فہرست
خطابات طاہریہ

مقصد حیات

 

نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم

امابعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

بَلِ الاِنْسَانُ عَلیٰ نَفْسِہ بَصِیْرَۃٌ وَلو اَلْقیٰ مَعَاذِیْرَہ۝

صدق اللہ العظیم۔

معزز سامعین! آپ سب احباب کو یہاں آنے پر دلی مبارکباد ہو۔ یہاں تک ہم سب کا آنا، جمع ہونا، یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارادے سے ہی ممکن تھا۔ کیونکہ اس دنیا میں، اس جہاں میں ایک ایک پتہ امر الٰہی کا تابع ہے۔ تو اس کے ارادے اور اس کی مرضی سے ہی ہم یہاں پہنچے ہیں، یہاں جمع ہوئے ہیں۔

دوستو! ہمیں ہمیشہ اس طرف توجہ کرنی چاہیے کہ انسان ہونے کے ناتے ہماری خصوصیات کیا ہیں، ذمیداریاں کیا ہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دنیا کو کیوں تخلیق فرمایا ہے؟ جس طرح کہ اہل تصوف اپنی کتابوں میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں اور اس کی محبت کی تلقین کرتے ہیں، اور دوسری بات جس پر وہ تحقیق کرتے ہیں وہ ماسوی اللہ ہے۔ یعنی ایک اللہ دوسرا ماسوی اللہ۔ اللہ کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ ماسوی اللہ میں آجاتا ہے۔ انسان بھی اس میں شامل ہے، جانور بھی اس میں شامل ہیں، درند پرند، جمادات، نباتات، درخت، کھیتیاں سب چیزیں اس میں شامل ہوجاتی ہیں۔ لیکن ان سب موجودات میں سے اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک خصوصیت عطا فرمائی۔ کیونکہ حدیث مبارکہ کا مضمون ہے اللہ تبارک و تعالیٰ نے پسند فرمایا کہ میں پہچانا جاؤں۔

دوستو! کسی کو پہچاننے کے لیے ایک پہچاننے والا چاہیے۔ بغیر پہچاننے والے کے کسی کو پہچان نہیں ملتی۔ تو اللہ تعالیٰ نے پسند کیا اپنے لیے میں پہچانا جاؤں۔ تو علم الٰہی میں وہ کون سی مخلوق تھی جس کو یہ اعزاز ملا؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ اگر چاہتا تو اپنے آپ کو جمادات کے ذریعے بھی پہچانوا سکتا تھا، دیگر مخلوقات کے ذریعے، فرشتوں کے ذریعے۔ لیکن علم الٰہی میں جس شے کا تعین ہوچکا تھا، جس شکل کو جس صورت میں منتخب کرلیا گیا تھا، وہ خوش قسمتی سے انسان کی صورت تھی۔

تو اللہ تعالیٰ نے پسند کیا کہ میں پہچانا جاؤں اور مجھے پہچاننے والا کوئی اور نہیں، فرشتے نہیں، حیوانات نہیں، جمادات نہیں، نباتات نہیں، جنات یا اس کے علاوہ دیگر بے شمار چیزیں ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے پسندکیا کہ مجھے پہچاننے والا انسان ہونا چاہیے۔ تو انسان کی تخلیق ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے اسکو بے شمار صلاحیتوں سے نوازا۔ ذرا اپنے وجود پر غور کرو۔ خود قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دیکھو اپنی آنکھوں کو کہ میں نے تیری آنکھوں کو کس طرح بنادیا ہے جس سے تو چیزوں کو دیکھ رہا ہے۔ دیکھو اپنے چہرے کو کتنا اس کو حسین بنادیا گیا ہے۔

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِی اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ۝

اس چہرے میں کتنی ساری چیزیں آجاتی ہیں جن کو ہم ہر وقت استعمال کرتے رہتے ہیں۔ آنکھیں ہیں، کان ہیں، ناک ہے، زبان ہے۔ پھر سوچنے کے لیے دماغ ہے۔ اور اس چھوٹے سے چہرے سے ایسے ایسے کام ہم کر رہے ہوتے ہیں جو بے مثال ہیں، لاجواب ہیں۔ جو کہ بغیر اس صلاحیت کے جو اللہ تعالیٰ نے دی ہے یعنی یہ آنکھ، اس کے بغیر تم کسی اور ذریعے سے جہاں کو نہیں دیکھ سکتے۔

اس کے علاوہ خدا تعالیٰ نے انسان کے لیے اس زمانے میں بے شمار کھانے پینے کی چیزیں بنائی ہیں۔ بظاہر تو ان چیزوں کو بنانے کا ذریعہ ہم انسان بنتے ہیں۔ ایک پر تکلف، خوش ذائقہ طعام تیار ہوگیا! مگر کتنی چیزیں اس میں ڈالی گئیں ہونگی یہ آپ خود سوچیں۔ اس میں کچھ گھی بھی ہوگا، اس میں پیاز ڈالی گئی ہوگی، اس میں گوشت ڈالا گیا ہوگا، اس میں مصالحہ ہونگے بیسوں قسم کے۔ یہ سب چیزیں اللہ نے اس زمین میں، اس کائنات میں بکھیر دیں، پہاڑوں میں بکھیر دیں تھیں، سمندروں میں بکھیر دیں تھیں، جنگلوں میں بکھیر دیں تھیں۔ یہ اس کی قدرت کاملہ ہے، یہ اس کا علم ہے، یہ اس کی طاقت ہے۔ اور پھر ایک ایسے انسان کو تخلیق کیا جس کے بارے میں اللہ نے چاہا کہ یہ میری ان سب تخلیق شدہ اشیا کو ڈھونڈ نکالے جو میں نے پھیلا دی ہیں اس پوری کائنات میں۔ چیزیں بکھری ہوئی ہیں، کوئی اور ان کی حقیقت کو نہیں جان سکے گا۔ یہ ایک انسان ہے جو پہاڑوں پر بھی چڑھے گا اور کھوج نکالے گا ان چیزوں کو جو انسانیت کے لیے فائدہ مند ہیں۔ یہ انسان سمندروں میں چلا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، آیات قرآنی کا ترجمہ ہے ”کیا میں نے اس سمندر کو تمہارے حکم کا تابع نہیں بنایا؟“ وہ سمندروں میں گھس جائے گا اور وہاں سے ان فائدہ مند چیزوں کو ڈھونڈ نکالے گا، اور وہ فضاؤں میں اڑنا شروع کردیگا۔ تحقیق کے دروازے وہ وہاں بھی کھول کر رکھدے گا۔

