر کلیجا چبایا تھا۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام کو معاف کردیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کی رحمت صرف مؤمنوں تک محدود نہیں تھی بلکہ کافروں کے لیے بھی آپ ہمیشہ رحمت تھے۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم ہر عالم کے لیے رحمت ہیں خواہ وہ فرشتوں کا ہو، جنات کا ہو، انسانوں کا عالم ہو، خواہ وہ نباتات، جمادات کا عالم ہو۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم رحمۃ اللعالمین ہیں، جس جس چیز کے لیے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت ہے اس چیز کے لیے آپ رحمت ہیں۔

 

امام دین طاہری۔ میراں ناکہ

آیت مطہرہ میں دولفظ خصوصی اہمیت کے حامل ہیں ایک رحمت اور دوسرا عالمین۔ لغت میں رحمت دو چیزوں کے مجموعے کا نام ہے، ایک رقت اور دوسرا احسان اور مہربانی۔ پس رحمت میں محبت، شفقت، رقت، فضل و احسان، ہمدردی، غمگساری سب شامل ہیں۔ اور عالمین عالم کی جمع ہے اور عالم سے مراد ہر وجود پذیر شے کا ایک طبقہ ہے، اس طرح کئی عالم ہیں۔ عالمین کا دامن بہت وسیع ہے۔ عالم نباتات، عالم حیوانات، عالم جمادات، عالم ملکوت وغیرہ ان سب کو سمیٹیں تو عالمین بنتا ہے اور آپ صلّی اللہ علیہ وسلم رحمت اللعالمین ہیں یعنی ہر ایک طبقے کے لیے سراپا رحمت ہیں۔