تو یہ چیزیں مختلف جگہوں میں پھیلانے والا اللہ تعالیٰ تھا، اور چونکہ اس کا خلیفہ، نائب انسان ہے تو وہ ایک، دوسری، تیسری، چوتھی، پانچویں، چھٹی، ساتویں اتنی ساری چیزوں کو وہ ڈھونڈ نکال کر ایک خوبصورت چیز بنانے والا انسان ہے۔ خدا کے حکم سے، اس کی مشیت سے، اس کے ارادے سے۔

اے انسان تو کتنا خوش قسمت ہے، تو کتنا بخت والا ہے کہ کائنات کی ایک ایک چیز کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے حکم کا تابع بنادیا ہے۔ ذرا نظر اٹھا کر ان جانوروں کو دیکھو جو ریوڑوں کی صورت میں تمہارے آگے آگے پھرتے رہتے ہیں، تم سے مانوس ہوجاتے ہیں، تمہیں اپنا مالک مان لیتے ہیں۔ بکریوں کو دیکھو، بھیڑوں کو دیکھو، وہ ادھر ادھر بھاگتی پھرتی ہیں۔ بھینسوں کو دیکھو صبح کو نکل جاتی ہیں جنگلوں میں اور گھاس کھاتی پھرتی ہیں۔ یہ کیوں گھاس کھاتی پھرتی ہیں؟ اللہ نے ان کی ڈیوٹی لگائی ہے کہ خوب گھاس کھاؤ تاکہ اس گھاس کے ذریعے تمہارا خون پیدا کروں اور اس خون کو دودھ کی صورت میں تمہارے تھنوں سے باہر نکالوں تاکہ میرا نائب، خلیفہ انسان اس کو استعمال کرے۔ ایسے نظر آرہا ہے کہ جانور اپنے جسموں کو سنبھال رہے ہیں، اپنے جسموں کو بڑھا رہے ہیں، اپنے جسموں کو غذا دے رہے ہیں، اس لیے کہ انسان ہم سے فائدہ لے۔

اے انسان ہمیں کیا ہوگیا ہے۔ اتنا بڑا عقل ہے، اتنی بڑی فہم ہے، اتنا بڑا علم ہے، اتنا اپنے آپ کو پالتے ہیں پوستے ہیں۔ کس لیے پالتے پوستے ہیں؟ کہ اوروں کے لیے آزار کا سبب بنیں؟ اوروں کے لیے تکلیف کا سبب بنیں؟ اوروں کے لیے ظلم کا سبب بنیں؟ اے انسان اس مرحلے پر آکر اللہ فرماتا ہے

ثُمَّ رَدَدْنٰہُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْن۝

اس کمبخت انسان کی مت ماری گئی۔ ہم نے تو اسے بلندیوں پر پہنچانا تھا، اس بے وقوف نے اپنے آپ کو پستیوں میں گرادیا۔ جانوروں سے بھی بدتر ہوگیا ہے۔ جانور بھی اپنے آپ کو سنبھال رہے ہیں، اپنا کام سرانجام دے رہے ہیں، غذا تلاش کررہے ہیں کیونکہ وہ تمہیں فائدہ پہچانا چاہتے ہیں۔ کتنے بے لوث ہیں یہ جانور، کتنی بے لوث ہیں یہ بکریاں، کتنی بے لوث ہیں یہ گائیں، کتنی بے لوث ہیں یہ بھینسیں! جن کی ایک ایک چیز سے ہم فائدہ حاصل کرلیتے ہیں اور وہ اُف تک نہیں کہتیں۔ ان کے چمڑے کو دیکھیں، ان کے گوشت کو دیکھیں، ان کے دودھ کو دیکھیں، ایک ایک چیز کو! اور کتنا نادان ہے انسان کہ اپنے اتنے حسین وجود کو پالتا پوستا ہے، کسی کو فائدہ پہچانے کے لیے نہیں، کسی کو آزار پہنچانے کے لیے۔ اس کی اس صفت کو اللہ تعالیٰ یوں بیان فرماتا ہے

اُوْلٰئِکَ کَاالانعام۔ یہ تو جانوروں کی طرح ہیں۔ بَلْ ھُمْ اَضَلُّ۔ ان سے بھی گئے گذرے ہیں۔

ایک بزرگ کہتا ہے، کیا خوبصورت بات اس نے فرمائی ہے۔ اے مچھلی کا شکار کرنے والے مچھلی کے شکاری! جب تم اپنے بڑے سے جال کو سمندر میں پھینکتے ہو اور اس جال کو سمندر کی موجوں میں کھینچتے ہو کشتی کے ذریعے، لانچ کے ذریعے یا کسی جہاز کے ذریعے۔ تو دور سے مچھلی بھی تیرتی ہوئی آتی ہے۔ اگر وہ چاہے تو تمہارے جال کے آگے بھی تیر سکتی ہے، لیکن کیا قدرت کا ایک نظام ہے۔ وہ مچھلی تمہارے جال کے مخالف سمت میں سامنے سے آنے کی کوشش کرتی ہے اور سیدھی جال میں پھنس جاتی ہے، اور تم اس کو پکڑ کر اپنے گھر میں لے آتے ہو اور دعویٰ کرتے ہو میں نے شکار کیا۔ اے بے وقوف تم یہ نہیں سوچتے مچھلی نے اپنے آپ کو تمہارے اوپر فدا کردیا ہے۔ تمہیں فائدہ پہنچانا چاہتی تھی۔ مچھلی چاہتی تھی اس انسان کا پیٹ بھلے مجھ سے بھر جائے، اس کی ضرورت پوری ہوجائے، اس کی اشتہا پوری ہوجائے۔ اور تم کہتے ہو کہ میں اتنا سیانا شکاری تھا کہ اتنی مچھلیاں میں نے پکڑلیں۔

ہم اور تم اللہ کی کائنات کے نظام کو سمجھتے کب ہیں، غور کب کرتے ہیں، فکر کب کرتے ہیں؟ ہم تو اپنے منہ میاں مٹھو بنے ہوئے ہیں کہ ہم جیسا تو کوئی ہے ہی نہیں۔

تو دوستو ہم اپنے کردار اور عمل پر غور کریں کہ کائنات میں جتنی چیزیں پیدا کردی گئیں ہیں وہ اپنے کام سے لگی ہوئی ہیں۔ میں نے بہت سی مثالیں آپ کے سامنے پیش کردیں۔ وہ اب اپنی ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں جو اللہ نے ان کے ذمہ لگا کر رکھی ہوتی ہیں۔ لیکن اے انسان جو تمہاری ذمہ داری لگائی گئی تھی کہ اللہ کو پہچانو، اس سے تم مکر گئے، اس سے تم غافل ہوگئے۔ میں نہیں کہتا بلکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّالِیَعْبُدُوْنِ۝

ہم نے انسان اور جنوں کو اس لیے پیدا کیا کہ عبادت کریں یعنی میری پہچان حاصل کریں۔

اس پہچان کو حاصل کرنے کے لیے ہم یہاں جمع ہوئے ہیں۔ یہ جستجو ہمیں اپنے دل میں پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ علم حاصل کرنے کی ہمیں ضرورت ہے۔ تب ہم انسانیت کے نام کے قابل بن سکیں گے، تب ہم انسان کہلوانے کے قابل بن سکیں گے۔

دوستو! یہ زندگی اللہ تبارک و تعالیٰ نے بہت ہی حسین اور خوبصورت ہمیں عطا فرمائی ہے۔ اس کو استعمال کرنے کا بھی تم کو اختیار دے رکھا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ تمہاری رہنمائی کے لیے ہدایت بھی دیتا ہے، توفیق بھی دیتا ہے، جیسے اتنے سارے ہم بے شمار لوگ آج یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں نے پہلی بات یہ کہی تھی اللہ نے چاہا اس وجہ سے ہم یہاں پہنچے ہیں۔

ایک چھوٹا سا واقعہ مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ علیہ کا یاد آتا ہے۔ ان کے اشعار کو خوش الحانی سے پڑھنے کا طریقہ مجھے تو نہیں ہے، ورنہ اس کا مزہ بھی کچھ اور ہوتا ہے۔ تو میں مفہوم بتاتا ہوں۔ ایک آقا صبح سویرے گھر سے نکلا۔ آقا کیوں تھا؟ اس لیے کہ ساتھ غلام تھا، اس وجہ سے وہ آقا تھا۔ غلام نوکری کے لیے اپنے ساتھ رکھے جاتے تھے، خریدے جاتے تھے۔ آقا نے اپنے غلام کو نہانے کا سارا سامان دے دیا تھا کہ میں حمام کی طرف جارہا ہوں، تو بھی میرے ساتھ حمام کی طرف جائے گا اور میں نہاؤں گا اور تو میری مدد کرے گا۔ جب جانے لگے تو اچانک مسجد سے آذان کی آواز بلند ہوئی، تو اس غلام نے اپنے آقا سے کہا اگر آپ چند لمحے اجازت دیں تو میں اس مسجد میں جاکر دو رکعت نماز پڑھوں۔ آقا نے کہا ٹھیک ہے تم پڑھ لو، اور وہ باہر کھڑا ہوگیا۔ غلام جب اندر نماز پڑھنے گیا اس کو کافی ٹائم گذر گیا۔ انتظار کرنے کے بعد آقا نے باہر سے آواز لگائی اس کا نام لے کر۔ ”او فلاں تم باہر کیوں نہیں آتے؟ وہ کون ہے جس نے مسجد کے اندر تیرے پاؤں باندھ دیے ہیں؟“ تو اس نے اندر سے جواب دیا۔ اس نے کہا ”اس نے میرے پاؤں مسجد کے اندر باندھ دیے ہیں جس نے تیرے پاؤں مسجد کے باہر باندھ دیے ہیں۔“ سوچنے کی بات ہے، دماغ کو استعمال کرنے کی بات ہے۔ یعنی اللہ نے میرے لیے پسند کیا ہے کہ میں مسجد میں پہنچ کر اس کے فرض کو ادا کروں، اس کی عبادت کروں، اور تیرے لیے یہ ہے کہ تم باہر کھڑے ہو اور نماز تمہیں نصیب نہیں ہے۔

تو میرے دوستو! اس مہربان، شفیق مولا نے ہمارے پاؤں اس محفل میں باندھ دیے ہیں۔ ہم یہاں بیٹھ گئے۔ اور بھی بے شمار لوگ ایسے ہونگے جنہوں نے ارادے کیے ہونگے، لیکن وہ نہیں آسکے۔ ان کے پاؤں کہیں اور باندھ دیے گئے۔ اچھی جگہ بھی ہوسکتی ہے، اچھی جگہ نہیں بھی ہوسکتی ہے۔ اس نے ہمیں یہاں پہنچنے کی توفیق دی اور ہمارے پاؤں اس محفل میں ان نیک لوگوں کے ساتھ باندھ دیے ہیں۔ یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا بہت ہی بڑا انعام ہے، اس کی بہت ہی بڑی مہربانی اور اس کی شفقت ہے۔

اب بات آجاتی ہے انسان کی اس پیدائش اور تخلیق پر۔ میں نے پہلے بات کیا کہی تھی کہ انسان کو اللہ نے اس لیے تخلیق کیا کہ وہ اللہ کو پہچانے۔ اب انسان نے جتنی چیزیں اللہ سے مستعار لی ہیں ان کا بھی میں نے ذکر کیا۔ آنکھیں، زبان، کان، ہاتھ، پاؤں، اور ان کو استعمال کرتا ہے۔ کسی کو آپ نے اس طرح نہیں دیکھا ہوگا کہ اس کے پاس سلامت ہاتھ ہو اور وہ ان کو استعمال نہ کرتا ہو۔ اسکے پاس ماشاء اللہ اللہ کی دی ہوئی نعمت آنکھیں ہوں اور وہ ان آنکھوں پر پٹی باندھ کر گھومے۔ کسی کو اس طرح نہیں کرتے ہوئے دیکھا ہوگا۔ اگر دیکھیں گے تو آپ کہیں گے یہ پاگل ہے۔

تو دوستو! جسم تو ظاہری ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کیا ہے اور ہم اپنے ارادے سے کام کرتے پھرتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان تم بڑے بہانے بناتے ہو لیکن یاد رکھو

بَلْ الاِنسَان عَلیٰ نَفْسِہ بصیرہ۝

حقیقت یہ ہے کہ انسان خود اپنے اوپر گواہ ہے۔

کس طرف اشارہ دیا جارہا ہے؟ اس طرف اشارہ دیا جارہا ہے کہ اس کے اندر ایک ایسی سوچ رکھی ہے کہ وہ اچھے برے کو جان لیتا ہے کہ یہ درست ہے یہ غلط ہے، یہ گناہ ہے یا ثواب ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہر ایک کے اندر ہم نے یہ احساس باطنی، جسے قلب کہا جائے یا حس کہا،جائے، ہر انسان کے اندر ہم نے رکھ دی ہے کہ وہ سمجھ لیتا ہے یہ غلط ہے، یہ درست ہے۔

چلے جائیں اس واقعے کی طرف حضرت آدم علیٰ نبینا علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دو صاحبزادے ہابیل اور قابیل، ان میں سے قابیل نے ہابیل کو قتل کردیا۔ کہتے ہیں یہ روئے زمین پر پہلا قتل تھا۔ تو قابیل اس کام کرنے کے بعد حرکت کیا کررہا تھا؟ وہ سوچ میں پڑ گیا کہ اب میں اس کو کیا کروں؟ کیوں سوچ میں پڑگیا، کیونکہ اس کو پتا تھا میں نے غلط کام کیا ہے۔ اس سوچ میں مشغول و پریشان کھڑا ہوا تھا کہ دو کوے آئے۔ ایک نے دوسرے کوے سے لڑائی کی، ان کی آپس میں لڑائی ہوئی، پھر ایک نے دوسرے کو ماردیا اور کوے نے زمین کھودنا شروع کردی اور مرے ہوئے کوے پر مٹی ڈال کر دبانا شروع کردی۔ تو قابیل کی آنکھیں کھل گئیں کہ یہ تو بڑی اچھی بات ہے۔ اس نے اپنے مرحوم بھائی کے لیے بھی قبر کھودی اور اس کو دفن کردیا۔ کیوں دفن کیا؟ اس لیے دفن کیا کہ وہ لوگوں سے چھپانا چاہتا تھا، اور اس لیے چھپانا چاہتا تھا اس کا دل، اندر میں اس کا احساس اس کو بار بار کہہ رہا تھا کہ تونے غلط کام کیا ہے، غلط کیا ہے، غلط کیا ہے۔

اب ہم اور آپ اپنے حال پر آجائیں۔ بے شمار مرتبہ ہم کام کرتے ہیں اور بغیر سوچے سمجھے۔ لیکن اندر جو ایک حس، ایک احساس، ایک ضمیر اللہ نے رکھا ہے وہ بار بار ہمیں ٹوکتا رہتا ہے کہ غلط کر رہے ہو، غلط کررہے ہو، غلط کر رہے ہو، لیکن قابیل کی طرح ہم اس آواز پر دھیان نہیں دیتے۔ ہم کوشش کیا کرتے ہیں کہ قابیل کی طرح لوگوں سے چھپالیں۔ اور جو ہماری اچھی عادات ہوتی ہیں ان کو لوگوں کے سامنے نمایاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ان اچھی عادتوں کی وجہ سے لوگ ہماری تعریفیں کریں۔

دوستو! اس طرح ہم اپنے ضمیر کو یہ بات سنوانا چاہتے ہیں لوگوں کے زبان سے کہ بھئی یہ حاجی صاحب بڑا اچھا ہے، چودھری صاحب بڑا نیک انسان ہے۔ اس نے یتیم کو یہ دے دیا، اس نے غریب کو وہ دے دیا، اس نے یہ سخاوت کردی۔ اب ہم کس لیے یہ حرکت کرتے ہیں؟ ہمارا اندر والا مفتی جو بار بار ہمیں تنگ کرتا ہے، وہ اتنی ساری گواہیاں سن لے کہ اتنے سارے لوگ کہہ رہے ہیں تم اچھے ہو، تم اچھے ہو۔ اسکا دماغ خراب ہوگیا ہے جو اندر بیٹھا ہے اور وہ کہہ رہا ہے تم خراب ہو! تم خراب ہو! تو اس کی آواز پر بہت سارے لوگوں کی آوازیں غالب کرنا چاہتے ہیں۔ کچھ لوگ تو اس کو مارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بھائی ایسی حرکت نہیں کرنی چاہیے۔ یہ ایک ایسا ہی احساس ہے، ایسا ہی عضو ہے جیسا کہ کوئی اپنی آنکھ نکالے۔ کوئی پسند کرے گا اپنا ہاتھ کاٹے؟ کوئی پسند کرے گا اپنا پاؤں کاٹے؟ کوئی پسند کرے گا اپنا کان کاٹے؟ کبھی بھی پسند نہیں کرے گا۔ کیونکہ اس کو پتہ ہے یہ کان میرے لیے کتنا فائدہ مند ہے، ہاتھ میرے لیے کتنا فائدہ مند ہے، آنکھ میرے لیے کتنی فائدہ مند ہے۔

تو دوستو! یہ احساس بھی اسی طرح اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ یہ ضمیر، یہ دل بہت بڑی نعمت ہے۔ لوگوں کے سامنے معتبر بننے کی کوشش مت کرو۔ اپنے اندر والی آواز کے سامنے معتبر بن کے دکھاؤ۔ وہ گواہی دے تم ٹھیک ہو تو بات بنے گی۔

میرے آقا و مولیٰ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں ایک اعرابی آیا اور اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مجھے ہدایت فرمائیں، مجھے نصیحت فرمائیں۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے اس کو نصیحت کے کلمات ارشاد فرمائے، نماز کے لیے کہا، احکامات بیان کیے، حلال و حرام کی بارے میں تلقین فرمائی۔

مگر میں پھر اس پہلی بات کی طرف لوٹتا ہوں کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے سمجھ دی ہے کہ ان بکھری ہوئی چیزوں کو جمع کرو۔ یہ بلب ہمارے سامنے جل رہا ہے، یہ شیشہ جو اس کے اوپر ہے جو اس کی روشنی کو پھیلا رہا ہے،یہ کہاں سے آیا؟ تو پھر اس کے اندر بجلی پائی گئی وہ کہاں سے آئی؟ اس کے لیے جو تار لگی ہوئی ہے جس کے ذریعے کرنٹ اس کے پاس آ رہا ہے یہ کہاں بکھری ہوئی ہوگی؟ اور کسی سائنسدان، عقل مند انسان نے ہم پر احسان کیا۔ اس چیز کو جو مخفی تھی اس کائنات میں، اس کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر، بہت ساری چیزوں کو ملا جلاکر ایک تار بنادی اور اس طرح بلب بن گیا۔ کتنی ساری چیزوں کا یہ مجموعہ ہے۔ تو یہ اس کی محنت اور کوشش کا ثمر ہے جو آج ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔

تو دوستو میں عرض کررہا تھا کہ احساس جو ہمارے اندر میں ہے وہ ایک بڑی نعمت ہے۔ اس کے سامنے ہم اپنے آپ کو صحیح ثابت کرسکیں تو یہ بڑی کامیابی ہوگی۔

تو پھر میں واقعہ عرض کر رہا تھا اعرابی کا۔ حضور صلّی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ساری ہدایات دیں، حلال اور حرام کی باتیں کہہ دیں۔ آپ اور ہم ڈر جاتے ہیں بھئی شریعت بڑی مصیبت ہے۔ نعوذ باللہ من ذالک۔ نہیں دوستو شریعت تو بڑی نعمت ہے۔ وہ احکام جو اللہ نے اپنے حبیب پر نازل فرمائے ہیں، آپ اس کو پڑھ کر تو دیکھیں۔ ان کو سمجھنے کی کوشش تو کریں۔ بے شمار چیزیں اس میں اللہ تعالیٰ نے ہم اور آپ کے لیے مباح اور حلال قرار دی ہیں، بے شمار چیزیں۔ اگر ان میں سے کچھ چیزیں ممنوع قرار دی ہیں تو وہ محدود ہیں، وہ تھوڑی ہیں۔ اور ان کی وضاحت کردی، ان کے نام لے لے کر بتادیا کہ چوری بھی نہ کرو، ڈاکہ بھی نہ ڈالو، مال غصب بھی نہ کرو، جھوٹ بھی مت بولو۔ ایک ایک چیز کا نام لے کر ان چیزوں کو متعین کیا اور کچھ چیزوں کے لیے تعین نہیں کیا، ان کے لیے کھلا ہوا میدان چھوڑدیا۔ کچھ چیزوں سے کیوں ان کو منع کیا گیا؟ اس لیے کہ انسانی فطرت کے لیے وہ چیزیں ناپسندیدہ ہیں۔ اس لیے منع کیا جھوٹ بولنے سے۔ کسی بھی مذہب کا آدمی ہو، کہاں کا بھی رہنے والا ہو، وہ یہی کہے گا کہ جھوٹ بولنا بالکل ہی صحیح نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے منع کیا وعدہ خلافی سے۔ کوئی بھی شخص ہو، مشرق کا ہو یا مغرب کا ہو، گورا ہو یا کالا ہو، وہ کہے گا وعدہ خلافی بالکل ٹھیک نہیں۔

تو دوستو! یہ تعلیمات قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ بار بار دے رہا ہے اور ہم سن رہے ہیں۔ لیکن کتنے ہیں ہم میں سے یہاں بیٹھے ہوئے لوگ، جو اپنا وعدہ وفا کرتے ہوں؟

ابھی میں گذشتہ دنوں اخبار میں پڑھ رہا تھا کہ جاپان کے لوگوں کے متعلق سروے کیا گیا کہ یہ لوگ کتنے ایماندار ہیں۔ ایک سروے ٹیم بنائی گئی، اس نے بٹوے جس میں پیسے تھے مختلف جگہوں میں گرادیئے۔ وہ اپنی قوم کو جانچنا چاہتے تھے کہ ایماندار کتنی ہے۔ تو جاپان ایک وسیع ملک ہے اور اس کے سینکڑوں شہر ہونگے۔ تو بٹووں میں رقم تھی اور بے شمار جگہوں پر، اسٹیشن، بس اسٹینڈ، ہاسپٹل، ڈاکخانہ، روڈ راستے، ٹائلیٹ، ان جگہوں پر انہوں نے پھینک دیے۔ جب تجزیہ کیا گیا تو ان میں سے نوے فی صد بٹوے واپس آگئے۔ لوگوں نے وہاں سے اٹھائے اور جو پتہ لکھا ہوا تھا اس جگہ پہنچادیا۔ یہ تناسب کم و بیش نوے فی صد سے تو اوپر ہی تھا۔

دوستو یہ ایک قوم ہے، جاپان میں رہنے والے لوگ ہیں۔ یہ ان کی ایمان داری کی بات ہے۔ ہم اور آپ، ہم سب اپنے سینہ پر ہاتھ رکھ کر سوچیں ہم کتنے پانی میں ہیں؟ ہم ہوا میں دس فیٹ اچھلتے ہیں کہ ہم بڑے پاکباز ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم بڑے ہیں، لیکن جو بڑوں کی عادات ہیں وہ ہمارے اندر ہیں ہی نہیں۔

تو دوستو میں عرض کر رہا تھا کہ اس اعرابی کو ساری تعلیمات بتائی گئیں اور جب جانے لگا تو عرض کرنے لگا یا رسول اللہ! کوئی ایسی بات ہو جو میرے سامنے آجائے اور اس کا جواب ان تعلیمات میں جو آپ نے ابھی ابھی مجھے دیں، اس میں نہ پاؤں تو میں کیا کروں؟ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”استفتا بقلبک۔“ کہیں بھاگنے دوڑنے کی ضروررت نہیں ہے۔ اپنے دل سے پوچھ لینا۔ لیکن دل کی آواز کو سمجھنے کی کوشش کرنا، تمہارا جو دل کہے گا وہی صحیح ہوگا ۔اس سے کیا ہمیں تعلیمات دی جارہی ہیں، کیا سمجھایا جارہا ہے؟ یہ سمجھایا جارہا ہے کہ قرآن مجید کی تعلیمات کا جو خلاصہ ہے وہ اس ضمیر کے ذہن میں ڈال دیا گیا ہے۔ وہ ضمیر بھی کہتا ہے کہ ٹھیک ہے کوئی ایسی بات نہیں، یعنی کہ صرف مسلمانوں کے متعلق نہیں بلکہ پوری انسانیت کا ضمیر بھی تسلیم کرے گا کہ ہاں واقعی یہ صحیح ہے۔ اس لیے تو حضور صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی اور سے مت پوچھنا، اپنے دل سے پوچھنا۔ جو تجھے بتائے، جو کہے، جو تمہیں آواز آئے اس پر عمل کرنا۔ اور ہمیں یہ توفیق ہی نہیں ہوتی۔ ہم کہتے ہیں کہ اس کے پاس جائیں، اس سے پوچھیں۔ پوچھیں گے مگر پھر بھی یقین نہیں آئے گا۔

وہ جس طرح کہتے ہیں کہ ایک شخص تھا جو شک میں مبتلا تھا۔ وہ پیش امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا تھا۔ یقین کی اس میں کمی تھی۔ تو نماز کے لیے نیت احناف کے نزدیک دل کی ہی کافی ہوتی ہے، لیکن وہ زور زور سے کہہ رہا تھا ”میں نے نماز کی نیت کی،“ بار بار کہہ رہا تھا۔ پھر اس نے کہا ”پیچھے اس امام کے“ مگر دل نے اس کی بات نہیں مانی، یعنی وہ شک میں پھنسا ہوا تھا۔ امام سامنے کھڑا ہے بات ختم۔ مگر نہیں، پھر اس نے آنکھ کے اشارے سے کہا ”اس امام کے پیچھے“، پھر بات نہیں بنی، ابھی بھی یقین نہیں ہے۔ پھر وہ آگے بڑھا اور پیش امام کے کندھے پر ہاتھ مارکر کہنے لگا ”اس امام کے پیچھے“ اب جاکے اس کو اطمینان ہوا۔

تو دوستو! ہم بھی اس طرح گومگو کی صورت حال سے دوچار رہتے ہیں۔ اس سے پوچھیں گے، اس سے پوچھیں گے، کہ شاید وہ بات، وہ جواب جو میں نے سوچ رکھا ہے، جو میرا نفس کہتا ہے، وہ جواب ملے تو پھر وہ مولوی صحیح ہے۔ وہ تو غلط ہے۔ یہ ہمارے نفس کی شرارت ہوتی ہے۔ حضور صلّی اللہ علیہ وسلم نے بات واضح کردی کہ اپنے دل سے پوچھو۔ وہ دل، وہ ضمیر تمہیں بتادے گا کہ یہ صحیح ہے یا یہ غلط ہے۔

تو دوستو! جو آیت کریمہ میں تلاوت کررہا ہوں وہ بھی اسی طرح ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا حقیقت یہ ہے کہ انسان خود اپنے نفس پر گواہ ہے۔ اس کو اپنے کچے چٹھے کا پورا پتہ ہے۔ اس کو سب خبر ہے کہ صحیح ہے یا غلط ہے۔ لیکن وہ کرتا کیا ہے؟

وَلو اَلْقیٰ مَعَاذِیْرَہ۝

بہانے بناتا ہے۔ بڑی چالاکی دکھاتا ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ انسان بڑے بہانہ بناتا ہے، حالانکہ جانتا ہے اس کا نفس، اسکو خبر ہے، لیکن بڑے بہانے بناتا ہے۔

دوستو! اللہ تعالیٰ نے اتنی نعمتوں سے نوازا ہے، اتنی مہربانیوں سے نوازا ہے۔ ہم کیوں اس طرح گمراہی، ذلت اور رسوائی سے دوچار ہیں۔ ماشاء اللہ اتنا عقل، اتنی سمجھ، اتنا علم آپ سب کو اللہ نے دیا ہے۔ استعمال تو کریں دوستو، استعمال تو کریں! کسی کے گھر میں خزانے پڑے ہوں، اس کے گھر میں دس لاکھ پڑے ہوں اور وہ بیچارہ دھکے کھارہا ہو ایک روپے کے لیے روڈوں پر، تو وہ بیوقوف نہیں ہوگا تو اور کیا ہوگا۔ ہمارا حال بھی یہی ہے۔ ایمان کی دولت بھی اللہ نے ہمیں بخشی، اور نفس چونکہ ہمارا سرکش ہے لہٰذا اس کو سمجھانے کے لیے اندر احساس باطنی بھی اللہ نے رکھدیا ہے۔ ہدایت ہمارے سامنے واضح کردی، نبی بھی بھیج دیے، لیکن ابھی تک ہم سمجھے نہیں۔ پتہ نہیں کہ اب اور کیا چیز آئے گی جس کا ہم انتظار کررہے ہیں۔ نکل آؤ اس گومگو کی کیفیت سے۔ یقین اپنے دل میں پیدا کرو۔ اعتماد اپنے اندر پیدا کرو۔ یکسوئی اپنے اندر پیدا کرو اور اپنے دل کی آواز سنو۔

آپ نے دیکھا ہوگا آپ ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں اور کہتے ہیں میری آنکھیں کمزور ہوگئی ہیں، کوئی دوائی ایسی دے دو میری آنکھ کی نظر مزید تیز ہوجائے۔ ڈاکٹر کہتا ہے کہ ہاں فلاں چیز۔ دوسرا جاتا ہے ڈاکٹر صاحب میرے دانت کمزور ہوگئے ہیں کوئی مجھے دوائی دے دو کہ میرے دانت بہتر ہوجائیں۔ بھئی یہ نسخہ لے لو۔ تیسرا کہتا ہے میرا دماغ کمزور ہوگیا ہے، ڈاکٹر اس کو دوائی دے دیتا ہے۔ ہم اور آپ نے سوچا ہے کہ ہمارا دل کمزور ہوگیا ہے۔

یا مریض الباطن علیک باالدواء، لا یکون ہٰذہ الدواء الا عند الصالحین۔

(شیخ عبدالقادر جیلانی رحمة اللہ علیہ)

اے باطن کے مریض واجب ہے تم پر اپنے دل کا علاج ۔ اور کہیں نہیں ملے گا یہ علاج، کہیں نہیں ملے گا صالحین کی صحبت کے سوا۔ غوث اعظم نے یہ حکم اپنی طرف سے نہیں دیا، بلکہ قرآن مجید کا حکم ہے

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُو اللہَ وَ کُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ۝

اے ایمان والو سچوں کے ساتھ ہوجاؤ۔ ان کے ساتھ رہو۔ پھر میں پہلی والی بات دوبارہ دہراتا ہوں۔ کیونکہ میرا موضوع یہی ہے اس لیے دہراتا ہوں۔ جب ہم غلط کام کررہے ہوتے ہیں ہمارے اندر سے آواز آرہی ہوتی ہے نہیں کرو نہیں کرو، درست نہیں ہے، صحیح نہیں ہے۔ نہیں سنتے ہم۔ لیکن وہی کام جو ہم چھپ کر کرچکے ہیں کوئی ہمارے سامنے، سب لوگوں کے سامنے کرے۔ انگلی اس پر سیدھی کریں گے کہ وہ دیکھو یہ کررہا ہے، یہ ایسا ہے، یہ ویسا ہے، یہ دیکھو اپنا دوغلاپن۔

حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ طریقۂ نقشبندیہ کے پیشوا ہیں۔ وہ اپنے خادم کے ساتھ حرمین کی زیارت کے لیے گئے۔ جب وہ مکہ مکرمہ یا مدینہ عالیہ میں پہنچے تو لوگوں نے سنا عارف بایزید آگئے، تو لوگ ٹوٹ پڑے۔ ہر ایک شخص آگے بڑھ رہا ہے۔ کتنے وہ کھرے لوگ تھے۔ ہمیں اپنے حال پہ شرم آتی ہے۔ ہم تو گندگی کا ڈھیر ہیں۔ لوگ ان پر ٹوٹ پڑے۔ اے عارف ادھر آجاؤ، حضرت ادھر آجاؤ میری دعوت پر۔ وہ مہینہ رمضان کا تھا۔ کتنے عجیب ان کے اسرار تھے!

اسی لیے کہا جاتا ہے کہ کاملین کی صحبت میں جاؤ تو ان کی باتوں پر اعتراض مت کرو۔ ان کے ہاں نظام ذرا نرم ہوتا ہے۔ مولویوں کی طرح کڑک نہیں ہوتے کہ ہر ایک چیز پر ٹوک دیں۔ لوگوں کے لیے تھوڑی خلاصگی رکھتے ہیں، تھوڑی آسانی رکھتے ہیں۔ اور پھر جیسے جیسے صحبت میں آگے بڑھتے ہیں تو ان پر وزن بڑھاتے جاتے ہیں، ان کو سکھاتے جاتے ہیں، ان کو تلقین کرتے جاتے ہیں، احکامات پر عمل کو بڑھاتے چلے جاتے ہیں۔ لیکن شروع میں لوگ آتے ہیں تو تھوڑا ماحول ڈھیلا ڈھالا رکھتے ہیں۔ لوگ اس سے بددل ہوجاتے ہیں یہ کیوں ہوا، وہ کیوں ہوا، یہ ایسا کیوں ہورہا ہے؟ بھائی ”فعل الحکیم لایخلوا عن الحکمۃ“۔ حکیم کا کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر کے پاس جاؤ، وہ تمہیں انجکشن چبھودے، تم اس سے لڑ پڑو کہ بھائی یہ کیا کررہے ہو؟ وہ کہے گا تمہیں کیا پتہ ہے مجھے پتہ ہے۔

تو بایزید بسطامی پر لوگ ٹوٹ پڑے اور وہ پریشان ہوگئے کہ اب ہم کیا کریں۔ حرمین شریفین کی زیارت کریں گے یا ان لوگوں سے ملیں گے۔ تو انہوں نے کیا کیا، رمضان کا مہینہ تھا، جیب سے روٹی نکالی اور بھری بازار میں کھانی شروع کردی۔ لوگوں نے کہا کہ بھائی ہم اس کو عارف سمجھتے تھے، بایزید کو ہم بڑا ولی سمجھتے تھے مگر یہ بازار میں کھا رہا ہے۔ سب بھیڑ بھاڑ بالکل ہی ختم ہوگئی۔ کوئی اِدھر بھاگا، کوئی اُدھر بھاگا، سب بھاگ گئے۔ ایک ہی جو آپ کا خادم تھا وہ ان کے ساتھ تھا۔ آپ نے کہا دیکھو۔ وہ الفاظ مجھے یاد نہیں آرہے ہیں، میں دوبارہ اس واقعہ کو پڑھوں گا۔ تو آپ نے غالباً کہا دیکھو یہ لوگ بدگمانی کا شکار ہونے میں کتنی جلدی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ ایسے لوگوں کو سکھانے کا کیا فائدہ۔ میں تو اس لیے کھانا کھارہا تھاکہ ان کو بھگانا مقصود تھا اور پتہ بھی چلے۔ تو اس لیے روٹی کھارہا تھا کہ میں سفر میں ہوں، اللہ نے اجازت دی ہے کہ سفر کی حالت میں تم روزہ چھوڑ سکتے ہو۔

تو دوستو! لوگ اس طرح ہوتے ہیں۔ ان کا عقیدہ جو ہوتا ہے وہ اتنا کمزور ہوتا ہے۔ بہرحال میں اس بات کی طرف اشارہ کررہا تھا کہ اوروں کی بات، بایزید کی بات لوگوں کو جلدی کس طرح محسوس ہوئی یہ غلط کر رہا ہے۔ پتہ نہیں ان میں کتنے روزہ دار ہونگے۔ وہ خود روزے سے ہونگے بھی یا نہیں۔ لیکن اوروں پر انہوں نے، بایزید رحمۃ اللہ علیہ پر انہوں نے اٹیک کرنے میں دیر نہیں کی۔ دوستو کیا ہم بھی ان میں شامل ہیں؟ تو پھر کبھی بھی درستگی نہیں ہوسکتی۔ ”علیک باالدواء“ تیرے اوپر علاج واجب ہے۔ میں اوروں کی بات نہیں کہہ رہا ہوں جس طرح فوجدار بندے ڈنڈے لے کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ وہ غلط کر رہا ہے میں اس کو نہیں چھوڑوں گا، اس کو سیدھا کروں گا۔ بھئی پہلے ہم اپنے آپ کو تو سیدھا کریں، ہم اپنی درستگی تو کریں، پھر اوروں کی طرف دیکھیں۔ اسی طرح ہی یہ بات بن سکتی ہے۔

میرا اصل مقصود آپ کو یہ پیغام دینا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کس مقصد کے لیے تخلیق کیا ہے؟ میں دوبارہ اپنا مفہوم دہرارہا ہوں۔ ہمیں خدا نے اپنی پہچان کے لیے پیدا کیا۔ اس پر اس عاجز نے روشنی ڈالی۔ پھر دوسری بات یہ کہی گئی کہ اللہ نے ہمارے اندر ایک حس رکھی ہے باطنی۔ وہ ہمیں ہر وقت فتویٰ سناتی ہے کہ کیا درست ہے کیا غلط۔ اس کی بات پر ہم توجہ دیں۔ تیسری بات یہ کہی گئی کہ اوروں کے متعلق جلدی بدگمانی کا شکا ر نہ ہوں، اپنے نفس پر کڑی نظر رکھیں۔ اور پھر آخر میں ذکر اللہ کے لیے تاکید کیا گیا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی اصلاح کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